تازہ ترین

مودی سرکار کے اگلے پانچ سال

’’ ایک  مخصوص گروپ کچھ بھی کرنے کے لیے سیکولرازم کا ٹیگ استعمال کرتا رہا، لیکن اب کوئی بھی سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر ملک کو دھوکا دینے کی ہمت نہیں کرے گا۔‘‘یہ الفاظ ہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہیں جو مابعد آزادی کی تاریخِ ہند میں کانگریسی وزرائے اعظم جواہر لال نہرواور اندراگاندھی کے بعد مسلسل دوسری بار الیکشن جیتنے والے سربراہِ حکومت ہیں۔وزیراعظم مودی نے گزشتہ دنوں انتخابی فتح کا جشن منانے کے لیے منعقد کی گئی ایک تقریب میں اپنے مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے مستقبل کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں پر اشارے دئے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں نے صرف ’’بھارت ماتا کی جے‘ ‘کے نعرے کا جذبہ لے کر انتخابی مہم چلائی۔ دنیا کو چاہیے کہ اب وہ بھارت کو سپر پاؤر تسلیم کرلے۔ہزاروں کارکنوں کے نعروں میں مودی کی فتح کی تقریر میں بھارت اور جنوبی ایشیا کے ل

پانی کی نکاسی نظام۔۔۔۔۔ بہتر بنانے کی ضرورت

 پچھلے کئی روز سے جاری بارشوں سے جہاں فصلوں کو نقصان پہنچاہے وہیں ایک بارپھر نکاسی کے نظام کی قلعی کھل گئی ہے ۔ریاست کے تمام بڑے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پانی کی نکاسی کا بہتر نظام نہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر بارش کا پانی سڑکوں سے بہتے ہوئے دکانوں کے اندر چلا جاتاہے تو کہیں مکانات کی دیواروں میں گھُس جاتا ہےجبکہ کچھ جگہوں پر تو سڑکیں کئی کئی دن تک زیر آب رہتی ہیں۔اگرچہ موسم برسات کے دوران یہ صورتحال انتہائی سنگین بن جاتی ہے تاہم حالیہ بارشوں کے دوران بھی یہ دیکھاگیاہے کہ بارش کا پانی ،خاص کر پہاڑی علاقوں میں،سڑکوں پر بہتے ہوئے سیدھا دکانوں کے اندر داخل ہوگیا جس پر دکاندارسیخ پا ہیں ۔ گزشتہ دنوں پونچھ کے مینڈھر بازار میں پانی دکانوں کے اندر داخل ہونے سے دکانداروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑااور انہوں نے انتظامیہ کوانتباہ دیاہے کہ اگر نکاسی آب کے نظام میں بہتری نہ لائی گئی

یادوں کے جھروکے سے

 آدمیت  اور  شئے  ہے علم  ہے کچھ اور شے  کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا  ذوقؔ  میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ جن دنوں وہ شہام پورہ نوہٹہ میں رہتے تھے اُن کا ایک رشتہ دار جمعۃ المبارک کو رتنی پورہ پلوامہ سے وہیں مسجد شریف میں فجر ادا کرنے کے بعد پیدل سرینگر کی طرف مارچ کرتا تھا اور نماز جمعہ یہاں سرینگر کی مرکزی جامع مسجد میں ادا کرتا تھا۔ پھر جمعہ کو میرے دادا کے پاس ہی شہام پورہ نوہٹہ میں قیام کرکے اگلی صبح مسجد میں فجر ادا کرنے کے بعد واپس رتنی پورہ پلوامہ کی طرف پیدل مارچ کرتا تھا۔ میرے والد کہتے ہیں کہ وہ بڑا نیک آدمی تھا اور ہمارے بزرگوں کی یہ تمنا تھی کہ اُن کا انتقال یہاں سرینگر میں ہی ہوتا تاکہ اس کی میت ہمارے ہی قبرستان میں دفن ہوجائے اور اس وسیلے سے وہاں مدفون باقی مرحومین کو راحت ملے۔ ایک دن جب حسب معمول اس بزرگوار

مسلمانانِ ہند | حقائق کا ادراک کر کےآگے بڑھیں

حوصلے کیوں پست ہیں ایمان کے ہوتے ہوئے پوچھتے ہو راستہ قرآن کے ہوتے ہوئے شکست پائدار اور مستحکم فتح کی جانب ایک قدم ہے۔ شکست میں کامیابی کانسخہ کیمیا اپنے کچھ اجزا کے ساتھ موجود ہوتا ہے جو حوصلہ کے خوردبین سے مثبت نتائج کا نظارہ دکھا جاتا ہے، جسے دماغ کی آنکھوں سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔حالیہ الیکشن اور اس کے نتائج نے جہاں بیش تر عوام کو حیرت میں ڈال دیا ہے، وہیں ہندوستانی سماج اور سیاست کےکچھ حقائق کو بھی اظہر من الشمس کر دیا ہے ، جو ہندوستان کے سماجی مطالعہ نگاروں کے لئے سوچ کی نئی راہیں وا کرتا ہے۔انتخابی نتائج نے اگر ایک طوفان برپا کر دیا تو لوگوں کے ذہن بھی طوفان کی زد میں ہیں۔ اب اس طوفان کی شدید لہریں کہاں کس موڑ پر جا کر شانت ہوتی ہیں ،یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا لیکن خدشہ ہے کہ یہ تذبذب سے بھرا طوفان کہیں طوفان بدتمیزی میں نہ بدل جائے۔ یہ صبرآزما گھڑی ہے اوربہت شانتی

! بشارتِ خداوندی

اسلام کے پانچ بنیادی حقوق میں رمضان کے روزوں کا شمار بھی کیا گیا ہے۔اس ماہ مبارک کی بڑی فضیلتیں ہیں۔ اس بابرکت مہینے میں اللہ رب العالمین کی خاص رحمت اپنے بندوں پر ہوتی ہے۔ علمائے کرام رمضان المبارک کو تین عشروں میں تقسیم کر تے ہیں:پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت، تیسرا عشرہ گناہوں کی بخشش جہنم سے آزادی کا ہے۔ یوں تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ عبادت کا ہے۔ لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کو زیادہ خصوصیت حاصل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے کئی اعمال اور عبادتیں ایسے رکھی ہیں جو اس آخری عشرہ کو سارے دنوں پر فضیلت واہمیت عطا کرتے ہیں اور ان کو دیگر دن راتوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ماہ رمضان کا تیسرا اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے ،اس عشرے میں لیلتہ القدر کی رات بھی موجود ہے. اس عشرے میں خصوصی عبادات کے ساتھ اپنی بخشش کے لئے بھی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔آخری عشرے میں بہت ہی خیر اور ک

ایران۔ امریکن مخاصمت

ایران   امریکی مخاصمت حالیہ دنوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ امریکہ کا یہ الزام ہے کہ ایران اُس ایٹمی معاہدے کی پاسداری نہیں کررہا ہے جو 2015ء میں  ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین طے پایا تھا۔جب یہ معاہدہ طے پایا تو اُس وقت امریکی صدر بارک اوباما تھے اور اِس معاہدے کے حصول کو اُن کی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھالیکن امریکہ کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالتے ہی اُس معاہدے کے خلاف بولنا شروع کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اپنی صدارتی مہم کے دوراں ہی اُنہوں نے اپنی مخالفت کا عندیہ دیا تھا۔ صدر ٹرمپ اِس معاہدے کو امریکی مفادات کے برعکس سمجھتے ہیں البتہ در اصل اُنہیں اسرائیلی مفادات کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ جب 2015ء میں یہ معاہدہ طے پایا تو اسرائیل نے اُس کی مخالفت کی تھی۔اسرائیل کا یہ ماننا رہا کہ اُس معاہدے میں وہ دم نہیں جو ایران کو ایک ایٹمی طاقت بنان

چوہدری غلام عباس

’’میرے  نزدیک جیل میں جاناکوئی بڑی قربانی نہیں بلکہ سیاسی اسیروں کو تو یہاں مکمل آرام و اطمنان نصیب ہوتا ہے ۔بشرطیکہ گھروں کے دہندوں کی فکر نہ ہو ۔میں سات بار قید ہوا لیکن گھر کے دہندوںکو ہر بار ناقابل حل ہی چھوڑ آیا۔ایسے حالات میں بے سرمایہ سیاسی کارکنوں کو اپنی قربانی تو معمول ہوتی ہے اصل قربانی اُن کے متعلقین کی ہوتی ۔اور اگر اس ضمن میں کہوں گا کہ آج تک مجھ سے زیاد ہ قربانی میرے بیوی بچوں نے دی ہے تو یقیناًمبالغہ نہ ہوگا۔یہی حال میرے رفقاء کار کا تھا‘‘۔(ایضاً) اُمت مسلمہ کا عموماً اور کشمیر میں خصوصاً جب کبھی بھی اُمت مسلمہ نے اکھٹا ہونے کی کوشش کی تو ذاتی اختلافات بنا پرا غیار ہم پر مسلط ہو گئے، اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر مسلم کانفرنس جیسے ہی اپنی پوری طاقت سے اُبھر کر عوام کی ہر دل العزیز جماعت کے طور سامنے آنے لگی تو کشمیر میں میر واعظ یوسف شا

سماج میں اخلاقی تنزل!

گزشتہ  کئی ہفتوں کے دوران جنت ِ کشمیر میں کچھ ایسے شرمناک ،دلدوز اورانسانیت سوز سانحات کی دھوم مچی جو تحقیق طلب ہی سہی مگر ان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ جنت بے نظیر کشمیر رفتہ رفتہ بد اخلاقیوں کا جہنم زاربنتی جارہی ہے۔ بنابریں ہمیں کبھی ایک شرمناک خبر دل کو دہلا دیتی ہے اور کبھی دوسرا سانحہ معاشرتی منظر نامے پر نمودار ہوکر ہمارے اجتماعی ضمیر پر تازیانے برساتا ہے ۔ قرآن کرم میں قوم ِ لوط کے اخلاقی تنزل اور پستیٔ کردار کی سر گزشت سناتے ہوئے کہا گیاہے کہ جب اس بد طینت قوم کی بغاوتیںاور بدفعلیاں اپنے عروج کو پہنچیں تو اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو حضرت لوط علیہ السلام کی طرف روانہ فرمایا تاکہ قوم لوط کے گناہوں کی پاداش میںباغیوں پر قیامت نما تباہ کن عذاب نازل کیا جائے۔ یہ فرشتے خوبصورت انسانی پیکر میں حضرت لوط ؑ کے گھر میں جب داخل ہوئے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ فرستادان ِ ہدایت کو دیکھ ک

’’چشمِ بلبل‘‘

 کشمیر   وادی کے ترال علاق میں پیدا ہوئی، سرینگر میں پڑھی اورشادی کے بعد جموں میں مقیم پنجابی کی شاعرہ اور افسانہ نگار بی بی سُر یندر نیرؔ کا پنجابی ناول ’’چشم بلبل‘‘ اسی سال شائع ہوا ہے۔ پنجابی ادیب خالد حسین نے اس کے تعارف میں لکھا ہے کہ’’ یہ کشمیر کی صدیوں پرانی تواریخ سے لے کر موجودہ بدامنی کے ماحول میں بسر کرنے والے لوگوں کے کئی رنگ پیش کرتا ہے‘‘۔ان رنگوں میںشدت پسندی کے علاوہ کشمیری سماج کا پچھڑاپن،خاندانوں کے جھگڑے،عورتوں پر جسمانی تشدد،نشہ بازی، بے وفائی اورجسمانی ہوس شامل ہیں۔ ان باتوں کے ذکر میں کشمیری زبان کے گیتوں کو پنجابی رسم الخط میں پیش کرنے سے ناول کو خاص خوبصوتی ملی ہے۔  اس ناول کا عملی کردارکشمیر کا قدیمی اور عظیم فنی شاہ کار ’’کانی شال‘ ‘ ہے۔ صدیوں تک اس کا نام کشمیر سے ج

ہیرا پھیری سے پر ہیز!

 ماہِ رمضان المبارک رواں دواں ہے، یہ پُر عظمت و بابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمان کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی ایک مخصوص آفاقی نظم و ضبط میں گزارنے کی تربیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ نیک اور اچھی صفات بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ تاجر ، ملازم،مزدور، کاریگر،عالم ، دانش ور ،معلم ،مبلغ ،حکیم ، ڈاکٹر ،انجینئر ، ٹھیکیدار، صحافی و قلم کار غرض ہر شخص روز مرہ زندگی میں خداوند کریم کے قانون اور نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اپناکام کا ج چلاتا ہے ۔ قرآن مجید کے سورۂ الرحمن کی ساتویں ،آٹھویں اور نویں آیا ت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اپنے کاروبارِ زندگی میں صحیح تولنے اور برابر ماپنے کی تاکید فرمائی ہے تاکہ حلال و حرام ،حق و ناحق میں ایک نمایاں فرق کیا جاسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں نظام ِ زندگی چلانے کے لئے باضابطہ طریقے پر ایک ایسا ترازو اور پیمانۂ عدل مقرر ک

اسلام ۔۔۔دین رحمت | ہر ہدایت روشن ہر حکم مبنی بر حکمت

’’بے  شک اللہ تعالیٰ کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔‘‘[آل عمران : 19 ] قرآن کریم کی یہ آیت اُن لوگوں کی واضح تردید کر تی ہے جو یہ کہتے ہوئے سنے جارہے ہیں کہ اسلام کی تاریخ ڈیڑھ ہزار سال پرانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت و تعلیم تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے زمانۂ نبوت میں دیتے رہے ہیں۔ اسلام کی کامل ترین شکل وہ ہے جو خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمائی ۔ تکمیلِ دین کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی نے ارشاد فرمایا:’’آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہوگیا۔‘‘[ المائدہ:3 ] اب اس دین اسلام کے سوا کوئی اوردین، کوئی اور نظریہ، کوئی اور فکر (Thougt ) عنداللہ قبول نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اختیار کرے گا بھی تو از خود نق

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اعتکاف کے اہم مسائل    اُجرت پر اعتکاف کرانا س:بعض جگہوں پر کسی اجنبی مسافر کو بستی والے اْجرت پر اعتکاف میں بٹھاتے ہیں کیا اس طرح سے یہ مبارک سنت ادا ہوتی ہے؟ ج:         کسی بھی اعتکاف کرنے والے شخص کو اعتکاف کی اْجرت لینا، اور اْسے اعتکاف کی اجرت دینا دونوں حرام ہیں۔ اس سے نہ تو خود اْس شخص کا اعتکاف ادا ہوگا۔ اور نہ اْس محلہ یا بستی کے لوگوں سے اعتکاف کا حکم ساقط ہوگا۔ اعتکاف سنت کفاریہ ہے۔ جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی ایک شخص بھی اگر اخلاص سے ، بلاکسی دنیوی لالچ کے محض اللہ کی رضا کیلئے اعتکاف کرے گا تو یہ سنت سب کی طرف سے ادا ہوجائے گی۔ لیکن جب اْجرت لینے دینے کا معاملہ ہوگا تو اس سے اعتکاف کی سنت ، ادا ہونا توکئی گناہ ہونا بھی یقینی ہے اور اس محلہ پر ترک اعتکاف کا وبال بھی لازمی ہے۔ س: فرصت والے بوڑھے بھی خود اعتکاف میں بیٹھنے کو ع

مقصدِ حیات

اللہ   تعالیٰ ہی ہر شئے کا خالق و مالک ہے ۔ اس نے ہی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کو بھی پیدا کیا اور بڑی سے بڑی مخلوق کو بھی۔ اگر ہاتھی اس نے بنایا ہے اور یہ اس کا کمال ہے تو چیونٹی کو پیدا کرنا بھی کچھ کم کمال نہیں ہے کہ اتنے بڑے ہاتھی میں جتنے اعضاء اس نے بنائے ہیں وہ سارے کے سارے چیونٹی کے اندر بھی موجودہیں ۔ اگر بڑا کارخانہ چھوٹی چیز بنائے تو اس کی توہین سمجھی جاتی ہے مگر اللہ نے جو کچھ بھی بنایا یہ اس کی شان ہے کیونکہ کارخانے میں تیار ہونے والی شئے سے بہتر بھی شئے دوسرے کارخانے میں تیار ہو سکتی ہے مگر سارا جہان اور اس کے سارے کارخانے مل کر بھی اس کے کارخانۂ قدرت میں تیار ہونے والی ادنیٰ سے ادنیٰ شئے سے بہتر تو کیا اس جیسی بھی نہیں بنا سکتے بلکہ مخلوق کی بنائی ہوئی شئے اور اللہ کی بنائی ہوئی شئے میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی شئے جیسی کوئی اور نہیں بنا سکتا۔ پھر یہ

یاد آ رہا ہے بدر کا میدان بار بار

عزیز بلگامی…بنگلور،انڈیا 09900222551 رمضاں میں ذکرِ بدر کو لے کر ہوں بے قرار ـ’’یاد آرہا ہے بدر کا میدان  باربار ‘‘ اِسلام وکُفرکا یہ تصادم تھا اوّلیں تھی جنگ ایسی جس پہ تھا خود امن جاں نثار چھوٹی سی فوج کُفر کے لشکر پہ چھا گئی افواجِ کفرو شرک کا دامن تھا تار تار کمزور فتح پاگیے، ہارے قوی ترین سَو اک طرف تھے، مدّ مقابل تھے اک ہزار ایماں ڈٹا تھا ،کفرکی قوت کے سامنے تھا شرک ساز و ساماں کے ہمراہ ، بے قرار بیٹا تھا اک طرف، تو پدردوسری طرف جاری فلک کی آنکھ سے تھی آنسوئوں کی دھار  حضرت عمرؓ نے اپنے  ہی ماموں کی جان لی اْن کو تو رب کے دیں نے دیا تھا یہ اِختیار مسلم ہوئے تو ابن ِابوبکر ؓنے کہا زد میں تھے ،پھر بھی آپ پہ خالی کیاتھا وار کہنے لگے یہ سن کہ ابو بکر ؓدفعتاً ا

مسلمان اور عصر حاضر کے سماجی علوم

یہ مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے؟ وہ ذہن میں بھی سبقت لے جا کر دکھائیں اور اخلاق میں بھی فوقیت حاصل کر کے دکھائیں اس کے بغیر مسلمان ہونا ایک غیر ذمہ داری کے ساتھ اسلام کو مان لینے کا عمل تو ہو سکتا ہے لیکن اسلام قبول کیے جاتے ہی جو ذمہ داری کا شعور فطری طور پر دے دیتا ہے ہمیں اس کے لیے کسی کاوش اور استدلال کی ضرورت نہیں، اس ذمہ داری سے روگردانی ہے یا جو ہماری نوبت آ چکی ہے کہ ہم ہر چیز کو سمجھنے کے لیے مغرب کے Episteme کو اختیار کرنے کے پابند ہو چکے ہیں، اس صورتحال کو سمجھو کہ آج تمہارے کسی بھی نظریے، دنیا کے بارے میں علم اور تصور کے بننے کا ساراعمل جو ہے وہ مغرب کے مادہ علم سے عمل میں آتا ہے، تشکیل پاتا ہے، تو یہ کتنی بڑی نالائقی ہے میری کتنی بڑی نا اہلی ہے، میری کتنی بڑی غفلت ہے کہ انسانی وجود اور شعور دونوں کو سیراب کرنے والا پانی مغرب کے چشمہ زہراب سے آتا ہے یعنی مغرب کا جو زہرا

روح افزا نایاب

اس  وقت پوری دنیا کی نظریں ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔ کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کے میڈیا میں الیکشن کی خبریں سرخیاں نہ بٹور رہی ہوں۔ یہاں تک کہ ایک امریکی جریدہ ’ٹائم‘ نے اپنے ٹائٹل پیج پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک تصویر شائع کرکے ان کو Divider In-chief قرار دیا ہے۔ یعنی ان کو ہندوستان کو بانٹنے والا سب سے بڑا رہنما بتایا ہے۔ اس نے اپنی کور اسٹوری یعنی حاصلِ جریدہ مضمون میں بہت سے سوالات اٹھائے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ کیا ہندوستان کی جمہوریت مزید پانچ برسوں تک نریندر مودی کو برداشت کر سکے گی۔ لیکن اس وقت ہم ایک دوسری خبر کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ یہ خبر بھی پوری دنیا کے میڈیا میں چھائی ہوئی ہے۔ انگریزی، ہندی اور اردو کے اخبارات اور ویب سائٹوں پر یہ خبر نمایاں انداز میں موجود ہے۔ اس نے الیکشن کی خبروں کے درمیان اپنی جگہ بنائ

مسلمان اور عصر حاضر کے سماجی علوم

یہ تاریخ ادیان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے، یہ تاریخ کفر و ایمان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کفر اتنا زیادہ قابل قبول بنا ہو، کفر اتنا زیادہ مدلل بنا ہو، کفر کو اتنا زیادہ کلینکل تیقن حاصل ہو گیا ہو، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ پرسوں ایک جگہ بات ہو رہی تھی تو میں نے ایک تجویز عرض کی، جس پر مجھے فی الحال یقین ہے کہ یہ صحیح تجویز ہے، تاوقت یہ کہ اس کی تردید نہ ہو جائے، اصلاح نہ ہو جائے کہ مغرب کو ہر اعتبار سے، زندگی کی ہر سطح پر ذہن کے ہر پہلو سے خود پر غیرموثر کیے بغیر ہم اپنے ایمان کو شعور کا منبع اور مرجع نہیں بنا سکتے۔مطلب مغرب سے لڑنا ہو یا مغرب کے جال میں پھنسنا ہو، تو براہ راست ذہنی تصادم کے بغیر بالکل بے نیازی کی حالت میں چیزوں کو نئے سرے سے define کرو، جس میں definer تمہارا ایمانی شعور ہو۔علم کی ایک اور تعریف ہے‘چیزوں کی تعریف کے ’’ملکہ حاصل کر لینا‘‘۔علم کسے کہتے

قومی وحدت

 ہندوستان  میں صدیوں سے ہندو مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ معاشرے میں آپسی بھائی چارا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھ کے دنیا کو مذہبی بھائی چارے کی مثال پیش کرتے آ رہے ہیں۔ یہ اسی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا نتیجہ تھا کہ 1947 میں بھارت تمام لوگوں کی محنت اور قربانیوں سے انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا اور ایک آزاد اور جمہوری ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر اپنی جگہ بنا سکالیکن انگریزوں نے جاتے جاتے بھی ہندوستانیوں کو مذہب کے نام پر بانٹ ڈالا اور ان کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کر دی اس کے پیش نظر 1947 میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں لاکھوں کی تعداد لوگو مارے گئے اور جو بچے یا تو وہ پاکستان کوچ کر گئے یا ہندوستان آئے ۔ یہ سلسلہ ہندستان اور پاکستان دو ملکوںکے وجود میں آنے کے بعد تھم گیا اور حالات پہلے کی طرح معمول پر آ گئے۔  بہر صورت ہندو مذہب میں گائے کو

تھارے جیسا نہ کوئی!

یہ  لگ بھگ چالیس برس اُدھر کی بات ہے ۔میرے خالہ زاد بھائی کی شادی کے موقع پر اس کی ایک سابقہ رفیق کار پروفیسر آر تی رینہ دُلہن دیکھنے اُن کے گھر آئی ،جو اُنہی دنوں انگلستان سے چھٹیوں پر آئی ہوئی تھیں۔باتوں باتوں میں ہم نے اُن سے برطانیہ میں زندگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں ۔ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ ایک دن اُن کے ہاں ڈبل روٹی کے اندر سے کاغذ یا لکڑی کی ایک بہت چھوٹی سی کرچی نکلی ۔اُس بات کو خلاف توقع سمجھ کر انہوں نے ریپر پر لکھے ایڈریس پر اس کی اطلاع روٹی بنانے والے ادارے کو کردی۔تھوڑی ہی دیر بعد ادارے کے تین معزز اشخاص اُن کے گھر پر آئے ،اپنے ہیٹ عجز وانکساری کے ساتھ اُٹھا اٹھاکر معافیاں مانگنے لگے ۔اُنہوں نے کہا اگر یہ معاملہ سرکار کی نوٹس میں آتا ہے تو کمپنی یا بیکری کا بند ہونا تو حتمی ہے جس کا انہیں کوئی دُکھ نہیں ہوگا کیونکہ وہ کوئی دوسر

رمضان اور کام چوری!

ماہِ صیام کے فیوض و برکات سے ماشاء اللہ سبھی واقف ہیں۔کُتِبَ علیکم الصیام کی آیت تو اب اس مہینے کا اجتماعی بیانیہ ہے۔ہر نیک عمل پر ستر گنا جزا کی بات بھی بچے بچے کا وِردِ زبان ہے۔ فرائض اور سنن کی ادائیگی میں روایتی جوش و خروش اس ماہِ مبارک کا خاصا ہوتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ ، زکواۃ اور مواخات کے جذبات کا مظاہرہ بھی بھر پور ہوتا ہے۔ قیام اللیل تو ہمارے یہاں ’’آٹھ بیس کی جنگ‘‘ لے کر آتا ہے، لیکن بہر حال ایسے ایمان والے بھی ہیں جو ان بابرکت راتوں میں روحانی تزکیہ کا موقعہ نہیں چھوڑتے۔ اُن ہی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قیامت کے رو ز ان کے ماتھے اللہ کے نور سے چمک رہے ہونگے لیکن میرا ایک ذاتی مشاہدہ بھی ہے اور مجھے اعتماد ہے کہ بیشتر قارئین اتفاق کریں گے۔ ماہ رمضان کے دوران ہمارے یہاں کام چوری کا گراف بھی بڑھ جاتا ہے۔ گیراج کا میکنک ہویا ویلڈنگ والا ، نجار و گلکا