تازہ ترین

ورلڈکپ کو کرپشن فری بنانے کیلئے کھلاڑی خریداری کیلئے کیش کے بجائے ڈیبٹ کارڈ استعمال کریں گے

لندن/ انگلینڈ میں جاری ورلڈ کپ کے لئے منتظمین نے سب سے بڑی اور حیران کن کوشش کرتے ہوئے کھلاڑیوں، آفیشلز اور آرگنائزرز کو کیش سے دور کردیا اور انہیں 'پلاسٹ منی' استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔تاریخ میں پہلی بار ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں، ٹیموں کے آفیشلز، امپائروں، میچ ریفریز اور ٹورنامنٹ سے وابستہ دیگر افراد کو ڈیلی الاؤنس کی مد میں کیش میں ادائیگی نہیں کی جارہی۔ہر شخص کو ایک ڈیبٹ کارڈ جاری کیا گیا ہے جس میں ان کے ڈیلی الاؤنس کے مساوی رقم موجود ہے، ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں اور آفیشلز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کیش رقم استعمال کرنے سے گریز کریں اور جہاں رقم کی ادائیگی کرنا ہو وہاں کارڈ کا استعمال کیا جائے۔کارڈ کے استعمال سے منتظمین اور آئی سی سی کے تفتیش کاروں کو یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ کب کہاں اور کس کے ساتھ کارڈ استعمال کیا گیا ہے، اس بارے میں مزید تحقیق کے لئے

میچ سے پہلے وراٹ کوملا اسکول سے ایک منفرد تحفہ

لندن/ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کو آئی سی سی عالمی کپ میں اتوار کو آسٹریلیا کے خلاف میچ سے پہلے اپنے اسکول سے ایک منفرد تحفہ ملا۔ کنگسٹن اوول میں اتوار کو آسٹریلیا کے خلاف ہندستان کے میچ سے سابق کپتان وراٹ کو ان کے اسکول وشال بھارتی پبلک اسکول کی جانب سے اسکول کی مٹی ہدیہ کی گئی۔ وراٹ کو یہ تحفہ بھی کافی پسند آیا اور میچ سے ٹھیک پہلے میدان میں ملک سے آئی مٹی کو سونگھتے ہوئے ان کی تصویر بھی دکھائی دی ۔ جس وقت وہ اسکول سے آئی مٹی کو دیکھ رہے تھے ، وہاں ٹیم انڈیا کے ہیڈ کوچ روی شاستری اور وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی بھی وہاں موجود تھے ۔ وراٹ نے اپنی ابتدائی تعلیم وشال بھارتی پبلک اسکول سے کی تھی جبکہ نویں کلاس میں وہ زیوئیر کانوینٹ اسکول میں چلے گئے ۔ سال 1998 میں وشال بھارتی میں پڑھائی کے دوران وہ ویسٹ دہلی کرکٹ اکیڈمی میں شامل ہوئے تھے ۔ وراٹ نے سال 2008 میں ہندستانی

آبپاشی نالوں کی حالت ناگفتہ بہ | ہندوارہ میں سینکڑو ں کنال زمین بنجر ہونے کا خدشہ

کپوارہ// ہندوارہ میں چند ایک آ بپاشی نالوں کی حالت نا گفتہ بہ رہنے کی وجہ سے سینکڑوں کنال اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں کسانو ں میں محکمہ اری گیشن کے خلاف ناراضگی پائی جارہی ہے ۔وادی بھر کی طرح ضلع کپوارہ میں بھی پنیری لگانے کاکام عروج پر ہے تاہم ضلع کے ہندوارہ قصبہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں موجود دہگام نالہ کی ناگفتہ بہ حالت کے نتیجے میں کسان کھیتی با ڈی کرنے سے قاصر ہیں ۔قصبہ کے کسانو ں کا کہنا ہے کہ سینچائی کے لئے ان کے کھیتو ں کو پانی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ پنیری نہیں لگا رہے ہیں ۔کسانو ں کے ساتھ ساتھ عام لوگو ں کا کہنا ہے کہ ہندوارہ قصبہ کے ساتھ ساتھ مضافاتی دیہات باگت پورہ اور چھوٹی پورہ سمیت نصف درجن علاقوں کی اراضی کو اہگام کول سینچائی کے لئے پانی فراہم کرتی ہے لیکن اس کول کی ناگفتہ بہہ حالت کی وجہ سے ابھی تک زمین کو پانی میسر نہیں کیا گیا ۔مقامی لوگو ں