تازہ ترین

زندگی کے دو راستے

عام طور پر لوگ برائی کا راستہ جلد اپنالیتے ہیں اور زندگی بھر مشکلات اور دشواریوں میں مبتلا رہتے ہیں لیکن جو لوگ نیکی کا راستہ اپناتے ہیں، بظاہر مشکلات اور دشواریاں نظر آتی ہیں مگر نیکی کا راستہ انسانی فطرت کے مطابق ہوتا ہے، اس لئے آسان ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں جگہ بہ جگہ اللہ کی سنت کا یہ ذکر ملتا ہے کہ جو شخص نیکی کی راہ اختیار کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کیلئے راہ کی مشکلات آسان کر دیتا ہے۔ سورہ اللیل میں اللہ بتایا ہے کہ جس طرح رات دن میں فرق ہے، نر اور مادہ میں فرق ہے۔ اسی طرح نیکی اور برائی میں فرق ہے۔ اس کے انجام اور نتائج میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ اللہ سورہ لیل میں فرماتا ہے:  ’’قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو، اور اس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا، در حقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں، تو جس نے (راہ خدا میں) مال د

صبر کی توفیق وسیع تر عطیہ

صبر انسان میں ایک ایسی داخلی قدرت کا نام ہے جو ایمانی قوت سے پیدا ہوتی ہے، جس کے ذریعہ اپنی خواہشات پر قابو پانے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر قناعت کرنے کا ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کسی تکلیف یا صدمہ پر روئے بھی نہیں۔ کسی تکلیف یا صدمہ پر رنج وافسوس کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے، اسی لئے شریعت اسلامیہ نے کسی تکلیف یا مصیبت کے وقت رونے پر کوئی پابندی نہیں لگائی کیونکہ جو رونا بے اختیار آجائے وہ بے صبری میں داخل نہیں۔ البتہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ کسی تکلیف یا صدمہ یا حادثہ پر اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہ کیا جائے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر رضامندی کا اظہار کرکے اس کو تسلیم کیا جائے۔ ویسے تو ہر شخص اپنی زندگی میں بے شمار مرتبہ صبر کرتا ہے مگر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی صورت میں ہی صبر کرنا عبادت بنے گا، ورنہ مجبوری۔ جلیل القدر نبی حضرت ایوب علیہ الس