تازہ ترین

سڑک حا دثات

    عیدا لفطر کی خوشیوں کے درمیان بھی ریاست میں یکے بعد دیگرے دلدوز سڑک حا دثا ت سے رنج و غم کی پرچھائیاں بھی تواتر کے ساتھ جاری رہیں ۔ یہ ہماری اجتماعی کم نصیبی ہی نہیں بلکہ ٹریفک حکام کی نااہلی کا منہ بو لتا ثبوت بھی ہے۔ افسوس کہ ہمارے یہاں ٹریفک حادثات جس تواتر کے ساتھ پیش آ تے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے ہم روزمرہ ماردھاڑ کی طرح سڑک حادثات کو بھی معمولاتِ زندگی کا حصہ مان کر چل ر ہے ہیں۔ عام مشاہدہ یہی ہے کہ جاں لیوا ٹریفک حادثات پر کچھ دن لوگ کف ِافسوس ملنے کے بعد پھر انہیں بستۂ فراموشی میں ڈالتے ہیں ، پھر زیادہ سے زیادہ متاثرہ گھرانوں میں ہی غم والم اور ما تم وسینہ کوبیاں ڈیرا ڈالے رہتی ہیں۔ سڑ ک حا دثوں کے تسلسل پر ہمارے ارباب بست وکشاد بھی روایتاً اظہار تاسف پر اکتفا کر نے کے عادی بن چکے ہیں ، جب کہ ہو نا یہ چاہیے کہ ایک ایسا موثر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس پر عمل درآ

خارجہ پالیسی میں بدلاؤ

بھارتی  خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں کے دوراں ایک واضح بدلاؤ کا رخ نظر آ رہا ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جب حالیہ دنوں میں الیکشن میں کامیابی کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تو اِس تقریب میں موجود مختلف ممالک کی جو اعلی ترین شخصیات موجود تھیں اُنکا تعلق ایک ایسی علاقائی تنظیم سے تھا جسے بیم اسٹیک (BIMSTEC)کہا جاتا ہے۔ 2014ء میں جب نریندر مودی نے پہلی بار بحثیت وزیر اعظم حلف اٹھایا تو اُس وقت خارجی مہمان میںسارک (SAARC)تنظیم کے نمائندگاں موجود تھے ۔سارک جنوبی ایشیائی علاقائی تنظیم ہے ۔بھارت کے علاوہ اِس تنظیم میں پاکستان،سری لنکا،نیپال،بھوٹان، مالدیپ،بنگلا دیش اور افغانستان شامل ہیں۔ سارک کو ایسا لگتا ہے ہند و پاک کی باہمی چقلش کھا گئی ہے۔2016ء میں قرار یہ پایا تھا کہ سارک کے سر براہوں کا اجلاس پاکستان میں ہو گا لیکن بھارت نے اِس اجلاس میں شریک ہونے سے منع کیا چناچہ یہ اجلا

لیہہ کی پیاسی زمین | قلت ِآب کا شدید مسئلہ

جہان ایک طرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں ملک بھر میں پانی کی پریشانی بھی بڑھنا شروع ہوگئی ہے ، ملک میں کئی ایسے علاقہ جات ہیں جو آج تک پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔اس کی ایک مثال ریاست جموں و کشمیر کے علاقہ لیہہ ہے جہاں شہر اور اس کے گردونواح  گاؤں میںپانی کی کمی کا سلسلہ عروج پر ہے ۔ عوامی حلقوں کی  شکایت ہے کہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے یہاں صبح شام دو دو گھنٹے پانی سپلائی کیا جاتا ہے جو کہ ناکافی ہوتا ہے، جب کہ کئی مقامات پر آبی ذخائر خشک ہو رہے ہیں کیونکہ لداخ بھر میں پانی زمینی سطح سے نیچے گر تا جا رہا ہے ۔اس ضمن میںمحققین اور ماحولیاتی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ پانی کی سطح گر نے کی وجہ گزشتہ دہائی میں  خطے کے آب و ہوا میں غیر معمولی تبدیلی اور موسمی اُتار چڑھائو ہے۔ان کا ماننا ہے کہ موسمی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں، یہاں تک کہ لداخ میں لوگو

قصہ علی بنات کا

 علی بنات 16  فروری 1982 کو پیدا ہوئے۔ آپ آسٹریلیا کے رہنے والے تھے۔ علی بنات کا شمار دنیا کے امیر ترین تاجروں میں ہوتا تھا۔ آپ کے پاس بہت دھن و دولت تھی۔ آپ کے پاس عالیشان اور بڑے بڑے بنگلے، مہنگی گاڑیاں اور بھی طرح طرح کے آسائشات موجود تھے۔ ان کی چین (chain) جو کہ وہ عام طور پر پہنتے تھے اس کی قیمت 60000 ڈالر، ان کی ایک گاڑی کی قیمت 6000000 ڈالر اور جو چپل وہ گھر میں پہنتے تھے اس کی قیمت بھی 700 ڈالر تھی۔ جب ان کے گھر کا معائنہ کیا گیا تو وہاں پر کپڑوں، جوتوں اور سن گلاسز کے انبار پڑے ہوئے تھے۔ وہ بھی کوئی عام نہیں تھے بلکہ ایک جوتے کی قیمت 1400 ڈالر تھی۔ غرض ان کی زندگی آرام و آسائش سے بھرپور تھی۔اکتوبر 2015 کو ان کی زندگی سے آرام ختم ہو گیا جب انہیں پتہ چلا کہ انہیں بلڈ کینسر ہے۔ اب ان کو احساس ہوا کہ ان کے پاس بہت کم وقت بچا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ مجھے اب مرنا ہی ہ

ملک کا نیا سیاسی منظرنامہ

۲۰۱۹ء  کے پارلیمانی انتخابات میں بے جے پی بلکہ صحیح الفاظ میں نریندرمودی تمام ترقیاس آرائیوںکاخاتمہ کرکے دوبارہ بڑے طمطراق سے واپس آگئے۔ہمارے زاویہ ٔ نگاہ سے اس بارے میں بڑا کلیدی کردارچار چیزوںکا رہا:ایک نریندرمودی کی بھاری بھرکم اورکرشماتی قیادت جس کا کوئی مدمقابل یا حریف کسی بھی دوسری پارٹی میں نہیں۔دوسرے کمزوراوربکھری حزب اختلاف۔ تیسرے ہندوقوم پر ستی یعنی ہندوتوکا جارحانہ پرچارجواب بدقسمتی سے ملک کی اکثریت کے ذہن پر بُری طرح چھاگیاہے ۔ یہاںتک کہ بنگال کے سیکولرہندؤوںاورکمیونسٹ ہندؤوںکے سربھی ہندوتوکا جادوچڑھ چکاہے ۔چوتھے مودی اورامت شاہ کی اَن تھک محنت اورجارحانہ انتخابی مہم جس کے مقابلہ میںاپوزیشن نے انتہائی نکمے پن کا ثبوت دیا۔سیاست کی اس ڈگرپر پہنچنے کے لیے ہندتووادیوںنے ۷۰؍ سال تک اَن تھک محنت اورزبردست جدوجہدکی ہے ۔ہندوقوم نفسیاتی طورپر شکتی کی پوجاکرتی ہے اورقوم پرست

ساحرؔ لد ھیانوی

ساحر ؔ کو انسانی روح کا حقیقی عرفان ہے اسی لیے ان کی شاعری روح کی آزادی کا نغمہ ہے۔ وہ ہر اس زنجیر کو توڑ دینا چاہتے تھے جس سے انسانی ذہن، ضمیر اور روح غلام بن جائے۔ان کے اشعار میں اقتصادی، سیاسی، سماجی آزادی اور مساوات کے جذبے ملتے ہیں او ریہ ان کے مخصوص شعری موضوعات ہیں۔ یہ موضوعات بھی ان کی فن کارانہ عظمت کی علامتیں ہیں، مگریہاں پھر ایک سوال ہے کہ کیا صرف ان موضوعات کی وجہ سے کوئی فنکار عظیم بن سکتا ہے۔ پروفیسر وارث علوی کا خیال ہے کہ: ”فنکار اس وجہ سے بڑا فنکار نہیں ہوتا کہ اس نے جنگ، امن، قومی آزادی اور انقلاب جیسے اہم اور شاندار موضوعات پر قلم اٹھایا۔ یہ موضوعات اس کی بڑائی کا تعین نہیں کرتے، فن کار کی بڑائی کا تعین اس کا فن ہی کرسکتا ہے۔“ وارث علوی کے خیال سے اختلاف کریں یا اتفاق مگریہ حقیقت ہے کہ محض موضوع عظمت کا معیار نہیں ہے۔”موضوع نظم کی قدر و ق