تازہ ترین

مسلمانانِ ہند

’’ ہندوستانی  مسلمانوںکا صفایا کیسے کیا جائے ‘‘‘یہ ہفت روزہ’’ دلت وائس‘‘بنگلور۱۶۔۳۱مئی ۱۹۹۹  کے اداریے کا عنوان تھا جو اُس کے ایڈیٹر وی ٹی راج شیکھر(پیدائش ۱۹۳۲) نے ۲۰؍سال قبل لکھا  تھا ۔۱۹۸۱سے جاری دبے کچلے ہوئے محروم و مقہور ہندستانیوں کی طاقت ور آواز شمار کیا جانے والا یہ ہفت روزہ میگزین ۲۰۱۱ میں بند ہو چکا ہے اور اگرچہ وی ٹی راج شیکھر ابھی ماشا ء اللہ حیات ہیں ،لیکن ان کا کوئی نیا مضمون عرصہ ء دراز سےقارئین کی نظروں سے نہیں گزراہے ۔ ذیل میں مذکورہ اداریے کا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں:’’مسلمانوں نے اندلس (موجودہ اسپین )میں ۷۱۲ عیسوی سے ۱۴۹۲ ء تک سات سو اسی برس حکمرانی کی ۔اس کے باوجود آج اسپین میں مسلمان نہیں ہیں ۔تاہم اسپینی زندگی کے ہر پہلو پر اسلام کی چھاپ صاف نظر آتی ہے ۔اسپینی زبان

ندی کے گھائو۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط2

اُردو اُردو ہی وہ واحد زبان ہے جس نے ہندوستانیوں میں بلا تفریق مذہب و ملت ایک سیاسی شعور پیدا کیا ،ا فرادو اجتماع کو بیدار کیا اور جدو جہد آزادی میں پیش رو کی حیثیت اختیار کرلی۔اسی زبان نے ہندوستانی قوم کو ترانہ ہندی دیا جو آج بھی سلوگن کے طور پر گلی کوچوں میں،جلسے جلوسوں میں ،کالجوں اور سکولوں میں گایا جاتا ہے اور ہرچھوٹی بڑی تقریب کا حصہ بنتا ہے ۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ وہ لوگ اُردو زبان کے دوست یا چاہنے والے کیسے بن سکتے ہیں ،جنہوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ برعکس اس کے انگریزوں کے حلیف بن کر مجاہدین آزادی کی مخبری کرکے اُن کو پھانسیاں ،قیدیں اور جیلیںدلوائیں؟ اب ایسا بھی نہیں کہ اُردو زبان بڑی آزادی کے ساتھ آزادانہ فضائوں میں سانس لے رہی ہے ۔ساون میں جھولے جھولتی ہے اور ہر پینگ پر میر ؔو غالبؔ و ذوقؔ کے ساتھ ساتھ داغؔ و جگرؔ و فراقؔ کے شعر گنگناتی

کشمیر اور فلاحی ایکٹوازم

امدادِ غرباء کے نام پر اب ہمارے یہاں باقاعدہ انڈسٹری قائم ہوچکی ہے، اس کی ذیل میں ایک مافیابھی ہے، لیکن فی الحال اُسے رہنے دیجئے۔ایسا نہیں کہ بہت سارے فلاحی ادارے کوئی اچھا کام نہیں کررہے، لیکن دینی جوش اور انسانیت کا جذبہ رکھنے والے سینکڑوں نوجوان اور جواں سا ل کارکن جو کام کررہے ہیں اس کی سمت کا تعین آج تک نہیں کیا جاسکا۔ہر طرف ویلفیئر ٹرسٹ کے بورڈ آویزان دِکھتے ہیں، اور سڑک پر چلنے والی ہر بیسویں گاڑی کسی نہ کسی این جی او کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔غریبوں کی مدد کے نام پر باقاعدہ تحریک چل رہی ہے اور اس تحریک کے رہنما ہر سال اہل اقتدار کو بلا کر سالانہ محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں، صحافیوں کوعطیات سے نوازتے ہیں، اور تقریر کی لت کے ماروں کو سٹیج بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس ساری بھاگ دوڑ میں بعض محتاجوں کو ادویات اور کچھ نقدی بھی مل جاتی ہے، لیکن کیا صرف یہی کرنے کے لئے سینکڑوں ٹرسٹ اور انجمنیں

آغا حشر کاشمیری

آغا حشر  جہاں اپنے ڈراموں سے عوام کی تشنگی بجھانے کا کام کررہے تھے وہیںانھوں نے اصلاح معاشرہ میں بھی اہم کار ہائے نمایا ں انجام دیے۔ ماقبل میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ آغا حشر کے شروع کے ڈراموں کا حال وہی تھا جو اس دور کے ڈراموں کا تھامگر آغا کے یہاں تبدیلی روز بروز ترقی کے ساتھ ہوتی رہی۔ اس لیے بعد کے ڈرامے بدلتے انداز اور انفرادیت میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ آغا حشر ڈرامے کو صرف تفریحی فن تصور نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے ذریعے سماج کو بیدار رکھنا اور اس میں تبدیلی کے خواہاں تھے۔ اس لیے بعد کے ڈراموں میں اصلاحی جذبہ زیادہ حاوی ہے۔ اس دور میں سیتا بن باس(1928ء)رستم و سہراب(1929ء)مزید اس کے بعد دھرمی بالک،بھارتی بالک،دل کی پیاس، فرض عالم، ٹاکیز میں شریں فرہاد، عورت کا پیار،چندن داس بھیشم کوحشر مکمل نہ کرسکے-ان کے ڈراموں میں کشمش کا عالم چھیارہتا ہے۔  ڈرامہحشر بلا کے مناظر

مغربی بنگال

 مغربی بنگال میں2018۔2014   تک  میر اچار سالہ قیام رہا۔ بنگالی قوم پہلی نظر میں شمالی ہند کے لوگوں کے برعکس اتنے پر کشش نہیں لگتے مگر جوں جوں وقت گذرتا گیا،اس عظیم تہذیب کی گوناگوں صفات مجھ پر کھلتی گئیں۔یہ لوگ سادگی پسند، ایماندار اور پُرامن طبیعیت کے مالک ہیں۔اپنے کلچر اور زبان سے بےحد محبت کرتے ہیں ۔سوامی وویکانند ،رابندر ناتھ ٹیگور،کیشب چندر سین، قاضی نذرالاسلام ، ستیہ جیت رےاور جیوتی باسو کے نظریات اور اصولوں پر آج بھی نہ صرف فخر بلکہ اسے زندہ بھی رکھے ہوئے ہیں۔اندرون بنگال کے چھوٹے سے دیہات میں بھی ایک لائبریری، کھیل کا شاندار میدان اور ایک کمیونٹی ہال یا کلب ضرور موجود ہوگا۔لوگ علم وفن کے قدر دان ہیں۔فٹ بال سب سے پسندیدہ کھیل ہے۔بنگال کا سب سے بڑا تہوار دُرگا پوجا ہے جو اکتوبر کے مہینے میں دس دن تک چلتا رہتا ہے۔حقیقت میں دیکھا جائے تو بنگالی پورے سال دُرگا پ