۔21 ؍ویں صدی کے اسبا ق

ساری   انسانیت آج تہذیب واحد بن چکی ہے۔ لوگوں کے ایک جیسے مسائل ہیں اور ایک جیسے مواقع زندگی ہیں(یہ دعویٰ تہذیب کی تعریف پرپورا نہیں اترتا۔ عالمی معاشی نظام کا جبر، سیاسی سازشیں، اور استعماری ہتھکنڈے ہرگز کسی عالمی تہذیب کے عناصر ترکیبی نہیں ہیں۔ مذہبیات اور سماجیات کے دائرے میں یہ دعویٰ قطعی بے بنیاد ہے، اورانسانی دنیا کاسب سے بڑا دائرہ مذہبیات اور سماجیات کا دائرہ ہی ہے)۔ پھر کیوں برطانوی، امریکی، روسی اور دیگر گروہ قوم پرستی کی تنہائی میں جی رہے ہیں؟ کیا قوم پرستی کی جانب لوٹنے سے عالمی مسائل کا حل نکل آئے گا؟ یا یہ محض ریت میں سر چھپانے جیسا ہے، جو بالآخرانسانی دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گا؟اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں سب سے پہلے اس دیومالائی کہانی کو رد کرنا ہوگا، کہ قوم پرستی انسان کی فطرت اور نفسیات میں ودیعت ہے۔ یہ سچ ہے کہ انسان مسلسل معاشرتی جانوروں کی سی

غصہ۔۔۔۔ ابتداء حماقت انتہا ندامت

 اپنے  محبوب بندوں کے صفات کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ عزو جل کا ارشاد ہے کہ ’’وہ غصہ کو پیتے ہیں ، لو گو ں کے لئے خیرو سلامتی کا با عث بن جا تے ہیں اور اللہ ایسے محسنو ں کو پسند کر تا ہے (آل عمران)۔ انسانی فطرت میں کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو مطلوب و مقصود ہوتی ہیں ۔ بر عکس اس کے فطرت انسانی میں کچھ ایسی چیزیں بھی ودیعتاً موجودہو تی ہیں جو نتائج کے اعتبا ر سے مضرت رساں اور غیر مطلوب ہو ں۔ ان ہی ضرر رساں اور غیر مطلوب چیزوں میں غصہ بھی شامل ہے ۔واقعتاً انسانی زند گی میں کئی مواقع ایسے بھی آتے ہیں جہاں غصہ کا در آنا فطری امر ہے ، البتہ محسنو ں (اللہ کے نیکو کار بندوں) کا یہ طرہ امتیاز یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے نا خو شگوار اور ہیجا نی حا لات میں  ارشاد ِ ربانی کی اطاعت کلی کے طور غصہ کو پی جا تے ہیں ، غصہ اور جھنجلاہٹ کے منفی عنصر کو اپنے وجو د پر غا لب نہیں ہو نے

تازہ ترین