تازہ ترین

کشمیر : حریت خواہی کا جنم داتا کون؟

بھارت  میں انتہا پسند سیاسی حلقے بھی یہ مانتے ہیں کہ کشمیر میں مزاحمت پسندی کا رحجان شدت اختیار کر گیا ہے ۔بھارتی سیاسی دھارا سے دوری کا احساس جو کہ ریاست جموں و کشمیر میں اکثریت مطلق میں پایا جاتا ہے اگر چہ ایک مانی ہوئی حقیقت بنتی جا رہی ہے لیکن اُس کے پس منظر و پیش منظر کے ضمن میں بھارتی احزاب میں اختلاف نمایاں ہے۔ پچھلے دنوں بھارتی پارلیمنٹ میں اس بارے میں زوردار بحث ہوئی جس میں کانگریس اور بھاجپا کا اختلاف بھی بخوبی منظر عام پہ آیا۔ جہاں کانگریس کا یہ خیال ہے کہ کشمیر میں بھارتی سیاسی دھارا سے دوری کا احساس بھاجپا کے دور وزارت میں شدت اختیار کر گیا ہے، وہاں بھاجپا اپنے دفاع میں خود کانگریس پر یہ الزام لگا رہی ہے کہ کانگریس سرکاروں کی غلطیوں کی وجہ سے ریاستی عوام میں بھارت سے دوری کا احساس چھا گیا ہے۔ کانگریس اور بھاجپا کی آپسی تکرار میں کئی ایسے حقائق منظر عام پہ آئے ہیں ج

رام مندر کے شور میں

 ’’ میں بابری مسجد ہوں ، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یوں بھلا دیا جائے گا۔ غیر تو غیر اپنوں کو بھی اب میرا نام لینے میں تکلف ہے۔ ۱۵۲۸ء سے لے کر اب تک میں نے جانے کتنے اُتار چڑھاؤ دیکھے لیکن اب جو حالات ہیں وہ انتہائی دلدوز ہیں۔ کس طرح ایک منظم سازش کے تحت پہلے میرے وجود کو بتدریج شرپسندوں نے مشکوک بنایا اور پھر کیسے مجھےمٹا دیا گیا، یہ میں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ مجھ پر جانے کیسے کیسے بہتان تراشے گئے، کیسی کیسی فسانہ تراشیاں کی گئیں۔ کبھی مجھے بابر کی اولاد کہا گیاتو کبھی میر ؔباقی کی لیکن میں ان دونوں میں سے کسی کی اولاد نہیں۔ ہاں بابر کے دور حکومت میں اور میر ؔباقی کے ہاتھوں اس روئے زمین پر میرے وجود نے ایک شکل اختیار کی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے مجھے پیدا کیا۔ وہ شکل دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں موجود میرے وجود ہی کی مانند ایک وجود تھی۔ مجھے ا

درد کی دُھول

نثار ؔ صاحب جب کسی بات سے قائل ہی نہیں ہوئے اور کچھ زیادہ ہی بولنے لگے تومجھے اُن کی بے جاہٹ پر غصہ آیا مگر میںنے اپنے غصے پر قابو پاکرانہیں سمجھانے والے انداز میںکہا… ’’ ارے میاں! کیا ایک ہی بات کی رَٹ لگا رکھی ہے؟ خدا نخواستہ آپ جنگل میںتو نہیں رہتے۔ ذرا سا سوچئے اور تھوڑا سا غورکریئے توساری بات واضح ہوکرآپ کے پلے پڑے گی۔یہ تو آپ نے سمجھ ہی لیا ہو گا کہ جموںوکشمیر کے مسلمان کا بجز خداکے اور کوئی دوست و مدد گار نہیں ہے۔ سب اس کی تباہی اور تنزل کے متمنی ہیں، اس کی رسوائی کے خواہش مند ہیں اور دینی و مالی اساس لوٹنے کیلئے یہودؔ کے صلاح و مشورہ کے ساتھ اس کے خلاف سازش پہ سازش کی جاتی رہی ہے۔  جناب ذرا میری بات کو دھیان سے سنئے۔ یہ آج کی بات نہیں، ریاستی مسلمان کے ساتھ بہت پہلے سے ہر وقت، ہر بار اور بار بار چھل کیا جاتا رہا ہے اور لگتا یہی ہے کہ یہ سلسل

آہ!پروفیسر حامدی کاشمیری

تبدیلی  وقت کا دوسرا نام ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں وقت کی قسم کھائی ہے ۔یہ وقت ہی ہے جو ہمیں بچپن سے لڑکپن،لڑکپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے اور بالآخر موت کی آغوش میں سُلادیتا ہے۔زندگی ایک غیر یقینی سفر ہے اس لیے کہ زندگی کب ،کہاں اور کن حالات میں کس کا ساتھ چھوڑ دے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔موت پہ انسان کی کاوشوں،خواہشوں اورحرکت وعمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔وقت کے ساتھ ہر چیز ختم ہوجاتی ہے اور اگر کوئی چیز باقی رہتی ہے یا انسان کے دنیا سے گزرنے کے بعداس کے ساتھ جاتی ہے تو وہ اس کے اچھے یا بُرے اعمال ہیں۔دنیا ایک اسٹیج  ہے جہاں ہر شخص اپنا اچھا یا بُرا رول ادا کرکے موت کے پردے کے پیچھے چلا جاتا ہے۔زندگی کا ہرلمحہ بہت زیادہ قیمتی ہے کیونکہ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔یادیں انسان کے شعور،تحت الشّعور اور لاشعور کا ایک اہم حصہ ہوتی ہیں۔اہم شخصیات کے ساتھ گزارے لمحے تو انسا

گنگا جمنی تہذیب کدھر ہے؟

   ہندستان کی سر زمین دنیا میں واحد ایسی سر زمین ہے جہاںبرسوںسے مختلف مذاہب ، ثقافتیں اور زبانیں بولنے والی قومیں شاد و آباد ہیں ۔ یہاں زمانہ ٔ قدیم سے مختلف مذاہب اورادیان ماننے والے لوگ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہتے بستے آر ہے ہیں ۔ کثرت میں وحدت کی مثال پیش کر تے ہوئے ہندستان صدیوں سے اتحاد اور بھائی چارگی کا بے مثال چمن بنارہا ہے، یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو دنیا قدر واحترام کی نظرسے دیکھتی ہے لیکن کچھ سال سے سیاست کے سوداگروں کی خود غرضی سے یہاں کی معطرفضا ئیںبدلی بدلی نظرآرہی ہیں ۔آج سے چند سال پہلے تک یہ کسی کے سان و گمان میں بھی نہ تھا کہ ملک کے اتنے برے دن کبھی آ نے والے ہیں کہ تعصب و نفرت کاماحول کھلے عام پروان چڑھا یا جائے گا، مسلمان ہونے کی وجہ سے بے قصور اور امن پسند لوگوں کو دہشت گرد اور ملک دشمن قرار دے کر انہیںسزائیں دی جائیں گی ۔ شمالی ہند کی ریاستوں م