تازہ ترین

سابق وزیر خزانہ حسیب درابو پی ڈی پی سے مستعفی

سرینگر/جموں  کشمیر کے سابق وزیر خزانہ حسیب درابو نے جمعرات کو پیپلز ڈیمو کریٹک  پارٹی (پی ڈی پی) سے استعفیٰ دیدیا۔ درابو نے اپنا استعفیٰ پارٹی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو بھیجی گئی ایک چھٹی کے ذریعے دیا۔  درابو نے اپنے خط میں لکھا ہے''گوکہ میں کوئی باغی نہیں،آپ جانتی ہیں کہ میں نے کابینہ، اسمبلی اور پارٹی سے کم و بیش دو سال قبل استعفیٰ دیدیا تھا، جس کو آپ نے منظور نہیں کیا۔میں اب بہت عرصہ سے پارٹی معاملات سے لاتعلق ہوں''۔ انہوں نے مزید لکھا ''میں نے فوری طور پر کچھ نہیں کیا کیونکہ میرا یقین ہے کہ اخلاقی طور یہ غلط ہے کہ جس پارٹی کے نام پر کسی نے الیکشن جیتا ہو اُسی کو چھوڑا جائے۔ چونکہ اب سب ختم ہوگیا ہے اس لئے میں پی ڈی پی سے مستعفی ہورہا ہوں''۔ درابو نے ایک ٹویٹ میں بھی پی ڈی پی سے استعفیٰ دینے کی تصدیق کی۔

ہند۔پاک افواج کے مابین راجوری میں فائرنگ کا تبادلہ،دو فوجی زخمی

سرینگر/دو فوجی اہلکار جمعرات کو اُس وقت زخمی ہوگئے جب راجوری ضلع میں کنٹرول لائن پر بھارتی اور پاکستانی افواج میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق ضلع راجوری میں کنٹرول لائن پر دو مقامات اچانک پاکستانی فائرنگ کی زد میں آگئے۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کی زد میں آکر دو فوجی اہلکار شدید طورزخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ علاقے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان گولیوں کا تبادلہ آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔ اس سے قبل آج ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کراس ایل او سی فائرنگ میں شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں ایک فوجی اہلکار گولی لگنے کے بعد ہلاک ہوگیا۔  

شمالی کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاک فوج کی فائرنگ سے فوجی ہلاک

سرینگر/بھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین جمعرات کو شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں کنٹرول لائن پر گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے دوران ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا۔یہ واقعہ ضلع کے مژھل سیکٹر میں پیش آگیا۔ سرینگر میں فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کے مطابق پاکستانی افواج نے مژھل سیکٹر میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ بھارتی افواج نے بھی جوابی کارروائی عمل میں لائی۔ اس دوران بھارت کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔ مقامی ذرائع نے کہا کہ دونوں طرف کی افواج نے مژھل علاقے میں رنگ پائین،تانترے اور خان بستی مقامات پر ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں۔ فائرنگ کا ایسا کوئی بھی واقعہ جب کنٹرول لائن یا بین الاقوامی سرحد پر پیش آتا ہے تو بھارت اور پاکستان ، دونوں ایک دوسرے پر2003کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کرتے ہیں۔    

پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے والے کشمیر میں دہشت گرد، یو پی میں ہیرو: عمر عبد اللہ

سرینگر/ بلند شہر میں لوگوں کے ایک گروہ کے ہاتھوں ایک پولیس آفیسر کی ہلاکت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے جمعرات کو کہا کہ اُتر پردیش کی حکمران پارٹی پولیس اہلکاروں کو مارنے والوں کو'' ہیرو ''قرار دے رہی ہے جبکہ کشمیر میں ایسا کرنے والوں کو ہی''دہشت گرد'' قررا دیا جاتا ہے۔ عمر نے ایک ٹویٹ میں لکھا''کشمیر میں جو لوگ پولیس وفورسز اہلکاروں کو مارتے ہیں یا اُن کے ہتھیار چھین لیتے ہیں اُنہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ اُتر پردیش کی حکمران پارٹی ایسا کرنے والوں کو ہیرو قرار دے رہی ہے''۔ عمر بلند شہر میں سبھاش کمار سنگھ نامی ایک پولیس انسپکٹر کی ، ایک گروہ کے ہاتھوں  ہلاکت پر رد عمل کا اظہار کررہے تھے۔ مذکورہ پولیس آفیسر کو ہلاک کرنے والے گروہ کی قیادت مبینہ طور یوگیش راج کررہے تھے جو بجرنگ

کپوارہ میں کنٹرول لائن پر ہند۔پاک افواج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ

سرینگر/بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعرات کو شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں کنٹرول لائن پر گولیوں کا تبادلہ کیا۔ یہ واقعہ ضلع کے مژھل علاقے میں پیش آگیا۔ سرکاری حکام نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور بھارتی افواج نے بھی اس کا جواب دیا۔ مقامی ذرائع نے کہا کہ دونوں طرف کی افواج نے مژھل علاقے میں رنگ پائین،تانترے اور خان بستی مقامات پر ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں۔ ذرائع نے کہا کہ آخری اطلاعات ملنے تک گولیوں کا تبادلہ جاری تھا ۔  

فوج نے کشمیر حل کا موقع دیا مگر سیاست ناکام ہوئی: سابق فوجی جنرل

 سرینگر/بھارتی فوج کے ایک سابق جنرل نے کہا ہے کہ فوج نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ماحول تیار کیا تھا لیکن منتخب حکومتیں اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہوئیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ایچ ایس پناگ، جو اُدھمپور میں قائم فوج کی شمالی کمان کے جے او سی رہ چکے ہیں،نے ایک کالم میں لکھا ہے ''غیر معروف کولیشن سرکار، جموں کشمیر میں ہیلنگ ٹچ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی''۔ اپنے ایک کالم میں پناگ نے دعویٰ کیا کہ جنگجوئوں اور حکومت، دونوں کا ایک سیاسی مقصد ہے اور اُن کی پالیسیاں اُسی سیاسی انداز سے بنتی ہیں'' ''جموں کشمیر، خاص کر وادی میں موجودہ صورتحال ہماری غیر مستقل پالیسی کا نتیجہ ہے''۔ پناگ نے کہا کہ فوج نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ماحول تیار کیا اور سیاست کو موقع فرام کیا۔ ''لیکن حل کے بجائے عسکریت پھر شروع ہوئی''۔

کراس ایل او سی فائرنگ کے بعد اُوڑی سے آر پارتجارت معطل

   سرینگر/شمالی کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں  کنٹرول لائن پر ہند۔پاک افواج کے مابین گولی بھاری کے بعد جمعرات کو آر پار تجارت معطل رہی۔ حکام کے مطابق اُنہوں نے کراس ایل او سی فائرنگ کے بعد آج کیلئے اُوڑی پوئینٹ سے تجارت معطل کردی ہے۔ ایس ڈی ایم اُوڑی بصیر الحق نے کہا کہ فائرنگ کا علاقہ کمان پوسٹ کے قریب ہے اس لئے آج کیلئے آر پار تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ رات بھارت اور پاکستان کی افواج نے شمالی کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر گولیوں کا تبادلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق آج صبح سے مذکورہ علاقے میں آر پار گولیوں کا تبادلہ پھر سے شروع ہوگیا ہے۔ یہ واقعہ اُوڑی کے کمل کوٹ علاقے میں پیش آیا جہاں گذشتہ روز بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین ہوئی فائرنگ کے نتیجے میں بھارت کے دو فوجی زخمی ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز شام کو

ذاکر موسیٰ پنجاب میں چھپا ہے، ہائی الرٹ جاری: رپورٹ

سرینگر/حفاظتی ایجنسیوں کو ان خفیہ اطلاعات کے بعد چوکنا کیا گیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ کشمیری جنگجو ،ذاکر موسیٰ پنجاب کے فیروز پور ضلع میں بٹھنڈی علاقے میں چھپا ہوا ہے۔ سراغرساں ایجنسیوں کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ سکھ کے بھیس میں گھوم رہا ہے۔ موسیٰ غزوة الہند نامی جنگجو تنظیم کا سربراہ ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی عسکری گروہ، القاعدہ کا حصہ ہے۔ اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ فوج، پنجاب پولیس اور پیرا ملٹری اہلکاروں کو بٹھنڈا ریلوے سٹیشن اور دیگر اہم مقامات پر تعینات کیا گیا ہے اور آج صبح سے  چیکنگ کا سلسلہ بھی تیز تر کیا گیا ہے۔ فورسز نے پوسٹر بھی جاری کئے ہیں جن میں سکھ کے بھیس میں موسیٰ کو پگڑی پہنے دکھایا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی ماہ نومبر میں پنجاب کے گورداسپور اور امرتسر علاقوں میں موسیٰ کے پوسٹر جاری کئے گئے تھے۔ جنگجو

اوڑی سیکٹر میں ہند پاک افواج کے مابین شبانہ فائرنگ

سرینگر/گذشتہ رات بھارت اور پاکستان کی افواج نے شمالی کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر گولیوں کا تبادلہ کیا۔ یہ واقعہ اُوڑی کے کمل کوٹ علاقے میں پیش آیا جہاں گذشتہ روز بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین ہوئی فائرنگ کے نتیجے میں بھارت کے دو فوجی زخمی ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز شام کو دونوں طرف کی بندوقیں خاموش ہوئی تھیں تاہم دوران شب طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ پھر ہوا۔ بھارت اور پاکستان کے مابین جب بھی لائن آف کنٹرول یا بین الاقوامی سرحد پر ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو دونوں ممالک ایک دوسرے پر2003کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کرتے ہیں۔