تازہ ترین

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

اسرائیل  کے حالیہ الیکشن میں بن یامین نیتن یاہو کی جیت کے بعد فلسطین کے مظلوم عوام پہ مظالم بڑھنے کا امکان ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں پہ گرفت وسیع تر اور سخت تر ہونے کے امکانات بھی ہیں۔ الیکشن میں جیت کے باوجود نیتن یاہو کی جیت کو قطعی نہیںکہا جا سکتاگر چہ اُن کی پارٹی جسے لیکویڑ (Likud ) کہا جاتا ہے اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کے اُبھری ہے ۔ اسرائیلی قانون سازیہ میں 120 ممبر ہوتے ہیں اور حکومت سازی کیلئے کم از کم 61ممبراں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ نیتن یاہوکی حزب کے ممبران کی تعداد 36 ہے اور الیکشن میں اس پارٹی کو صرف و صرف 26.45 فیصدی ووٹ ملے ہیں ۔ قلیل حمایت کے باوجود لیکویڑ پارٹی کا پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت کے طور پہ اُبھر کے آنااِس حقیقت کا اشارہ ہے کہ اسرائیلی رائے دہندگاں میں گہرے شگاف پائے جاتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کیلئے حزب لیکویڑ کو 61ممبران ک

فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید

 فکر  اٹھ کہ ا ب بزم جہاں کا اورہی انداز ہے: اقبال بندوں کو بندوں سے جوڑنے کی تلقین کرتے ہیں پھر بندوں کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے پرز ور دیتے ہیں۔ وہ نا صرف سیاسی غلامی ،مغربی فکر و تہذیب کی غلامی، رنگ ونسل کی غلامی، وطن کی غلامی، باطل افکار ونظریات کی غلامی اور تقلید محض کی غلامی سے بلکہ اپنے جیسے انسانوں کی بھی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی پر بہت تاکید کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس بات پر یقین محکم تھا کہ غلامی ہی ایک ایسی لعنت ہے جس میں قوموں کا ضمیر بدل جاتا ہے اور ضمیر فروشی کا کار بد انجام دے کر کوئی بھی قوم یا ملت تخلیقی صلاحیتوں اوراجتہادی بصیرت اورزمانہ شناسی، ستاروں پر کمند ڈالنے اور مستقبل کی تعمیر کرنے سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ اس لئے اقبال ملت اسلامیہ کوجملہ غلامیو ں سے چھٹکارا حاصل کرنے پر بار بار ابھارتے ہیں اور صرف اور صرف خدائے لاشریک کی غلامی اور فرمابرداری

شاعر مشرق

 اقبال ؔؔ بنیادی طورپرایک نظریے کے شاعر ہیں۔وہ صرف اردو حلقہ کے شاعر نہیں بلکہ مشرق ومغرب کا علمی ورثہ ہیں۔اقبال کی شاعری علمی منظرنامے کا ضروری جز بن چکے ہیں۔اردو غزل گوئی میں سوداؔ کی جامد لفاظی،غالبؔ کی زندہ ومتحرک شاعری کے آگے دم توڈ رہی تھی۔حالیؔمقدمہ لکھ کر شعروشاعری کا نیا رجحان پیش کر رہے تھے۔اقبالؔاسی دور کی پیداوارہیں   ؎ موتی سمجھ کے چن لیے شانِ کریمی نے قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے اقبال اقبالؔ نے جس طرح زندگی اورکائنات کوسمجھااسی طرح نہایت ہی پر خلوص اندازمیںپیش کیاہے۔انہوںنے الفاظ کی مددسے اپنی حسّیات ، تخیلات، ولولوں، امنگوں اوراپنے تجربات سے زندگی کوتعمیری صورت میںپیش کیاہے۔اپنے فن کے ذریعے زندگی کوفراوانی اورفروغ بخشاہے۔ان کی شاعری ایک لطیف نغمہ ہے۔ان کی شاعری کے خدوخال طرزحیات پرمبنی ہے۔ان کی شاعری زندگی کے اعلی مقاصدکے حصول کابہتری

اقبال

’’ فلسفۂ خودی‘‘ اقبالؔ کی فکری کائنات کا مرکز و محور ہے۔ اگر اس مرکز کو اپنی جگہ سے ہٹایا جائے تو اس فکری کائنات میں محشر بپا ہوگا۔ اس لحاظ سے اقبال کی شاعری اور فکرو فلسفہ کا جزوی مطالعہ کسی طور بھی اقبالؔ شناسی میں معاون ثابت نہیں ہو گا۔  یہا ںایک مر بوط و منضبط فکری نظام کار فر ما ہے جو مبسوط اور منّظم مطالعے کا متّقاضی ہے۔ قاری، محقق یا نقاد کسی بھی موضوع کے تحت فکرِ اقبال پر اظہار خیال کرنا چاہے تو اُس کے لئے لازمی ہے کہ وہ علامہ کے فکری التزام اور فنی دروبست سے کماحقہ، آشنا ہو۔ علی الخصوص فلسفہ خودی سے اعراض اس سلسلے میں نیم نگا ہی پر منتج ہوگا۔  نظریہ خودی کی تشکیل میں تین نظریاتی منابع خاص طور سے اقبال ؔکے زیرِنظررہے ہیں اور وہ نظریاتی منابع یہ ہیں:  (۱)کلامِ مجید کا نظریۂ نیابت (۲)تصّوف کا وجود ی نظریہ (۳)نطشے کا نظریۂ فوق