تازہ ترین

اقبال اور تہذیبِ مغرب

 اس   کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال مادی ترقی کے سرے سے مخالف ہیں ۔شیخ محمد اکرام ’’موج کوثر‘‘میں لکھتے ہیں:’’اقبال پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں کہتا ہے ؛اسلا م کی روح مادے کے قریب سے نہیں ڈرتی، قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔ ‘‘ عقلیت پرستی: اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد عقلیت پرستی پر ہے یہ عجیب بات ہے کہ جدید ترین تمدن انسانی افعال و افکار کو عقل کے علاہ کسی اور کسوٹی پر پرکھنے کے لیے تیار نہیں۔ اقبال کے نزدیک عقل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی موزوں پیمانہ نہیں اس ناموزوں پیمانے سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لیے حتمی درجہ نہیں رکھتے۔ اگرچہ مغرب کے سارے فلسفی عقل پرستی کا شکار ہیں لیکن اقبال اس کے مخالف ہیں    ؎ عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں 

خبر لیجے زباں بگڑی!

چند   دن قبل عبدالمتین منیری ؔنے بھارت کے ایک بڑے عالم مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی، سابق استاذ دارالعلوم دیوبند، حال پروفیسر دہلی یونیورسٹی کا تبصرہ ہمارے کالم پر ارسال کیا ہے۔ سب سے پہلے تو اتنے بڑے عالم کی ہماری ناپختہ اور کچی پکی تحریروں پر توجہ اور انہیں کسی تبصرے کے قابل سمجھنا ہی ہمارے لیے باعثِ شرف ہے، جس کا بے حدشکریہ۔ ہم نہ عالم نہ اُستاد، تاہم مؤدبانہ عرض ہے کہ ان کا پہلا اعتراض ہے ’’جاری و ساری‘‘ میں ’’ساری‘‘ کو غلط کہنا اور اس کا معنی سرایت کرنے والا قرار دینا بجائے خود غلط ہے۔ ایسا کہنا عربی زبان سے ناواقفیت کی دلیل ہے جہاں سے یہ لفظ آیا ہے۔ ساری کا معنی عربی میں وہی ہے جو جاری کا ہے۔‘‘ محترم! ہمارے مذکورہ کالم کو ایک بار پھر پڑھ لیجیے۔ ہمیں عربی دانی کا کوئی دعویٰ نہیں۔ دارالعلوم دیوبند کو صرف اند

نصرت جہاں سے زائرہ وسیم تک

فلمی   دنیا میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی دومسلم اداکارہ ایک کا تعلق ریاست مغربی بنگال سے تو دوسری کا تعلق ریاست جموں کشمیر سے ہے پچھلے کچھ دنوں سے دونوں کے تذکرے ہر خاص و عام کی زبان ہیں اور پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیااور سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں ۔لوگ ان دونوں پر اپنی اپنی ذہنیت کے مطابق کمنٹس بھی کررہے ہیں۔پہلی مسلم اداکارہ 29 سالہ نصرت جہاں ہیںجو ابھی ابھی لوک سبھا الیکشن میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن میں کامیاب ہوکر پہلی مرتبہ ایم پی بنیں اور کامیاب ہونے کے فوراً بعد ابھی حلف سیشن بھی نہیں ہوا تھا کہ اپنے بوائے فرینڈ نکھل جین سے شادی کی خبر وائرل کردی اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد نصرت جہاں کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی نصرت جہاں نے اپنی شادی کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نکھل جین کے ساتھ شادی کرکے بہت خوش ہوں۔ صاف ہے کہ یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے ۔ ان کے

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹو ں جگر کو میں

کبھی کبھی میرا بھی جی چاہتا ہے کہ چرس کا ایک سگریٹ پی کر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوجائوں ۔ کوئی نشہ آور گولی کھالوں تاکہ ان نوجوانوں کی طرح صنوعی جنتوں میں کچھ دیر جھومتا رہوںجوبے خودی میں زمین کی زہریلی حقیقتوں سے نجات پاتے ہیں ۔لیکن میں ایسا نہیں کرسکتاشاید اس لئے کہ میں اس نسل سے تعلق رکھتاہوں جس کے لئے دہکتے ہوئے انگاروں پر چلنا کھیل بھی ہے اورشوق بھی حالانکہ اب صرف زمین پر ہی انگارے نہیں ،چاروں طرف آگ کی لپٹیں ہیں اور صرف پیر ہی نہیں سارا بدن جل رہا ہے ۔  بی جے پی نے دوسری بار بہت بڑا منڈیٹ حاصل کرکے مرکز میں مضبوط حکومت بنائی ہے ۔گزشتہ پانچ سال کے دوران پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت میں رہ کر اس نے کشمیر کے حالات کا گہرائی سے تجزیہ کرکے اپنا ایک نظریہ قائم کیا ہے جس کی بنیاد پر جنگجویت اور مزاحمت کیخلاف ایک بہت ہی سخت سٹینڈاختیار کیا گیا ہے ۔اس کی سوچ یہ ہے کہ مزاحمت اور جن

عمر اور محبوبہ کی بے تُکی باتیں

ریاست  جموں و کشمیر میں صدارتی نظام میں مزید چھ مہینے کی توسیع کرکے نئی دہلی نے یہ یہ واضح عندیہ دے دیا ہے کہ اسے ریاست میں اسمبلی انتخابات کروانے کی کوئی خاص جلدی نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں صدارتی راج میں تو سیع کے لئے پیش کی گئی قراداد پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے جہاں یہ اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر کے حالات میں رفتہ رفتہ بہتری آرہی ہے وہیں اُنہوں نے یہ بھی صاف کر دیا کہ اسمبلی انتخابات کے لئے گو کہ سرکار تیار ہے لیکن یہ جبھی ہو پائیں گے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا فیصلہ کرے گا۔ وزیر داخلہ نے اپنی تقریر کے دوران ایسے اشارے دئے جن کے معنی یہی نکالے جاسکتے ہیں کہ نئی دہلی کو ان انتخابات کے حوالے سے کوئی جلدی نہیں۔ حزب مخالف کی جانب سے صدارتی راج میں توسیع کو جمہوریت کی بحالی کی راہ میں اُڑچن قرار دینے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پسی سرکار ریاست می

چاروزہ مسلم تعلیمی کانفرنس

آل   انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ (AIEM) دہلی، نے مسلم ایجوکیشنل سوشل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (MESCO) حیدرآباد، کے تعاون و اشتراک سے مورخہ ۱۳؍ تا ۱۶؍ جون ۲۰۱۹ء حیدر آباد میں چار روزہ تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس کا مرکزی عنوان ’’انڈیا ایجوکیشن کنکلیو 2019‘‘ (India Education Conclave 2019) تجویز ہوا اور جس کا محور کوالٹی ایجوکیشن، چیلنجز اینڈ پراسپیکٹس‘‘ (Quality Education Chellanges & Prospectusطے ہوا۔ اس کا ایجنڈاڈراپ آئوٹس، اسکل ڈولپمنٹ، کوچنگ کلاسز، سائبر سیکوریٹی، قرآن فہمی، عربک لینگویج، سیرت النبی، اسلامک تاریخ اور اس کی خدمات نیز جدیدترین تعلیمی اداروں وغیرہ کی صورت حال پر جائزہ و تجزیہ کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا گیا جس میں ملک بھر کے منتخب تعلیمی ماہرین کے خطابات و بیشتر تحقیقی مقالات کو جدید ترین ٹیکنالوجی یعنی پاور پریزینٹی