چین نے دی ناکامی کو شکست!

 مائو  کی موت کے بعد غیر یقینی کے برسوں میں،چین کے صنعتی طاقت بننے سے بہت پہلے چینی معاشی طالبعلموں کا ایک گروپ شنگھائی سے باہر ایک پہاڑ پر جمع ہوا، نوجوان اسکالروں کے سامنے ایک ہی سوال تھا کہ ہم مغرب کی برابری کس طرح سے کرسکتے ہیں، یہ ۱۹۸۴ء کا موسم خزاں تھا اور دوسری جانب رونلڈ ریگن امریکیوں سے ایک بارپھر نئی صبح کا وعدہ کررہے تھے، اس دوران چین کئی دہائیوں بعد معاشی اور سیاسی بحران سے نکل آیا تھا، ملک میں ترقی ہوئی تھی مگر پھربھی چین کی تہائی آبادی انتہائی غربت میں زندگی گزار رہی تھی۔ چین میں ریاست فیصلہ کرتی تھی کہ کون شخص کہاں کام کرے گا، کس کارخانے میں کیا بنایا جائے گا اور اس کی قیمت کیا ہوگی۔ کانفرنس میں شریک افراد درمیانی عمر کے وہ نوجوان تھے، جو مارکیٹ کو آزاد کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ معیشت کی تباہی سے خوفزدہ تھے، یہ سب کچھ کمیونسٹ پارٹی کو چلانے والی نظریاتی بیورو

انڈیا ایجوکیشن کانکلیو

حیدر  آباد میں کل ہند تعلیمی کانفرنس کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ایک ایسے وقت جب کہ حالیہ واقعات کے پس منظر میں مسلمان مایوس نہیں تو کم از کم شش و پنج میں مبتلا ہیں۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آیا اس کا کوئی مقام ہے یا نہیں۔ کل تک ہر شعبہ حیات میں اس کی اہمیت رہی۔ حکومتیں بھی اس کے تعاون کے بغیر تشکیل نہیں پاسکتی تھیں‘ مگر حالیہ عرصہ کے دوران جو سیاسی حالات پیدا ہوئے۔ جو منظر نامہ تبدیل ہوا اس میں اسے اپنی سیاسی بے وزنی کا احساس شدت سے ہونے لگا۔ شاید اس لئے کہ مسلمانوں نے جس کا ساتھ دیا اس میں سے اکثریت کو فائدہ نہیں ہوا۔ اور جہاں مسلمانوں اکثریت میں ہیں‘ وہاں سے بھی ان کے نمائندے ناکام رہے۔ سیکولرزم پر یقین رکھنے والے مسلمانوں کا سیکولرزم پر سے بھرم ختم ہونے لگا۔ کیوں کہ الیکشن 2019ء کے دوران ایسے کئی چہروں سے سیکولرزم کے نقاب  اترگئے۔ سبھی چہرے ایک جیسے عی

اننت ناگ کا فدائی حملہ!

   حقیقت میں وہی سے زندگی کی راہ ملتی ہے   سفینہ غر ق ہوجائے جہاں ٹکرا کے ساحل سے  12جون کو جب گورنر ستیہ پال ملک میڈیا کی کہکشاں کے سامنے جنگجوؤں کو ہتھیار چھوڑ کر میز پر آنے کی دعوت دے رہے تھے، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جنگجو فورسز پر خون ریز حملے کی تیاریاں کررہے تھے ۔ گورنر کی پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد خبر آئی کہ کھنہ بل ۔ پہلگام روڑ پر جنگجوؤں کے حملے میں سی آر پی ایف کے پانچ جوان ہلاک ہوئے ۔ ایک سٹیشن ہاؤس آفیسر اور ایک خاتون شدید طور پر زخمی ہوئے جب کہ ایک جنگجوجوابی کاروائی میں مارا گیا ۔ ظاہر ہے کہ یہ حملہ اس دباؤ کو توڑنے کی ایک کوشش تھی جو کافی عرصے سے فورسز نے جنگجوؤں پر بنایا ہوا ہے اور جس کے نتیجے میں جنگجوؤں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ کئی اعلیٰ کمانڈر مارے گئے جن میں’’ انصار غزوۃ الہند ‘

ستیہ پال کی محتاط ستیہ وانی

گورنر  ستیہ پال ملک نے جموں کشمیر کی زمام کار سنبھالنے کے طویل عرصہ بعد پریس کانفرنس میں لوگوں کو یقین دلایا کہ دفعہ 370کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ڈی لمٹیشن سے متعلق خبریں محض افوا ہ ہے  اور کشمیریوں کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے مسلح نوجوانوں سے ہتھیار چھوڑنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری لیڈروں نے آزادی، اٹانومی اور سیلف رُول کے ’جھوٹے سپنے‘ دکھا کر نوجوانوں کو گمراہ کیا ہے۔ انہوں نے نہایت مبہم انداز میںنوجوانوں کو کشمیرکی خود نمائندگی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی آئین کے اندر اندر وہ جو چاہیں دلی سے مانگ سکتے ہیں۔ انہوں نے ملی ٹینٹوں سے براہ راست مخاطب ہوکر کہا کہ ، ’’جموں کشمیرکا اپنا آئین اور اپنا پرچم ہے۔ اور کیا چاہیے، اور اگر اور بھی کوئی شکایت ہے، کوئی مطالبہ ہے تو راج بھون میں آئیے اور چائے پر مجھ سے بات کیجئ

’’ڈسکورسز آف حاجنی کے آئینے میں ‘‘

 پروفیسر   حاجنیؔ|1917-1993))نہ صرف کشمیری زبان کے مقتدر ادیب مانے جاتے ہیں بلکہ وادی کشمیر کے بلند قد عالم اور دانشور تسلیم کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت کا ثبوت مختلف تخلیقات کے حوالے سے دیا ہے ۔موصوف بیک وقت تین زبانوں میں لکھتے رہے ، کشمیری زبان کو وہ ایمان کی حد تک پڑھتے اور لکھتے رہے اردو زبان میں وہ زیادہ دیر تک نہ لکھ سکے ،صرف چند ایک انشائے اور اخباری کالم اردو زبان میں لکھ چھوڑے ہیں ۔ ان کا اردو زبان کو خیر باد کہنا کشمیری زبان کے خدمت کے تئیں کا نتیجہ تھا جو کہ ان کا خود کا بیان ہے ۔حاجنی صاحب انگیزی زبان پر بھی خاصی دسترس رکھتے تھے انہوں نے مختلف علمی ،سائنسی ،تجزیاتی ،تبصراتی مضامین ساٹھ اور ستر کے عشرے میں لکھے ہیں جو وقتاً فوقتاً رسالہ ’’ڈسکورس ‘‘ اور ’’ پرتاب ‘‘ ایس ۔پی ۔کالج سیرنگر میں شائع ہوچکے ہی

تازہ ترین