تازہ ترین

ایڈورڈسعیدؔ

ایڈورڈ  سعید ؔ تحریر،تقریر اورعمل کی تینوںسطحوںپر بیسویںصدی کے نصف دو م کی ایک نہایت قابل اورسرگرمِ عمل شخصیت کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ مابعد نوآبادیاتی مطالعات میںاُن کاغیرمعمولی واہم رول ہے۔ شرق شناسی کے نظریات میں ایڈورڈسعید مجموعی طورپربہت سے دانشوروں ،فلاسفروں اورنقادوں کے اثرات قبول کرتاہے،جن میںنمایاںطورپر جین پال سارترؔ(۱۹۰۵۔۱۹۸۰ء؁) ،مشل فوکوؔ(۱۹۲۶۔۱۹۸۴ء؁) ، اینٹونیوگرامسکی (۱۸۸۹۔۱۹۳۷ء؁) اورجوزف کانراڈؔ(۱۸۵۷۔۱۹۲۴ء؁) شامل ہیں۔ایڈورڈسعیدکے نزدیک مستشرقین نے نوآبادیات کے دوران میں اپنی سامراجی حکومتوںکے لئے لازوال کرداراداکیا۔ انہوںنے محکوم لوگوںکو یہ باورکرایاکہ نوآبادیات ہی ان کے لئے خوشحالی ، امن اورترقی لائے گا ۔ نوآبادیات کے وقت برطانیہ اورفرانس میں مشرقی علاقوںپر قبضہ کرنے کی دوڑموجودرہی۔اسی طرح مستشرقین بھی مشرقی علوم وزبانوںکوحاصل کرنے میں ایک دوسرے پرسبقت

کشمیر پُر امن حل وقت کی پکار

 اس حقیقت کی شاہد عادل ہےکہ جہاں بھی کوئی مسلٔہ پیداہوا ،وہاں اس کا حل بھی موجودر ہا ۔ ا س اصول کے تحت تنازعہ  ٔجموں و کشمیر کا کوئی قابل قبول اور مبنی بر انصاف ضرور موجودہے مگر اسے ڈھونڈ نکالنے کے لئے تینوں فریق سنجیدہ غور و فکر کریں تو سہی۔ انہیں موجودہ عالم دنیا کی یہ اَٹل حقیقت سمجھنا ہوگی کہ دنیا گلو بلا ئز ہورہی ہے،یہاں ہر ایک ملک کا انحصار دوسرے ممالک پر بڑھتاہی جا رہا ہے، یہاںکوئی بھی ملک اکیلے ترقی کی سیڑھیاں طے کر سکتا ہےنہ زندہ رہ سکتا ہے ۔ حالا نکہ دنیا کی بڑی طاقتیں قوم پرستی کی بنیادیں مضبوط کر نےاور انہیںزندہ وتوانارکھنے کےلئے مکمل گلوبلائزیشن میں بڑی بڑی رکاوٹیں ڈال رہی ہیں ۔ا سی مقصد سے یہ طاقتیں جمہوری اصولوںکو روندھتے ہوئے ملٹیئرائزیشن کر کےدنیا  ئے انسانیت کو پامال کر رہی ہیں ۔ چناںچہ عصر رواں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح پہلے پہل عالمی ادارے(یواین او)

شہنشاہ ِ ظرافت

ہمارے   اردو ادب میں طنز ومزاح کی ایک شاندار روایت رہی ہے ۔کئی قدآور ادیبوں نے اس پُر لطف صنف ادب کو اپنایا ہے اور عوام کو اپنے اپنے طور پر ہنسایا ہے۔ایسے بلند یایہ ادیبوں میں رشید احمدصدیقی ،کنہیالال،پطرس بخاری،شوکت تھانوی،فکرتونسوی،احمد جمال پاشا اور کرنل محمدخان بطور خاص اہمیت کے حامل ہیں۔مشتاق احمدیوسفی نے اگرچہ ان سب سے کسب فیض حاصل کیا ہے مگر ان کی ظرافت کا انفراد یہ ہے کہ انھوں نے مزاح کی مغربی روایت کو مشرقی تہذیب وتمدن میں انگیز کرکے ایک نیا لب ولہجہ اور اسلوب ایجاد کیا ہے۔دراصل مشتاق احمدیوسفی مزاحیہ ادب میں یونہی مشہور نہیں ہوگئے ہیں بلکہ ان کے اسلوب میں ایسا جادو ہے جو ہر کسی کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔انھیں زبان اور انداز بیان پر حاکمانہ قدرت حاصل ہے ۔مشتاق احمدیوسفی نے شہرت کے بدلے معیار کو اہمیت دی ہے۔ان کی درجنوں تصانیف نہیں ہیں بلکہ کُل پانچ تصانیف ان سے منسوب ہی

غیر معمولی انتخابی جیت

کچھ  دن قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا کا ایک بہت دلچسپ وضاحتی بیان نظر سے گزرا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 2019کے پارلیمانی انتخابات میں جتنے ووٹ پڑے ہیں سب انسانوں نے ڈالے ہیں بھوتوں نے نہیں۔ بات معقول ہے کیونکہ بھوتوں کی نہ تو کوئی پارلیمنٹ یا اسمبلی ہوتی ہے، نہ ہی ان کے یہاں ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ نہ کوئی امیدوار کھڑا ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے یہاں سے پولنگ میں بے ایمانی کی کوئی خبر آتی ہے۔ پولنگ میں بے ایمانی تو انسان کرتے ہیں۔ خواہ بیلٹ پیپر سے ووٹ ڈالے جائیں خواہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے۔ بیلٹ پیپر میں پھر بھی بد عنوانی کی اتنی گنجائش نہیں ہوتی جتنی کہ ووٹنگ مشینوں میں ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ترقیات زمانہ کے طفیل بھوتوں کی دنیا بھی ترقی کر جائے اور وہاں بھی الیکشن ہونے لگیں۔ ذرا سوچئے کہ اگر وہاں بھی الیکشن ہونے لگیں اور کسی فرد واحد کو   بھوتوں بھوت نگری کے الیکشن کمیشن کا چیف بنا

وادی ٔگماں میں بسنے والو!

 وادی گماں میں بسنے والو!اس گماں میں،اس دھوکے میں،فریب میں مت رہناکہ تم ہروقت باوضورہتے ہو،اچھے کپڑے پہنتے ہو،نمازیں اداکرتے ہو،نفلی روزوں کابھی اہتمام کرتے ہوتورب کواس سے کچھ ملتاہوگا،اسے بندگی کرانے کی کوئی خواہش ہے،رب کی عزت میں کوئی اضافہ ہوتاہوگااوراگر تم بغاوت کرتے ہوئے ، فرائض نہیں اداکرتے تواسے کوئی نقصان ہوتاہوگاوہ رنجیدہ ہوتاہوگا،وادی ٔگماں میں بسنے والو!ایسانہیں ہے،قطعی نہیں ہے۔ساری کائنات اس کے سامنے سجدہ ریزہوجائے تواس کی بڑائی بیان نہیں ہوسکتی اورساری کائنات باغی ہوجائے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بس حکم کی تعمیل کرتے چلے جاؤ شکرکے ساتھ عاجزی کے ساتھ،اپنی تمام تربے بسی کے ساتھ،توبس تمہاراہی فائدہ ہے۔ فلاح پاؤگے،مانتے چلے جاؤ گے توامن پاؤگے،سکون وراحت پاؤگے۔ بغاوت کرو گے توزندگی جہنم بن جائے گی،سکون وقرارکھوبیٹھوگے، اعتبار جاتارہے گا، نفسا نفسی مچے گی،کوئی کسی کی ن