اسلام اور جمہوریت

روئے   زمین پر جتنے نظام پائے جاتے ہیں وہ اپنے نصب العین اور دعاوی کے لحاظ سے مکمل ہوا کرتے ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ اس نظام سلطنت کی بنیاد، کسی اصول طراز کی فکر پر قائم ہوتی ہے اور اسی فکر کے مطابق نظامِ سلطنت کی توسیع و تکمیل ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اکثر اصول طراز اور سیاست دانوں نے کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو پر فوقیت دے کر اُسے ہی کل مان لینے پر اصرار کیا ہے؛ چوں کہ ایسے بے شمار سیاسی نظریے وجود میں آئے ہیں جن میں کبھی تو سیاسی عمل پر عقل انسانی کے اثرات کا پورے شدومد کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے اور کبھی اس کے بالکل برعکس، کہ سیاست و سیادت میں انسانی عقل کا کوئی حصہ نہیں؛ بلکہ یہ چیز بعض قوموں کا ذاتی ورثہ ہے جو ازل سے انھی کے لیے ہے اوراس باب میں انہی کی رہنمائی قابل قبول ہوتی ہے ، سیاست اور نظام کے باب میں یہی بنیادی نقطئہ نظر ہے جو کمیونزم،سوشلزم، ریشنلزم، کمرشیلائزیشن، سی

جنگلات کی بحالی کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت

گزشتہ کئی ہفتوں سے انسانی بستیوں میں جنگلی جانوروں کی دراندزی کی خبریں تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہیں، بلکہ رواں ہفتہ کے دوران وادی اور خطہ چناب میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جب ہر دم نایاب ہوتے ہوئے برفانی چیتوں اور انکے بچوں کو بستیوں کے اندر گھومتے ہوئے پایا گیاجبکہ کئی علاقوںمیں ان جانوروں کو لوگوں کے گھروں کے اندر سے برآمد کرکے محکمہ وائلڈ لائف کے سپر دکیا گیا،جنہوں نے بعد اذاں انہیں واپس اپنی آماجگاہوں میں چھوڑ دیا۔ اسی طرح سرینگر ، گاندربل اور ٹنگمرگ کے متصل کچھ بستیوں میں بھی ریچھو ں کی گھس پیٹھ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ پہاڑی علاقوں میںان وحوش کے لئے غذا کے وسائل محدود ہو جاتے ہیں اور وہ قریبی بستیوں کی طرف رُخ کرتے ہیں۔یہ صورتحال ماضی میں بھی پیش آتی رہی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ان واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور رواں برس نہایت ہی تواتر کے جنگلی حیات کی

سب کا وشواس

۱۹۴۷ء میں متحدہ ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، ایک حصہ کی بنیاد سیکولر ازم پر پڑی اور دوسرا حصہ مذہبی بنیادوں پر معرض وجود میں آ گیا ۔ بھارت نے گنگا جمنی تہذیب (سیکولر ازم) کا  راستہ اختیار کر لیا جس کے زیر سایہ اب اس وقت لگ بھگ بیس کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ملک کی سب سے بڑی مسلم اقلیت جی رہی ہے ۔اس کے مقابلے میں پاکستان میں محض ۴؍ فی صد غیر مسلم رہ بس رہے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ نہ پاکستان میں ایک دن کے لئے عملاً اسلام بحیثیت نظام نافذ نہیں ہو ا اور نہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے باوجودسیکولر ازم پر عامل ہوسکا ۔ بلاشبہ آئین وقانون کی رُو سے انڈیا میں ہر چھوٹی بڑی اقلیت کو اپنے مذہب پر قائم رہنے اور اپنے عقائد کی تبلیغ واشاعت کی آزاد ہے مگر عملاً یہ آئینی حق ہمیشہ  تا رتار کیا جاتارہا ہے۔ بایں ہمہ حقیقت حال یہ ہے کہ یہاں ک

تازہ ترین