مسلمان اور عصر حاضر کے سماجی علوم

یہ مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے؟ وہ ذہن میں بھی سبقت لے جا کر دکھائیں اور اخلاق میں بھی فوقیت حاصل کر کے دکھائیں اس کے بغیر مسلمان ہونا ایک غیر ذمہ داری کے ساتھ اسلام کو مان لینے کا عمل تو ہو سکتا ہے لیکن اسلام قبول کیے جاتے ہی جو ذمہ داری کا شعور فطری طور پر دے دیتا ہے ہمیں اس کے لیے کسی کاوش اور استدلال کی ضرورت نہیں، اس ذمہ داری سے روگردانی ہے یا جو ہماری نوبت آ چکی ہے کہ ہم ہر چیز کو سمجھنے کے لیے مغرب کے Episteme کو اختیار کرنے کے پابند ہو چکے ہیں، اس صورتحال کو سمجھو کہ آج تمہارے کسی بھی نظریے، دنیا کے بارے میں علم اور تصور کے بننے کا ساراعمل جو ہے وہ مغرب کے مادہ علم سے عمل میں آتا ہے، تشکیل پاتا ہے، تو یہ کتنی بڑی نالائقی ہے میری کتنی بڑی نا اہلی ہے، میری کتنی بڑی غفلت ہے کہ انسانی وجود اور شعور دونوں کو سیراب کرنے والا پانی مغرب کے چشمہ زہراب سے آتا ہے یعنی مغرب کا جو زہرا

روح افزا نایاب

اس  وقت پوری دنیا کی نظریں ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔ کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کے میڈیا میں الیکشن کی خبریں سرخیاں نہ بٹور رہی ہوں۔ یہاں تک کہ ایک امریکی جریدہ ’ٹائم‘ نے اپنے ٹائٹل پیج پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک تصویر شائع کرکے ان کو Divider In-chief قرار دیا ہے۔ یعنی ان کو ہندوستان کو بانٹنے والا سب سے بڑا رہنما بتایا ہے۔ اس نے اپنی کور اسٹوری یعنی حاصلِ جریدہ مضمون میں بہت سے سوالات اٹھائے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ کیا ہندوستان کی جمہوریت مزید پانچ برسوں تک نریندر مودی کو برداشت کر سکے گی۔ لیکن اس وقت ہم ایک دوسری خبر کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ یہ خبر بھی پوری دنیا کے میڈیا میں چھائی ہوئی ہے۔ انگریزی، ہندی اور اردو کے اخبارات اور ویب سائٹوں پر یہ خبر نمایاں انداز میں موجود ہے۔ اس نے الیکشن کی خبروں کے درمیان اپنی جگہ بنائ