کیوں بھاگ جائیں پاکستان ؟

ڈاکٹر  کرن سنگھ اسی ریاست جموں کشمیر کے سٹیٹ سبجیکٹ ہیں۔ جموں و کشمیر کے پہلے اور آخری صدر ریاست رہے ہیں اور پہلے گورنر کے طور بھی کام کرچکے ہیں۔ جو لوگ کشمیر مسئلے کو سمجھنا چاہیں، ڈاکٹر صاحب سے رجوع کریں اور نہ صرف اپنی ذات کے ساتھ انصاف کریں بلکہ اس ریاست کے ایک کروڑعوام کے ساتھ ساتھ ملک کے سوا ارب لوگوں کو بھی سلیقے کے ساتھ زندہ رہنے کا موقع فراہم کریں۔ آگے اسی مضمون کے درمیانی سطور کے آس پاس کہیں ڈاکٹر کرن سنگھ کے سیاسی نظرئیے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ریاست سے مرکزی سیاست کے ڈپارٹمنٹ میں اُن کی منتقلی کے بعدیہاں مرکزی کانگریس کے اپنے ہی قوانین کے تحت گردش ایام کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔پھر جانے مانے ماہر اقتصادیات شری ایل کے جہا کو جب گورنر کے عہدے پر فائز کیا گیا تو اپنے سیاسی حقوق کیلئے برسر پیکار ریاستی عوام کو کچھ حد تک ذہنی سکون نصیب ہوا تھا۔یہی وہ دور تھا جب جموں کشمیر کی ت

گمشدہ ستارہ

ڈاکٹر قاضی معرا ج ا لدین منشی1940ء میں ڈبتل شہر خاص سرینگر کے قاضی جلال الدین کے ہاں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم تاریخی اسلامیہ اسکول راجویری کدل میں پائی جہا ں اُن کے والد مدرس تھے۔ اس سے پہلے اُن کے دادا بھی وہاں مدرس رہ چکے تھے۔ یہ دونوں حضرات انجمن نصرت الاسلام میں اعزازی منشی تھے، اس لئے منشی  لفظ ان کے خاندان کے ساتھ جڑ گیا۔ اسلامیہ ہائی اسکول سے فارغ ہوکر ڈاکٹر صاحب ایس پی کالج گئے جہاں انہوں نے طلبہ تحریک میں حصہ لیا اور گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اسی دوران اُن کا تعارف فضل الحق قریشی ، عبدالمجید پٹھان اور نذیر احمد وانی و غیرہ سے ہوا۔ یہ سب لوگ ہمیشہ تحریک کی بات کرتے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایم آر سی پی لندن سے کیا، وہاں بھی وہ تحریک سے دور نہ رہ پائے۔ وہ کے ایل او کے ممبر بنے اور مسلٔہ کشمیر کے حل کے لئے کوشاں رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مرحوم مقبول بٹ کے

ڈاکٹر ذاکر حسین

ڈاکٹر   ذاکر حسین صاحب کے آبا و اجدادآفریدی پٹھان تھے ۔ان کے دادا غلام حسین خان عرف جمن خاں کے دو لڑکے عطاء حسین خان اور فدا حسین خاں تھے۔ عطا حسین خان کو کوئی اولاد نہیں تھی اور فدا حسین کی پیدائش ۱۸۶۸ ء میں ہوئی ۔وہ بیس سال کی عمر میں تجارت کے شوق میں حیدرآباد چلے گئے اور وہاں مرادآبادی برتنوں کا کام شروع کر دیالیکن حصول تعلیم کا شوق پھردل میں پیدا ہواتو پڑھنے لکھنے میں مصروف ہوگئے اور قانون کی کا امتحان پاس کرکے اورنگ آباد میں وکالت شروع کردی ۔’’آئین ِدکن‘‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا ،جب وکالت اور رسالہ خوب چلے اور فدا حسین کی شہرت دکن بھر میں ہوگئی تو حیدرآباد آگئے اور بیگم بازار کے حلقے میں جہاں تجارت کا آغاز کیا تھا، وہیں دفتر بنا لیا۔فدا حسین کی شادی قائم گنج کے کلال خیل کے بنی داد کی لڑکی نازنین بیگم سے ہوئی ۔اس ملنسارجوڑی گھر سات لڑ

حکومت کوئی پرائیویٹ کمپنی تو نہیں!

 بات زیادہ پرانی نہیںہے۔ سنگرمال شاپنگ کمپلیکس کا افتتاح کرنا تھا۔ دو وزراء میں ٹھن گئی اور افتتاح میں مہینوں کی تاخیر ہوئی۔ حیرت ہوتی ہے جب حکومت کے بعض منصوبوں کی افادیت دیکھتے ہیں۔ جمہوریت میں فلاحی ریاست کا نظریہ دراصل یہ باور کرتا ہے کہ حکومت اگر کوئی تجارتی سرگرمی بھی کرے تو اُس میں فلاح عام ممکن ہوخاص طور پر سماج کے پسماندہ طبقے کو اُس منصوبے سے کوئی استفادہ بھی ہو۔مثال کے طور پر حکومت کا کواپریٹیو محکمہ کوئی دکان لگاتا ہے تو وہاں سستی اشیاء ملتی ہیں تاکہ غریب عوام کو راحت ہو۔ سنگرمال شاپنگ کمپلیکس تعمیر کرکے حکومت نے کام تو اچھا کیا تھا، لیکن ایک نجی بلڈر کی طرح اس کمپلیکس کی دُکانیں سرمایہ داروں اور دلالوں کوکروڑوں روپے کے عوض بیچ دی گئیں۔ جموں کشمیر غالباً واحد ریاست ہے جہاں سرکار عوامی خزانہ سے سرمایہ انویسٹ کرتی ہے اور بعد میں پرائیویٹ بلڈر کی طرح دُکانوں اور اثاثوں کی

آرام طلب ’’مبصرین ‘‘سے دو باتیں

آرام دہ کرسیوں پر بیٹھنے والے ہمارے دانشوروں ،صحافیوں ،تجزیہ نگاروں اور سیاستدانوں کو ہی اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ دو غیر متوازن بندوقوں کی تصادم آرائی میں کشمیری قوم کو تباہ کاریوں ،ہلاکتوں اور ظلم و ستم کے مہیب دور سے گزرنا پڑتا ہے  ۔ روز اپنے چہیتوں کے جنازے اٹھانے پڑتے ہیں ،گھروں اور املاک کو ملبوں کے ڈھیر میں تبدیل ہونے کا اعصاب شکن منظر دیکھنا پڑتا ہے ، اپنے پیاروں سے اظہار عقیدت کے ’’جرم ‘‘ میں بینائی سے محرومی ، ٹارچر ،جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیںاور پھر جاں بحق ہوئے عسکریت پسندوں کے لواحقین کو اس پورے عرصہ میں انتقام گیری اور مظالم کے ایک لرزہ خیز سلسلہ کو بھی جھیلنا پڑتا ہے ۔ بندوق اٹھانے والے کشمیری اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔وہ اس راستہ کا انتخاب کرنے سے پہلے سو بار سوچ چکے ہیں کہ وہ موت کے تعاقب میں موت کو گلے لگانے جارہے ہیں اور ان کی

خواجہ الطاف حسین حالی ؔ

 خواجہ   الطاف حسین حالیؔ(۱۸۳۷۔۱۹۱۴ء)ؔ اورسرسیداحمد خانؔ انیسویںصدی کی وہ بلندترین ہستیاں ہیںجن میںگوناگوںصفات کمال حُسن وخوبی سے جمع ہوگئی تھیں۔ان دونوں نے عمر بھر ملک قوم ،علم وادب ،دین  و مذہب کی انمول خدمات انجام دیں۔سرسیدؔ سے ملاقات مولاناحالیؔ کی زندگی کانہایت اہم واقعہ ہے۔ یہ ملاقات۱۸۶۸ء؁ میںسائنٹفک سوسائٹی کے ایک جلسے میں شیفتہؔ نے کرائی تھی اوردونوں ایک دوسرے کے گرویدہ ہوگئے۔ مولانا حالیؔ علی گڑھ تحریک کے پہلے سے ہی حامی تھے لیکن ۱۸۸۰ء میںجب علی گڑھ آئے تویقین ہوگیاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے اقبال کاڈوبا ہواسورج پھرسے طلوع ہواتواسی سرزمین سے ہوگا۔ حالیؔ کی ایک نظم کے چند شعر ملاحظہ ہوں   ؎ یہ دارالعلوم سدّ راہِ آسیب ِنہاں ہوگا اسی دارالشفا میںبخت ِپیر اپناجواں ہوگا نہیںصورت اُبھرنے کی ہماری کوئی پستی سے  اگرہوگا اسی گھر سے بلن

تازہ ترین