تازہ ترین

موبائل کا بے جا استعمال | نئی نسل بربادی کی راہ پر

فون کا اصل مقصد لوگوں سے رابطہ ہے۔ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے جاننے والوں کا حال احوال جاننے کے لیئے موبائل کا استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دورمیں تو اس کا مطلب ہی بدل گیاہے۔ دنیا جہان کا ہر فنکشن موبائل میں آ گیا ہے اور پہلے بٹن زور زور سے دبانے پڑتے تھے لیکن اب ٹچ موبائل نے یہ مسلٔہ بھی حل کر دیا ہے۔جدید موبائل کیمروں سے سیلفی لینے کا شوق ہی مان نہیں۔اب لوگ گھٹری نہیں باندھتے۔ ابھی بھی لائٹ چلی جائے تو موبائل کی لائٹ ہی کام آتی ہے۔کیلنڈر دیکھنے کے لیئے پہلے گھر میں جنتریاں ہوتی تھیں لیکن اب ان کی چنداں ضرورت نہیں رہی۔گھر میں ایک موٹی ضخیم کتا ب ہو تی تھی جو مشکل الفاط کے معنی دیکھنے کے کام آتی تھی لیکن اب موبائل ایپس کی موجودگی میں ڈکشنری کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔پہلے بچے گھر والوں سے نظر بچا کر ویڈیو گیم کھیلنے جاتے تھے اور بیلرڈ کے پھٹے آباد ہوتے تھے،لیکن اب یہ کشٹ اُٹھانے کے ض

کشمیر : پارلیمانی الیکشن کے مابعد

ستر  ہویں لوک سبھا کیلئے حال ہی اختتام پزیر انتخابات میں حکمران اتحاد این ڈی اے کو دیو پیکر حیثیت عطا کر نے میں گز بھر ہاتھ کشمیر کا بھی شامل رہا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیںالیکشن شیڈو ل شا ئع کئے جانے کے دن سے ہی شکوہ زن رہیں کہ حکمران جماعت اپنی پانچ سالہ کارکردگی کے بارے میں پوچھے جارہے سوالات کا جواب نہیں دیتی ہے۔ اس عرصہ کے دوران ملک میں ہوئی تعمیر و ترقی اور عوام کو ملی سہولیات سے متعلق جان کاری کو عام نہیں ہونے دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کا الزام تھا چوںکہ پانچ سالہ اقتدار کے دوران تعمیر و ترقی کے نام پر عوام کو کوئی راحت نہیں پہنچائی جا سکی ہے ، تبھی حکمران جان بوجھ کرکسی ایک بھی سوال کا جواب دینے سے کتراتے رہے۔ اپوزیشن لیڈران کے مطابق حکمرانوں سے جواب حاصل کرنے کیلئے اُن کے سوالات کچھ مشکل بھی نہیں تھے، مناسب ہی تھے اور واجب بھی ، جیسے دو کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے وعدے ک

یادوں کے جھروکے سے منظر منظر نقش نظر میں دل میں چہرہ چہرہ ہے

ہاتھوں  کے لشکراب بھی آتے ہیں مگر ابابیلیں نہیں آتیں۔ میرا سارا بچپن شہر خاص سری نگرمیں گزرا ہے۔ روزانہ نوہٹہ سرینگر سے گزرنا معمول ہی تھا۔ مجھے یاد ہے موسم بہار کی شروعات سے ہی ابابیلوں کا ملہ کھاہ سے نوہٹہ چوک اور پھر نوہٹہ سے ملہ کھاہ تک پرواز رہتا تھا۔ گویا یہ ابابیلیں اس رقبے کا گشت لگاتی رہتی تھیں۔ ان کی پرواز اتنی نیچے ہوتی تھی کہ مجھے ان کو پکڑنا بڑا آسان نظر آتا تھا مگر جب کئی بار میں نے کوشش کی تو کسی ایک کو بھی نہ پکڑ سکا اور اس بات پر مسکرادیا کہ یہ خوبصورت پرندے انسان سے کیسا کھیل کھیل لیتے ہیں اور گویا چلینج دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی قد کے برابر اُڑ رہے ہیں، ذرا ہمیں پکڑ کے تو دکھاؤ توسہی۔ بزرگ کہتے تھے کہ ابابیل بڑا نازک جانور ہے، اگر کوئی اسے پکڑ لیتا ہے تو یہ مرجاتا ہے۔ اب تو ابابیلیں کہیں نظر ہی نہیں آرہی ہیں۔ میرے بچپن میں ان کی بڑی تعداد کا مشاہدہ ہوتا تھا

یہ سیاست کا فسانہ بھی بدل جائے گا جب

سنابھی ہے دیکھا بھی کہ ابھی پورے بھارت ورش میں الیکشن نتائج کا بھوت سوار ہے ۔ کہیں جیت کا جنون سوار ہے کہ جیتنے والوں نے کمزوروںبے گناہوں کا خون بہانے کا دوار کھلا رکھا ہے۔ کہیں ہار کے بخار کا سروں پر اس قدر پرہار کا بخار ہے کہ لوگ استعفوں کے کاغذ ہاتھوں میں لئے گھوم رہے ہیں اور یہ سارا کھیل مزیدار اس بات سے بنتا ہے کہ کوئی استعفیٰ لینے کے لئے تیار نہیں ۔جس کسی کی  طرف بھی استعفیٰ بڑھایا جائے، اُسے محسوس ہوتا ہے کوئی زاکا یا نیپا وائرس ہے کہ ہاتھ لگائو تو کہیں کا نہ رکھ چھوڑے گا۔بڑی مشکل سے پارٹی دفاتر میں سیکورٹی گارڈز بچے ہیں جو استعفیٰ نام کا کاغذ لیتے تو ہیں مگر ان کا کیا کرنا ہے ،جانتے نہیں۔اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ یہ استعفیٰ ہے تو وہ خوشی خوشی بیویوں کو فون لگادیں کہ میڈم اب تمہاری دادا گیری نہیں چلے گی کیونکہ ہماری پرموشن ہو گئی ہے اور یہ کہ بڑے سے بڑا عہدیدار تیاگ پتر ہمار

بعد از صیام .... اب کیا کیاکر یئے گا ؟‎

ماہ مبارک اپنی تمام تر عظمتوں اور رحمتوں کے ساتھ کئی دن قبل الوداع کہہ چکا ہے ۔ شیفتہؔ کا برقی پیام اب کیا کرنا ہے؟ پڑھ کر ہمیں بھی یہی خیال گذرا کہ اب کرنا کیا ہے ؟بقراط سے پوچھا کہ اب کیا کرنا ہے؟ تو کہا جناب بے شمار کرنے کے کام ہیں اور جن میں سب سے اہم اس دنیا کو سدھار ناہے جس کے لئے دانشوران مغرب فکر مند ہیں اور جن میں بل گیٹس جیسے اہل دولت و ثروت بھی شامل  ہیں۔حالیہ دنوں میں بل گیٹس نے گلوبل وارمنگ (یعنی کرہ ٔارض پر موسم کی تبدیلی جو تابکاری، بجلی کی پیداوار اور صنعتی فضلے کی مرہون ِمنت ہے اور جو اہل زمین کے لئے بے شمار امراض اور آفات ناگہانی کا باعث بنی ہوئی ہے) کی روک تھام کا بیڑا اُٹھانے والے تحقیقی اداروں میں سرمایہ کاری کی ہے اور اپنی تقاریر و بیانات میں اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ کہا: بل نے حالیہ دنوں میں ’’اپ ہیول‘‘ نامی کتاب کے مصنف سے اپنی م