تازہ ترین

مودی سرکار کے اگلے پانچ سال

’’ ایک  مخصوص گروپ کچھ بھی کرنے کے لیے سیکولرازم کا ٹیگ استعمال کرتا رہا، لیکن اب کوئی بھی سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر ملک کو دھوکا دینے کی ہمت نہیں کرے گا۔‘‘یہ الفاظ ہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہیں جو مابعد آزادی کی تاریخِ ہند میں کانگریسی وزرائے اعظم جواہر لال نہرواور اندراگاندھی کے بعد مسلسل دوسری بار الیکشن جیتنے والے سربراہِ حکومت ہیں۔وزیراعظم مودی نے گزشتہ دنوں انتخابی فتح کا جشن منانے کے لیے منعقد کی گئی ایک تقریب میں اپنے مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے مستقبل کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں پر اشارے دئے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں نے صرف ’’بھارت ماتا کی جے‘ ‘کے نعرے کا جذبہ لے کر انتخابی مہم چلائی۔ دنیا کو چاہیے کہ اب وہ بھارت کو سپر پاؤر تسلیم کرلے۔ہزاروں کارکنوں کے نعروں میں مودی کی فتح کی تقریر میں بھارت اور جنوبی ایشیا کے ل

پانی کی نکاسی نظام۔۔۔۔۔ بہتر بنانے کی ضرورت

 پچھلے کئی روز سے جاری بارشوں سے جہاں فصلوں کو نقصان پہنچاہے وہیں ایک بارپھر نکاسی کے نظام کی قلعی کھل گئی ہے ۔ریاست کے تمام بڑے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پانی کی نکاسی کا بہتر نظام نہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر بارش کا پانی سڑکوں سے بہتے ہوئے دکانوں کے اندر چلا جاتاہے تو کہیں مکانات کی دیواروں میں گھُس جاتا ہےجبکہ کچھ جگہوں پر تو سڑکیں کئی کئی دن تک زیر آب رہتی ہیں۔اگرچہ موسم برسات کے دوران یہ صورتحال انتہائی سنگین بن جاتی ہے تاہم حالیہ بارشوں کے دوران بھی یہ دیکھاگیاہے کہ بارش کا پانی ،خاص کر پہاڑی علاقوں میں،سڑکوں پر بہتے ہوئے سیدھا دکانوں کے اندر داخل ہوگیا جس پر دکاندارسیخ پا ہیں ۔ گزشتہ دنوں پونچھ کے مینڈھر بازار میں پانی دکانوں کے اندر داخل ہونے سے دکانداروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑااور انہوں نے انتظامیہ کوانتباہ دیاہے کہ اگر نکاسی آب کے نظام میں بہتری نہ لائی گئی

یادوں کے جھروکے سے

 آدمیت  اور  شئے  ہے علم  ہے کچھ اور شے  کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا  ذوقؔ  میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ جن دنوں وہ شہام پورہ نوہٹہ میں رہتے تھے اُن کا ایک رشتہ دار جمعۃ المبارک کو رتنی پورہ پلوامہ سے وہیں مسجد شریف میں فجر ادا کرنے کے بعد پیدل سرینگر کی طرف مارچ کرتا تھا اور نماز جمعہ یہاں سرینگر کی مرکزی جامع مسجد میں ادا کرتا تھا۔ پھر جمعہ کو میرے دادا کے پاس ہی شہام پورہ نوہٹہ میں قیام کرکے اگلی صبح مسجد میں فجر ادا کرنے کے بعد واپس رتنی پورہ پلوامہ کی طرف پیدل مارچ کرتا تھا۔ میرے والد کہتے ہیں کہ وہ بڑا نیک آدمی تھا اور ہمارے بزرگوں کی یہ تمنا تھی کہ اُن کا انتقال یہاں سرینگر میں ہی ہوتا تاکہ اس کی میت ہمارے ہی قبرستان میں دفن ہوجائے اور اس وسیلے سے وہاں مدفون باقی مرحومین کو راحت ملے۔ ایک دن جب حسب معمول اس بزرگوار

مسلمانانِ ہند | حقائق کا ادراک کر کےآگے بڑھیں

حوصلے کیوں پست ہیں ایمان کے ہوتے ہوئے پوچھتے ہو راستہ قرآن کے ہوتے ہوئے شکست پائدار اور مستحکم فتح کی جانب ایک قدم ہے۔ شکست میں کامیابی کانسخہ کیمیا اپنے کچھ اجزا کے ساتھ موجود ہوتا ہے جو حوصلہ کے خوردبین سے مثبت نتائج کا نظارہ دکھا جاتا ہے، جسے دماغ کی آنکھوں سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔حالیہ الیکشن اور اس کے نتائج نے جہاں بیش تر عوام کو حیرت میں ڈال دیا ہے، وہیں ہندوستانی سماج اور سیاست کےکچھ حقائق کو بھی اظہر من الشمس کر دیا ہے ، جو ہندوستان کے سماجی مطالعہ نگاروں کے لئے سوچ کی نئی راہیں وا کرتا ہے۔انتخابی نتائج نے اگر ایک طوفان برپا کر دیا تو لوگوں کے ذہن بھی طوفان کی زد میں ہیں۔ اب اس طوفان کی شدید لہریں کہاں کس موڑ پر جا کر شانت ہوتی ہیں ،یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا لیکن خدشہ ہے کہ یہ تذبذب سے بھرا طوفان کہیں طوفان بدتمیزی میں نہ بدل جائے۔ یہ صبرآزما گھڑی ہے اوربہت شانتی

! بشارتِ خداوندی

اسلام کے پانچ بنیادی حقوق میں رمضان کے روزوں کا شمار بھی کیا گیا ہے۔اس ماہ مبارک کی بڑی فضیلتیں ہیں۔ اس بابرکت مہینے میں اللہ رب العالمین کی خاص رحمت اپنے بندوں پر ہوتی ہے۔ علمائے کرام رمضان المبارک کو تین عشروں میں تقسیم کر تے ہیں:پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت، تیسرا عشرہ گناہوں کی بخشش جہنم سے آزادی کا ہے۔ یوں تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ عبادت کا ہے۔ لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کو زیادہ خصوصیت حاصل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے کئی اعمال اور عبادتیں ایسے رکھی ہیں جو اس آخری عشرہ کو سارے دنوں پر فضیلت واہمیت عطا کرتے ہیں اور ان کو دیگر دن راتوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ماہ رمضان کا تیسرا اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے ،اس عشرے میں لیلتہ القدر کی رات بھی موجود ہے. اس عشرے میں خصوصی عبادات کے ساتھ اپنی بخشش کے لئے بھی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔آخری عشرے میں بہت ہی خیر اور ک