تازہ ترین

رسول ِ رحمتؐ کا ضابطہ قانون

حضرت موسیٰ علیہ السلام جو دنیا کے بڑے قانون سازوں میں سے تھے، آسمانی احکام لے کر آئے ،جن کی رو سے قتل و غارت گری ،چوری اور بدکاری کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ان کے بعد دوسرے پیغمبر ؑ اعلیٰ خیالات کی تبلیغ لے کر آئے اور سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔چونکہ اللہ کے پیغامات انسانوں تک پہنچانے کے لئے آپؐ آخری نبی تھے کیونکہ آپ ؐ کے پیغامات اور قوانین کو ہر زمانے اور ہر مقام کے لئے مفید اور کارآمد بنانا تھا ۔اس لئے آپؐ کے دائرہ عمل کو بھی ان کے پیش روئوں کے مقابلے میں وسیع تر رکھنا تھا ،لہٰذا وہ زماںو مکاںکی بندشوں سے قطع نظر انسانی زندگی کے تقریباً سبھی پہلوئوں پر اثر انداز ہے اور آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ضابطۂ قانون ایک مکمل دستاویز بن گیا ہے۔آپؐ نے وحی الٰہی کے زیر ہدایت جن اصول و فروغ کو بیان فرمایا ،اُن کی حیثیت مستقل اور دائمی ہے۔ چنانچہ دین اسلام

کوروناوائرس:خوف کا دوسرانام

ٓٓٓٓٓٓٓآدمی ایک حقیر ذرّہ ہے دشت میں کائنات کی ہُو کا جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے گلی سڑی ہوئی مٹی سے اپنی روح ڈال کربنایا،جس کو اس نے اپنی نیابت سے بھی نوازا ، اس نے دنیاوی تاریخ میںجہاں کچھ اچھے کام کیے وہیں اس نے کچھ ایسے کام بھی کیے ہیںجنہیں دیکھ کر شیطان بھی شرما جائے ۔غور کیجیے !پچھلے 300سالوں سے دنیا کے ممالک پر بطور ِ قوت حکمرانی کی۔ سائنس اور دنیا وی علم میںاِتنی زیادہ ترقی کی کہ وہ اب دوسرے سیّاروں میں بستیاں بنانے کی سوچ رہا ہے۔ اِن شیطانی قوتوں نے ایسے جنگی سازو سامان بنائے کہ لاکھوں انسانوں کی جان چند منٹوں میں لی جاسکتی ہے۔ انھوں نے جاپان کے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر پوری دنیا کو اس سے ڈرا رکھا ہے۔ایسی ایسی ایجادات کی ہیں جنھیں دیکھ کر عقل حیران اور پریشان ہو جاتی ہے۔ 1915 میں برطانیہ کے ایک فوجی جنرل نے کہا تھاکے ہم آج اتنے طاقتور ہیں کہ

کیا کائنات اپنے آپ چل رہی ہے؟

حضرتِ انسان اللہ کی اس زمین پر ایک نادر منفرد اور عجیب وغریب مخلوق ہے،اس کے حرکات و سکنات ساری مخلوقات جمادات،نباتات اور حیوانات سب سے مختلف ہیں۔مگر آج کا پڑھا لکھا عجب انسان خود اپنے آپ کو جانوروں میں شامل رکھنا پسند کرتا ہے بلکہ خود کوجانوروں کے ایک کلاس(خاندان)ممالیہ کا حصّہ بناکر مسرور و مطمئن ہے۔ہے ناعجب انسان ! یہ اپنے آپ کو آسمان سے زمین گرا کر اپنی ذلّت محسوس تک نہیں کرتا۔ وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا،کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا۔کیا یہ حیرت انگیز عجوبہ نہیں تو کیا ہے؟بَھلا جنت میں پیدا ہونے والے اور زمین پرپیدا ہونے والے برابر ہوسکتے ہیں؟ اللہ ربُّ الحکیم نے سب کو حکم دیا کہ انسان کو سجدہ کرو،کہا کہ میں اس کو اپنانائب بنا کر زمین پر بھیج رہا ہوں! مگر یہ نرا نائب نہیںتھا،مقصدصرف سجدہ کر وانایااشرف قرار دینا نہیں بلکہ اِس نے عملاً انسان کو اس کائنات میں جو چ