تازہ ترین

فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید

فکر  اسلامی کا منبع ومصدر قرآن و سنت ہیں ان ہی کی روشنی میں نت نئے مسائل، عصری فلسفہ اور سائنسی رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے فکر اسلامی کی تشکیل نو کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس مسئلے کوجن مفکرین نے شدت کے ساتھ محسوس کرکے نمایاں رول ادا کیا ان میںعلامہ اقبال ؒکا  نام نمایاں و قابل ذکر ہے ۔علامہ اقبالؒ نے عصری مسائل ،جدید فلسفہ حیات اور سائنسی رجحانات کو اچھی طرح سے بھانپ کر عصری مسائل اور نظریات کو مدلل اور معقول جوابات بہم پہنچائے ۔مغربی تہذیب اورعلوم و فلسفہ سے پیدا شدہ تشکیک اور مسائل ، الحادی نظریات ، تعلیم جدید کا روحانی اقدار سے خالی ہونا، امت کے نوجوانوں کا مغربی تہذیب کا دلدادہ ہونا اور اسلام کے علمی ورثہ یعنی قرآن و سنت سے منھ موڑنا ، مذہب کو فرسودہ اور قصئہ پارینہ سمجھنا ، مسلمانوں میں اجتہادی بصیرت کا مفقود ہونا ،اسلام کے حرکی تصور سے روگردانی کرنا اندھی تقلید اور

! اطاعتِ خدا وندی

اللہ   تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کہلانے والے انسان کو اپنی اطاعت کاملہ کا حکم فرمایا ہے تاکہ ابن آدم اپنے مقصد تخلیق پورا کر سکے ، ورنہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادت کا محتاج ہی نہیں ۔ یہی چیز سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر اطاعت ،عبادت ،اتباع، اخلاص و یکسوئی کے الفاظ قدسیہ سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔االلہ کی اطاعت کے بغیر انسان خود کو کتنا بھی بلند سمجھے،وہ حقیقت ِزندگی اور لذت ِ حیات سے ناآشنا ہی رہے گا۔اس بارے میں ہمارے سامنے متصادم مثالیں ہیں کہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ اور موسیٰ کلیم اللہ ؑ نے اللہ کی بندگی کاحق بتمام وکمال پوار کیا تو خالق کائنات نے ا نہیں بر گزیدہ کیا اور جب ا براہیمی و موسوی دعوتِ اطاعت کو نمرودوفرعون نے عبث سمجھ کر اپنے شیطانی نفس کی اطاعت وپیروی کی تویہ خدا کے یہ باغی دنیامیں ذلیل ورُسوا ہو کر رہے اورآخرت میں خسارہ ہی خسارہ پائیں