تازہ ترین

صریرِ خامہ۔۔۔۔ایک مطالعہ

مصنف:جناب سلیم سالکؔ صفحات؛:160 ،قیمت:300  ناشر:کریٹو اسٹار پبلی کیشن ،نئی دہلی کالم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔کسی ہنگامی موضوع و مسئلے پر کالم ،کسی فن ،آرٹ یا ادب پر کالم یا محض ذات اور شخصیت پر کالم ۔سب کی اپنی اہمیت و معنویت ہے لیکن ادبی کالم زیادہ پرکشش لگتے ہیں۔ادبی زندگی کی تہ در تہ پرتیں کھولتے ادبی کالم کسی فلم کے پردے پر چلتے مختلف مناظر کی طرح الگ الگ کیفیتیں پیدا کرتے اور گرہیں کھولتے ہیں۔ جناب سلیم سالکؔ کی کتاب’’صریر خامہ‘‘ بھی مختلف ادبی کالموں کا مجموعہ ہے جو زورنامہ ’’کشمیر اعظمی ‘‘کی زینت بن چکے ہیں اور اب کتابی صورت میں منظر عام پر آگئے ۔ان کالموں میں انھوں نے دور جدید کے ادیبوں ،شاعروں،نثر نگاروں،نقادوں اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ اور تخلیقی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی کے دلچسپ گوشوں کو بڑے سلیقے

کشمیر کی رُو بہ زوال پشمینہ صنعت

 تاریخ  کشمیر کے تابندہ ستارے ،مبلغ اسلام اور محسن کشمیر حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ جب وادی کشمیر میں تشریف لائے تواُن کے ساتھ بہت سارے ہنر مندکاری گر اور ماہرفنون بہ نفس نفیس موجودتھے۔یہ ساداتِ کرام دین و تبلیغ کے ساتھ مختلف دست کاریوں میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے جن میں قالین بافی، پیپر ماشی، شال بافی وغیرہ شامل تھی۔ یہ سارے کاری گر خاکِ ایران سے تعلق رکھنے والے تھے اور کشمیر میں قدم رنجہ ہوکرپہلے ضلع کپوارہ میں رہایش پذیر ہوئے، یہاں پہاڑوں کی آغوش میںقیام کر تے ہوئے انہوں نے نومسلم کشمیریوں کو نہ صرف دین اسلام کی تعلیم دی بلکہ لوگوں کو ہنرمندیوں اور دست کاریوں کی تربیت دی ۔ انہی قدسی روح اور پاک نفوس پر مشتمل خانوادہ ’’ بافندہ‘‘ بھی شامل تھا ۔اس قبیلے کا سر پرست سید احد شاہ بافند ہ تھے ، یہ شال بافی میں قابل قدر مہارت رکھتے تھے ۔ سید احد شاہ بافندہ نے

کرتارپور راہداری

گزشتہ   ایام میں لاہور میں ایسےا بر آلودہ موسم میں جب لوگ پارکوں اور میدانوں کا رُخ کرتے ہیں ، پاک بھارت مذاکرات کی ایک بیٹھک ہوئی۔اس میں دونوں ممالک کے درمیان کرتارپور راہداری کے حوالے سے مذاکرات ہوئے ۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اس کے لئے شاباشی کے مستحق ہیں ۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اپنے دورۂ امریکہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔کر تارپور پر ہوئے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے اشارے مل چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ طرفین میں اسی فی صد معاملات طے پا چکے ہیں جب کہ اسلام آبادکی طرف سے راہداری پر اسی فیصد کام بھی مکمل ہو چکا ہے ۔کرتار پور راہداری پر مذاکرات کا یہ دوسرا دور تھا، جس میں بھارت کے آٹھ رُکنی وفد نے شرکت کی جب کہ پاکستان کی جانب سے تیرہ رُکنی وفدنے مذاکرات میں حصہ لیا۔ مذاکرات کے اس تازہ دور میں سکھ یاتریوں کی رجسٹریشن اور داخلے کے

ایک یاد گار سفر

میں  امسال 7؍جون کی تاریخ کوعمرہ کی سعادت حاصل کر نے کے سلسلہ میں جموں سے دہلی ریل گاڑی میں روانہ ہوا۔  ٹرین کا یہ سفرتقریباً 25سال بعد ہوا۔ میں نے ریل کے ڈبے میں بیٹھ کر اس وقت اپنا رخت ِسفر باندھا کرتا جب ڈاکٹری(ایم بی بی ایس )ڈگری کے سلسلے میں پٹھانکوٹ سے پٹیالہ اورپٹیالہ سے پٹھانکوٹ آیاجایاکرتاتھا۔تب پٹھانکوٹ سے جموں ریل لائن نہیں بچھائی گئی تھی۔  ریل کا تازہ سفراس لئے مجبوراً کرناپڑا کیونکہ میرا جموں سے جہاز کی ٹائمنگ دہلی ۔جدہ طیارے کی روانگی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتاتھا،اس لیے ا ب کی بارٹرین کاہی سفرکرناپڑا۔ مدتوں بعد ریل کا سفر انجوائے کر نے کی خواہش دل میں انگڑائی لے رہی تھی مگر موجودہ ملکی حالات کے مدنظر دل میں بڑی گھبراہٹ اور گھٹن سی محسوس ہورہی تھی، ڈریہ تھا کہ کہیں کوئی بجر نگی، زعفرانی ، بلوائی میری داڑھی شلوارقمیض اورسرپرٹوپی دیکھ کرکوئی بہانہ ڈھونڈھ

کانگر یس اپنی شکست کی آپ ذمہ دار؟

۔ 2019ءکے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو شرمناک شکست ہوئی۔ یہ توقع کی جارہی تھی کہ 2014ء اور 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی عبرت ناک شکست سے کانگریس کچھ سبق لے گی اور خود کو مضبوط کرنے کیلئے موثر اقدامات کرے گی۔ ابھی ان باتوں پر غور کیا ہی جارہا تھا کہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے استعفیٰ دے دیا اب وہ اپنے استعفیٰ کو واپس لینے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ راہول گاندھی کے مستعفی ہونے کی وجوہات اب سامنے آرہی ہیں اِن میں سے اہم یہ ہے کہ کانگریس کے لیڈروں نے کسی بھی ریاست میں کھل کر راہول گاندھی کا ساتھ نہیں دیا اسی لئے راہول گاندھی نے کہا کہ بیشتر سینئر قائدین کو پارٹی کو کامیاب بنانے سے زیادہ دلچسپی اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو کامیاب کروانے سے تھی گوکہ راہول گاندھی نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن بیٹوں اور رشتہ داروں کے لئے کھل کر کام کرنے والے قائدین کے نام سب کو معلوم ہیں۔ راہول گ

نظامِ تعلیم کا قبلہ دُر ست کر یں

  آج کل تعلیم کا چرچا عام ہورہا ہے ۔ اگر کوئی شخص تعلیم کے بغیر ہو تو اس کو مہذب انسان تصور ہی نہیں کیا جاتا مگر پچھلے زمانے کی تعلیم آج کی تعلیم سے الگ تھی۔ ان دنوں اخلاقیات، اقتصادیات اور ادبیات پر زور تھا مگر دورِ حاضر کی تعلیم میں ان سب چیزوں کا فقدان ہے۔ آج نوجوان پیڑھی کیوں بگڑ ی ہیں؟ اس میں بڑھوں کا احترام کیوں نہیں؟ وجہ صرف ہمارا ناقص نظام تعلیم ہے۔ ہمارے یہاں پہلی جماعت سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے نصاب میں آپ کو اخلاقیات، اقتصادیات ، حُسن معاشرت اور ادبیات کا فقدان ہی فقدان نظر آئے گا۔ اس لئے ہم آج ہم پڑھے لکھےڈگری والے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ اگر کسی نے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کی ہوں مگر وہ اخلاقیات سے تہی دامن ہو تووہ اپنے لئے یا سماج کے لئے کوئی اثاثہ ثابت نہ ہوگا ۔ اس میں اگربزرگوں کا احترام نہ ہو، غریبوں سے ہمدردی نہ ہو، صنفِ نازک کی تکریم نہ ہو ، تو وہ تعلیم

حُبِ رسول ﷺ

 خاتم  النبیین رحمتہ اللعالمین خیر الانام صلی اللہ علیہ و سلم اُمت مسلمہ کی خیر و عافیت کےلیے تنہائیوں میں اللہ کے حضور دعا ئیںمانگتے تھے۔ اُمت کی خاطر ہر دم بے چین اور فکر مند رہتے تھے۔ آپ صلعم اپنے سینہ مبارک میں انسانیت کا غم کا پہاڑ لئے بیٹھےتھے اور اُمت کے ایمان وصالحیت کی خاطر بے حد اشک بار ہوتے تھے۔ آپ صلعم کی بے چین و بے قراری کو قرآن مجید نے سورۃ الکہف میں یوں نقشہ کھینچا، ارشاد فرمایا کہ ’’پس اگر یہ لوگ اس بات (قرآن)پر ایمان نہ لائے تو کیا آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان کو ہلاک کر ڈالیں گے۔(الکہف ۶) قرآن کریم پر ایمان نہ لانے والوں کا آپ صلعم کو اتنا غم کہ قرآن کو نازل فرمانے والا رب زوالجلال ہی اپنے محبوب نبی سرورکونین صلعم کو دلاسہ ، ہمت اور حوصلہ دے رہاہے ۔ طائف کی وہ ستم گزیدہ گلیاں جو جنگ ِاُحد سے بڑھ کر آپ کی تکلیف دیکھتی رہیں ، اس

مہنگائی کی غریبوں سے ابدی سگائی!

دن بھر کی شدید مصروفیت ‘ بہت سارے مختلف مزاج اور نفسیات کے حامل لوگوں سے ملنے جلنے کے بعد شدید تھکاوٹ کے بعد میں اب گھر جارہا تھا، میرا جسم جوانی اور توانائی کی سرحدوں کو عبور کر کے اب بڑھاپے کی طرف دھیرے دھیرے سرک رہا تھا ۔ اس وجہ سے اب جسم اور دماغ میں پہلے والی چستی پھرتی نہیں تھی بلکہ اب جسم آرام طلب ہو تا جارہاتھا ۔میں بھی آرام دہ ٹھنڈی کار میں گھر کی طرف رواں دواں تھا کہ جاتے ہی شاور لے کر کھانا کھا کر خود کو بستر کے حوالے کر دوں گا تاکہ تھکاوٹ کا اثر ختم ہو اور جسم پھر  چاق و چوبند ہو سکے ۔گرمی اور حبس اپنے جوبن پر تھے ، اس لیے کار سے اُترتے ہی میں ڈور بیل پر انگلی رکھ کر بھول گیا میں آگ برساتے سورج کے نیچے زیادہ دیر کھڑا نہیں ہونا چاہتا تھا ،جلدی دروازہ کھلے اور میں اندر ٹھنڈے کمرے میں جاسکوں۔ اسی دوران ایک شکستہ حال شنا سا چہرہ میرے قریب آیا جسے میں نے فوراً پہچ

ہیرا گولڈ فراڈ سے کوئی سبق سیکھا؟

 سبق  یہ ہے کہ مسلمان غریب نہیں ہیں۔ قرآن و حدیث پر عمل کرلیں تو دنیا میں امیر ترین لوگ بن سکتے ہیں۔  لائف انشورنس والے انوسٹمنٹ ۔ ایک حلاس سے پہلے کہ ہم اس موضوع پر بات کریں ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ ان مشاہدات پر غور فرمائیں:  ۱۔ حادثاتی امواتAccidental deaths   اِس وقت تقریباً ہر شہر میں اوسطاً بارہ افراد کی موت کی خبر ہراخبار میں ہوتی ہے۔ پانچ سڑک حادثات میں، پانچ خودکشی میں اور کم سے کم دو قتل۔ ان اموات میں کم سے کم ایک دو مرنے والے تو مسلمان ہوتے ہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر روز کم سے کم دوعورتیں بیوہ ہوتی ہیں، چار پانچ بچے یتیم ہوتے ہیں چار پانچ بزرگ بے سہارا ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں خوشحال گھرانوں کے افراد کی تعداد کم ہوتی ہے۔زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جو جب تک پہلی تاریخ کو تنخواہ نہ لائیں تو گھر گرہستی چلانا ناممکن ہوتا ہے۔ اگ

’’ دعوت‘‘ کی بندش

سہ  روزہ’’ دعوت‘‘ کے بند ہونے کی خبرہر خاص وعام حلقے میں موضوع بحث ہے۔ آخر ہو بھِی کیوں نہ، ملت کے زوال کے اس دور میں عوامی حلقے میں جماعت اسلامی ہند کے واحد ترجمان ردو اخبار اور معیاری اردو صحافت کے واحد علمبردار سہ روزہ دعوت کے بند ہونے کی خبر مسلمانانِ ہند پر بجلی بن کر گری ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ان اسباب و عوامل اور وجوہات کا منصفانہ جائزہ لیا جائے جن کی وجہ سے آج یہ منحوس دن دیکھنے پڑے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند اور دعوت ٹرسٹ کے ذمہ داران نے سہ روزہ کو بند کرنے کی واحد وجہ ’’مسلسل خسارہ و نقصان ‘‘بتایا ہے۔ دعوت ٹرسٹ کے سیکریٹری عبد الجبار صدیقی نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا :’’ہم اپنے ارکان سے پیسے لے کر ادارہ بناتے ہیں اور اس کے بعد ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں

ہیرا گولڈ فراڈ سے کوئی سبق سیکھا؟

 قصور ہیرا گولڈ کا نہیں، قصور ہمارے حافظے کا ہے۔ ورنہ یہ دھوکہ دہی کوئی نئی نہیں ہے۔ ہر دس پندرہ سال میں کوئی نہ کوئی مذہبی یا سماجی تنظیموں کا سہارا لے کر کروڑوں کا چونا لگا جاتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں۔ ہاں ہیرا گولڈ کے دھوکے میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ اِس بار بڑے بڑے علماے ٔسلف بھی آگئے۔ خیر سانپ تو نکل گیا اب لکیرکو پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں مستقبل میں اگر کوئی سبق سیکھنا ہوتو ہمارے پاس چند اہم تجاویز ہیں۔  سب سے پہلے تو اِس غلط فہمی سے باہر آیئے کہ صرف مسلمان ہی دھوکہ کرتے ہیں۔ ہیراگولڈ،IMA ، المیزان، الامانہ، الحرم، الفلاح سعیدبھائی وغیرہ اور دوسرے کئی زمینات اور عمرہ و حج ایجنٹوں سے دھوکے کھانے کے بعد اکثرلوگ اتنے بددل ہوگئے کہ حمیت ِقومی کا لحاظ کئے بغیر یہ کہنے لگے کہ مسلمانوں کے سارے کاروبار ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ جب کہ غیرمسلموں نے اِن سے بھی کئی گنا زیادہ فرا

مولانا محمد علی جوہرؔ

 دنیا میںبعض شخصیتیں عہد ساز ہوتی ہیں ، ان کا وجود عوام کی طاقت اور توانائی کا مرکز و محور ہوتا ہے ، ان کی حرکات اور چشم ابرو کے اشارات افراد و اقوام کیلئے مہمیز کا کام انجام دیتی ہیں ۔ اقبال کا یہ شعر ا س بارے میں چشم کشا ہے   ؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر  فرد ہے  ملت کے  مقدر کا  ستارہ بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے منظرنامے پر رئیس الاحرارمولانا محمد علی جوہرؔ کی شخصیت قائدین ملک و ملت کی صف میں کئی لحاظ سے منفرد تھی ۔ قائدانہ صلاحیت ، عزتِ نفس اور دولت استغنیٰ ان کی زندگی کا لازمی حصہ تھیں، فقیری میں شاہانہ خیالات اور پریشانی میں خودداری پر قائم رہنا ان کی دائمی خصلت تھی۔ وہ مخلص ،بہادر، اسلام کے شیدائی اور اظہار حق میں دوست دشمن کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات سامنے رکھنے والے تھے۔دست قدرت نے مولانا محمد علی کو قیادت و سیا

ہوگا نہ پردہ فاش ۔۔۔۔ قسط2

گزشتہ  کالم میں ایک لمبی تمہید ڈالنے سے میرا مقصد یہ تھا کہ آپ کے ساتھ اس طرح کی دو باتیں شیئر (Share) کریں کہ ہم نے دیکھا تو نہیں ہے البتہ اس بارے میں پڑھا ضرور ہے کہ بھارت ورش کی شاندار روایات رہی ہیں اور ایک فخریہ ماضی رہا ہے ۔اس ملک میں بڑی بڑی قد آور شخصیات مصلح،رہنما اور ریفارمر ، سیاست دان ،علماء و فضلا ء ،ادباء و شعراء ،مذہبی شخصیات ،دیوتائوں کے سروپ بادشاہ ،فاتح اور شکتی وان،حتیٰ کہ روحانی کمالات و کرامات سے متصف سادھو سنت اور مہاتما پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ملک میں شیر اور بکری نے ایک ہی گھاٹ پر پانی پیا ہے اور انسانوں نے وحوش کو وَش میں کرکے شیروں کے مونچھوں پر بھی بوسے دئے ہیں ۔ہمیں ملک کے ان تمام خصوصیات اور گن گان سے اختلاف کرنے کی منشاء ہے اور نہ ضرورت ۔یہ سب باتیں تو ہم من و عن مان لیتے ہیں مگر موجودہ حالات کی نیرنگیاں اور مشاہدے میں آرہے عجیب و

شادی کا ادارہ ڈگمگارہا ہے

مبلغ  حضرات جب اصراف و تبذیر پر وعظ فرماتے تو منہ میں جھاگ جما جما کر وازوان، ون وُن اور فروعی مصارف پر جہنم کے فری پاس بانٹتے ہیں۔ سرسری جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ہر سال کشمیر میں پچیس ہزار سے زائد شادیاں ہوتی ہیں۔ مطلب پچاس ہزار نفوس زندگی کی نئی دہلیز پر قدم رکھ کر ایک نیا سفر شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس تعداد میں نصف ایسے ہیں جو زندگی کی اگلی کم از کم دس بہاریں عدالتوں، مفتیان اور مقامی پنچایتوں میں گزارتے ہیں کہ ان کی ازدواجی زندگی آپسی کدورت، خاندانی مخاصمت اورغلط فہمیوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ سینکڑوں بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ماں یا باپ کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے اور عمر کے انتہائی حساس مرحلہ پر اُن کی پرورش میں ماں یا باپ کی شفقت کا خلا رہ جاتا ہے۔  پوری دنیا میں شادی کو بحیثیت ادارہ بچانے کے لئے کیتھولک عیسائیوں نے وسیع مہمات چلائیں، اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئیں۔ چونک

مولانا مہرالدین قمرؔ راجوروی

مولانا  مرحوم مہرالدین قمر راجوروی پر یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے۔ اس مردحُر کا جنم جس قوم اور خطہ میں ہوا، افسوس وہاں کسی نے اُن کی قد، قدر و قیمت اور شخصیت کو نہیں پہچانا۔ پورے خطۂ پیر پنچال کے لوگوں کی یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ اُنہوں نے کبھی بھی اپنے خطہ کی تاریخ، یہاں کی اہم شخصیات اور اُن کے سنہرے کارناموں کو محفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کسی قوم اور خطہ کی پہچان اُس کی اہم شخصیات، اُن کی ملی خدمات اور تاریخی کارناموں سے ہوتی ہے جو اس قوم کا ورثہ ہوتا ہے اور جن سے آنے والی نسلوں کو زندگی کے رہنما خطوط فراہم ہوتے ہیں۔جو قوم اپنے بزرگوں کی خدمات، عملی و تحریکی ورثے کا تحفظ نہ کر سکے وہ کچھ وقفے کے بعد کار زارِ حیات کے منظر نامے سے حرف غلط کی طرح ہمیشہ کے لئے مٹ جاتی ہے۔  ڈوگرہ عہدکے راجوری کی تاریخ ادھوری رہے گی اگر اس میں راجوری کے اس عظیم حریت پسند، شعلہ بیاں مقرر، آت

پانی نعمتِ لافانی

زندگی  کیلئے ضروری چیزیں آلودہ اورکم یاب ہوتی جارہی ہیں۔ پانی ان میں سے ایک ہے، جسے قدرت نے تو بھرپور مقدار میں مہیا کرایا ہے لیکن انسانی دخل اندازیوں کی وجہ سے پینے لائق پانی ہماری پہنچ سے دور ہوتاجارہا ہے۔ پانی کے بٹوارے کو لے کر صوبائی سرکاریں لڑرہی ہیں۔ دوسری طرف پانی میں رہنے والی زندگیوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں زیر زمین پانی کی سطح میں 65 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ پانی حاصل کرنے کیلئے اور گہرے بور کرنے پڑرہے ہیں۔ بھارت زمین سے پانی کھینچ کر استعمال کرنے کے معاملے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں پینے کے پانی کی 80 فیصد ضرورت اسی سے پوری کی جاتی ہے، یعنی زمینی پانی سے۔ 2001 سے 2010 کے درمیان یوپی، تلنگانہ، بہار، اتراکھنڈ اور مہاراشٹر میں بالترتیب75,78,88,89اور74 فیصد کنوں کے پانی کی سطح نیچے  پہنچ گئی ہے جسے خطرے کی گھنٹی مانا جانا چاہئے، ک

ناکامی کے اسباب اورکا میابی کے راز

اگر  ہم چاہتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم اپنی کوئی منفرداور مفیدحیثیت منوائیں تو اپنے کم سے کم تیس سال تک اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل تک ہی اکتفا کریں اور اپنی بقیہ کمائی کو قومی اور سماجی منصوبوں میں خرچ کریں۔ ہم نے اپنے اوپریہ ظلم روا رکھا ہے کہ قومی اور عوامی منصوبوں کو کورپشن ، رشوت ، فراڈ اور دوسرے ممکنہ غلط ذرائع سے ذاتی ملکیت میں تبدیل کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اس وقت دنیا میں ذاتی یا نجی ادارے قومی اور عوامی اداروں سے زیادہ دولت مند ہیں اور قومی خزانوں میں غریب عوام کی اہم اور بنیادی ضروریات کا خرچہ بھی میسر نہیں ہے ۔ یہ ہے ہماری حالت زار کی ایک جھلک۔ ہر کسی فرد کی ذاتی ملکیت اس کی ذات اور ا س کے وارثین تک ہی محدود ہوتی ہے جب کہ قومی اور عوامی منصوبوں سے سب لوگ انتفاع کرتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے عوامی اداروں کی دولت لوٹ کے اپنے ذاتی کھاتوں میں جمع کر تے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ ان

یوم شہدا ٔ پر ہڑتالی خراج کیوں؟

تیرہ جولائی ریاست کی تاریخ کا وہ دن ہے جس نے تاریخ اور تقدیر دونوں کو بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔88سال بیت چکے ہیں ۔ کئی نسلیں دنیا میں آئیں اور چلی بھی گئیں ۔وقت نے کئی کروٹیں بدلیں ۔کئی طوفان آئے اور گزرگئے ۔ کئی انقلاب آئے اوراپنے نقوش چھوڑ گئے لیکن تیرہ جولائی کوسرینگر کے سنٹرل جیل کے باہر پیش آنے والے اس واقعے کو نہ وقت اپنی گردشوں میں گم کرسکا اورنہ ہی نسلیں اپنے ذہنوں سے محو کرسکیںجب نہتے کشمیریوں نے ڈوگرہ فوجوں کی گولیوں کے آگے سینہ سپر کیا ۔ اس سے پہلے کشمیر کو ستر لاکھ نانک شاہی سکوں میں خریدنے والے حکمرانوں کے خلاف احتجاج اور ان کی طرف سے قتل عام کاکوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا ۔ بے بس اور لاچار کشمیری ہر ظلم ، ہر جبر اور ہر استبداد خاموشی کے ساتھ سہتے آرہے تھے ۔ ڈوگرہ فوجی لوگوں کو گھروں سے گھسیٹ گھسیٹ کر نکالتے تھے اور بیگار پر لے جاتے تھے ۔ کوئی کوئی ہی وا

کھادی بورڈ میں ریکروٹمنٹ فراڈ

کھادی اینڈولیج انڈسٹریز بورڈ میں 2016میں ہوئی بھرتیوں کو گونر انتظامیہ نے منسوخ کر دیا ہے۔ ان بھرتیوں کے حوالے سے 2016میں ہی لے دے شروع ہوگئی تھی۔ کئی امیدواروں نے الزام لگایا تھا کہ بھرتیاں شفافیت سے نہیں کی گئیں اور بر سر اقتدار پارٹیوں نے مستحق امیدواروں کو نظر انداز کرکے اپنے اقرباء اور چہیتوں کو نوکریوں کے تحفے عطا کئے۔ اُس وقت کی بر سر اقتدار پارٹی کے اُس وقت کے نائب صدر کے بیٹے کی تقرری پر بھی اُنگلیاں اُٹھائی گئی تھیں۔سننے میں آیا ہے کہ اُس وقت کے لاء سکریٹری نے بھی اپنے ایک مکتوب میں بھرتی میں ہوئی دھاندلیوں کی جانب اشارہ کیا تھا۔ امیدواروں کے احتجاج کے بعد سرکار نے بھرتیوں کے حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیٹی قایم کی تھی جس کی جانب سے دی گئی رپورٹ سے یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ بھرتیاں کرتے وقت طے شدہ ضابطوں اور قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی تھی۔اسی رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنر انت

افسانہ نگاری

عموماً ََ کہا جاتا ہے کہ افسانہ ایک ایسی صنف ہے جس میں بہت کم لفظوں میں بہت کچھ کہا جاتا ہے یا کم لفظوں میں کا استعمال وسیع معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اور یہ صحیح بھی ہے کہ افسانہ کی ابتدا کی وجہ یہ بنی کہ رسالے یا اخبار میں پورے ناول کو شایع کرنے میں بہت مہینے لگتے تھے اور تب تک قاری کی توجہ ناول کے پلاٹ سے ہٹ جاتی تھی یا وہ بہت سی اہم چیزیں کبھی کبھی بھول بھی جاتا تھا۔بہرحال جو بھی ہو افسانے سے متعلق جو چیز سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ یہ ایک مختصر کہانی ہے جس کی طوالت 1000 سے7000 الفاط کے درمیان ہو۔ کبھی یہ طوالت20000 الفاط تک بھی جاتی تھی لیکن اب ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ افسانے میں کردار ، ترتیب یا زماں و مکاں، پلاٹ، کشمکش اور موضوع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور بھی کچھ چیزیں ہوسکتی ہیں لیکن مذکورہ پانچ چیزوں کے بغیر شائد ہی کوئی اچھا اور کامی