تازہ ترین

کورونا : عید گاہ اور لال بازا ر کنٹین منٹ زون قرار دینے کے بعد سیل

سری نگر// سری نگر کے عیدگاہ اور لال بازار علاقوں کو آنے اور جانے والے تمام راستوں کومنگل کے روز سیل کیا گیا ۔اِن علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کورونا وائرس سے متاثرہ کئی اَفراد کے رِپورٹ موصو ل کرنے کے بعد لیا گیا۔  ضلع مجسٹریٹ سری نگر ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری ،جنہوں نے اِس سلسلے میں احکامات جاری کئے ، نے کہا کہ ان علاقوں کو سیل کرنے کا مقصد کورونا وائرس کی وَباءکو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس عمل سے ان علاقوں میں سروے کا کام بھی ممکن ہوجائے گا۔  اقبال چودھری نے کہا کہ سیل کئے گئے تمام علاقوں میں اشیائے ضروریہ و دیگر خدمات پہنچانے کے لئے باقاعدہ ایک منصوبے کی تشکیل یقینی بنائی گئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سیلنگ آڈر پر سختی سے عمل آوری کے لئے باقاعدہ نگرانی عمل میں لائی جائے گی اور اِس کے علاوہ اِن علاقوں میں طبی ٹیموں کو بھی بھیج دیاجائے گا۔  شاہد اقب

آج سے 3دن تک بارشوں کا امکان :محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

سرینگر//محکمہ موسمیات نے جموں کشمیر کے اکثر حصوں میں منگل سے گرج چمک کے ساتھ بارشوں کے ایک اور مرحلے کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ کے ڈائریکٹر سونم لاٹس نے کہا”فی الوقت خطے کے اندر آسمان ابر آلود ہے“۔ محکمہ کے مطابق اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آج سے جموں کشمیر میں بارشوں کا تازہ سلسلہ شروع ہوگا۔لوٹس نے کہا”گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ اگلے تین دن جاری رہنے کا امکان ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ11اور12فروری کو موسم زیادہ تر خشک رہنے کا امکان ہے۔لوٹس نے کہا”اس کے بعد13اور14اپریل کو ایک بار پھر موسم خراب ہوسکتا ہے،اس عرصہ کے دوران لداخ خطے کے ذانسکار اور کرگل علاقوں میں ہلکی برفباری بھی متوقع ہے“۔  

محبوبہ مفتی گھر منتقل، پی ایس اے کے تحت حراست کا سلسلہ جاری

سرینگر//سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی)صدر محبوبہ مفتی، جو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقید ہیں، کو منگل کے روز اُنکے گھر منتقل کیا گیا۔ اس سے قبل محبوبہ کی منتقلی کے سلسلے میں محکمہ داخلہ نے ایک آرڈر جاری کردیا۔ محبوبہ کوگذشتہ برس5اگست کو احتیاطی حراست میں لیا گیا تھا تاہم اُن پراس سال6فروری کو پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا۔ محبوبہ مفتی مولانا آزاد روڑ پر واقع ایک سرکاری عمارت میں مقید تھیں ، جس کو سب جیل قراردیا گیا تھا۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری آرڈر کے مطابق اُن کی منتقلی سے قبل محبوبہ کی سرکاری رہائش گاہ”فیئر ویو گپکار روڑ“ کو فوری طور پر سب جیل قرار دیا گیا ہے۔  

بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں نیا داخلہ عمل شروع،آن لائن درخواستیں طلب

سرینگر//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری نے انڈر گریجویٹ اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز کیلئے نیا داخلہ عمل کو شروع کرتے ہوئے اہل اُمیدواروں سے آن لائن درخواستیں طلب کی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اہل اُمیدواروں سے کہا ہے کہ وہ مختلف کورسز کیلئے2020-21سیشن کیلئے اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔ یونیورسٹی نے جن شعبہ جات کیلئے اہل اُمیدواروں سے آن لائن درخواستیں طلب کی ہیں اُن میں پی جی/یو جی/بی ٹیک/اور ڈپلوما کورسز شامل ہیں۔اس سلسلے میں یونیورسٹی نے باضابطہ ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُمیدوار اپنی درخواستیںhttp://www.bgsbu.ac.in  پر جمع کراسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فون نمبرات7780927045 اور7006321557پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔  

ایل جی نے ایک سال کیلئے اپنی تنخواہ کی 30 فیصد رقم کورونا سے متاثرہ افراد کیلئے وقف کی

جموں//لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو نے اگلے ایک سال کیلئے اپنی تنخواہ میں سے 30 فیصد رقم کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی بہبودی و علاج و معالجے کیلئے وزیر اعظم ریلیف فنڈ میں وقف کرنے کا اعلان کیا ۔  لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس وبائی بیماری کا مقابلہ کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں اور بحثیت ایک شہری یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم موجودہ صورتحال سے مقابلہ کرنے کیلئے اس عمل میں بھر پور اشتراک کریں ۔  

تین نئے مثبت معاملات سامنے آئے،35,243 اَفراد زیر نگرانی

جموں//حکومت نے پیر کے روز کہا کہ جموںوکشمیر میں آج کورونا وائر س کے 3 مثبت نئے معاملات سامنے آئے ہیں اور ان سبھی کا تعلق کشمیر صوبے سے ہے۔اس طرح جموں وکشمیر میں مثبت معاملات کی کل تعداد 109تک پہنچ گئی ہے۔  حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلٹین میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے 109 مثبت معاملات میں سے 103 سرگرم معاملات ہیں ،04 مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور 02کی موت واقع ہوئی ہے۔ان معاملات میں سے 85معاملات کشمیر صوبے سے جبکہ 18معاملات جموں صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب تک 35,243 ایسے اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفری پس منظر ہے یا جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں ۔ ان میں سے 10,556 اَفراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے کورنٹین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ615 اَفراد کو ہسپتال کورنٹین میں رکھا گیا ہے۔103کو ہسپتال آ

کورونا مخالف اقدام :کالیج پرنسپلوں کو رضاکار فراہم کرنے کی ہدایت

سرینگر// جموں کشمیر میں حکا م نے سبھی کالیج پرنسپلوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے رضاکار گروہ فراہم کریں جو انتظامیہ کو کورونا وائرس سے پیدا صورتحال سے نمٹنے میں مدد کریں گے ۔ اعلیٰ تعلیم کے سیکریٹری طلعت پرویز کی طرف سے جاری آرڈر میں مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے متعدد کالیج پرنسپلوں کو ہدات دی گئی ہے کہ وہ تدریسی و غیر تدریسی عملے پر مشتمل5سے15افراد کے ایسے رضاکارانہ گروپ فراہم کریں جو ”کیمونٹی لیڈر“ بن کرضلع انتظامیہ کو کورونا سے پیدا صورتحال سے نمٹنے میں تعاون فراہم کریں۔  آرڈر میں بتایا گیا ہے”ہر گروپ کا ایک ممبر لیڈر ہو گا،کالیج کے پرنسپل سبھی گروہوں کے معاونین کے طور کام کریں گے اور انتظامیہ کے ساتھ گروہ کے ممبران کی تربیت ، تعیناتی اور ضروری احکامات کیلئے کارڈی نیٹ کریں گے“۔  تعلیم کے سیکریٹری کے مطابق یہی گروپ ممبران لوگوں کو کورونا سے

کورونا :قرنطین کی مدت مکمل کرنے والے161افراد گھروں کیلئے راونہ

سرینگر//طالب علموں اور دیگر مسافروں پر مشتمل161افراد کو پیر کے روز وادی کے مختلف اضلاع میں قائم قرنطین مراکز پر مطلوبہ مدت مکمل کرنے کے بعد گھروں کیلئے روانہ کیا گیا۔  سرکاری ذرائع نے کہا کہ 24مارچ کو سرینگر ایئر پورٹ سے 161افراد کو قرنطین کیلئے لیجایا گیا تھا۔ یہ سبھی افراد باہری ریاستوں یا ممالک سے آئے تھے۔مذکورہ ذارئع نے مزید کہا کہ مذکورہ افراد کے نمونے حاصل کرکے اُن کے ٹیسٹ بھی کرائے گئے تھے جن کے رپورٹ منفی آئے ہیں۔ دریں اثناءمذکورہ افراد کو قرنطین کے دوران ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے پر محکمہ صحت کے حکام،پولیس اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔قرنطین کی مدت مکمل کرنے والے ایک نوجوان کے والد نے کہا”ہم محکمہ صحت کے حکام اور پولیس کے مشکور ہیں جو اس عمل کے ساتھ پورے وقت تک جُڑے رہے “۔  

کورونا بحران: راجستھان میں قرنطین کی مدت مکمل کرنے والے کشمیریوں کی واپسی کا مطالبہ

سرینگر//وسطی ضلع بڈگام کے ماگام قصبہ میں پیر کے روز بیسیوں ایسے والدین نے خاموش احتجاج کیا جن کے بچوں نے جیسلمیر راجستھان میں اپنی قرنطین کی مدت مکمل کرلی ہے لیکن اُنہیں واپس نہیں لیا جارہا ہے۔  مذکورہ والدین نے کہا کہ اُن کے بچے تہران میں زیر تعلیم تھے اور موجودہ طبی ایمرجنسی کی وجہ سے اُنہیں15مارچ کو وہاں سے واپس لاکر راجستھان میں قرنطین کیلئے لیجایا گیا۔مذکورہ سبھی نوجوانوں نے اب قرنطین کی مدت مکمل کرلی ہے۔ احتجاجی والدین نے کہا”ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو راجستھان سے گھر لایا جائے، اُنہوں نے اگر چہ قرنطین کی مدت مکمل کرلی ہے پھر بھی ہم اُنہیں ہوم قرنطین میں رکھیں گے مگر اُنہیں واپس لایا جانا چاہئے“۔ مذکورہ طالب علموں کی تعداد120ہے جنہیں15مارچ کو تہران سے لایا گیا تھا۔  

سامبہ میں قرنطین مرکز سے فرار ہونے والا شخص بازیاب، کیس درج

سرینگر//ضلع سامبہ میں کورونا وائرس کے ایک مشتبہ مریض کو قرنطین مرکز سے فرار ہونے کے بعد واپس لایا گیا جس کے بعد پولیس نے اُس کیخلاف کیس درج کرلیا۔ سرکاری ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ ہندوارہ کا رہنے والا ایک شخص گذشتہ روز سامبہ میں قائم ایک قرنطین مرکز سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی ایک ٹیم نے مذکورہ شخص کو بازیاب کرکے واپس قرنطین مرکز پہنچایا۔ سرکاری ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ شخص کو اچھی طرح معلو م ہے کہ کورونا وائرس کتنا مہلک ہے اور اس کے باوجود قرنطین مرکز سے جان بوجھ کر بھاگ گیا جس کی وجہ سے اُس نے باقی لوگوں کو خطرے میں مبتلاءکیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص کیخلاف رام گڑھ پولیس سٹیشن میں کیس درج کرلیا گیا ہے۔  

تما م اضلاع میں کورو نا کے مخصوص ہسپتالوں میں ٹیسٹنگ کی جارہی ہے: ناظم صحت

سری نگر// جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کے لئے جو ہسپتال مخصوص کئے گئے ہیں اُن میں موثر طور ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ناظم صحت کشمیر ڈاکٹر سمیر مٹو نے اتوار کوکہا کہ کشمیر میں 8 جبکہ جموں میں 3مخصوص ہسپتال کوروناکے لئے مخصو ص کئے گئے ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت کے عملے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے دِن رات دستیاب رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ڈاکٹر سمیر مٹو نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عالمی صحت تنظیم کی ہدایات کے مطابق تمام طرح کی احتیاط برتیں تاکہ اس وائرس کے پھیلاﺅ کو روکا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے مشتبہ مریضوں کو کورنٹین کرنے اور آئیسولیشن کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے مناسب اقداما ت کئے ہیں۔ڈائریکٹر موصوف نے کہا کہ محکمہ صحت 25لیب ٹیکنشنز کو خصوصی تربیت دے رہی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ریڈ زون اور بفر زون کا جائزہ لیں تاکہ کورونا وائرس کے مریضوں کے رابطے

کورونا :جموں کشمیر میں 33,503 اَفراد زیر نگرانی

جموں//حکومت نے اتورا کو کہا کہ جموںوکشمیر میں آج کورونا وائر س کے 14نئے معاملات سامنے آئے ہیں ۔ ان سبھی کا تعلق کشمیر صوبے سے ہے۔اس طرح جموں وکشمیر میں مثبت معاملات کی کل تعداد 106تک پہنچ گئی ہے۔  حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلٹین میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے 106 مثبت معاملات میں سے 100 سرگرم معاملات ہیں ،04 مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور 02کی موت واقع ہوئی ہے۔ اب تک 33,503 ایسے اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفری پس منظر ہے یا جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں ۔ ان میں سے 10,981 اَفراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے کورنٹین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ619 اَفراد کو ہسپتال کورنٹین میں رکھا گیا ہے۔100کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 16,237 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن

کپوارہ میں دراندازی مخالف آپریشن کے دوران5جنگجو ،فوجی اہلکار ہلاک: فوج

سرینگر//دفاعی ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ شمالی ضلع کپوارہ میں کنٹرول لائن پر دراندازی کی ایک کوشش کوناکام بناتے ہوئے فوج نے 5جنگجوﺅں کو جاں بحق کیا جبکہ اس آپریشن کے دوران1فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کشمیر کے کیرن سیکٹر میں در اندازی مخالف آپریشن کے دوران جن5 جنگجوﺅں کو ہلاک کیا گیا وہ کنٹرول لائن عبور کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ اس آپریشن کے دوران ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک اور 2 دیگرشدید زخمی ہوگئے تھے۔ فوجی ترجمان راجیش کالیا نے کہا کہ علاقے میں موسم خراب ہونے کے نتیجے میں زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ علاقے میں فوج کا آپریشن جاری ہے۔  

کورونا مخالف اقدام:وادی بھر میں لاک ڈاﺅن کا سلسلہ لگاتار جاری

سرینگر//کورونا وائرس کے مریضوں میں مزید 14کے اضافے کے دوسرے روز اتوار کو وادی بھر میں کورونا مخالف لاک ڈاﺅن جاری ہے۔جموں کشمیر میں لاک ڈاﺅن کا سلسلہ 22مارچ سے جاری ہے جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے بعد پورے ملک میں لاک ڈاﺅن 24مارچ سے جاری ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق لاک ڈاﺅن کا مقصد مہلک کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنا ہے۔ شہر سرینگر اور وادی بھر کی سبھی شاہراﺅں اور رابطہ سڑکوں پد پولیس اورفورسز نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں تاکہ لاک ڈاﺅن کو موثر بنایا جاسکے۔ وادی کشمیر کے سبھی چھوٹے بڑے قصبہ اور دیہات میں دکانیں اور کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں اور سڑکوں پر ہُو کا عالم ہے تاہم انتظامیہ نے اشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے ضروری انتظامات کررکھے ہیں۔

سی بی ایس ای سکولوں سے وابستہ سٹاف اورطلاب کو دیئے جلانے کی ہدایت

سرینگر//سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجو کیشن (سی بی ایس ای) نے اپنے سکولوں سے وابستہ طالبان علم اور سٹاف ممبران سے کہا ہے کہ وہ اتوار رات نو بجے اپنے اپنے گھروں کے اندر دیئے یا اپنے سیل فونوں کی ٹارچ جلاکر اُن کوششوں میں شامل ہوجائیں جو مہلک کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کی جارہی ہیں۔ یہ ہدایت وزیر اعظم نریندر مودی کی اُس اپیل کے بعد دی گئی ہے جس میں اُنہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ 5اپریل بروز اتوار رات نو بجے بجلی بند کرکے اپنے اپنے گھروں میں نو منٹوں تک دیئے یا سیل فونوں کی ٹارچ جلائیں۔ سی بی ایس سی کے ڈائریکٹر اکیڈیمکس نے سکولوں کے نام جاری ایک خط میں لکھاہے”طالبان علم ، سکولوں کا دیگر سٹاف اور اُن کے اہل خانہ 5اپریل رات نو بجے نو منٹوں تک دیئے،شمع، یا اپنے موبائیل فونوں کی ٹارچ جلائیں تاکہ پورے ملک کی یکجہتی کا اظہار ہو“۔ خط میں مزید درج ہے” یاد ر

کورونا وائرس کے نئے 17معاملات سامنے ، 28,545 اَفراد زیر نگرانی

جموں//حکومت نے سنیچر کو کہا کہ جموںوکشمیر میں آج کورونا وائر س کے 17نئے معاملات سامنے آگئے ۔ ان میں 3 کا تعلق جموں صوبے اور 14 کا تعلق کشمیر صوبے سے ہے۔اس طرح جموں وکشمیر میں مثبت معاملات کی کل تعداد 92تک پہنچ گئی ہے۔حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلٹین میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے 92 مثبت معاملات میں سے 86 سرگرم معاملات ہیں ،چار مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور دو کی موت واقع ہوئی ہے۔ اب تک 28,545 ایسے اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفری پس منظر ہے یا جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں ۔ ان میں سے 10,606 اَفراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے کورنٹین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ682 اَفراد کو ہسپتال کورنٹین میں رکھا گیا ہے۔86کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 12,795 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی

صورتحال قابو میں،گھبرانے کی کوئی بات نہیں: صوبائی کمشنر

سرینگر//صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے سنیچر کے روز کہا کہ کوروناوائرس کے مشتبہ افراد جو بیرونِ ممالک سے واپس لوٹے ہیں اور اس وقت انتظامی کورنٹین میں رکھے گئے ہیں ، کا ٹیسٹ اگر منفی پایا گیا کو تین دنوں کے اندر اپنے گھروں کو بھیج دیا جائے گا جہاں وہ 14 دن اور ہوم کورنٹین میں رہیں گے ۔  ان باتوں کا اظہار صوبائی کمشنر نے کے سی سی آئی کے نمائندوں اور سول سوسائیٹی گروپوں کے ممبران کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران کیا ۔ میٹنگ کا انعقاد وادی بھر میں صوبائی انتظامیہ کی طرف سے کووڈ 19 وباءکو پھیلنے سے روکنے کے سلسلے میں کی جا رہی تیاریوں اور انتظامات کے بارے میں معلومات فراہم کرنی تھیں ۔  انہوں نے کہا کہ اس وقت کووڈ 19 کے مختلف معاملات سامنے آ رہے ہیں اور اُن کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ ایسے افراد کو سی ڈی ہسپتال ڈل گیٹ ، سکمز صورہ اور سکمز بمنہ کے علاوہ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال پٹن اور س

اقامتی قانون میں ترمیم بناوٹی: نیشنل کانفرنس

سرینگر//جموں کشمیر نیشنل کانفرنس نے سنیچر کے روز مرکز کے زیر انتظام علاقہ کیلئے نئے اقامتی قانون کی ترمیم کو ”بناوٹی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ مرکز کے ہاتھوں جموں کشمیر اور اس کے لوگوں کے ساتھ ایک اور کھلواڑ کی مثال ہے“۔پارٹی نے کہا کہ مذکورہ ترمیم سے یہاں کے آبادی کے تناسب کو بگڑنے سے بچانے کی کوئی گارنٹی حاصل نہیں ہوگی۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اقامتی قانون کی ترمیم کو”بناوٹی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار نے ”محض غیر مقامی باشندوں کا راستہ بدل دیا ہے جبکہ منزل اب بھی کھلی ہے“۔ انہوں نے کہا”نوکریوں کیلئے براہ راست درخواست دینے کے بجائے غیر مقامی افراد کو اب پہلے اقامتی سند فراہم کی جائے گی اور بعد میں نوکری،اقامت کو سات سال کا عرصہ گذارنے والے ہر فرد کیلئے کھلا رکھنے سے یہاں موجود لاکھوں غیر مقامی افراد اس زمرے م

ڈوڈہ میں دینی مدرسہ کی ہوسٹل عمارت قرنطین مرکز کیلئے وقف

سرینگر//ضلع ڈوڈہ میں قائم ایک معروف دینی مدرسہ کی انتظامیہ نے سنیچر کے روز ہوسٹل عمارت کو کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو قرنطین کرنے کیلئے وقف کیا جس کے اندر100بستروں پر مشتمل خصوصی مرکز قائم کیا جائے گا۔ انتظامیہ کو لکھے ایک خط میں غنیة العلوم واقع اکھیر پورہ نامی مدرسہ کے پرنسپل مفتی برہان الحق گانی پوری نے کہا کہ مذہبی ادارے کی ہوسٹل عمارت کو کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو قرنطین کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا تاکہ اس مہلک وائرس کو ضلع میں پھیلنے سے روکا جاسکے۔ غنیة العلوم جموں صوبے کا سب سے بڑا دینی مدرسہ ہے جو ضلع ڈوڈہ میں بھلیسہ کے تحصیل چلی پنگل میں قائم ہے۔ مفتی نے مزید کہا”ہم ہوسٹل عمارت کو قرنطین مرکز کیلئے وقف کرنے کیلئے تیار ہیں جو ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں کوئی اسپتال یا سرکاری عمارت موجود نہیں ہے“۔انہوں نے کورو نا وائرس سے پیدا صورتحال کا م

جموں کشمیر میں کورونا وائرس کے مزید3مثبت کیس

سرینگر//جموں کشمیر میں سنیچر کو مزید تین افراد کورونا وائرس میں مبتلاءپائے گئے جب مذکورہ افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔اس طرح جموں کشمیر کے اندر مہلک کورونا وائرس میں مبتلاءمریضوں کی تعداد78ہوگئی ہے،جن میں سے دو فوت ہوگئے ہیں۔ سرکاری ترجمان اور پرنسپل سیکریٹری پلاننگ روہت کنسل نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ نئے تین مریضوں کا تعلق جموں صوبے کے نارسو، اُدھمپور علاقے سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ تینوں افراد حال ہی میں باہر کے ممالک سے آئے تھے۔ واضح رہے کہ ابھی تک وادی کشمیر میں54جبکہ جموں صوبے میں 19افرادکورونا وائرس میں مبتلاءپائے گئے ہیں۔