تازہ ترین

عالم میں تین دُنیائیں

آج  کل امریکی سامراج کی طرف سے ایران کے خلاف جارحیت کے عزائم اسرائیل کے تمام جارحانہ عزائم کی حمایت لاطینی امریکی ممالک میکسکو اور وینزویلا میںمسلح مداخلت کے ارادے اور امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ سے ظاہر ہے کہ یہ خطے باقاعدہ جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ امریکی سامراج جو کہ اس وقت پہلی دُنیا کہلاتاہے کی طرف سے تیسری دُنیا کے ممالک کے خلاف غلبہ اور جارحیت کا جائزہ لیا جائے اور تاریخی پس منظر میں اس حقیقت سے بخوبی سمجھا جائے کہ سارا عالم آج بھی تین دُنیائوں میں تفریق اور تین تضادات کے گرد گھوم رہا ہے۔ کامریڈ مائوزے تنگ نے ’’تین دنیائوں‘‘ کا تصور پیش کیاتھا اور کہاتھا کہ دنیابھرمیں عوام کو متحد ہوکر پہلی دنیا یعنی بڑی سامراجی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ دنیا اسی تصور کے مطابق گھوم رہی ہے۔موجودہ عالمی صورت حال کو صحیح طورپر

یو گا نہرو کی نظر میں!

یوگا  آج ایک سستا، ٹی آر پی بٹورنے والا سامان بن گیا ہے۔ وزارت برائے اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ وہ ایک فیصلہ ساز بورڈ کی تشکیل کرے گا جو ٹی وی چینلوں اور اخباروں پر نظر رکھے گا کہ کون سب سے اچھا پروگرام چلا رہا ہے اور مضمون شائع کر رہا ہے۔ اس سارے ہنگامے کے درمیان یہ بھول جانا کافی آسان ہے کہ یوگا من کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسم کے لیے۔بہت سارے لوگ بھول جاتے ہیں کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’ڈسکوری آف انڈیا‘ میں یوگا کے بارے میں لکھا تھا اور وہ مستقل یوگا کرنے والوں میں شامل تھے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پتنجلی کا یوگا سسٹم خاص طور پر جسم اور دماغ کے ڈسپلن کا ایک طریقہ ہے جو ذہنی اور روحانی ٹریننگ دیتا ہے۔ ہم نے اس بات کو نظر انداز کر دیا ہے کہ 1952 میں راجیہ سبھا میں پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک تجویز پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ

بطخ جو ڈوب گئی

’’ کیاآپ نے کبھی کسی بطخ کو پانی میں ڈوب کر مرتے دیکھا ہے ؟  یقینا نہیں، کیونکہ قدرت نے بطخوں کو تیرنے اور پانی سے بھیگ کر وزنی نہ ہونے کی پیدائشی صلاحیت اور تربیت عطا کی ہے۔ لیکن مشہور مصنف جان پارنکی مالل کے مطابق ایک یورپی ملک میں ایک دفعہ ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیاجو حیرت انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ وہاں اکثر لوگ شوقیہ بطخیں بھی پالتے ہیں اور اْن کے لئے مکانوں میں چھوٹے موٹے تالاب بھی بنواتے ہیں۔ ایک بچی اسکول سے واپسی پر یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اْسکی پالتو بطخ تالاب میں ڈوبی مری پڑی ہے۔ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آیا اسے کسی نے قصداً مار دیا ہے یا وہ خود مر گئی ہے۔ حیوانات کے ڈاکٹر کو بلوایا گیا جس نے تفصیلی معائنہ کے بعد پانی سے تر بتر بطخ کے پروں کو پکڑ کر اْٹھایا، اور کہا، ’’یہ بطخ اپنی لاپرواہی اور پیشگی تیاری نہ کرنے کے باعث موت کے

جے کے بنک… بھروسہ کرلیا جس پر!!!

جموں  و کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک ہے۔ جب سے زندگی میں حساب کتاب رکھنے کی حس پیدا ہوئی ہے، اسی بینک کا نام ذہن و دماغ میں گونجا ہے۔ چھوٹی بڑی جو بھی آمدن ہے، اسی بینک میں پڑی رہتی ہے۔ قرضہ اُٹھانے کی جب بھی مجبوری درپیش آئی تو اسی بینک کا خیال دل میں آیا۔ ہمارے قرضے بھی ہماری اوقات کی مناسبت میں ہوتے ہیں لیکن اُن کے حصول میں جو جو پاپڑ بیلنے پڑے، ہم نے خندہ پیشانی سے جھیلے۔ کیوں نہ جھیلتے؟ جموں کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک جو تھا! چپراسی سے لے کر برانچ منیجر تک سب کی ڈانٹیں کھاتے رہے، سب کے نخرے سہتے رہے، لیکن اُف تک نہ کی۔ وجہ؟ جموں کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک ہے، اس کے بارے کوئی ایسی ویسی بات کرنا قومی غداری کے مترادف ہے۔ جموں و کشمیر بینک ہماری اقتصادی اور مالی آزادی کی ضمانت تھا۔ اور یہ ہمارا بھروسہ ہی نہیں ہمارا عقیدہ تھا۔اور ہم چونکہ اہل عقیدت سے تعلق رکھتے ہیں، ہم نے ک

عزیز الحسن مجذوبؔؒ

 خواجہ   عزیزالحسن مجذوب ؔؒ ۱۲ جون ۱۸۸۴ء بمطابق ۱۶ شعبان ۱۳۰۱ھ بروز بدھوار پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام خواجہ عزیز اﷲ تھا جو پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے ۔خواجہ صاحب نے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا۔ گھر کے دینی ماحول اور والد محترم کی تربیت سے یوینورسٹی میں بھی اسلامی وضع قطع کے پورے پابند رہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ جس عہدہ پر بھی پہنچے گا اس عہدہ کے معیار کو بلند کر دے گا ۔اسی زمانہ میں مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ سے تعلق پیدا کیا اور پھر یہ تعلق عمر بھر رہا ۔اسی زمانے سے شعر بھی فرمانے لگے ۔پہلے حسنؔ تخلص کیا اور بعد میں مجذوب ؔ ۔ابتداء ً ڈپٹی کلیکٹری کے عہدے پر مامور ہوئے اور سات برس تک اپنی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ڈپٹی انسپکٹر تعلیم کے عہدے پر تبادلہ کرا لیا ۔حکومت نے آپ کی بلند شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے ؔ’’خا

والیٔ سوات کا انصاف

والیٔ  سوات بحیثیت حکمران خود کو قانون سے بالا نہیں سمجھتا تھا۔ اس کی واضح مثال آپ اس ایک واقعہ سے خود لگا لیجیے کہ والی ٔ سوات معمول کے مطابق سرِ شام سیر پر نکلے ہوئے تھے کہ اچانک اُن کی گاڑی کے سامنے فضاگٹ میں رانگ سائیڈ پر ایک تانگہ آگیا۔ تانگے والے کو رُکوایا گیا۔ غلطی کوچوان کی تھی۔ اس لیے سزا کے طور پر اُسے ایک چپت رسید کی گئی، ساتھ ہی 25؍روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔ چند دن بعد خدا کی کرنی دیکھئے کہ والی سوات حسب معمول سیر پر تھے۔ ان کی گاڑی کا سامنا اُسی تانگے والے کوچوان سے ہوگیا۔ کوچوان نے والی ٔ سوات کی گاڑی رُکوا دی اور والی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :حضور! آج آپ کی گاڑی رانگ سائڈ پر ہے۔ آپ نے چند دن پہلے مجھے اس غلطی کی پاداش میں 25 ؍روپیہ جرمانہ کے ساتھ ساتھ ایک چپت بھی رسید کی تھی۔ والیٔ سوات نے اپنے مصاحب کو حکم دیا کہ گاڑی تک سڑک کی لمبائی ماپ لیں۔ فاصلہ ناپا گی