تازہ ترین

امریکہ ایران مخاصمت

خلیجی پانیوں میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اور لڑاکا طیارو کی فضا میں گھن گرج نے پورے خطے میں خوف کی فضا طاری کر رکھی ہے ۔ ماہرین کے مطابق ذرا سی غفلت یعنی ایک معمولی سی چنگاری پوری دنیا کے امن کو تہ و بالا کر سکتی ہے ۔ ایران امریکہ چپقلش اپنی انتہا کو چھو چکی ہے ۔ ایک طرف امریکہ ایران کو زیر کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ریتا ہے تو دوسری جانب ایران بھی اپنی میزائل ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر امریکہ کے سامنے پوری قوت سے ڈَٹ چکا ہے اور خلیج میں امریکی مفادات ایرانی میزائل سسٹم کی زد میں ہیں۔ اس انتہائی مخدوش صورت حال میں 13جو ن کو امریکی ففتھ فلیٹ کے دو آئل ٹینکرز تیل دھماکوں سے تباہ ہونے کی صورت میں حالات میں مزید سنگینی بڑھ گئی ۔ ناروے خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرنٹ الٹیز پر متحدہ عرب امارات کے الفجرہ نامی بندرگاہ سے تیل بھرا گیا تھا ۔ یہ بحری جہاز ناروے کی فرنٹ لائن نامی جہاز ر

ہماری ذہنی کنجوسی!

امریکہ   کی ایک کمپنی ہے، الفابٹ، اپنے ہاں کم ہی لوگوں نے اس کا نام سنا ہے، یہ دنیا کی پانچویں بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنی ہے، دنیا بھر میں پھیلے اس کے ملازمین کی تعداد تقریباً 80ہزار ہے، سالانہ منافع12.7 ارب ڈالر ہے جبکہ اثاثوں کی مالیت 197ارب ڈالر ہے، عالمی فہرست میں اس کمپنی کا نمبر52 ہے، اس سے پہلے ایمازون 18اور ایپل11ویں نمبر پر ہیںمگر اس کمپنی کی ایک خاص بات ہے جس کی وجہ سے یہ کمپنی دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ الفابٹ کمپنی گوگل کی مالک ہے۔ انٹرنیٹ پر ہونے والی کھوج (search) کا تقریباً90 فیصد گوگل کے ذریعے کیا جاتا ہے، آپ نے کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنا ہو، کوئی تحقیق کرنا ہو یا کسی موضوع کے بارے میں چھان بین کرنا ہو، گوگل سے پوچھ لیں، اس کے پاس معلومات کے خزانے کی کنجی ہے۔ گوگل کا دور دور تک کوئی مقابل نہیں، فیس بک کے ساتھ مل کر گوگل انٹرنیٹ کی نہ صرف

مودی اور مسلمان !

 پارلیمان  کے مرکزی حال میں این ڈی اے کے نومنتخب شدہ ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کچھ ایسی باتیں کیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں کا احساس ہوگیا ہے اور وہ مستقبل میں مسلمانوں کو کسی نہ انصافی کے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ ایسے الفاظ مودی جی  بزبان قال ادا نہیں کئے ہیں بلکہ انہوں نے ان باتوں کو مختلف پیرایۂ بیان میں ظاہر کیا لیکن مودی کے نئے’’ مسلمان‘‘ بھکتوں اور ہر بات میں بلاوجہ کی روشن خیالی ڈھونڈ کرمسلمانوں کا نقصان کرنے والے دانش و روں نے ان باتوں کا بڑا خوش آئند مطلب لیا اور سڑکوں پر جگہ جگہ ’’مودی مودی‘‘ کے نعرے لگانے والوں کی طرح اپنی تحریروں اور تقریروں میں ’’مودی مودی‘‘ کرنے لگے۔ ہم اور ہماری فکر کی طرح فکر رکھنے والے لوگ وزیر اعظم نریندر

آہ ! ڈاکٹر محمد مرسی مرحوم

 اُن  دنوںاہرام کے دامن سے نکلتی شعاعیں بڑی شادماں تھیں، ہواؤں میں تازگی تھی، پرندوں کی آواز میں نغمگی تھی، دریائے نیل کی موجیں رقصاں تھیں،لوگوں کی آنکھوں میں چمک تھی،ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی،دل خوشی سے اچھل رہے تھے،سب ایک دوسرے سے بڑی محبت والفت کے ساتھ بغل گیر ہو رہے تھے ۔ہر ایک اپنے اپنے انداز میں خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔ جامعہ ازہر کا پروفیسر کیا ! اور قاہرہ کی گلیوں کا سبزی فروش کیا!آج سب ہی یکساں خوش تھے۔آج 18؍جون 2012ء کو بالآخر ان کاصدیوں کا انتظار ختم ہوا تھا ۔ اپنی خودمختاری کا خواب آنکھوں میں سجائے انہوں نے ایک لمبا عرصہ یوں ہی گزار دیا تھا۔ان کے ملک کی اونچی اونچی عمارتیں ،لمبی لمبی سڑکیں ،نیا طرز زندگی ،گفتار میں جدت ،تعلقات میں وسعت، دیکھ کر تو ایسا لگتا تھا کہ وہ ایک خوش حال زندگی جی رہے ہیں، ان کے اٹھتے قدم ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، لیکن ان اونچی عمارتوں

محبوس مصری صدر محمد مرسی

 سال   جیل وزندان میں گزارنے کے بعد آخر کار سابق مصری صدر اور الاخوان ا لمسلمون کے سنیئر قائد ڈاکٹرمحمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ ۶ ؍سال سے قاہرہ جیل میں محبوس ملک کے سابق منتخبہ سربراہِ حکومت کا تختہ جنرل السیسی نے پلٹ دیا تھا ۔انہوں نے فوجی بغاوت کر کے خود قاہرہ کی زمام ِاقتدار سنبھالی، صدر مرسی کو معزول کر کے جیل میں ٹھونس دیا اور ان کے سینکڑوں حامیوں کا قتل عام کیا ، اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردے کر اس پر پابندی عائد کی ، تنظیم کی بالائی قیادت سمیت نچلی سطح کے اراکین کو غداری ، ملک دشمنی اور ایسے ہی دیگر سنگین الزامات میں مقدمات  درج کر کے پابہ زنجیر کیا گیا ۔دم ِواپسیں محمد مرسی عدالتیسماعت کے دوران بے ہوش ہو کر گرگئے اور بر سر موقع انتقال کر گئے۔ معزول صدرموت سے قبل اپنے خلاف جاسوسی کے الزام کے بارے میں جج کے سامنے اپناموقف ب

کون بھلے کون مندے؟

   ابھی  کچھ عرصہ قبل ضلع پلوامہ کشمیر کے لیتہ پورہ گائوں میں سی آر پی ایف کے ایک رواں دواں کانوائے پر خود کش حملہ ہوا ،جس میں بشمول بمبار لگ بھگ پچاس لوگوں کی موت واقع ہوگئی۔اس حملے کی پاداش میں سارے ہندوستان میں عام طور پر اور ریاست جموں و کشمیر کے صوبہ جموں میں خاص طور پر اشتعال اُبل پڑا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی مختلف دانش گاہوں اور دیگر تعلیمی اداروں اداروں میں زیر تعلیم کشمیری مسلمان طلباء و طالبات کو بے حد خوف زدہ اور مارپیٹ کرکے وہاں سے نکالا گیا ۔جو لڑکے لڑکیاں ہوسٹلوں سے باہر کرایے کے کمروں میں رہتے تھے، اُن کا سامان باہر پھینک کراُنہیں قتل کرنے کی بھی دھمکیاں دی گئیں  ۔ ہماچل پردیش اور اُترا کھنڈ کے گدیوں نے نہ صرف کشمیری مسلمان طلبا و طالبات کو تعلیمی اداروں سے باہر کردیا بلکہ اُن جگہوں پر کاروبار کرنے والے ،پھیری لگانے والے ،مزدوری کرنے والے مزد

قلم کاری ۔۔۔ قلم امانت تحریر شخصیت

 کسی  مخصوص موضوع پر اپنی رائے دینے یا اس رائے کو کسی مضمون کی شکل میں لکھنے کا عمل ۔”تحریر “ کہلاتا ہے۔تحریر جتنا پڑھنے میں آسان لگتی ہے اتناہی اس کی تخلیق اور تحریر مشکل ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ انسان کا شوق سب کچھ کروادیتا ہے۔ جن لوگوں میں لکھنے ،پڑھنے اور اپنے خیالا ت کے اظہار کا ہنر اور شوق ہوتا ہے ۔ وہ اپنے ان شوق کی تکمیل کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔ بولنے والنے والا،بولتے بولتے تھک سکتا ہے مگر ایک لکھنے والے کا قلم کبھی نہیں رک سکتا اور نہ ہی تھک سکتا ہے۔ویسے ہی ہر لکھنے والے کے الگ مسائل ہوتے ہیں۔جیسے کہ کسی عنوان پر لکھنے کے لئے موضوع کاچننا، اس پر تحقیق کرنا،تحقیق کے بعد اس تحریر سے جڑے لوگوں کے جذبات ونتائج کے بارے میں سوچنا،سب سے اہم اس مضمون کو اتنا دلچسپ اور پر کشش رکھنا کہ قاری پڑھے بنا نہ رہ سکے۔جس طرح لکھنے والے کا مزاج مختلف ہوتا ہے

’’ڈسکورسز آف حاجنی کے آئینے میں ‘‘

 یہ   سب کاوشیں بغیر نتیجہ اپنے اپنے  اختتام کو پہنچی۔ اگر واقعی گورنر ملک کی محتاط ستیہ وانی مودی 0.2کی کسی دُور اندیش پالیسی کا حصہ ہے، تو حکومت سے یہ سوال پوچھا جانا ضروری ہے کہ مذاکراتی انسچوشن کو منہدم کرکے کون سے گراونڈمیں مذاکرات ہونے ہیں، اور اگر کوئی ایسا تھیٹر سجانے کی تیاری ہے جس میں بغیر کرداروں کے کوئی ڈائریکٹر سٹیج پر آکے محض ڈرامہ پڑھ کر سنائے تو وہ الگ بات ہے!  مقالے کا بین السطور مطالعہ یہ کہتا ہے کہ جب مغرب علمی اعتبار سے تارکیوں اور ظلمتوں میں گرا ہوا تھا تو مشرق میں مسلمان سائنسدان ،سائنسی اور تجرباتی علوم و فنون میں ستاروں پر کمندیں ڈال رہے تھے ۔یہاں مضمون نگار علم کیمیا میں خالد بن یزید ،جابر بن حیان ، ابولالقاسم علی الاندلوسی، ابو منظر عراقی ، ابن در کا حوالہ دے کر کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے خون جگر سے علم کیمیا کے شجر ہائے سای

چین نے دی ناکامی کو شکست!

 مائو  کی موت کے بعد غیر یقینی کے برسوں میں،چین کے صنعتی طاقت بننے سے بہت پہلے چینی معاشی طالبعلموں کا ایک گروپ شنگھائی سے باہر ایک پہاڑ پر جمع ہوا، نوجوان اسکالروں کے سامنے ایک ہی سوال تھا کہ ہم مغرب کی برابری کس طرح سے کرسکتے ہیں، یہ ۱۹۸۴ء کا موسم خزاں تھا اور دوسری جانب رونلڈ ریگن امریکیوں سے ایک بارپھر نئی صبح کا وعدہ کررہے تھے، اس دوران چین کئی دہائیوں بعد معاشی اور سیاسی بحران سے نکل آیا تھا، ملک میں ترقی ہوئی تھی مگر پھربھی چین کی تہائی آبادی انتہائی غربت میں زندگی گزار رہی تھی۔ چین میں ریاست فیصلہ کرتی تھی کہ کون شخص کہاں کام کرے گا، کس کارخانے میں کیا بنایا جائے گا اور اس کی قیمت کیا ہوگی۔ کانفرنس میں شریک افراد درمیانی عمر کے وہ نوجوان تھے، جو مارکیٹ کو آزاد کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ معیشت کی تباہی سے خوفزدہ تھے، یہ سب کچھ کمیونسٹ پارٹی کو چلانے والی نظریاتی بیورو

انڈیا ایجوکیشن کانکلیو

حیدر  آباد میں کل ہند تعلیمی کانفرنس کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ایک ایسے وقت جب کہ حالیہ واقعات کے پس منظر میں مسلمان مایوس نہیں تو کم از کم شش و پنج میں مبتلا ہیں۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آیا اس کا کوئی مقام ہے یا نہیں۔ کل تک ہر شعبہ حیات میں اس کی اہمیت رہی۔ حکومتیں بھی اس کے تعاون کے بغیر تشکیل نہیں پاسکتی تھیں‘ مگر حالیہ عرصہ کے دوران جو سیاسی حالات پیدا ہوئے۔ جو منظر نامہ تبدیل ہوا اس میں اسے اپنی سیاسی بے وزنی کا احساس شدت سے ہونے لگا۔ شاید اس لئے کہ مسلمانوں نے جس کا ساتھ دیا اس میں سے اکثریت کو فائدہ نہیں ہوا۔ اور جہاں مسلمانوں اکثریت میں ہیں‘ وہاں سے بھی ان کے نمائندے ناکام رہے۔ سیکولرزم پر یقین رکھنے والے مسلمانوں کا سیکولرزم پر سے بھرم ختم ہونے لگا۔ کیوں کہ الیکشن 2019ء کے دوران ایسے کئی چہروں سے سیکولرزم کے نقاب  اترگئے۔ سبھی چہرے ایک جیسے عی

اننت ناگ کا فدائی حملہ!

   حقیقت میں وہی سے زندگی کی راہ ملتی ہے   سفینہ غر ق ہوجائے جہاں ٹکرا کے ساحل سے  12جون کو جب گورنر ستیہ پال ملک میڈیا کی کہکشاں کے سامنے جنگجوؤں کو ہتھیار چھوڑ کر میز پر آنے کی دعوت دے رہے تھے، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جنگجو فورسز پر خون ریز حملے کی تیاریاں کررہے تھے ۔ گورنر کی پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد خبر آئی کہ کھنہ بل ۔ پہلگام روڑ پر جنگجوؤں کے حملے میں سی آر پی ایف کے پانچ جوان ہلاک ہوئے ۔ ایک سٹیشن ہاؤس آفیسر اور ایک خاتون شدید طور پر زخمی ہوئے جب کہ ایک جنگجوجوابی کاروائی میں مارا گیا ۔ ظاہر ہے کہ یہ حملہ اس دباؤ کو توڑنے کی ایک کوشش تھی جو کافی عرصے سے فورسز نے جنگجوؤں پر بنایا ہوا ہے اور جس کے نتیجے میں جنگجوؤں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ کئی اعلیٰ کمانڈر مارے گئے جن میں’’ انصار غزوۃ الہند ‘

ستیہ پال کی محتاط ستیہ وانی

گورنر  ستیہ پال ملک نے جموں کشمیر کی زمام کار سنبھالنے کے طویل عرصہ بعد پریس کانفرنس میں لوگوں کو یقین دلایا کہ دفعہ 370کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ڈی لمٹیشن سے متعلق خبریں محض افوا ہ ہے  اور کشمیریوں کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے مسلح نوجوانوں سے ہتھیار چھوڑنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری لیڈروں نے آزادی، اٹانومی اور سیلف رُول کے ’جھوٹے سپنے‘ دکھا کر نوجوانوں کو گمراہ کیا ہے۔ انہوں نے نہایت مبہم انداز میںنوجوانوں کو کشمیرکی خود نمائندگی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی آئین کے اندر اندر وہ جو چاہیں دلی سے مانگ سکتے ہیں۔ انہوں نے ملی ٹینٹوں سے براہ راست مخاطب ہوکر کہا کہ ، ’’جموں کشمیرکا اپنا آئین اور اپنا پرچم ہے۔ اور کیا چاہیے، اور اگر اور بھی کوئی شکایت ہے، کوئی مطالبہ ہے تو راج بھون میں آئیے اور چائے پر مجھ سے بات کیجئ

’’ڈسکورسز آف حاجنی کے آئینے میں ‘‘

 پروفیسر   حاجنیؔ|1917-1993))نہ صرف کشمیری زبان کے مقتدر ادیب مانے جاتے ہیں بلکہ وادی کشمیر کے بلند قد عالم اور دانشور تسلیم کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت کا ثبوت مختلف تخلیقات کے حوالے سے دیا ہے ۔موصوف بیک وقت تین زبانوں میں لکھتے رہے ، کشمیری زبان کو وہ ایمان کی حد تک پڑھتے اور لکھتے رہے اردو زبان میں وہ زیادہ دیر تک نہ لکھ سکے ،صرف چند ایک انشائے اور اخباری کالم اردو زبان میں لکھ چھوڑے ہیں ۔ ان کا اردو زبان کو خیر باد کہنا کشمیری زبان کے خدمت کے تئیں کا نتیجہ تھا جو کہ ان کا خود کا بیان ہے ۔حاجنی صاحب انگیزی زبان پر بھی خاصی دسترس رکھتے تھے انہوں نے مختلف علمی ،سائنسی ،تجزیاتی ،تبصراتی مضامین ساٹھ اور ستر کے عشرے میں لکھے ہیں جو وقتاً فوقتاً رسالہ ’’ڈسکورس ‘‘ اور ’’ پرتاب ‘‘ ایس ۔پی ۔کالج سیرنگر میں شائع ہوچکے ہی

مشرقِ وسطیٰ | ممکنہ جنگی آگ کا انجام؟

پورے  مشرقِ وسطیٰ میں 2سب سے اہم ترین مقامات آبنائے ہرمز اور باب المندب ہیں۔ جمعرات کو انہی 2 میں سے ایک مقام پر 2 آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اگر یہ ایک منظم حملہ ہوا ہے تو اس کی چنگاریاں تمام مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دینے کی سکت رکھتی ہیں۔انگریزی زبان کے ممتاز شاعر جان ملٹن نے 1667ء میں اپنی نظم ’’پیراڈائز لاسٹ‘‘ میں لکھا تھا:’’شیطان ہیروں اور جواہرات سے مزین ایک شاہی تخت پر بیٹھا ہے اور اس کا قبضہ ہندوستان سے لے کر ہرمز کے خزانوں پر ہے۔‘‘قیمتی موتیوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز کو اس وقت بھی دنیا کے پوشیدہ خزانوں کا مقام قرار دیا جاتا ہے۔ جان ملٹن فارس کے ساحل کے سامنے واقع پہاڑی جزیرے کو اس وجہ سے بھی جانتے تھے کہ پرتگالیوں نے اسی کو بیس بناتے ہوئے کئی عشروں تک عیسائی سلطنت کا دفاع کیا تھا۔ یورپ اور ہندوستان کے ط

ترکی کا دفاعی سودا | روس کے خلاف امریکی ناراضگی

ترکی، امریکہ سے جنگی جہاز اور روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم خرید رہاہے ۔ ان دونوں سوپرپاور ممالک پہلے ہی ایک دوسرے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھی امریکہ اور روس کے درمیان بحری راستوں میں آمنا سامنا ہوا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہوئے اسے ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایسے میں ترکی کی جانب سے روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم خریدنا ،امریکہ کے لئے ناگوار ہے۔ قائم مقام امریکی وزیر دفاع پیٹرک شانہان نے گزشتہ دنوں ترکی کے وزیر دفاع ہلوسی اکار کو اپنے ایک خط کے ذریعہ کہا کہ یا تو وہ امریکی جنگی جہاز خریدے یا پھر روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم خریدے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اس خط میں امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ترکی ایک ہی وقت میں امریکہ سے جدید ایف ۔35لڑاکا طیارے اور روس سے ایس۔400طیارہ شکن میزائل سسٹم نہیں خرید سکتا۔ امریکہ اور ترکی دونوں نیٹو اتحادی ممالک ہیں اور ایس ۔400طیارہ

پروفیسر سہدیو کمار کی کتاب

پروفیسر   سہدیوکمار کی کتاب پر کچھ گفتگو کرنے سے پہلے میں آپ کی خدمت میں بھگت کبیر کی ایک نظم کا ترجمہ پیش کرتا ہوں جو علی سردار جعفری کی کتا ب ’’کبیر بانی‘‘ میں شامل ہے:’’میں نے شونیہ کے (خلاؤں میں معلق) آسن پر بیٹھ کر سادھنا کے ناقابلِ بیان رس کا پیالہ پیا  اب میں اسرار کا محرم ہوں اور وحد ت کے راز سمجھنے والا  راہ کے بغیر چل کر میں اس شہر میں پہنچ گیا ہوں جہاں کوئی غم نہیں ہے جگدیو کا رحم اور کرم آسانی سے نصیب ہو گیا ہے  میں نے دھیا ن دھر کے دیکھا تو وہ بغیر آنکھوں کے نظر آگیا جو لامحدود ہے  جسے نارسائی کی منزل کہتے ہیں، یہ مقام غموں سے آزاد ہے۔ یہاں پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے  جس نے غم پایا وہی بے غم ہو گیا  یہاں عجب آرام ہے  دانش مند وہ ہے جس نے یہ مقام دی

یادوں کے جھروکے سے

ضروری  نہیں جن یادوں تک میں قارئین کو رسائی دے رہا ہوں وہ میری ہی ذات، تجربات اور مشاہدات کے محور پر گھومتی ہوں بلکہ میری یادوں میں دوسرے لوگوں کی وہ یادیں بھی محفوظ ہوسکتی ہیں جو ان دوسرے لوگوں کے تجربات اور مشاہدات سے جڑی ہوں اور جنہیں میں دلچسپ جان کر مضامین کے اس سلسلے میں بیان کرتا رہوں گا۔ جن دنوں میرا فیس بک اکاونٹ ہوا کرتا تھا، ان دنوں میرے ایک فیس بک فرینڈ نے ایک خوبصورت کہانی اپنی ٹائم لائن پر پوسٹ کی تھی۔ یہ کہانی مجھے بڑی دلچسپ بھی لگی اور سبق آموز بھی، اس لئے مذکورہ فیس بک فرینڈ سے شکریہ کے ساتھ اس کہانی کو یہاں بیان کررہا ہوں۔ ’’روسی مصنف حمزہ رسول نے اپنی کتاب ’’ میرا داغستان‘‘ میں ایک بہت خوبصورت واقعہ لکھا ہے:ایک بار وہ ایک گاؤں سے گذر رہے تھے تو دیکھا کہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والی دو قباںُیلی عورتیں آپس میں جھگڑا اور تکر

مجرموں کے دید کی ہے کو توالی منتظر

بچپن سے ہم سنتے آئے تھے لیکن کبھی دیکھا نہیں تھا، پراب تو سبھوں کو پتہ چل ہی گیا کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں۔اتنے لمبے کہ پٹھان کوٹ سے دراز ہوکر رسانہ کٹھوعہ میں مجرموں کی گردن دبوچ لیں۔ جبھی تو عدالت نے فیصلہ ہی نہیں سنا یا بلکہ انصاف بھی کیا۔ اور وہ جو قانون کی راہ میں رکاوٹ بنے کھڑے ہوگئے تھے یہاں تک کہ ترنگا بھی لہرا کر اس کا بھی دُر اپیوگ کیا تھا اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور ہمیں تو بچوں کا وہ گیت آیا کہ اب تو جیل میں جانا پڑے گا ، جیل کی روٹی کھانی پڑے گی جب ملزمین کو تا عمر قید اور کئی ایک کو پانچ پانچ سال جیل کی سزا سنائی گئی   ؎ یہ عداوت کا فسانہ بھی بدل جائے گا  وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا کہیں آٹھ سالہ آصفہ کہیں اڑھائی سال کی ٹونکل شرما درندگی کا شکار بنی تو ہم سوچتے تھے کہ کیا ابھی بھی دنیا قائم رہنے کی کوئی وجہ بنتی ہے یا یہ کہ ہوس پ

اسمبلی نشستوں کی نئی حد بندی!

ریاست   جموں و کشمیر کو حالیہ ایام میں جس نئی صورت حال کا سامنا ہے اُس کا تعلق ریاستی اسمبلی میں سیٹوں کی حد بندی سے متعلق چونکا دینے والی خبریںہیں ، اسے عرف عام میں ڈی لیمی ٹیشن (Delimitation) عنوان دیا جاتا ہے ۔ بھارت میں پارلیمانی انتخابات کی مہم کے دوران حکمران پارٹی بھاجپا نے شد و مد سے تکراراََ دفعات 370اور 35A کی منسوخی کا ذکر چھیڑا بلکہ یہ بھی کہا جانے لگا کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں جتنی جلدی ہو سکے، اس بارے میں اقدامات رو بعمل لائیں جائیں گے۔اِس ضمن میں کشمیر میں نگرانی کی کیفیت طاری ہونا ظاہر ہے ایک متوقع رد عمل تھاچونکہ اِن دونوں دفعات کا تعلق ریاست کی داخلی خود مختاری سے ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں ایک جانب مزاحمتی تحریک جاری ہے جسے علحیدگی پسندی کی تحریک بھی مانا جاتا ہے جبکہ دوسر ی جانب سیاسی دھارا میں مین اسٹریم کا وجود بھی ہے جن کا الحاق کے ساتھ کوئی اخ

نیتن یاہو

اسرائیلی   وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے سب سے پہلے مودی جی کو کامیابی کی مبارک باد روانہ کی ۔ انہیں توقع رہی ہوگی کہ مودی این ڈی اے کے فاضل ارکان اسرائیل روانہ کردیں گے، اس طرح وہ بھی حکومت سازی میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ابھی عالمی جمہوری نظام نے اس قدر ترقی نہیں کہ ارکان پارلیمان کے بھی دیگر مال و اسباب کی مانند درآمد و برآمد ممکن ہوسکے۔ اس میں شک نہیں کہ نوٹ کے بل پر ووٹ حاصل کرنے والے سیاسی رہنماوں کی حیثیت ’‘متاع ِکوچہ و بازار‘‘ سے زیادہ نہیں ہے۔ مقامی سیاسی منڈی میں جب ان کی سرِ عام نیلامی ہوتی ہے تو عالمی بازار کے اندر کیا قباحت ہے! خیر نیتن یاہو کی جماعت 'لیکوڈ نے ۹ ؍اپریل ۲۰۱۹ کو منعقد ہونے والےپارلیمانی انتخابات میں گزشتہ مرتبہ کی بہ نسبت ۲۰ فی صد زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ اس کے باوجود ڈیڑھ ماہ کی اُٹھا پٹخ کے بعد وہ پانچویں