تازہ ترین

عہدہ و منصب امانت ہے

انسان جب کبھی کوئی پیشہ اختیار کرتاہے تو اس کی بدیہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ترقی حاصل کرے،جس کے لئے سخت محنت ، لگن ،ایمانداری اور تقویٰ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ترقی حاصل کرنے کے لئے اکثر لوگ ان جائز اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر غلط راستوں کا استعمال کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے وہ بڑی تیزی کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیلے جارہے ہیں اور وہ لوگ اس بری خبر سے ناواقف ہیں۔ان کی صفات میں سے یہ صفت منافقت کی دلیل ہے ۔غلط راہوں سے ترقیاںحاصل کرنے والے لوگ ایک تو دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیںاور دوسرا ناجائز طور عہدے پر فائز ہوجاتے ہیںاور اس طرح نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے دین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ظاہر ہے جس کسی نے بھی ناجائز طریقے پر عہد پایا ہو وہ کبھی جائز کام کرہی نہیں سکتا بلکہ ایسے لوگ منافقت کو اختیار کرتے ہیں جو اپنے پیشہ میں مخلص نہیں ہوتے اور نہ ہی اﷲسے ڈرتے ہیں۔ایسے لو

علاماتِ قیامت

اللہ تعالیٰ کی ذات حاضر وغائب ،ظاہر وپوشیدہ اور چھوٹی وبڑی ہر ایک چیز کو جاننے والی ہے ،وہ ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں ،کوئی چیز ان کی نگاہ سے باہر نہیں ہے ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے : ترجمہ(الرعد:۹)’’وہ غائب وحاضر تمام باتوں کا جاننے والا ہے ،اس کی ذات بہت بڑی ہے اس کی شان بہت اونچی ہے‘‘۔ قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے :ترجمہ(آل عمران:۲۹)’’ (اے رسولؐ) لوگوں کو بتادو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو ،اللہ اسے جان لے گا ،اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ،وہ سب جانتا ہے ،اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔ انسانوں ،جناتوں اور دیگر مخلواقات کے پاس جو کچھ علم ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے ،خالق کے مقابلہ میں تمام مخلوقات کا علم سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ کے برابر ہے اور یہ بھی بطور مثال ہ

محبت و دوستی !!

اسلام اللہ رب العزت کا نازل کردہ و پاکیزہ مذہب ہے جس میں انسان کو انسان نوازی کی تعلیم دی گئی ہے۔ معروف حقوق کی ترغیب اور منکر حدود کی ترھیب کی گئی ہے ۔سیاسی، سماجی، معاشرتی طور پر مساوات  اور یگانگت کا درس دیا گیا ہے۔ آپس کے تعلقات ودوستانہ وابستگی کاایک میزان تیار کیا گیا ہے۔ یقینا ایک ایسے تعلق و دوستی اور محبت کو روا رکھا گیا،جس کے نبھاؤ میں برابری سرابری ہو، خوشی و غمی میں یکسانیت  کاسلوک آئینے کی طرح صاف و شفاف ہو ، صلہ رحمی، ہمدردی کا عنصر غالب ہو۔ قول و عمل میںیک رنگی ہو،دورنگی نہ ہو ،گنج گراں ہو، سنگ گراں نہ ہو، محبت آداب محبت ، محبت کی راہ بتلانے والی ہو، حیا وشرم کے زیور سے آراستہ ہو ، ذہن کے دریچوں میں فحاشی وبے حیائی کا فتور نہ ہو ، بے پردگی ،بدنظری کے چور دروازے کھلے ہوئے نہ ہوں، اظہارمحبت کا کوئی آن ہو مگر ضمیر و تخیلات میں بے ہودگی اور نفس کی پرا گندگی،

مردِ مومن کا تصور

’’مرد مومن‘‘ علامہ اقبال کا ایک ایسا وسیع وعریض تصور ہے کہ جس کا احاطہ کرنا مجھ جیسے حقیر انسان کے لئے تو کیا بلکہ اُن کے لئے بھی دشوار ثابت ہوا ہے جن کا نام علم وادب کے آسمان پر سورج کی مانند تاباں ودرخشاں ہے۔ اقبال کے دیگر تصورات کی طرح اُن کا یہ تصور بھی صدفیصد قرآنی ہے اگر چہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال نے ’’ مردِ مومن‘‘ کا تصور نٹشے ؔ کے تصور ’’فوق البشر‘‘ سے اخذ کیا ہے جو سراسر ایک بے بنیاد خیال ہے۔ کیونکہ نٹشے ؔکے فوق البشر اور اقبال کے مردِ مومن کے درمیان ایک بہت بڑا خلاپایا جاتا ہے جس کو کسی بھی طرح پُر نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر غلام قادر لونؔ  کے بقول: ’’مردِ مومن جلال وجمال کا پیکر جمیل ہے وہ تمام دنیا سے نبرد آزما ہو کر دنیا میں زندگی کا وہ دستور نافذ کرنا چاہتا ہے جو خدان