اُردو کی خستہ حالی!

 ملائم  سنگھ یادو روایت پسندی کا علمبردار رہے ہیں۔اپنے معاصرین میں کہنہ مشق اور چالاک سیاست دان مانے جاتے ہیں ۔ آپ کویہ خصوصی امتیاز حا صل رہا ہے کہ آپ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اُترپردیش کے تین بار وزیر اعلیٰ رہے ہیںاور چوتھی باروزیر اعلیٰ کی کرسی انہوں نے اپنے بیٹے کو منتقل کردی۔ملائم سنگھ یاد و اب اپنے کسی خاص مفاد کے حصول کو مدنظر رکھے بغیر شاذو نادر ہی بیان بازی کر تے ہیںیا کوئی سیاسی فیصلہ لیتے ہیں۔ البتہ ہندی زبان کے ساتھ ازخود واررفتگی اور انگریزی زبان کے تئیں بغض و عناد کا وقتاً فو قتاً اظہار کرناملائم جی کا محبوب مشغلہ رہا ہے ۔موصوف کا یہ رویہ ا کثر جنوبی ہند کی ریاستوں اور ہاں کے عوام کے ساتھ دست و گریبان ہونے کے مترادف ہے۔ہمیں اس حقیقت کو نہیں بھو لنا چاہئے کہ ما ضی ٔ قریب میں ہی ہندی زبان کوتامل لو گوں پر مسلط کرنے کے اقدام سے تامل عوام بدک اُٹھے تھے اور بھارت س

بی بی سی کا وقار چلا گیا

’’ الفاظ  کی تخلیق و ترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے ، لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب یہ قدرتِ کلام جواب دے جاتی ہے ۔۔ ۔ آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے‘‘ ۔ یہ ہیں فیض احمد فیض ؔکی اُس تاریخی تقریر کے ابتدائی جملے جو انہوں نے ماسکو میں لینن امن انعام کی تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی ۔ میں فیض احمد فیض ہوں نہ اُن جیسی اظہار کی دسترس کا مالک ۔پر کیا کروں کہ بی بی سی اردو کے وقار احمد کی رحلت مجھے ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر گئی جہاں رہ رہ کر ایک ہی خیال آتا ہے کہ ’’وہی ہر روز کے مضموں میں لکنت خالی جگہوں کی‘‘ ۔ بدھ کی شام اس سانحے پر میرے تاثرات نشر کرنے کے لیے شفیع نقی جامعی نے لندن سے کال کی تو میں بخار میں مبتلا تھا ، سو چند لمحوں کے لیے میری آزمائش ٹل گئی ، لیکن رات بھیگنے کی دیر تھی کہ  &nb

کشمیر ارضیاتی سیاست کا اکھاڑہ

ویتنامجنگ کے بعد امریکی ماہرین نے پیشن گوئی کی تھی کہ اب کے بعد دنیا میں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف چھوٹی اور بالواسطہ جنگیں لڑیں گی، کیونکہ براہ راست جنگ سے علاقائی اور عسکری اہداف حاصل نہیں ہوتے اورجو بدنامی ہوتی ہے وہ الگ۔ ایسا ہوا بھی، امریکہ اور رُوس نے ایک دوسرے کے خلاف افغانستان میں دس سالہ جنگ سعودی عرب اور پاکستان کی حمایت سے مجاہدین کے ذریعہ لڑی تھی۔ لیکن 2001میں ٹوِن ٹاورز پر حملوں کے بعدپھر ایک بار افغان ریگزاروں میںامریکہ نے خود کو پھنسا دیا۔  ویتنام جنگ کے وقت جواحساس پینٹاگون میں غالب تھا وہی گزشتہ برس سے ایک بار پھر امریکی پالیسی سازوںکی نیندیں حرام کررہا ہے۔ اسی پس منظر میں افغانستان امن عمل ترتیب پارہا ہے، اور اس عمل میں پاکستان کی مرکزیت اُبھر کرسامنے آرہی ہے۔ پاکستان کی اسی ضرورت کے پیش نظر فروری کے مہینے میں عالمی اقتصادی اداروں میںپاکستان کے لئے 12ارب

نیوزی لینڈ کا دہشت گرد انہ حملہ

یہ امر قابلِ ستائش ہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں دہشت گردی کے بعد نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا کی مساجد میں نمازوں کے اوقات کے دوران وہاں کے مرد و زن مساجد کا پہرہ دے رہے ہیں۔یہ گویا ایک پیغام ہے کہ ان ممالک میں مسلمانوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور مذہبی بنیاد پر نفرت یا تفرقے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جننڈا آرڈرنی کے ردعمل کو بھی سراہا جا رہا ہے، جو سیاہ لباس اور دوپٹہ پہن کر مسلمان کمیونٹی کے پاس گئیں اور دلی دُکھ و تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے سب سے اہم پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا کہ وہ مسلمانوں کو اپنا سمجھیں اور انہیں تحفظ کا احساس دلائیں۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردی کے اس واقعہ نے مغرب کو بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے ،صرف حکومت ہی نہیں، عوام کی سطح پر ایک بدلا ہوا بیانیہ نظر ا

برطانیہ کا یورپین یونین سے اخراج!

 برطانوی   وزیراعظم ٹریزامے کی جانب سے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کی ڈیل کو پارلیمانی اراکین نے دوسری بار مسترد کر دیا ہے اور اب اس معاہدے کیلئےاپنائے گئے لائحہ عمل پر مزید ابہام پیداہوگیاہے۔ 12جنوری کے بعد ایوان میں اراکین نے منگل کو اس معاہدے کو 242 کے مقابلے میں 391 ووٹ سے مسترد کیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اب اراکین پارلیمان اس بارے میں ووٹ ڈالیں گے کہ کیا برطانیہ کو معاہدے کے بغیر ہی 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جاناچاہیے اوراگراس میں بھی ناکامی ہوئی توپھر سوال یہ ہو گا کہ کیا بریگزیٹ کو التوا میں ڈال دیا جائے۔ بریگزٹ ڈیل پراراکینِ پارلیمان کی ووٹنگ سے پہلے برطانوی وزیرِاعظم ٹریزامے نے کہاکہ وہ اس ڈیل پر’’ لازمی قانونی‘‘ تبدیلیوں کے حصول میں کامیاب رہی ہیں ۔ تاہم یورپی کمیشن کے صدر ژان کلاؤڈ جنکر نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس ڈیل کو ووٹنگ

پارلیمانی ؍ اسمبلی الیکشن بیک وقت نہیں۔۔۔ کیوں؟

 یا خوف سے در گزریں یا جان سے گزر جائیں  مرنا کہ جینا ہے، اک بات ٹھہر جائے گیارہ اپریل سے شروع ہونے والے پارلیمانی الیکشن ۲۰۱۹ء کا شیڈول جاری کیا گیا ہے ۔ انتخابی عمل ۲۳؍ مئی کو نتیجہ سامنے آنے کے دن تک جاری رہے گا، لیکن ’’سیکورٹی وجوہات‘‘ کو لے کر الیکشن کمیشن آف ا نڈیا جموں کشمیر کے عوام کو اسمبلی چنائو کا شیڈول دینے سے فی الحال گر یز اں ہے۔ بالفاظ دیگر یو ں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر کو دیش سے اور بھی زیادہ دور کردیا گیا ہے ۔ اس بارہ میں کوئی کشمیر ی زبان کھولنے والی کی بھول کر ے تو اُسے بی جے پی کے کرم فرما اور بھی گلا پھاڑ پھاڑ کر دیش ورودہی قرار دیں گے ، پھر دیش بھر میں جہاں کہیں کوئی بچا کھچا کشمیری نظر آئے، بے چارے کے ساتھ وہی کچھ ہوسکتا ہے جو حال ہی میں لکھنومیں ایک کم نصیب کشمیری خوانچہ فروش کے ساتھ کسی زعفرانی سینا نے کیا ۔ یہ مار

جمہوریت کس مرض کی دوا؟

وہ  لوگ جو آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت میں عوام کے خوابوں کو تعبیر مل سکتی ہے‘ ان کی زندگی سنور سکتی ہے‘ وہ خوشحال ہو سکتے ہیں‘ انہیں دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریت‘ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے 2014ء  میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں خرچ ہونے والے سرمائے اور سرمایہ فراہم کرنے والے افراد کو ایک نظر دیکھ لینا چاہیے۔یہ امریکی تاریخ کے سب سے مہنگے الیکشن تھے جن پر چار ارب ڈالر لاگت آئی۔ سیاست دانوں کو خریدنے اور ان کے الیکشن پر سرمایہ لگانے کی دوڑ تو  پہلے ہی سے تھی لیکن 2010ء میں امریکی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ کوئی بھی سرمایہ دار کسی بھی سیاسی پارٹی یا امیدوار کے الیکشن میں پیسہ دے سکتا ہے اور وہ اُسے خفیہ بھی رکھ سکتا ہے اور حکومت کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ پارٹیوں کے فنڈز اور اخراجات کے معاملے میں کسی بھی قسم کی کوئی تحقیق کرنے کی

پارلیمانی انتخاب

پارلیمانی  انتخابات کی تاریخوں کااعلان ہوچکا ہے۔پانچ سو ملین ڈالر کے خرچے سے مکمل ہونے والے اس جمہوری عمل کیلئے تمام سیاسی قوتیں جیت کا خواب اور اقتدار کی حسرت لیکر میدان میںاتر چکی ہیں ۔مئی کے آخری ہفتے میں انتخابی عمل ختم ہوچکا ہوگا اور نتائج آنا شروع ہوچکے ہوں گے اور اس بار جونتائج آئیں گے وہ ہندوستان کی تاریخ اور تقدیر کا وہ فیصلہ ہوگا جو نہ صرف اس ملک بلکہ جنوبی ایشیاء کے باشندوں کا مستقبل بھی طے کرے گا ۔ یہ انتخاب اس ہمہ گیر تبدیلی کے نتائج سامنے لائے گا جو گزشتہ انتخاب نے حیرت انگیز طور پر پیداکی تھی جب ہندوستان پر دہائیوں تک حکمرانی کرنے والی کانگریس کے ساتھ ساتھ تمام روایتی سیاسی قوتیں اُس بھارتیہ جنتاپارٹی کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بکھر گئی تھیں جس کی قیادت ہندوستان کے سیاسی اُفق پر ابھر نے والی نئی شخصیت نریندر مودی کے ہاتھوں میں تھی ۔سارے فیصلے اسی کے تھے ۔ ساری طا

عبداللہ اور مفتی خیموں میں مودی سیاست کا بھوت

ہندوستان  بھر میں پارلیمانی انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ بی جے پی نریندر مودی کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان دیکھنے کے لئے ہر طرح کے دائوپیچ آزمارہی ہے تو دوسری جانب حزب مخالف، بشمول کانگریس بھی لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر آئی ہے۔ نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات میں عوام سے بڑے ہی خوبصورت اور دل لبھانے والے وعدے کئے تھے۔ لوگ بھی یوپی اے سرکار کی لگاتار دس سالہ کار کردگی سے اُوب چکے تھے ۔ سکینڈلوں پر سکینڈل طشت از بام ہورہے تھے۔ ایسے میں نریندر مودی کی شکل میں ہندوستانی عوام کو ایک نئی امید نظر آئی۔ نریندر مودی نے میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال اس حکمت اور دانشمندی سے کیا کہ ملک بھر میں فقط اُن کے گجرات ماڈل کی باتیں ہونے لگیں۔ کسی نے بھی یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ آخر کار یہ گجرات ماڈل ہے کیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے  مودی کی Larger than life تصویر ایسی اُب

سرسیدِکشمیر

 ہزاروں سال نرگس اپنی بے نور ی پے روتی ہے  بڑی مشکل سے پیدا ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ریاست کے مقتدر عالم دین ، بے نظیر مبلغ، ماہر تعلیم ، ادیب اریب، مدرس بے مثال جناب حضرت سرسید کشمیر علامہ رسول شاہ صاحبؒ(بانی انجمن نصرۃ الاسلام کشمیر) اُس خاندانِ عالی شان کے چشم و چراغ تھے جس کے اکابرین کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ مولانا موصوف کی ایک سو تیرہویں برسی کے موقع پر یہ مضمون آپ کی ناقابل فراموش خدمات کو بطور خراجِ عقیدت ’’ برگ سبز است تحفۂ درویش‘‘ کے مصداق ہے۔ مضمون میں غلو ئے عقیدت کا شائبہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ مضمون اکابرین و مشاہیر قوم و ملت کے ساتھ ساتھ برگزیدہ غیر مسلم شخصیات کی زبان و قلم سے داستانِ مطیب رفتہ کا آئینہ دار ہے    ؎ عمر ہا در کعبہ بُت خانہ مے نالہ حیات تاز بزم عشق یک دانائے راز آیدبرون علام

نیوزی لینڈ میں نمازیوں کی شہادت

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد پر جمعہ 15 ؍ مارچ کو ایک اکیلے دہشت گرد نے مسلسل کم و بیش 20 منٹ تک فائرنگ کرکے 49 ؍افراد کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔ خونی دہشت گرد آسٹریلیا کا شہری ہے۔ حملہ آورمذہباً عیسائی مذہب ہے اور چارسوسال قبل صلیبی جنگ میں مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں عیسائی لشکر کی شکست فاش کا بدلہ نہتے نمازیوںپر حملہ کرکے لیا ۔ اس خون آشام واقعے میں شہید اور زخمی ہونے والے سب کے سب مسلمان ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’ مہذب دنیا‘‘ خاموش ہے اور سوائے مذمتی بیانات کے کہیں سے کوئی سخت ردعمل نہیں آرہا نہ آیا۔ ایسے مواقع پر جو لبرل کہلانے والےلوگ کنڈل مارچ کر نے کے فراق میں رہتے ہیں ، وہ بھی کہیں نظر آتے۔ وجہ ظاہر ہے کہ حملے میں شہید ہونے والے سارے کے سارے مسلمان ہیں ۔ جنوری2015 میں جب ڈنمارک میں ہفت روزہ ’’شارلی ہیبڈوز‘&ls

نیوزی لینڈ کا نائن الیون

گزشتہروز نیوزی لینڈکے مشہور شہرکرائسٹ چرچ میں دو مساجد پربیک وقت نماز جمعہ کے دوران ایک انسان نما وحشی نے بہیمانہ اندازمیں خود کاررائفل سے فائرنگ کرکے 50 مسلمانوں کو شہید کردیا۔  معاصردنیاکی تاریخ میںایسے سفاکانہ قتل عام کی مثال مشکل ہی سے نظر آئے گی۔ اس اندوہ ناک المیہ کو اگر نائن الیون سے تعبیرکیا جائے تو بے جا نہ ہوکا کیونکہ یہاں بھی نہتے و لاچارلوگوں کوبے رحمانہ طور پر قتل کردیاگیا۔ اس المیہ کووہ اہمیت اور توجہ نہیں دی گئی جو بالعموم غیرمسلموںکےساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو دی جاتی ہے۔امر واقع یہ ہے کہ مغرب اور مشرق میں تقابل، تناظر، معیار، کسوٹی اور بنیادی قدر وں میں جو خلیج پائی جاتی ہے شاید وہ ناقابل عبور ہوتی جارہی ہے۔ حیرت انگیز طور پر مغربی میڈیا اس سارے واقعے کو تشدد کا رنگ دے رہاہے۔ اب تک گرفتار کئے گئے حملہ آوروںسے متعلق ساری معلومات بہت دیرتک خفیہ رکھی گئیں۔ نی

ایک مکالماتی نظم

میرے اندر ایک عجب سی اُداسی چھائی ہے بیٹی جیسے ایک ہُو کا عالم ہے اور میں ریزہ ریزہ ہو رہی ہوں میرے ہونٹوں پر اگی پیاس کسی دریا کے کنارے دم توڑتی ہو اور موت جیسے سر پر کھڑی ہے میری بیٹی ہر پہر ُدکھ کی گھڑی ہے میری بیٹی سورج زمین پر آگ کی مانند قہر برسا رہا ہے خدا بھی مہربان نہیں رہا میری بیٹی تم سچ کہتی ہو ماں یہ ہمارا شہر نہیں کوئی گھنا جنگل ہے ماں جہاں ہر طرف اندھیرا رہتا ہے ہر پل چیخنے رونے کی آوازیں آتی ہیں یہاںبس گدھ اور لومڑیوں کا راج ہے ماں دہشت گردی ختم کرنے والے ہی دہشت گرد ہیں ماں میری پیاری بیٹی بس نہ رو نہ غم کر بس صبر کر میری بیٹی میں تیری دمساز تیرے ساتھ ہوں میری بیٹی جانتی ہوں نازک ہے تیرا پھول جیسا بدن اور یہ بوٹ ہیں بھاری کیسے بتاؤں تجھے ان بوٹوں تلے تیرا معصوم بدن نہیں میرا کلبوت ہے بی

نیوزی لینڈ: چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

۲۰۰۰ء میں اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنے ملک کے حوالے سے برملا ایک سچ کہا تھا کہ عنقریب امریکہ کی بیشتر آبادی حرام زادوں پر مشتمل ہو گی ۔واقعی ا س وقت امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے بچے ہیں جنہیں اپنے باپ کا پتہ ہی نہیں ہے، والدین کو اولڈ ایج ہومز میں مر نے کے لئے پھینکا جاتاہے، بے قابو جنسی خواہشات پورا کرنے کے لئے قحبہ خانوں کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے اور عمل قوم لوط کی بھی قانونی اجازت ہے۔ امریکہ ا ور پورپ میں رائج الوقت مادر پدر تہذیب کے چلتے ہرانسان آزاد ہے کہ وہ جو مرضی کر گزرے ، چاہے اس سے شرافت کی دھجیاں اُڑیں ، انسانیت کا قلع قمع ہوجائے ، قانون کی مٹی پلید ہو، حرام ز ادوں کی فوج تشکیل پائے ۔  غرض مغرب کا انسان نما حیوان اپنی ہی دُھن میں مست ہے ۔ وہ اگر کرسی اقتدار پر بیٹھا ہو تو جارج بش کی طرح کمزور قوموں کو پتھر کے زمانے میں پہنچا سکتا ہے ، اس کا من کرے تو

ملہ کھاہ کا شہر خموشاں

شہر  سرینگر کے شمال اور کوہ ماراں کے دامن میں کئی مربع کلو میٹر پر پھیلا جو قبرستان ہے اسے 'ملہ کھاہ کہتے ہیں۔ 'ملہ کشمیری میں ملا یعنی عالم کو بھی کہتے ہیں اور 'ملہ قبریں کھودنے کے پیشہ سے منسلک لوگوں کو بھی کہتے ہیں۔ 'کھاہ کشمیری میں وہ گڑھا کہلاتا ہے جو قلعہ یا شہر پناہ خواہ باغ کے گردا گرد کھود ا کرتے۔ یہ جگہ قلعہ ہاری پربت کے دامن میں ہے اور یہاں قبرستان سے پہلے انگور کے باغات ہواکر تےتھے۔ 'کوہِ ماراں کی پہاڑی پر سانپوں کی کثرت تھی، اس لئے اس کا نام کوہِ ماراں پڑگیا۔یوں تو یہ 'ملہ کھاہ محض ایک قبرستان ہے جہاں آج تک لاکھوں لوگوں کو دفنایا جاچکا ہے۔ دور دور تک یہاں صرف پتھر کے کتبے  اور قبریں حد نگاہ تک آتی ہیں، مگر انسان کچھ دیر بیٹھ کر یہاں کوئی ان قبروں کے نیچے لوگوں اور عالم برزخ زندگیوں پر غور وفکر کرے تو یہ دنیا لطف کی چیز نہیں رہتی۔ اگر ایک

اے نوائے صبح تیری جیت پکی اب کی بار

افسوس صد افسوس! اُدھر نیوزی لینڈ کے المیے نے خون کے آنسورُلایا،ا ِدھر الیکشن دھمال دنیا جہاں بھلا رہاہے ۔ خیر آج کل ہل والے قائد ثانی خوشی سے جھوم رہے ہیں بلکہ اپنی ہی مستی میں گھوم رہے ہیں اور کیا پتہ گرینڈ مستی میںاپنے آپ کو ہی چوم رہے ہیں کیونکہ ان دنوں نوائے صبح کے دروازے پر عید دیوالی جیسا سماں ہے۔کوئی کیک ،کوئی باقر خانی، کوئی حقہ تمباکو، کوئی ہریسہ زعفرانی لئے دربار ِ شیخاںمیںحاضر ہورہا ہے کہ ہریسہ کھاتے ہوئے باقر خانی کے ساتھ نمکین چائے اور ساتھ میں حقہ سنبھالے گڈگڈ کی آواز کے ساتھ سیاست کوٹنے میں جو مزہ ہے وہ اورکہاں ۔ سیاست بھی ایسی کہ فرقہ پرست بھاجپا کوملک کشمیر میں ٹکنے نہیں دیں گے اور سن سینتالیس کی وہ چوبی بندوقیں کندھوں پر لٹکائے لائو لشکر کے ساتھ دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵۔ الف کے گرد ایسا مضبوط حصار بنا دیں گے تاکہ کوئی ناگپوری سرجیکل اسٹرائک نقصان نہ پہنچا سکے۔اس بات پر تبص

۔16 ؍مارچ 1846ء۔۔۔۔ بیع نامۂ امرتسر!

 دہقان و کشت وجوئے و خیا باں فروختند قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند! علامہ اقبالؒ کا یہ مشہور و معروف قطعہ شعربیع نامہ امرتسر کی دلدوز داستاں کی عکاسی ہے ،بے دردیٔ زمانہ کی داستان،تسلط آمیزی کی انتہا،جب انگریز غاصبوںنے انسانیت،شرافت اورحساسیت کو پاؤں تلے روند کے اپنی حیوانیت،رذالت و شقاوت کا بھر پور مظاہرہ کیا! قوم کاشمر کی نیلامی ہوئی جب کہ اس قوم کا ایک فرد بھی اس خرید و فروخت میں موجود نہیں تھابلکہ اس قوم کو بھیڑ بکریوں کی مانند امرتسر کی منڈی میں گلاب سنگھ ہاتھ بیج دیا گیا ۔ یہ انگریزوں کی سیاسی منڈی کا بدترین سودا قرار پایا۔تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی میں یہ نظر آتا ہے کہ جو سودا 16مارچ 1846ء کے روز امرتسر کی سیاسی منڈی میں قرار پایا اُس کی شروعات ایک ہفتہ پہلے ہی ہو چکی تھی۔لاہور کے خالصہ دربار نے انگریزوں کی تجارتی کمپنی ایسٹ انڈیا کمپنی سے جنگ ہارنے کے بعد 9ما

غلام محمد، نور محمد (مرحومین)

 برصغیر میں21؍فروری کو مادری زبان کا دن منایا جاتا ہے اورکشمیر میں بھی یہ د ن تزک واحتشام سے منایا جاتا ہے اور بہت ساری تقاریب کا اہتمام کیا جاتاہے جن میں مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کیا جاتا ہے ۔ہماری مادری زبان کشمیری ہے جس کا شمار خطے کی قدیم زبانوں میںہوتا ہے ۔کسی بھی قوم کی پہچان اُس کی زبان ،تاریخ وتمدن اور ادبی سرمایہ سے ہوتی ہے ۔دورِ حاضر میںوادیٔ کشمیر میںاس سرمائے کو فروغ دینے کے کام کئی ادارے انجام دے رہے ہیں جو قابل ستائش ہے لیکن اس قابل ستائش کام کی ابتداء کا سہرایہاں کی علم ودست ،ادب نواز تاریخی شخصیت نور محمد تاجر کتب المعروف غلام محمد تاجران کتب مہاراج گنج کے سر جاتا ہے ،جنہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں بیشتر مقامی ادبی میراث جمع کر کے اسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے آئندہ نسلوں میں منتقل کردیا ۔کشمیر میں نور محمد سے پہلے بھی کتب فروش تھے بلکہ کشمیری زبان میں کت

....قصور اپنا نکل آیا!!

ویسے  آج کل ہرڈاکٹر کے یہاں بھیڑ ہوتی ہے ۔ وہاں بھی کافی بھیڑ تھی ۔ ہم لائن میں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے ۔ نظریں ڈاکٹر صاحب کے کمرے کے دروازے کی طرف ایک ٹک مرکوز تھیں ۔کمرے سے بجنے والی ہر بیل پر ہمارا دل بھی بلیوں اُچھلتا تھا۔ جب لائن میں بیٹھا اگلا مریض ڈاکٹر کے کمرے کی جانب قدم بڑھاتا توہم بھی بینچ پر بیٹھے بیٹھے ایک قدم آگے بڑھاکر پھر ڈاکٹر کے کمرے کے دروازے پر لٹکے پردے کو گھورنے لگتے تھے۔ حالت گویاں یوں تھی   ؎ زیرِ دیوار اس لئے ہے عاشقوں کا جمگھٹا بام پر وہ ماہِ تاباں بے نقاب ہونے کو ہے  میرے قریب ہی ایک معمر خاتون بیٹھی تھی ۔ وقت گذاری کے لئے اُس نے چندرسمی کلمات اور اِدھراُدھر کی باتیں کہہ کر بات اپنی آپ  بیتی کے ساتھ جوڑ دی ۔ انتظاری کوفت سے نبردآزماہونے کے لئے میں ہمہ تن گوش ہوگیا ۔ اُس عورت کی باتیں میرے لئے یوفونی (Euphon

جنت کشمیر کے مکین

آزادیٔ ہند کے بعد جنت بے نظیر کہلانے والاخطہ کشمیر اب جہنم زاربن چکا ہے ۔ یہاں نامساعد حالات کی گردشِ پیہم معمول بن چکی ہے ۔ان کی بھینٹ چڑھ کر آج تک ہزاروں کشمیری جان بحق اور کھربوں روپے مالیت کا بے حد وحساب نقصان ہوچکا ہے ، ہزاروں غربا کے آشیانے اُجڑچکے ہیں،ہزاروں بیوائیں ،لاتعداد یتیم ،ہزاروں زخمی افراد موت سے بدتر زندگی سے گزار نے پر مجبور ہیں ، ہزاروں نوجوان ریاست جموں وکشمیر کے علاوہ ملک کے مختلف جیلوں میں اور کچھ اپنے ہی گھروں میں قیدوبند کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اس الم ناک کہانی کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ اٹھائیس سال سے یہ سلسلہ بال روک ٹوک جاری ہے ۔ یہ سب کچھ کشمیرمیں عوام الناس برداشت کرتے جا رہے تھے کہ ایک اور قیامت اہل کشمیر پر ٹوٹ پڑی جب پلوامہ حملے ہواجس کا غصہ بیرون کشمیر مختلف ریاستوں میں زیرتعلیم  طلبہ وطالبات پر نکالا گیا۔ مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں سے

تازہ ترین