تازہ ترین

اقوام متحدہ بھی جمعیت مجلس اقوام جیسا

اس  بدلتی دنیا میں اب انسان کا زندہ رہنا مشکل ہو تا جا رہا ہے۔کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر اسرائیل کے تعلق سے ایک ویڈیو میں ذی عزت فلسطینی شہریوں کو برسر سڑک پولیس کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھا ۔ اسرائیلی پولیس کے چاق و چوبند جوان، ان بد قسمت شہریو ں کے خلاف تشدد کا ہر کوئی دائو پیچ کھیل رہے تھے۔ شکل و صورت سے معصوم اور گاڑی و لباس سے رئیس دکھائی رہے ان لوگوں کو نہ صرف سرعام ہانکا اور مارا پیٹا جارہا تھا بلکہ پولیس کے ان بے لگام غنڈوں کے ہاتھوں ان شہریوں کو بے عزت بھی کیا جارہا تھا۔ مظلومین میں شامل اڈھیر عمر کی ایک خوب رو خاتون کو گاڑی سے نیچے گھسیٹا گیا، اُس کے سر سے سکارپ ہٹانے کی بار بار کوششیں کی جاتی رہیں اور اُس کو پوری طاقت و زبردستی سے سڑک پر لٹادیا گیا۔ خاتون کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کی طرف موڑ کر ہتھکڑی سے باندھا گیا اور سر راہ اسی حالت میں چھوڑا گیا۔ اُس خاتون کی فیملی میں شام

مصر:حسن البنا سے محمد مرسی تک

مصر میں اخوان المسلمین کا قیام1927ء میں ہوا۔اس کی بنیاد امام حسن البناء شہیدؒ کے ہاتھوں عمل میں آئی۔اخوان اصل میں اسلامی کا دیباچہ تھا۔ حسن البناءؒ نے اس کابیج بویا، اسی بیج سے صالحیت اور کردارسازی کے انکھوے پھوٹے،پتے نکلے،شاخیں پھلیں،جڑیں انسانی سیرتوں میں اُتریں اور ایک عوامی انقلاب کی صورت میں ا س کے برگ وبار نکلے، مگر یہ سب قربانیوں اور محنتوں کا رہین ِمنت ہے۔ا لاخوان المسلمون کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اس  نے ہر سرکش طاغوت کے خلاف مردانہ وار مقابلہ کیا ، چاہے باطل انورالسادات کی شکل میں تھا،چاہے جمال عبدالناصر کی صورت میں ہویا حسنی مبارک کی شکل میں۔ ناحق اور سرکشی کے ہر پتلے کے خلاف انہوں نے علم بغاوت بلند کی ۔ا لاخوان المسلمین کی تحریک ایک ہی نصب العین ہے : اسلام ہی تمام مسائل کا حل ہے ۔انہوں نے مصر میں اسی نصب العین کی طرف عوام کو بلایا اور چہار جانب تحریک کو پھیلادیا ۔ یوں

یادوں کے جھروکے سے

خدمت خلق کی راہ پر وہ بھی لڑھک گئے جن سے لڑھکنے کی امید نہ تھی!یہ صرف انسان ہی نہیں ہے جس کی یادیں ہوتی ہیں بلکہ غور کیا جائے تو تجربہ بتاتا ہے کہ جانوروں کی بھی یادیں ہوتی ہیں۔ ہم نے بچپن میں ایک غلام اینڈروکلیس اور شیر کی کہانی سنی ہے کہ کس طرح ایک غلام جب اپنے مالک کے ظلم وستم سے تنگ آکر جنگل کی طرف بھاگا تھا تو وہاں اس نے ایک شیر کو کراہتے ہوئے دیکھا کیونکہ شیر کے پاؤں میں ایک کانٹا چھب گیا تھا۔ اینڈروکلیس نے اس شیر کے پاؤں سے وہ کانٹا نکالا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد اینڈروکلیس گرفتار ہوا اور اس وقت کے قانون کے مطابق سزا کے طور اینڈروکلیس کو تین دن کے بھوکے شیر کے آگے ڈال دیا گیا مگر سب لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ اس شیر نے تین دن سے بھوکا ہوکر بھی اینڈروکلیس کو نہیں کھایا۔ یہ وہی شیر تھا جس کے پاؤں سے اینڈروکلیس نے کانٹا نکالا تھا۔ شیر کو اینڈروکلیس کا وہ احسان یاد تھا۔ اسی طرح ب

رہنے دو پادشاہی کے کچھ خواب مرے آگے

سیاست کی چنڈال چوکڑی میںآپ کا سواگت ہے۔خود سیاست دانوں کے لئے ایک مخصوص لائن موجود ہے ۔لوگوں کو بے وقوف بنانا اگر مقصد ہے تو شونہ (صفر) دبائیں ۔تاریخ کو مسخ کرنے کا ارادہ ہے تو سات دبائیں ۔ کہیں اور الیکشن جیت لینا ہدف ہے تو تین دبائیں ۔ کشمیر کے نام پر اگر پورے ملک میں سیاسی روٹیاں سینکنی ہیں تو ملا کر ۳۷۰ ؍دبائیں۔اگر کسی وجہ سے یہ لگے کہ سیاسی روٹیوں میں کچھ نرمی رہی تو ۳۵ ؍الف دبائیں۔چونکہ الیکشن کی آ مد آمد ہے اس لئے سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے اس سے بہتر کوئی آٹا یا میدہ بازار میں نہیں ۔۳۷۰؍ مارکہ آٹا لے کر اچھی طرح گوندھ لیں ۔اس میں ۳۵؍اے چھاپ گھی ملائیں اور ہلکی آ نچ پر رکھ لیں ۔دو تین مہینوں میں ہی مزیدار سیاسی روٹیاں تیار ملیں گی جن کے طفیل پانچ چھ سال تک سرکاری گدی پر عیش کرنے کا موقع نصیب ہوگا   ؎  وعدہ وفا کوئی نہیں دفعات تو سلامت ہیں  رہنے

منشیات کا سیلاب!

ہمارے   مسلم معاشرے کے اخلاقی اوصاف اور رُوحانی اقدار کو بیک وقت کئی ایک جان لیوا روگ اندر ہی اندر کھوکھلا کر تے جارہے ہیں ۔ ان میں جو سب سے بڑی موذی بیماری فی الوقت اپنا پھن پھیلا ئے ہماری غفلتوں پر تازیانے برسار ہی ہے ،وہ ہے منشیات اور نشہ آور ادویات کی وبا ۔ یہ وباہر گذرتے دن کے ساتھ تندوتیز سیلاب کی شکل میں ہماری اخلاقی اساس اور روحانی بنیادوں کی نہ صرف چولیں ہلا رہی ہے بلکہ حُسنِ معاشرت کے دیوار ودر کوبھی لرزہ براندام کررہی ہے ۔ اور حال یہ ہے    ع   ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام ِ گلستاں کیا ہوگا   اس لئے اگر فوری طور انجام ِگلستان کی فکر نہ کی گئی تو پھر اس کے خزاں رسیدہ ہونے بنجر بن جانے میںکوئی شک وشبہ نہیں ۔ یہ تو طے ہے کہ منشیات کی لت ہماری آبادی کے ایک قابل ذکر حصہ کو لگ چکی ہے۔ اس ضمن میں کچھ چونکا دینے والے انکشافات نے تو حساس و

اقوالِ زریں

کئی   بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان اچھا کام کرنا تو چاہتا ہے مگر اپنے گھروالوں، دوستوں، رشتہ داروں یا پھر ارد گرد کے لوگوں کے عمل اور مشوروں کے سبب وہ اچھا کام نہیں ہوسکتا، کیونکہ انسان عام طور پر مشوروں اور لوگوں کی جانب سے کئے جانے والے اعمال کی روشنی میں ہی کوئی کام کرتا ہے۔اگر انسان کو اچھا مشورہ مل جائے تو پھر وہ غلط کام کر نہیں سکتا، لیکن اگر کوئی بُرا مشورہ مل جائے تو پھر وہ چاہتے ہوئے بھی اچھے کام کی طرف نہیں جاسکتا، شاید یہی اس کی بڑی کمزوری ہے۔لہٰذا زندگی میں انسان کب کب کیا کیا غلطی کرتا ہے اور اس کو کس طرح ٹھیک کیا جاسکتا ہے، اسی بارے میں کچھ غور کرتے ہیں۔ تین ظالم: ظالم تین قسم کے ہوتے ہیں۔پہلا ظالم مظلوم کی آہیں اور فریادیں سن کر تائب ہو جاتا ہے۔دوسرے ظالم کو احساسِ ظلم اس وقت ہوتا ہے جب وہ خود کسی کے عتاب کا شکار ہوجائے۔ تیسرا ظالم وہ ہے جو خود پر بدترین

طلاقِ ثلاثہ قانون

  تین  طلاق بل منظور ہوگیا۔ نہ تعجب ہے نہ حیرت۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ ہم اس پر نہ تو احتجاج کرنا چاہتے ہیں نہ ہی واویلا بلکہ ارباب اقتدار سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ قانون کی منظوری ہمارے نشأۃ ثانیہ کا آغاز ہے۔ جس ایکٹ کے پاس ہونے پر پرائے لوگ کامیابی کا جشن منار ہے ہیں‘ وہ عارضی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایوان پارلیمان میں مسلم دوست کہلانے والی‘ کلمہ خوانوں سے ہمدردی جتلانے والی مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے ہمارے جذبات کے ساتھ جس طرح سے کھلواڑ کیا ہے، اُس نے ہمیں کم ا زکم خوابِ غفلت سے بیدار کردیا۔ ہم میں احساس جگادیا کہ جب تک ہم گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے افراد اور جماعتوں پر بھروسہ کرتے رہیںگے، اسی طرح سر بازار ناآسودہ ہوتے رہیںگے۔ سچ یہ ہے کہ سہ طلاق بل کی طرح مسلمانوں کے حقوق ان سے چھینے جاتے رہے ہیں۔ البتہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا تب سے پہلی بار ہم نے

مسلمانوں کی سائنسی خدمات

 یورپی متعصبین نے اہل اسلام کے عہدزریں پر پردہ ڈالنے کےلئے اپنی نسل نو کو مسلمانوں کے کارناموں سے بے خبر رکھا۔ اگر کچھ بتایا بھی تو محض اس طرح کہ تمام مسلمان سائنس دانوں کے نام پوری طرح تبدیل کر دئے گئے کہ وہ نام بھی یورپی نام نظر آنے لگے۔ ساتویں صدی کےاخیر اور آٹھویں صدی کی ابتدا یورپ میں جہالت و بربریت کا دور تھا۔یورپین مورخین اس دور کو قرون مظلمہ (The Dark Ages) سے تعبیر کرتے ہیں،لیکن اس کے برعکس مسلمانوں میں علمی بیداری تھی موجودہ سائنسی تحقیق کی ابتداءخاندان بنواامیّہ سے ہوئی خالد بن پذیر نےکیمیا اور طب پرکتب کے تراجم کرائے اور س طرح مسلمانوں میں علمی ذوق پیدا ہوا عباسی دور خلاف میں مامون الرشید اور ہارون الرشید نے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ بیت الحکمت اس دور کی جدید یونیورسٹی ہے جب اہل یورپ کو زندگی گزارنے کا سلیقہ نہ تھا تو مسلمانوں نے ان کورہنا اور جینا سیکھایا۔مسلم حکو

اسرافی تہذیب کے ہاتھوں

سرمایہ  دارانہ نظام کی بنیاد اسراف کا کلچر ہے، اس میں سرمایہ کار ایک ایسی تہذیب کو فروغ دیتے ہیں جس میں انسان صرف ضروریات پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ بہت سی غیر ضروری چیزوں کو اپنی ضروریات بنالیتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انسانی خواہشات میں خوش لباس ہونا، طرح طرح کے مزیدار ماکولات و مشروبات کا استعمال، خوب صورت گھر کی خواہش اور اس کی آرائش شامل ہیں۔ یہ سب فطری نعمتیں ہیں اور خدا کو یہ بات بھی پسند نہیں کہ اس نے جس شخص کو خوش حال بنایا وہ پھٹے حالوں میں رہے اور خدا کے فضل کا اپنے طرزِ زندگی میں اظہار نہ کرے۔ لیکن ہمارے لیے خواہشات کو ایک حد میں رکھنا ضروری ہے۔ نظامِ سرمایہ داری کی فطرت یہ ہے کہ وہ انسانوں کے سینے کو حرص و ہوس کی بھٹی بنادیتا ہے، اور اس سے جو آگ نکلتی ہے وہ ہمہ وقت ہل من مزید کا تقاضا کرتی ہے، غیر ضروری اشیاء کی خریداری کی ایک دوڑ لگی رہتی ہے جس کے سبب گھروں کے بجٹ درہم برہم

علم گُل بہار ، جہل خارزار

علم  ایک عظیم اورانمول دولت ہے جس سے ہر خیر کا خزانہ کھلتا ہے، ہر کامیابی کی راہ ملتی ہے، مردہ دلوں کو زندگی کا راستہ نصیب ہوتا ہے اور علم ہی ہر خیر کی بنیاد ہے اور علم کی روشنی حاصل کرکے ہی ہر فرد اپنی منزل مراد کو پاسکتا ہے ۔جو علم کے نور سے محروم رہا ،وہ اپنے لئے ہر خیر کے دروازے کو نہ صرف بند پاتا ہے بلکہ اپنے لئے شر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ گمراہی اور تباہی کی ہر راہ اس شخص کے لئے آسان ہوجاتی ہے جو علم کی نعمت سے محروم رہے ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جہاں علم ہر خیر اور بھلائی کی نبیاد ہے،وہاں جہالت ہر شر اور فتنے کی جڑ ہے۔ دنیا میں علم سے توحید کا کھیت لہلہا تا ہے اور جہالت سے شرک کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں ۔ علم سے سنت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے تو جہالت بدعت کی تخم ریزی کرتی ہے۔ علم امن کی صوت جگاتی ہے اور جہالت فتنہ وفساد اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتی ہے۔ علم سے وحدتِ ملت کی

زندگی بعد از حج!

 خالق ِارض و سماء کی تخلیق کردہ وسیع و عریض کا ینات میں رہ رہے ہر کلمہ گو کی یہ آرزو رہتی ہے کہ زندگی میں ایک بار ہی سہیمگرحج کی سعادت نصیب ہو اور اس کے بعد ہی خا تمہ با ِ لخیر ہو۔مکتہ المکّرمہ میں موجود  کعبتہ اللہ کا دیدارنصیب ہونے کے ساتھ ساتھ قربِ الہٰی کا شرفِ عظیم حاصل ہو۔ عبادات میں حج ایک ایسی عبادت ہے جو مشروط ہے اور قرانِ پاک کا واضح حکم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فرزندانِ توحید میں جو صاحب استطاعت ہوں، معاشی اعتبار سے مستحکم ہوں اور صحت کے لحاظ سے توانا و تندرست ہوں، شریعت اسلامی کی رُوسے ایسے لوگوں پر حج واجب ہوتا ہے اور حج نہ کرنے کی صورت میں ایسے لوگ گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ـاللہ کا فرمان ہے :’’ـ اللہ کا حق ہے لوگوں پر خا نہ کعبہ کا حج کرنا ، جو اس کی طرف چلنے کی قدرت رکھتا ہو ‘‘(سورہ آلِ عمران آیت ۹۷)       

شرم وحیاء

 بلاشبہ   ہماری اسلامی تہذیب میں حیا ءوہ گوہر نامدار ہےجس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔اسلامی تاریخ اس درخشندہ گوہر کی عظیم روایت کی نہ صرف بانی ہے بلکہ اس کو آج تک سینے سے لگائے اس کی حفاظت پر مامور ہے۔ آپ جانتے ہیں حیاکیا ہے؟حیا عین حیات ہے، حیا نہیں تو حیات نہیں۔ علامہ ابن فارس لکھتے ہیں کہ ہیں :حی سے حیات بھی نکلتی ہے اور حیابھی۔دونوں کا مادہ ایک ہے۔دونوں زندگی کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔جیسے زندہ رہنے کے لیے سانسوں کی ضرروت ہوتی ہے، ویسے ہی ایک باکردار زندگی کے لیے حیاء کی بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بغیر حیاء کے معاشرے اور تہذیبیں دفن ہو جایا کرتی ہیں۔ ایک حدیث مبارک بروایت حضرت ابو ہریرہ ؓ آئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ایمان کے ستر سے زیادہ درجے ہیں اور حیا بھی ایمان کے درجات میں سے ایک ہے۔ ایک اورروایت میں آتا ہے کہ : جب آپ

جوانانِ کشمیر

کائنات  کی ہر شئے کو مسخر کرنا انسان کی ازلی اور فطری خواہش رہی ہے۔ اس خواہش نے انسان اور مظاہر فطرت کے مابین ایک خفیف سی کشمکش کو جنم دیا ہے۔ یہ کشمکش ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک چلی آرہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اپنی بے پناہ ذہنی صلاحیتوںکی بدولت انسان نے کائنات کی دیگر مخلوقات پر اپنی برتری کو ثابت کیا ہے۔ انسانی فطرت اسی منزل پر اطمنان کی سانس نہیں لیتی کہ ’’بزمِ انجم میں اس بات کے چرچے ہیںکہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل بن گیا ہے‘‘۔ بقول غالبؔ دریاو سمندر اس کے سامنے ریت پر اپنی جبین گھستے ہیں اور صحرا اس کی جلالت کے آگے اپنے آپ کو ہیچ جان کر پردہ ٔگرد میں چھپا دیتا ہے‘‘ بلکہ چند قدم آگے بڑھ کر انسان کو اس بات کیلئے بھی اُکساتی ہے کہ وہ ذاتی طور اپنے جیسے انسانوں پر بھی اپنی فوقیت ظاہر کردے۔ چنانچہ یہ خواہش ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ لہٰذا

وٹس ایپ گروپوں کے مسائل

واٹس اپ نے ٹکنالوجی کی دنیا میں بڑا انقلاب بپا کردیا ہے۔اس کا جلوہ ایسا عام ہواہے کہ اب یہ زندگی کی ضروریات میں شامل ہوگیا ہے۔ اس نے زندگی کے مسائل کو آسان بھی کردیا ہے اور پیچیدہ بھی بنادیا ہے۔ اس کے ذریعے فری میں آڈیوکال بھی کرسکتے ہیں اور ویڈیو کال بھی۔ کوئی تصویر، ڈکومنٹ، کتاب،تحریر، قصیدہ، شعر ،کوئی ٹکسٹ میسج یا صوتی پیغام سکنڈوں میں مرسل الیہ تک پہنچاسکتے ہیں۔  بیک وقت بے شمار لوگوں تک ایک کلک میں کوئی میسج، تصویر ، ڈکومنٹ اور ویڈو وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔گروپ بناکرمختلف موضوعات و مسائل پر بحث ومباحثہ بھی کرسکتے ہیں۔ میرا موبائل نمبر یونیورسٹی ویب سائٹ پر بھی ہے اور فیس بک پر بھی۔ اخبار میں کوئی کالم شائع ہوتا ہے تو اس میں بھی ہوتا ہے۔ طلبہ کے پاس بھی ہے اور کچھ اپنوں اور غیروں کے پاس بھی۔لہٰذاعلمی، ادبی، سیاسی ، سماجی، ثقافتی اوردفتری ضروریات کے پیش نظر لوگ گروپ تشکیل دیتے

غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف

دنیا  کے کم وبیش ہر ملک اور قوم میں ملک دشمن سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جاتا ۔ ملک دشمن کاروائیوں کے خلاف سخت قوانین بھی بنائے جاتے ہیں اور ان قوانین کی عمل آوری کے لئے بھی ملک کے کئی ادارے کام کرتے ہیں ۔ امریکہ، چین، پاکستان اور دنیا بھر کے سبھی دیشوں میں ملک کے سا  لمیت کو زک پہنچانے والے عناصر کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور قوانین کو سخت تر بنایا جاتا ہے۔ملکی سالمیت کو بچانا در اصل ملک کے شہریوں کو ہر حال میں تحفظ فراہم کرناے کے برابر ہوتاہے۔ یہاں یہ کہناغلط نہیں ہوگا کہ ملک کے قانون کے ساتھ ساتھ خارجی و داخلی پالیسی کو مرتب کرتے وقت بھی جن چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے ان میں سرِ فہرست فرداور قوم کا مالی، جانی، سیاسی اور معاشی تحفظ ہوتاہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی ؎زیر نظرر کھا جانا چاہئے کہ اختیارات کی مر کوزیت (centralization) واقع نہ ہو تاکہ اختیار

معاشرتی بگاڑ

ہماری   اپنی دنیا جس قدر تہذیب و شائستگی سے عاری ہوتی جارہی ہے ہم قدرتی طور پر اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔محبت و اخوت ،عزت و تکریم ، شفقت و مروت اور ایثار و قربانی جیسے عالمگیر اقدار کو ہم لوگ بڑی بے دردی سے پامال کئے جارہے ہیں۔اس روئے کی بڑی وجہ وہ نفسیات ہے جو ہماری ازحد مادہ پرستی ،تسکین خواہشات اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی غیر انسانی سوچ کی پیداوار ہے۔ ظاہر ہے وہ دینی و دنیوی تعلیم جس کا مقصد آدمی کو پستی سے نکال کر ارفع و اعلیٰ مقام تک لیجانا تھا، وہ ہمارے نزدیک ایک بھونڈا مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ہم لوگ اپنی نفسانی خواہشات کے زیر اثر اپنے اس سماجی ڈھانچے کو تہس نہس کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو صدیوں سے ہماری بقا و شناخت کا ضامن ہوتا چلا آیاہے۔ ہماری حالت یہ ہے کہ عملی زندگی میں ہم عمومی طور پرعضو معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے علماء و اکابر،ہمارے رہبران و اساتذہ ، ہمارے قلمکا

دہلی اقلیتی کمیشن

مختلف  اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا یہ رپورٹ چھاپ رہے ہیں کہ حکومت دہلی اقلیتوں یا صرف مسلمانوں کے بارے میں سروے کرارہی ہے یا یہ کہ اس نے دہلی اقلیتی کمیشن کو اس طرح کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ صوبائی الیکشن جلد ہی آنے والا ہے۔اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئےراقم السطور نے بہ حیثیت  چیئر مین دہلی اقلیتی کمیشن ایک بیان میں کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ حکومت دہلی اس قسم کا کوئی سروے کرا رہی ہے لیکن حکومت دہلی نے دہلی اقلیتی کمیشن سے اس طرح کا کوئی سروے کرانے کو بھی نہیں کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن اپنے ۱۹۹۹کے ایکٹ کے مطابق اقلیتوں کے مسائل کے حل کرنے، اقلیتوں کے حق میں اقدامات کرنے اور اس سلسلے میں حکومت دہلی کو مشورے دینے کا پوری طرح مجاز ہے تاکہ اقلیتوں کے ساتھ عادلانہ معاملہ کیا جائے۔ اس قانونی ضرورت کے تحت کمیشن ہر سال دہلی حکومت کے مختلف اداروں اور پب

وہ اُجالے یہ اندھیرے

دو  قومی نظریہ سب سے پہلے آرایس ایس کے بانی ویرؔ ساورکرنے پیش کیا تھا۔ اُسی نظرئیے کی موجودگی میں جب گاندھی جی نے مسلمانوں کے حق میں ذرا سی لب کشائی کی تو ویرساورکر کے ایک بھگت نے برسرعام مہاتماگاندھی کی ہتیا کی اور بعد میں عدالت کے کٹہرے میں جج کے سامنے بڑے دھڑلے سے کہاکہ اُسے اس قتل پر کوئی شرمندگی یا تأسف نہیں ہے ۔ اُس نظرئیے کو پھر کن لوگوں سے استقامت اور حوصلہ ملا، اس سے قطع نظر انگریز نے اُس تجویز کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ملک کا غیر منصفانہ بٹوارہ کرکے دوملکوں اوردوقوموں کے درمیان ایک ایسی دراڑ ڈال دی جوشایدکبھی پاٹی نہیں جاسکے گی ۔حق تو یہ ہے کہ یہ دراڑپاٹی جاسکتی تھی مگر جومتعصب اور فرقہ پرست جماعتیں ہندوستان کو ایک ’’ہندوراشٹر‘‘ میں تبدیل کرنے کی خواہاں ہیں ،وہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گی کیونکہ اس طرح سے دو لوگوں کے آپس میں مل کر شیر وشکر ہونے

ٹرمپ نے ایسا کیوں کہا؟

سبھی  جانتے ہیں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں کیا کہا۔ اس ’’کیا‘‘ پر خوب بحث ہوئی۔ بھارتی دفتر خارجہ نے تردید کی، پاکستانی بغلیں بجا رہے ہیں اور کشمیری اندر ہی اندر خوش ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کشمیر تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ثالثی کیلئے تیار ہیں اور ایسا اُنہیں حال ہی میں وزیراعظم مودی نے بھی کہا تھا۔ یہ سب ’’کیا‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ ٹرمپ تو کل تک پاکستان کو نوٹس پر رکھتے تھے اور بھارت کو تذویراتی اتحادی کے طور چین کو ڈراتے تھے، تو آج ایسا کیا بدلا جو انہوں نے کشمیر کو ایک بار عالمی توجہ کا مرکز بناکر پاکستان کو بھارت پر سفارتی جیت کا جشن منانے کا موقع دے دیا۔ یہاں سے سوال ’’کیوں‘‘ پیدا ہوتا ہے۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں ٹرمپ۔عمران ملاقات تاریخی ہے

! مکمل کتب خانے میں صرف دو صفحات کم ہیں

تصور کیجئے۔ ایک شخص کے ذاتی کتب خانے میں پچیس ہزار نادر کتابیں موجودہیں لیکن ایک کتاب کے آخری دو یا تین صفحات نہیں ہیں۔ یہ دو یاتین صفحات پانے کے لئے وہ دنیا بھر کے کتب خانوں کو کھنگال رہا ہے مگر ابھی تک ناکامی ہوئی ہے۔ کسی جستجو سے والہانہ لگاؤ ہو تو ایسا ہو۔ ان صاحب کا نام محمد موسیٰ ہے اور کسی بڑے شہر کے عظیم الشان بنگلے میں نہیں بلکہ صوابی کے قصبہ ٹوپی کے قریب دریائے سندھ کے کنارے ایک چھوٹے سے گاؤں زروبی میں رہتے ہیں۔ تیس سال سے اردو کی قدیم اور جدید کتابیں جمع کررہے ہیں جن کی تعدادپورے یقین سے نہیں، اندازاً بتاتے ہیں: بیس، پچیس ہزار۔ ہماری سائنس اس ای میل کو سلامت رکھے۔ پچھلے دنوں مجھے محمد موسیٰ صاحب کی ای میل ملی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ الطاف حسین حالیؔ کی کتاب تریاق مسموم میرے پاس ہے لیکن اس کے آخر ی دو یا تین صفحات غائب ہیں۔ اگر آپ لندن کے کتب خانوں میں موجود اس کتاب