قطر میں امریکہ ۔طالبان مذاکرات

پچھلے  دنوں میں امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکراتی عمل میں تیزی آ گئی ہے۔ یہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو رہے ہیں۔دوحہ میں طالبان کا ایک سیاسی و سفارتی دفتر واقع ہے۔ اس دفتر نے پچھلے کئی سال سے امریکہ کے لئے طالبان کے ساتھ سفارتی رابطہ ممکن بنایا ہے۔قطر کے شاہی خاندان نے طالبان کے سیاسی دفتر کیلئے امکانات فراہم کر کے مذاکراتی عمل کیلئے زمین ہموار کی ہے۔دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ساتھ رابطہ قائم کر کے کئی عالمی طاقتیں افغان مسائل سے روشناس ہونے اور اپنے تحفظات کی رکھوالی کیلئے امکانات کا جائزہ لینے میں مصروف رہیں ہیں ۔ اِن عالمی طاقتوں میں امریکہ پیش پیش رہا ہے چونکہ امریکی فورسز افغانستان میں کئی دَہائیوں سے اپنے مملکتی تحفظات کیلئے مصروف عمل ہیں۔افغانستان میں امریکی افواج کے علاوہ امریکہ کے مغربی حلیفوں کی افواج بھی مختلف اوقات میں مختلف تعداد میں رہیں ہیں۔ اپنے

ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کشمیر

 ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کشمیر گزشتہ دو دہائیوں سے بارہمولہ میں جہاں فکری اور علمی بنیادوں پر کام انجام دے رہا ہے وہی سماجی خدمات پر مبنی مختلف نوعیت کے کام بھی کر رہا ہے۔اس ہمہ جہتی کام میں ایک طرف تفہیمِ قرآن کلاسز، دروس قرآن، ورکشاپس، مختلف موضوعات پر لیکچرز، اعلٰی معیاری اسکول ’’عارفین اسکول آف ایکسلنس بارہمولہ‘‘کا قیام اورکشمیرمیںاپنی نوع کامنفرد تحقیقی ادارہ’ ’مرکز برائے تحقیق وپالیسی مطالعات ‘‘کا قیام شامل ہے۔ دوسری طرف قصبہ بارہمولہ کے قریب ۵۰۰ کمزور اور مستحق کنبوں کی ماہانہ اعانت، درجنوں غریب بچیوں کی شادی بیاہ کے اخراجات اور سینکڑوں ضرورت مند بیماروں کی ا مداد بھی شامل ہے۔یہ ہمہ جہت کام اللہ کے فضل  وکرم سے اور لوگوں کے تعاون سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ ادارہ روزاول سے ہی اس سلسلے میں کسی بھی سرکاری، نیم سرکاری یا غ

۔13؍جولائی ۔۔۔۔۔ چشم دید رُوداد

جامع   مسجد کے جلسہ میں شیخ صاحب ( ماسٹر محمد عبداﷲ) نے خوش الحانی سے تلاوت کی اور ترنم سے آغا حشر کاشمیری اور مولانا سالک کی نظمیں پڑھیں ۔ عجیب سماں پیدا ہوا۔ اس کے بعد دو ایک جلسوں نے کا یا پلٹ دی۔ جلسوں میں نعرے تو بلند ہوتے تھے مگر حاضرین کو یہ معلوم نہ تھا کہ جواب کیا دینا چاہیے۔ ایک صاحب جموں کے منشی محمد حسین تھے۔ ( جو بعد میں’’ ترجمانِ کشمیر ‘‘کے نام سے ہفتہ وار اخباربھی نکالتے تھے)، اُنہوں نے جلسہ کے دوران نعرۂ تکبیر کی آواز بلند کی۔ حاضرین نے بھی جو اباً نعرۂ تکبیر کہا۔ پھر رفتہ رفتہ لوگوں کو سمجھایا گیا کہ نعرہ ٔ کا مطلب کیا اور جواب کیا دینا چاہئے، پھر تکبیر اور نعرۂ حیدری کی گونج عا م ہوئی ۔ ان جلسوں میں جہاں توہین کرنے واالوں کی مذمت کی جاتی تھی، وہاں حقوق اور مطالبات کا تذکرہ بھی ہوتا تھااور اس طرح شہرو دیہات میں ایک ہلچل سی بپا ہوئ