آسیہ اور نیلوفر کی برسی:30مئی کو شوپیان میں گیلانی کی ہڑتال اپیل

سرینگر/حریت کانفرنس (گ) کے چیئر مین سید علی گیلانی نے سوموار کو جنوبی ضلع شوپیان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آسیہ اور نیلوفر کی برسی پر30مئی کو ہڑتال کریں ۔ دو جواں سال خواتین،آسیہ اور نیلوفر ساکنان شوپیان29مئی2009کو لاپتہ ہوئیں تھیں اور اُن کی لاشیں ایک روز بعد 30مئی کو نالہ رمبی آرا سے بر آمد ہوئی تھیں۔ وادی بھر میں مذکورہ خواتین کی مبینہ عصمت دری و قتل کے اس معاملے کو لیکر شدید احتجاج ہوا تھا ۔ عام لوگ آسیہ اور نیلوفر کی مبینہ عصمت دری و قتل کا الزام فورسز پر عاید کررہے ہیں۔ اس کیس کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کرائی گئی جس نے دونوں کی موت کو ''پانی میں ڈوبنے کا حادثہ'' قرار دیا۔ تاہم سی بی آئی کے مذکورہ فیصلے کو عوامی و قانونی حلقوں نے ''مجرموں کو بچانے'' کی کوشش قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔ اُس وقت کے ریاستی چیف جسٹس ،جسٹس بارین

ذاکر موسیٰ ہلاکت: کشمیر کے ہائیر سیکنڈری سکول و کالیج آج بھی بند رہے

سرینگر/جنگجو کمانڈرذاکر موسیٰ کی ہلاکت کیخلاف ممکنہ احتجاج کو روکنے کیلئے حکام نے سوموار کو بھی وادی کشمیر کے متعدد تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا کام معطل رکھا۔ القاعدہ کے کشمیر چیپٹر ،انصار غزوة الہند نامی عسکری گروہ کا چیف کمانڈر ذاکر موسیٰ 23مئی کو ترال کے داڈہ سرہ علاقے میں فورسز کے ساتھ معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہوگیا۔ حکام کے مطابق دسویں تک کے سکولوں میں معمول کا کام ہوتا رہا تاہم اکثرہائیر سیکنڈری سکول اور کالیج سرینگر،اننت ناگ، کولگام ،بڈگام ، گاندربل، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں ''احتیاطی طور'' بند رہے۔ شوپیان ضلع میں تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کے احکامات صادر کئے گئے تھے جبکہ پلوامہ ضلع میں بھی تعلیمی اداروں کے اندر درس و تدریس کا کام ٹھپ رہا۔    

دھماکہ خیز مواد کو ضائع کرنے کے بعد جموں۔راجوری شاہراہ پرٹریفک بحال

سرینگر/جموں۔راجوری شاہراہ پر سوموارکو موجود بارودی مواد ضائع کرنے کے بعد مذکورہ شاہراہ پر ٹریفک کوبحال کیا گیا۔ آج صبح شاہراہ پر واقع کلار چوک نامی مقام پر بارودی مواد دیکھا گیا تھا جس کے بعد بم ضائع کرنے والے اہلکاروں کو طلب کیا گیا۔ فوج اور پولیس نے شاہراہ پر تب تک ٹریفک معطل رکھی جب تک ماہرین نے بارودی مواد کو ضائع کیا جس کے بعد گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی۔ ذرائع کے مطابق فوج کی ایک پارٹی نے بارودی مواد کو دیکھتے ہی صبح آٹھ بجے ٹریفک کو احتیاطی طور روک دیا تھا۔  

ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے بعد گرفتار نوجوانوں کو رہا کیا جائے: حسنین مسعودی کا مطالبہ

سرینگر/نیشنل کانفرنس لیڈر اور اننت ناگ نشست کیلئے نو منتخب پارلیمنٹ ممبر جسٹس (ریٹائرڈ )حسنین مسعودی نے پیر کو مطالبہ کیا کہ جنوبی کشمیر میں اُن سبھی نوجوانوں کو رہا کیا جائے جنہیں جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار شدہ نوجوانوں کو رہا کیا جانا چاہئے تاکہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کھنہ بل اننت ناگ میں ایک پارٹی تقریب کے دوران کہا'' ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن سبھی گرفتار شدہ نوجوانوں کو فوری طور رہا کیا جائے جنہیں ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے پس منظر میں گرفتار کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں''۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے پس منظر میں اننت ناگ، ککر ناگ،قاضی گنڈ، اونتی پورہ، پانپور،سیر ہمدان اور جنوبی کشمیر کے دوسرے علاقوں سے سینکڑوں نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لائ

جموں۔راجوری شاہراہ پر مشکوک چیز کی موجودگی کے بعد ٹریفک معطل

سرینگر/جموں۔راجوری شاہراہ پر سوموار کی صبح کسی مشکوک چیز کی موجودگی کے بعد ٹریفک معطل کیا گیا اور گاڑیوں کی نقل و حمل روک دی گئی۔ یہ مشکوک چیز شاہراہ پر واقع کلار چوک نامی مقام پر دیکھی گئی۔ ذرائع کے مطابق فوج کی ایک پارٹی نے مشکوک چیز کو دیکھتے ہی صبح آٹھ بجے ٹریفک کو احتیاطی طور روک دیا ۔ ذرائع نے مزید کہا کہ بم ناکارہ کرنے والی ٹیم جائے مقام پر پہنچ گئی ہے ۔  

تازہ ترین