تازہ ترین

اسمبلی نشستوں کی نئی حد بندی!

ریاست   جموں و کشمیر کو حالیہ ایام میں جس نئی صورت حال کا سامنا ہے اُس کا تعلق ریاستی اسمبلی میں سیٹوں کی حد بندی سے متعلق چونکا دینے والی خبریںہیں ، اسے عرف عام میں ڈی لیمی ٹیشن (Delimitation) عنوان دیا جاتا ہے ۔ بھارت میں پارلیمانی انتخابات کی مہم کے دوران حکمران پارٹی بھاجپا نے شد و مد سے تکراراََ دفعات 370اور 35A کی منسوخی کا ذکر چھیڑا بلکہ یہ بھی کہا جانے لگا کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں جتنی جلدی ہو سکے، اس بارے میں اقدامات رو بعمل لائیں جائیں گے۔اِس ضمن میں کشمیر میں نگرانی کی کیفیت طاری ہونا ظاہر ہے ایک متوقع رد عمل تھاچونکہ اِن دونوں دفعات کا تعلق ریاست کی داخلی خود مختاری سے ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں ایک جانب مزاحمتی تحریک جاری ہے جسے علحیدگی پسندی کی تحریک بھی مانا جاتا ہے جبکہ دوسر ی جانب سیاسی دھارا میں مین اسٹریم کا وجود بھی ہے جن کا الحاق کے ساتھ کوئی اخ

نیتن یاہو

اسرائیلی   وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے سب سے پہلے مودی جی کو کامیابی کی مبارک باد روانہ کی ۔ انہیں توقع رہی ہوگی کہ مودی این ڈی اے کے فاضل ارکان اسرائیل روانہ کردیں گے، اس طرح وہ بھی حکومت سازی میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ابھی عالمی جمہوری نظام نے اس قدر ترقی نہیں کہ ارکان پارلیمان کے بھی دیگر مال و اسباب کی مانند درآمد و برآمد ممکن ہوسکے۔ اس میں شک نہیں کہ نوٹ کے بل پر ووٹ حاصل کرنے والے سیاسی رہنماوں کی حیثیت ’‘متاع ِکوچہ و بازار‘‘ سے زیادہ نہیں ہے۔ مقامی سیاسی منڈی میں جب ان کی سرِ عام نیلامی ہوتی ہے تو عالمی بازار کے اندر کیا قباحت ہے! خیر نیتن یاہو کی جماعت 'لیکوڈ نے ۹ ؍اپریل ۲۰۱۹ کو منعقد ہونے والےپارلیمانی انتخابات میں گزشتہ مرتبہ کی بہ نسبت ۲۰ فی صد زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ اس کے باوجود ڈیڑھ ماہ کی اُٹھا پٹخ کے بعد وہ پانچویں

’’ ٹیڑھی لکیر‘‘

تقدیر کی ٹیڑھی لکیر کیا کبھی سیدھی ہو سکتی ہے؟عصمت چغتائی کے ناول ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘میں ڈوب کر دیکھئے تو اندازہ ہوگا کہ تقدیر کی بنائی لکیر کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔یہ لکیر سیدھی ہو تو واہ!ٹیڑھی ہو تو آہ!ناول کی دنیا میں ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘نامی ناول اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ناول نگار جب زندگی کے اونچ نیچ ،زیرو بم اور نشیب و فرازسے خود دوچار ہو جاتا ہے تو اُسے ایک تحریک ملتی ہے۔اس تحریک سے اس کے ذہن و قلب پرکچھ ایسا اثر ہو جاتا ہے کہ وہ بے ساختہ خامہ فرسائی پر اُتر آتا ہے۔ان مشاہدات اور تجربات کو وہ قلم کی نوک سے ایک ایسا موڑدے دیتاہے کہ ایک کتاب وجود میں آتی ہے جسے رسمی طور پر پھر شعر وکلام ، افسانہ یا ناول کہتے ہیں۔ عصمت چغتائی ۲۱ ؍اگست  ۱۹۱۵ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں ۔میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے اور

سیاست اور فلمی دنیا

چونکہ  دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں عام انتخابات حال ہی اپنے اختتام کو پہنچے ہیں، اس لیے بھارتی سیاست میں قدم رکھنے والے فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں کے سیاسی کردار کے بارے میں کچھ پڑھنے کے لیے اس سے بہتر وقت نہیں ہوسکتا۔رشید قدوائی کی کتاب Neta Abhineta: Bollywood Star Power in Indian Politics ان فلمی ستاروں کے بارے میں ہے جو ناظرین میں اپنی پسندیدگی اور ووٹرز کے ان پر اعتماد کی بنیاد پر سیاسی میدان میں زور آزمائی کرچکے ہیں۔کتاب میں بتایا گیا کہ وہ کس طرح میدان میں اسکور بنانے میں کامیاب ہوئے، وہ پاس ہوئے یا فیل؟ کیا ان کی منتخب کردہ پارٹی میں شامل ان کے’ ’حریفوں‘‘ نے انہیں تسلیم کیا؟ اسٹار ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ ترجیحی سلوک روا رکھا گیا یا نہیں؟ کہنے کا مطلب یہ کہ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران سیاست اور ہندوستانی سنیما کے دوران

حیات بخش کتابیں

  اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے تفصیلی احکام بہت ہوگئے ہیں ، جو مجھ جیسے (عامی آدمی) کے قابو میں نہیں آتے، کوئی ایسی مختصر بات بتا دیجئے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں۔رسول اکرم و مربی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی کی بات توجہ سے سنی اور فرمایا : خدا کے ذکر سے تمہاری زبان ہمیشہ تَر رہے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الادب ) بجائے اس کے کہ پیغمبر اسلام  ﷺ اس اعرابی کو ملامت کرتے اور اس کے اس مطالبہ کو پست ہمتی اور علم دین کی مکمل معلومات حاصل کرنے سے پہلو تہی پر محمول فرماتے (جیسا کہ آج کل لوگ کتب ِ فضائل سے فیض یاب لوگوں پر اس طرح کے بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید اور قابل اعتراض فقرے کستے ہیں) آپ ﷺنے پوری توجہ سے اس کے اس سوال کا جواب دیا کہ ذکر کے عمل کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔        &nbs

سماجی خدمات رفاہی امور

 خواتین کی تیمار داری :         تیماء داری ایک عظیم خدمت ہے جس کو ہم نے پوری طرح سے بھلا دیا ۔ یہ دعوت کا ایک اہم حصہ بھی ہے اور ذریعہ بھی ۔ تیماء داری سے ایک فرد پر دیریپا اثرات پڑتے ہیں او ر اس سے نہ صرف ایک لاچار ، بیمار اور بے سہارا انسان کی  طبعیت خوش ہو جاتی ہے بلکہ ایک مالدار اور خوشحال انسان بھی اس سے بے حد متاثر ہوجاتا ہے ۔ حضرت رفیدہ ؒوہ خوش بخت خاتون تھیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے روبرو اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کر لی تھی ۔طب اور علاج و معالجہ سے ان کو خصوصی دلچسپی تھیں جس کی بنا پر انھوں اپنے لئے تیمار داری اور علاج و معالجہ کے کام کو انتخاب کیا ۔ انھوں نے اپنے آپ کو زخمی مجاہدین کی خدمت اور ان کی تیمار داری کے لئے واقف کردیا ۔ان کا اپنا ایک خیمہ تھا جس میں وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔ مورخ محمود طعمہ حلبی ان کے متعلق لکھتے

عیب جوئی

 دین   اسلام نے خلق کو اللہ کا عیال کہہ کراس بات کی طرف اشارہ کیا کہ بنی نوع انسان کے آپسی تعلقات کس قدر خوشگوار ہونے چاہئے۔حدیثِ قدسی ہے کہ ’’مخلوق اللہ کا عیال ہیں۔‘ ‘ حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اس عیال کو اللہ اپنی ذات کے ساتھ منسوب کر رہا ہے، جو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کنبے کا ہر فرد دوسرے فرد کو ایک ہی خالق کے عیال کا حصہ سمجھ کر ہمیشہ اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ روا رکھے۔ یہ ذہن میں رہے کہ خالق اپنے عیال کے ظاہر سے بھی واقف ہے اور دلوں کے اندر مخفی بھیدوں سے بھی واقف۔ایک ہی کنبہ اور ایک ہی خاندان کے افراد ہونے کی حیثیت سے ہر فرد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کو کوئی نقصان یا ایذاء نہ پہنچائے، اسی طرح وہ اپنے اہل خانہ سے کبھی حسد کرے نہ ہی اس کے لئے دل میں بغض رکھے۔جب تک ایک دوسرے کے تئیں خیرخواہی پر مبنی جذبات نہ ہوں تو منفی ج

۔21 ؍ویں صدی کے اسبا ق

ساری   انسانیت آج تہذیب واحد بن چکی ہے۔ لوگوں کے ایک جیسے مسائل ہیں اور ایک جیسے مواقع زندگی ہیں(یہ دعویٰ تہذیب کی تعریف پرپورا نہیں اترتا۔ عالمی معاشی نظام کا جبر، سیاسی سازشیں، اور استعماری ہتھکنڈے ہرگز کسی عالمی تہذیب کے عناصر ترکیبی نہیں ہیں۔ مذہبیات اور سماجیات کے دائرے میں یہ دعویٰ قطعی بے بنیاد ہے، اورانسانی دنیا کاسب سے بڑا دائرہ مذہبیات اور سماجیات کا دائرہ ہی ہے)۔ پھر کیوں برطانوی، امریکی، روسی اور دیگر گروہ قوم پرستی کی تنہائی میں جی رہے ہیں؟ کیا قوم پرستی کی جانب لوٹنے سے عالمی مسائل کا حل نکل آئے گا؟ یا یہ محض ریت میں سر چھپانے جیسا ہے، جو بالآخرانسانی دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گا؟اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں سب سے پہلے اس دیومالائی کہانی کو رد کرنا ہوگا، کہ قوم پرستی انسان کی فطرت اور نفسیات میں ودیعت ہے۔ یہ سچ ہے کہ انسان مسلسل معاشرتی جانوروں کی سی

غصہ۔۔۔۔ ابتداء حماقت انتہا ندامت

 اپنے  محبوب بندوں کے صفات کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ عزو جل کا ارشاد ہے کہ ’’وہ غصہ کو پیتے ہیں ، لو گو ں کے لئے خیرو سلامتی کا با عث بن جا تے ہیں اور اللہ ایسے محسنو ں کو پسند کر تا ہے (آل عمران)۔ انسانی فطرت میں کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو مطلوب و مقصود ہوتی ہیں ۔ بر عکس اس کے فطرت انسانی میں کچھ ایسی چیزیں بھی ودیعتاً موجودہو تی ہیں جو نتائج کے اعتبا ر سے مضرت رساں اور غیر مطلوب ہو ں۔ ان ہی ضرر رساں اور غیر مطلوب چیزوں میں غصہ بھی شامل ہے ۔واقعتاً انسانی زند گی میں کئی مواقع ایسے بھی آتے ہیں جہاں غصہ کا در آنا فطری امر ہے ، البتہ محسنو ں (اللہ کے نیکو کار بندوں) کا یہ طرہ امتیاز یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے نا خو شگوار اور ہیجا نی حا لات میں  ارشاد ِ ربانی کی اطاعت کلی کے طور غصہ کو پی جا تے ہیں ، غصہ اور جھنجلاہٹ کے منفی عنصر کو اپنے وجو د پر غا لب نہیں ہو نے

ستر ہویں لوک سبھا

جس   کا ڈرایک فیصد تھا وہ سو فیصد کے ساتھ سامنے ہے۔ناقابل یقین، تمام سیاسی پنڈتوں کے اندازوں، قیاس آرائیوں،زمینی رپورٹ،حقیقی سروے،سیاسی سروے اور دیگر گراؤنڈ رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی تین سو سے زائد سیٹوں کے ساتھ دوبارہ برسراقتدار آگئی ہے۔ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا محض نام رہے گا کیوں کہ این ڈی اے کی جیت میں مکمل طور پر بھارتیہ جنتاپارٹی کی محنت، منشا،بوتھ منیجمنٹ، گھر گھر جاکر لوگوں کو قائل کرنا اور ان کی محنت شاقہ شامل رہی ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور اس کی ذیلی جماعتوں کی محنت نکال دیں تو بی جے پی کی اتحادی کی بہ مشکل دو چار سیٹیں ہی آتیں۔ کیوں کہ بی جے پی اتحادی جماعتوں کو بھی صرف اور صرف مودی کے نام پر ووٹ ملا ہے۔ورنہ کسی کی کوئی اوقات نہیں تھی کہ وہ لوک سبھا کے موجودہ الیکشن میں وہ کامیابی اتنی کامیابی حاصل کرتے۔ بہار میں ہی 40میں سے 39

غیربھاجپائی حکومتوں کے لئے خطرات؟

 یوں  تو مرکز میں جب بھی کوئی نئی حکومت بنتی ہے یا کوئی حکومت دوبارہ برسراقتدار آتی ہے تو وہ تمام ریاستی حکومتوں کے لئے خطرہ ثابت ہوتی ہے۔ نئی مودی حکومت کے انتخاب سے قبل کئی ریاستوں میں بھاجپائی اقتدار کا خاتمہ بھلا آر ایس ایس، بی جے پی اور مودی و امیت شاہ کو کیسے پسند آسکتا ہے، چنانچہ کرناٹک، راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کانگریس نے بھاجپا سے اقتدار چھین لیا تھا اور ان تمام ریاستوں میں کانگریس سے پہلے بھاجپا کا ہی اقتدار تھا۔ چار ریاستوں میں اقتدار کا کھو جانا بھاجپا کیلئے ایک بڑا صدمہ اور چیلنج ہے۔ دوسری جانب مشرق میں ممتابنرجی کی مغربی بنگال میں حکومت مرکزی حکومت کے دل میں ایک کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ ممتابنرجی دوران ِانتخابات بھی اور انتخابات سے قبل بی جے پی کی بدترین سیاسی مخالف رہی ہیں۔ بی جے پی جس طرح ریاست میں اپنے لئے ہندو ووٹ بنک کو مضبوط کرنے کی کوشش ک

کیا کیا بتائوں؟

جس  گھر میں ، میں نے فون کال وصول کی، فون رکھنے کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے فون پر ایسا کیا سُنا جو میں خوش دکھائی دے رہا ہوں۔ جب میں نے اُن کو بتایا کہ ہمارے گھر میں فون لگا ہے تو وہ حیران ہوگئے اور میں ان کی حیرانگی پر حیران ہوا۔ اُس دن تو وہ بات کو گول کر گئے مگر کچھ دنو ں کے بعد باتوں باتوںکے دوران وہ مجھ سے کہنے لگے کہ فون لگنا کوئی اتنی بڑی خوشی کی بات تو نہیں ۔ یہ ایک عام سی معمولی بات ہے جیسے گھر میں ٹی وی لایا،گلدان رکھ دیا، یا ایک ڈیکوریشن پیس خریدکر لایا۔ یہاں( ممبئی میں) فون ہر گھر، ہر گلی اور ہر دوکاندار کے پاس ہوتا ہے ، یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے۔ میں نے اُن کو بتایا کہ ہماری وادی میں محلے میں مشکل سے ایک آدھ فون ہوا کرتا تھا اور دوکاندار وں میں فون صرف بڑے تھوک بیوپاریوں کے ہاں ہی ہوتا تھا۔ دور و نزدیک کے دیہات میں یہ سہولت بہت کم میسر تھی۔ یہ صرف سن

آیت اللہ روح اللہ خمینی ؒ

 بیسویں صدی کے عظیم قائدو رہنما اور سب سے بڑھ کر بانی انقلابِ ایران ل محرک اول مرحوم و مغفور حضرت آیت اللہ سید روح اللہ خمینیؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں جو تاریخ ساز انقلاب ایرا ن فروری۱۹۷۹ء کو سر زمین ایران میں رونما ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔آپؒ کے تاریخ ساز انقلاب سے قبل ایران میں پہلوی شہنشایت کے نام سے مطلق العنان حکومت قائم تھی ۔ اس آمرانہ، ظالمانہ،جابرانہ اور وغیر جمہوری حکومت کا خاتمہ امام خمینیؒ کی والہانہ سر براہی اور روحانی قیادت میں۱۹۷۹ء میں تکمیل کو پہنچا۔اپنی مثالی انقلاب آفرین قیادت اور تقدیر ساز کامیابی کے سلسلے میں موصوف اپنی ایک خود نوشتہ کتاب میں مرحوم امام خمینیؒ رقم طراز ہیں:’’ ہم تمام اسلامی ملکوں کو اپنا سمجھتے ہیں، تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جگہ پر ہیں۔ہماری یہ خواہش ہے کہ تمام قوتوں اور اسلامی ملکوں میں ایسا ہی انقلاب اسلامی بر پا ہو جائے اور

کرنل سید علی احمد شاہ

 پاکستان   کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع میر پور شہر کے چوک شہیداں کے عقب اور سادات کالونی کے خاموش اور پر سکون مکان میں خوبصورت نورانی شکل و شباہت کے ایک بزرگ لمبے عرصہ سے صاحب ِفراش اور گمنامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔میرے قیام میر پور (۱۹۸۲  ء تا۱۹۸۶ ء )کے دوران احباب کی مجالس میں اکثران کا تذکرہ بڑے احترام سے سننے کا موقع ملتا تھا،جب کسی مجلس میں ان کا تذکرہ آتا تو سب لوگ سنجیدہ ہو کر ان کی قصیدہ خوانی کرتے اور ’’آزاد کشمیر ‘‘کے اس وقت کے سیاست دانوں اور حکمرانوں پر تنقید کی بوچھاڑ کر دیتے ،اس بزرگ کی سیرت اور کردار کے حوالے سے میر پور کے دوستوں و بزرگوں کی باتیں سن سن کر میر پور کے خوشحال مادہ پرست ماحول میں اس وقت یہ ایک عجوبہ سا لگتا تھا ،تاہم اس شخص کے تذکرے اور حیرت انگیز کردار کی باتیں سن کر میں نے انہیں تلاش کرنے اور ملاقات کی ٹھان ل

بھاجپا اب سیکولر پارٹی ؟

۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات جیتنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے کے نو منتخب اراکین سے پارلیمنٹ میں  اپنے پہلےخطاب میں کہا کہ ’’ملک کی اقلیتوں کے ساتھ فریب ہوا ہے۔ بد قسمتی سے ملک کے اقلیتوں کو اس فریب میں خوف اور بھرم میں رکھا گیا ہے۔ اس سے اچھا ہوتا کہ اقلیتوں کی تعلیم، صحت کی فکر کی جاتی۔ 2019 میں آپ سے اُمید کرنے آیا ہوں کہ ہمیں اس فریب (چھل) کو بھی توڑنا (چھیدنا) ہے۔ ہمیں اعتماد جیتنا ہے۔‘‘ابتدا میں لگا کہ نریندر مودی کی یہ تقریر صرف زبانی جمع خرچ ہے، لیکن گزشتہ چند دنوں میں پیش آئے واقعات سے ثابت ہو گیا کہ وہ صرف لفاظی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا بیان تھا۔ اس تقریر کے بعد سے ہی بی جے پی کا مزاج کچھ بدلا بدلا سا نظر آ رہا ہے۔ مودی کی اس تقریر کے کچھ ہی دن بعد کی بات ہے جب بی جے پی لیڈر گری راج سنگھ نے نتیش کمار اور افطار پارٹی کے حوالے سے م

ایڈورڈسعیدؔ

ایڈورڈ  سعید ؔ تحریر،تقریر اورعمل کی تینوںسطحوںپر بیسویںصدی کے نصف دو م کی ایک نہایت قابل اورسرگرمِ عمل شخصیت کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ مابعد نوآبادیاتی مطالعات میںاُن کاغیرمعمولی واہم رول ہے۔ شرق شناسی کے نظریات میں ایڈورڈسعید مجموعی طورپربہت سے دانشوروں ،فلاسفروں اورنقادوں کے اثرات قبول کرتاہے،جن میںنمایاںطورپر جین پال سارترؔ(۱۹۰۵۔۱۹۸۰ء؁) ،مشل فوکوؔ(۱۹۲۶۔۱۹۸۴ء؁) ، اینٹونیوگرامسکی (۱۸۸۹۔۱۹۳۷ء؁) اورجوزف کانراڈؔ(۱۸۵۷۔۱۹۲۴ء؁) شامل ہیں۔ایڈورڈسعیدکے نزدیک مستشرقین نے نوآبادیات کے دوران میں اپنی سامراجی حکومتوںکے لئے لازوال کرداراداکیا۔ انہوںنے محکوم لوگوںکو یہ باورکرایاکہ نوآبادیات ہی ان کے لئے خوشحالی ، امن اورترقی لائے گا ۔ نوآبادیات کے وقت برطانیہ اورفرانس میں مشرقی علاقوںپر قبضہ کرنے کی دوڑموجودرہی۔اسی طرح مستشرقین بھی مشرقی علوم وزبانوںکوحاصل کرنے میں ایک دوسرے پرسبقت

کشمیر پُر امن حل وقت کی پکار

 اس حقیقت کی شاہد عادل ہےکہ جہاں بھی کوئی مسلٔہ پیداہوا ،وہاں اس کا حل بھی موجودر ہا ۔ ا س اصول کے تحت تنازعہ  ٔجموں و کشمیر کا کوئی قابل قبول اور مبنی بر انصاف ضرور موجودہے مگر اسے ڈھونڈ نکالنے کے لئے تینوں فریق سنجیدہ غور و فکر کریں تو سہی۔ انہیں موجودہ عالم دنیا کی یہ اَٹل حقیقت سمجھنا ہوگی کہ دنیا گلو بلا ئز ہورہی ہے،یہاں ہر ایک ملک کا انحصار دوسرے ممالک پر بڑھتاہی جا رہا ہے، یہاںکوئی بھی ملک اکیلے ترقی کی سیڑھیاں طے کر سکتا ہےنہ زندہ رہ سکتا ہے ۔ حالا نکہ دنیا کی بڑی طاقتیں قوم پرستی کی بنیادیں مضبوط کر نےاور انہیںزندہ وتوانارکھنے کےلئے مکمل گلوبلائزیشن میں بڑی بڑی رکاوٹیں ڈال رہی ہیں ۔ا سی مقصد سے یہ طاقتیں جمہوری اصولوںکو روندھتے ہوئے ملٹیئرائزیشن کر کےدنیا  ئے انسانیت کو پامال کر رہی ہیں ۔ چناںچہ عصر رواں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح پہلے پہل عالمی ادارے(یواین او)

شہنشاہ ِ ظرافت

ہمارے   اردو ادب میں طنز ومزاح کی ایک شاندار روایت رہی ہے ۔کئی قدآور ادیبوں نے اس پُر لطف صنف ادب کو اپنایا ہے اور عوام کو اپنے اپنے طور پر ہنسایا ہے۔ایسے بلند یایہ ادیبوں میں رشید احمدصدیقی ،کنہیالال،پطرس بخاری،شوکت تھانوی،فکرتونسوی،احمد جمال پاشا اور کرنل محمدخان بطور خاص اہمیت کے حامل ہیں۔مشتاق احمدیوسفی نے اگرچہ ان سب سے کسب فیض حاصل کیا ہے مگر ان کی ظرافت کا انفراد یہ ہے کہ انھوں نے مزاح کی مغربی روایت کو مشرقی تہذیب وتمدن میں انگیز کرکے ایک نیا لب ولہجہ اور اسلوب ایجاد کیا ہے۔دراصل مشتاق احمدیوسفی مزاحیہ ادب میں یونہی مشہور نہیں ہوگئے ہیں بلکہ ان کے اسلوب میں ایسا جادو ہے جو ہر کسی کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔انھیں زبان اور انداز بیان پر حاکمانہ قدرت حاصل ہے ۔مشتاق احمدیوسفی نے شہرت کے بدلے معیار کو اہمیت دی ہے۔ان کی درجنوں تصانیف نہیں ہیں بلکہ کُل پانچ تصانیف ان سے منسوب ہی

غیر معمولی انتخابی جیت

کچھ  دن قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا کا ایک بہت دلچسپ وضاحتی بیان نظر سے گزرا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 2019کے پارلیمانی انتخابات میں جتنے ووٹ پڑے ہیں سب انسانوں نے ڈالے ہیں بھوتوں نے نہیں۔ بات معقول ہے کیونکہ بھوتوں کی نہ تو کوئی پارلیمنٹ یا اسمبلی ہوتی ہے، نہ ہی ان کے یہاں ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ نہ کوئی امیدوار کھڑا ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے یہاں سے پولنگ میں بے ایمانی کی کوئی خبر آتی ہے۔ پولنگ میں بے ایمانی تو انسان کرتے ہیں۔ خواہ بیلٹ پیپر سے ووٹ ڈالے جائیں خواہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے۔ بیلٹ پیپر میں پھر بھی بد عنوانی کی اتنی گنجائش نہیں ہوتی جتنی کہ ووٹنگ مشینوں میں ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ترقیات زمانہ کے طفیل بھوتوں کی دنیا بھی ترقی کر جائے اور وہاں بھی الیکشن ہونے لگیں۔ ذرا سوچئے کہ اگر وہاں بھی الیکشن ہونے لگیں اور کسی فرد واحد کو   بھوتوں بھوت نگری کے الیکشن کمیشن کا چیف بنا

وادی ٔگماں میں بسنے والو!

 وادی گماں میں بسنے والو!اس گماں میں،اس دھوکے میں،فریب میں مت رہناکہ تم ہروقت باوضورہتے ہو،اچھے کپڑے پہنتے ہو،نمازیں اداکرتے ہو،نفلی روزوں کابھی اہتمام کرتے ہوتورب کواس سے کچھ ملتاہوگا،اسے بندگی کرانے کی کوئی خواہش ہے،رب کی عزت میں کوئی اضافہ ہوتاہوگااوراگر تم بغاوت کرتے ہوئے ، فرائض نہیں اداکرتے تواسے کوئی نقصان ہوتاہوگاوہ رنجیدہ ہوتاہوگا،وادی ٔگماں میں بسنے والو!ایسانہیں ہے،قطعی نہیں ہے۔ساری کائنات اس کے سامنے سجدہ ریزہوجائے تواس کی بڑائی بیان نہیں ہوسکتی اورساری کائنات باغی ہوجائے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بس حکم کی تعمیل کرتے چلے جاؤ شکرکے ساتھ عاجزی کے ساتھ،اپنی تمام تربے بسی کے ساتھ،توبس تمہاراہی فائدہ ہے۔ فلاح پاؤگے،مانتے چلے جاؤ گے توامن پاؤگے،سکون وراحت پاؤگے۔ بغاوت کرو گے توزندگی جہنم بن جائے گی،سکون وقرارکھوبیٹھوگے، اعتبار جاتارہے گا، نفسا نفسی مچے گی،کوئی کسی کی ن