مسلمانانِ ہند

مسلمانوں  کی آمد سے قبل سرزمین ہند پر رجواڑوں کی شکل میں مختلف حکومتیں قائم تھیں، جو نہ صرف آپس میں بر سر پیکار رہتی تھیں بلکہ ان حکومتوں میں کمزور اور پسماندہ طبقات پر ظلم و ستم بھی عروج پر تھا۔ اس ظلم میں نہ صرف اربابِ اقتدار پوری طرح شامل تھےبلکہ مذہبی ٹھیکیدار بھی پیش پیش تھے۔ منووادی نظام کے تحت اس ظلم کو پائیدار بنانے کے لئے سماج کو مختلف طبقات میں تقسیم کرکے سماج طریقے پر ان کی ذمہ داریاں بھی تقسیم کردی گئی تھیں۔ اپنے ہی ہم مذہب انسانوں کے ایک طبقے کو شودر بناکر گونا گوں ظلم واستحصال کا ایک ایسا نظام جاری تھا جس کی پوری تاریخِ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ایسے ہی تاریک دور میں مسلمانوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھااور اپنے اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے یہاں کے دبے کچلے مظلوم باشندوں کے دل جیت لئے۔ انہوں نے’’ الخلق عیال اللہ‘‘( تمام لوگ اللہ کا کنبہ

مسلمان بدل جائیں!

سنہ 1857 مغلیہ سلطنت کا زوال سے لے کر آج تک یہاں پے درپے المیوں کا ماتم منایا جارہاہے مگر حیرت کا مقام ہے کہ اتنی قیامتیں گزرنے کے باوجود ہندوستانی مسلمان آج بھی گہری نیند میں غرق ہے۔ کسی قوم کے زوال (2019-1857) کو ڈیڑھ سو سال گزرنے کے بعد بھی اگر وہ قوم نہ جاگے تو سوال یہ ہے کہ اس ملک کے مسلمان کی آنکھیں کیوں نہیں کھلتیں؟ اس کو ترقی کی کوئی جستجو کیوں نہیں پیدا ہوتی؟ آخر کیوں؟ اصولاًقوموں کے عروج و زوال کے بھی تاریخی اسباب ہوتے ہیں۔ یہی وہ مسلم قوم ہے جو رسولؐ کے وصال کے بعد بھی کئی صد یوں تک دنیا پر ہر شعبہ ٔ زندگی میںغالب تھی۔ مسلم تہذیب کے عروج کا یہ عالم تھا کہ یورپ میں اسپین، اٹلی، فرانس اور ادھر پورے ایشیا اور تقریباً افریقہ کے ہر حصے پر اسی تہذیب کا ڈنکا بجتا تھا۔ وہ مغربی تہذیب جس کا آج دنیا میں ڈنکا بج رہا ہے، وہ کبھی مسلم تہذیب کے آگے سرنگوں رہتی تھی لیکن آج ساری دنیا

پھولوں میں انگارے!

چلئے  فرض کرلیتے ہیں کہ آپ کاروبار کے سلسلہ میں بدیش جاتے ہیں ۔حج و عمرہ، دیدارِ حرمین شریفین کے لئے حجاز مقدسؔمیں تشریف لے جاتے ہیں ۔ گھومنے پھر نے کے لئے کہیں بھی چلے جاتے ہیں یا پیکیج ٹور پر مشرق ِ وسطیٰ میں آثار ا  لصنا دید دیکھنے جاتے ہیں ۔آپ صاحب ِاستعداد ہیں، دنیا کے چند مشہور اور خو ب صورت ملک و مقامات دیکھنے نکل پڑتے ہیں ۔مان لیجئے آپ سفر میں ہیں اور آپ کی ملاقات سحر زدہ ملک کے ایک برطانویؔ باشندے کے ساتھ ہوجاتی ہے ۔سر سبز و شاداب ملک کے رہنے والے ایک آسٹرینؔ سے ہوجاتی ہے ،سطح سمندر سے نیچے جل پریوں کے ایک بے انتہا خو ب صورت دیش کے ایک ولندیزؔی سے ہوجاتی ہے یا الف لیلوی شہزادے ، نیلگوں آنکھوں والے ایک اطالویؔ سے ہوجاتی ہے ۔مان لیجئے کہ آپ مصرؔ میں ہیں اور مصرؔ کی ناگن(Serpent of Nile)قلو پطرہ ؔکی یاد آپ کو سرسراتے سانپوں کے ایک مافوق الفطرت ماحول میں لے جاتی

فتح میں شکست!

جنرل  ولیم سلم 1942ءمیں عراق میں ایک برطانوی ڈویژنل کمانڈر ہوتا ہے۔ جاپانی برما پر یلغار کرتے ہیں اور برما کے دارالخلافے رنگون پر قبضہ کرکے اتحادی افواج کو بمشکل جان بچانے کا موقع دیتے ہیں۔ ان ایام میں یورپ اور شمالی افریقہ میں بھی دوسری عالمی جنگ کے خون ریز معرکے لڑے جا رہے ہوتے ہیں، اس لئے اتحادی، برما محاذ کو اتنی اہمیت نہیں دیتے، تاہم برٹش GHQ جنرل سلم کو عراق سے تبدیل کرکے برما میں جاپانیوں کے خلاف بھیج دیتا ہے.... یہی جنرل سلم آخر کار 3سال کی لگاتار کوششوں سے جاپانیوں کو برما میں شکست فاش دے کر بھاگنے پر مجبور کر دیتا ہے اور اس طرح ہندوستان پر جاپانیوں کے قبضے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔فیلڈ مارشل ولیم سلم نے 1951ءمیں اپنی خود نوشت (Defeat Into Victory) کے نام سے لکھی ہے جس میں برما محاذ کا بھرپور، دلچسپ اور عسکری اسباق سے لبریز بیان ملتا ہے۔ اس کتاب کے پہلے دو چار اوراق کا

کشمیر میں اُردو صحافت کا مستقبل!

صحافت  کے ساتھ کسی مخصوص زبان کا لاحقہ جوڑئے تو صحافت ایک ملک کی مانند لگتی ہے جس میں کسی مخصوص زبان کی صحافت اسی ملک کی اکثریت یا اقلیت معلوم ہوتی ہے۔ جب ہم "اُردو صحافت" کی ترکیب استعمال کرتے ہیں تو نادانستہ ہم سے دو گستاخیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ چونکہ ہم "اُردو صحافت" کا فقرہ معذرت خواہانہ لہجے میں ادا کرتے ہیں لہذا سُنتے ہی اگلوں کو لگتا ہے یہ کوئی ' بی گریڈ صحافت ' کی بات ہورہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسا کرکے ہم صحافت کو ایک مخصوص زبان کے پیراڈائم میں پیش کرکے گویا صحافت کی کسی کم تر قسم کی بات کرتے ہیں۔  میری ادنی رائے یہ ہے کہ صحافت اپنی ذات کے اعتبار سے 'سیکولر  ہوتی ہے۔ صحافت صحافت ہے، یہ کوئی اُردو صحافت یا انگلش صحافت یا ہندو صحافت یا مسلم صحافت نہیں ہے۔ آپ صحافتی ذمہ داریاں برتنے کے لئے محض ذریعہ اظہار کا انتخاب کرتے ہیں۔ اُردو

تازہ ترین