تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!

پرندوں پرندوں کا بادشاہ عقاب اپنی جسامت، طاقت، بھاری سر اور چونچ سے دیگر شکاری پرندوں سے مختلف ہوتا ہے۔اس کے پر بھلے ہی چھوٹے نظر آتے ہوں لیکن ان پروں کی لمبائی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اور چوڑے پر ہوتے ہیں۔ اس کی پرواز زیادہ سیدھی اور تیز ہوتی ہے۔ عقاب کی بعض نسلیں محض نصف کلو وزنی اور 16 انچ لمبی ہوتی ہیں جبکہ بعض اقسام ساڑھے چھ کلو سے زیادہ وزنی اور 39 انچ لمبی ہوتی ہیں۔لیکن دیگر شکاری پرندوں کی مانند اس کی چونچ مڑی ہوئی ہوتی ہے تاکہ شکار سے گوشت نوچنے میں آسانی ہو۔ ہتھیاروں سے لیس وجود: مزید یہ کہ اس کی ٹانگیں زیادہ مضبوط اور پنجے نوکیلے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عقاب کی انتہائی تیز نگاہ اسے بہت فاصلے سے بھی شکار کو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ عقابوں کے گھونسلے عموماً بڑے درختوں پر یا اونچی چٹانوں پر ہوتے ہیں۔ عموماً مادہ چوزہ نر سے بڑی ہوتی ہے۔ والدین چھوٹے بچے کو بچانے کی کوئی کوشش

تعلیم: بنیادی مقاصد کلیدی واہداف

تعلیمی   پالیسی کیسی ہونی چاہیے اوراس کے خدوخال کیسے ہونے چاہئیں، اس کا سبھی لوگ انتظار کررہے ہیں۔ اگرچندخاص تعلیمی اداروں کو چھوڑدیں تو فی الوقت ملک میں موجودہ صورت حال بڑی تشویش ناک ہے۔ بے روزگاری اندھے کنویں کی طرح منہ کھولے پھررہی ہے اور انگریزی تعلیم کے حصول کا یہ عالم ہے کہ لوگ انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے لیے ہر حدسے گزرنے کو تیارہیں۔ اگروہ آج کی صحیح صورت حال کوسمجھ لیں توشاید ان کے خیالات تبدیل ہوجائیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملک کو ہنر کے فروغ کی بھی ضرورت ہے۔ آج تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے سرپرست کئی خانوں میں منقسم ہیں۔ پہلے ایک توخط افلاس سے نیچے کے کنبے کے بچے ہوتے تھے، جو دوچارکلاس تک پڑھے پھر کوئی ہنرسیکھ کر اپنے خاندان کی کفالت میں ہاتھ بٹانے لگے یا پھر اعلیٰ طبقے کے بچے جو ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننے کی تگ ودو میں لگ جاتے تھے۔ متوسط طبقہ کے بچے

ہوگا نہ پردہ فاش

زمانہ سلف کی بات ہے ،کہتے ہیں یمنؔکی ملکہ صباؔ  جب حضرت سلیمانؔ علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئی تو تخت تک پہنچنے کے لئے اُسے فرش کے ایک ٹکڑے سے ہوکر جانا تھا جس کو بادشاہ نے ایک شفاف اور خوبصورت شیشے سے بنوایا تھا مگر دیکھنے والے کو وہ شیشہ نہیں لگتا تھا ،البتہ شفاف پانی اور پانی میں تیرتی ہوئی مچھلیاںہی دکھائی دیتی تھیں۔ملکہ بھی غش کھا گئی ،اُس نے سوچا کہ پانی میں سے ہوکر جانا ہے ،اس لئے پاجامہ یا تہبند جو بھی اُس وقت پہنا وا رہا ہوگا،بھیگ جائے گا ۔اس وجہ سے آبگینے یا پانی سے بھرے حوض کو پار کرنے کے لئے ملکہ نے اپنا پاجامہ یا پہناوا اوپر چڑھالیااور پیٹ کے پاس اُسے اُڑس لیا ۔پیٹ کے پاس نا ڑے میں پاجامے کو اُڑسنے کے عمل کو پایچہ بھاری کرنا کہتے ہیں۔اُس واقعے کو ایک بذلہ سنج شاعر نے اس طرح سے نظم کیا ہے     ؎ کرتے نہ بھاری پایچہ ہوتا نہ پردہ فاش  ناحق

سڑکوں پر مرگِ ناگہانی کیوں؟

شومیٔ  قسمت کہ کشمیر کے جو بھی مسائل ہیں وہ سبھی موت پر منتج ہوتے ہیں۔ سڑک حادثات بھی ایسا ہی ایک مسلہ ہے۔ سڑک حادثوں میں اموات کے کئی محرکات ہیں۔ ٹریفک پولیس کی راشی روایت، شاہراہوں پر ٹراما ہسپتال نہ ہونا، سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس پچیس سال سے بھی پرانی گاڑیوں کا پہاڑی راستوں پر موت کا رقص کرنا، نوجوانوں میں جوکھم بھرے بائیک سٹنٹ کرنے کی مہلک لت اور ہر منزل پر اپنی ہی گاڑی سے جانے کی نفسیاتی مجبوری۔  گزشتہ ہفتے کشتوار سے کیشون آرہی منی بس پہاڑی سے لڑھک گئی تو نوزائد بچہ، اُسکی ماں ، ڈرائیور اور تیرہ خواتین سمیت پینتیس افراد مارے گئے۔ اس سے قبل شوپیان میں مغل روڑپر نو لڑکیوں سمیت گیارہ طالب علم سڑک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ پچھلے سال رام بن میں سڑک حادثہ ہوا تو دو درجن مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو یا این سی آر او نے چند ماہ قبل ایک سروے جاری کیا تھا

چاروزہ مسلم تعلیمی کانفرنس

آلا للہ  نے ان کے اس کام کو قبول فرمایا اور اس میں خوب برکت عطا فرمائی۔ خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ کے نام اور ان کی درگاہ سے منسوب دنیوی تعلیمی ادارے وجود میں آنے کے بعد آج ان اداروں نے خود مختار حیثیت سے خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی (K.B.N) کی شکل اختیارکرلی ہے جس سے جنوبی ہی نہیں شمالی ہندوستان کے بھی ہزار ہا طلبا مستفیض ہو رہے ہیں۔ وفد نے درگاہ میں عقیدت و احترام کا نذرانہ بھی پیش کیا اور ان اداروں بطورِ خاص K.B.N یونیورسٹی کا معائنہ بھی کیا ادارے کے وائس چانسلر محترم پٹھان صاحب جو اس سے قبل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر رہ چکے ہیں، ان سے خصوصی ملاقات بھی ہوئی، یہاں آکر وقت کی تنگ دامنی کا احساس ضرور رہا۔ دریں اثناء اس شہر میں واقع غریب بچیوں کے یتیم خانہ ’’زہرہ اسکول‘‘ کی عمارت اور اساتذہ و انتظامیہ سے ملاقات نے بھی مسرور کیا، یہ

تازہ ترین