آہ ! ڈاکٹر محمد مرسی مرحوم

 اُن  دنوںاہرام کے دامن سے نکلتی شعاعیں بڑی شادماں تھیں، ہواؤں میں تازگی تھی، پرندوں کی آواز میں نغمگی تھی، دریائے نیل کی موجیں رقصاں تھیں،لوگوں کی آنکھوں میں چمک تھی،ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی،دل خوشی سے اچھل رہے تھے،سب ایک دوسرے سے بڑی محبت والفت کے ساتھ بغل گیر ہو رہے تھے ۔ہر ایک اپنے اپنے انداز میں خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔ جامعہ ازہر کا پروفیسر کیا ! اور قاہرہ کی گلیوں کا سبزی فروش کیا!آج سب ہی یکساں خوش تھے۔آج 18؍جون 2012ء کو بالآخر ان کاصدیوں کا انتظار ختم ہوا تھا ۔ اپنی خودمختاری کا خواب آنکھوں میں سجائے انہوں نے ایک لمبا عرصہ یوں ہی گزار دیا تھا۔ان کے ملک کی اونچی اونچی عمارتیں ،لمبی لمبی سڑکیں ،نیا طرز زندگی ،گفتار میں جدت ،تعلقات میں وسعت، دیکھ کر تو ایسا لگتا تھا کہ وہ ایک خوش حال زندگی جی رہے ہیں، ان کے اٹھتے قدم ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، لیکن ان اونچی عمارتوں

محبوس مصری صدر محمد مرسی

 سال   جیل وزندان میں گزارنے کے بعد آخر کار سابق مصری صدر اور الاخوان ا لمسلمون کے سنیئر قائد ڈاکٹرمحمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ ۶ ؍سال سے قاہرہ جیل میں محبوس ملک کے سابق منتخبہ سربراہِ حکومت کا تختہ جنرل السیسی نے پلٹ دیا تھا ۔انہوں نے فوجی بغاوت کر کے خود قاہرہ کی زمام ِاقتدار سنبھالی، صدر مرسی کو معزول کر کے جیل میں ٹھونس دیا اور ان کے سینکڑوں حامیوں کا قتل عام کیا ، اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردے کر اس پر پابندی عائد کی ، تنظیم کی بالائی قیادت سمیت نچلی سطح کے اراکین کو غداری ، ملک دشمنی اور ایسے ہی دیگر سنگین الزامات میں مقدمات  درج کر کے پابہ زنجیر کیا گیا ۔دم ِواپسیں محمد مرسی عدالتیسماعت کے دوران بے ہوش ہو کر گرگئے اور بر سر موقع انتقال کر گئے۔ معزول صدرموت سے قبل اپنے خلاف جاسوسی کے الزام کے بارے میں جج کے سامنے اپناموقف ب

کون بھلے کون مندے؟

   ابھی  کچھ عرصہ قبل ضلع پلوامہ کشمیر کے لیتہ پورہ گائوں میں سی آر پی ایف کے ایک رواں دواں کانوائے پر خود کش حملہ ہوا ،جس میں بشمول بمبار لگ بھگ پچاس لوگوں کی موت واقع ہوگئی۔اس حملے کی پاداش میں سارے ہندوستان میں عام طور پر اور ریاست جموں و کشمیر کے صوبہ جموں میں خاص طور پر اشتعال اُبل پڑا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی مختلف دانش گاہوں اور دیگر تعلیمی اداروں اداروں میں زیر تعلیم کشمیری مسلمان طلباء و طالبات کو بے حد خوف زدہ اور مارپیٹ کرکے وہاں سے نکالا گیا ۔جو لڑکے لڑکیاں ہوسٹلوں سے باہر کرایے کے کمروں میں رہتے تھے، اُن کا سامان باہر پھینک کراُنہیں قتل کرنے کی بھی دھمکیاں دی گئیں  ۔ ہماچل پردیش اور اُترا کھنڈ کے گدیوں نے نہ صرف کشمیری مسلمان طلبا و طالبات کو تعلیمی اداروں سے باہر کردیا بلکہ اُن جگہوں پر کاروبار کرنے والے ،پھیری لگانے والے ،مزدوری کرنے والے مزد

قلم کاری ۔۔۔ قلم امانت تحریر شخصیت

 کسی  مخصوص موضوع پر اپنی رائے دینے یا اس رائے کو کسی مضمون کی شکل میں لکھنے کا عمل ۔”تحریر “ کہلاتا ہے۔تحریر جتنا پڑھنے میں آسان لگتی ہے اتناہی اس کی تخلیق اور تحریر مشکل ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ انسان کا شوق سب کچھ کروادیتا ہے۔ جن لوگوں میں لکھنے ،پڑھنے اور اپنے خیالا ت کے اظہار کا ہنر اور شوق ہوتا ہے ۔ وہ اپنے ان شوق کی تکمیل کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔ بولنے والنے والا،بولتے بولتے تھک سکتا ہے مگر ایک لکھنے والے کا قلم کبھی نہیں رک سکتا اور نہ ہی تھک سکتا ہے۔ویسے ہی ہر لکھنے والے کے الگ مسائل ہوتے ہیں۔جیسے کہ کسی عنوان پر لکھنے کے لئے موضوع کاچننا، اس پر تحقیق کرنا،تحقیق کے بعد اس تحریر سے جڑے لوگوں کے جذبات ونتائج کے بارے میں سوچنا،سب سے اہم اس مضمون کو اتنا دلچسپ اور پر کشش رکھنا کہ قاری پڑھے بنا نہ رہ سکے۔جس طرح لکھنے والے کا مزاج مختلف ہوتا ہے

’’ڈسکورسز آف حاجنی کے آئینے میں ‘‘

 یہ   سب کاوشیں بغیر نتیجہ اپنے اپنے  اختتام کو پہنچی۔ اگر واقعی گورنر ملک کی محتاط ستیہ وانی مودی 0.2کی کسی دُور اندیش پالیسی کا حصہ ہے، تو حکومت سے یہ سوال پوچھا جانا ضروری ہے کہ مذاکراتی انسچوشن کو منہدم کرکے کون سے گراونڈمیں مذاکرات ہونے ہیں، اور اگر کوئی ایسا تھیٹر سجانے کی تیاری ہے جس میں بغیر کرداروں کے کوئی ڈائریکٹر سٹیج پر آکے محض ڈرامہ پڑھ کر سنائے تو وہ الگ بات ہے!  مقالے کا بین السطور مطالعہ یہ کہتا ہے کہ جب مغرب علمی اعتبار سے تارکیوں اور ظلمتوں میں گرا ہوا تھا تو مشرق میں مسلمان سائنسدان ،سائنسی اور تجرباتی علوم و فنون میں ستاروں پر کمندیں ڈال رہے تھے ۔یہاں مضمون نگار علم کیمیا میں خالد بن یزید ،جابر بن حیان ، ابولالقاسم علی الاندلوسی، ابو منظر عراقی ، ابن در کا حوالہ دے کر کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے خون جگر سے علم کیمیا کے شجر ہائے سای

تازہ ترین