تازہ ترین

سعیدہ کدل اور مضافاتی علاقوں میں سڑکوں کی حالت خستہ

سرینگر //جھیل ڈل کے گرد ونواح میں آباد بستیوں سے نکلنے کیلئے جہاں جھیل ڈل کے ارگرد کئی علاقوں میں کام جاری ہے وہیں سڑکیں اور گلی کوچوں میں پائپیں بچھانے اور ڈرینیج تعمیر کرنے کے عمل نے لوگوں کا جینا مشکل کردیا ہے کیونکہ پائپوں کی تنصیب اور ڈرینوں کی تعمیر سے لوگوں اور ٹریفک کی نقل حمل میں مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔ سعیدہ کدل اور اسکے گردونواح میں آنے والے علاقوں میں جہاں پائپوں کی تنصیب کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب جن علاقوں میں ڈرینیج کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرینیج کی تعمیر کے بعد میگڈیم بچھانے میں تاخیر سے آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سعیدہ کدل کے رہنے والے طارق احمدنے بتایا کہ سعیدہ کدل سے لیکر کاٹھی دروازہ تک پائپ بچھانے کا کام چند ہفتوں پہلے مکمل ہوچکا ہے مگر سڑک پر میگڈم وقت پر نہ بچھانے کی وجہ سے سڑک سے اٹھنے والے دھول سے لوگوں کو سخت مشکلات کا

بلیوارڈ روڑ پر جگہ جگہ میگڈم اکھڑگیا

 سرینگر //جھیل ڈل کی خوبصورتی دنیا کے کونے کونے سے سیاحوں کو کھینچ کر یہاں لارہی ہے مگر ڈلگیٹ سے نشاط ،شالیمار اور نسیم باغ سڑک جسے بلیوارڈ بلواڑ روڑ کا نام دیا گیا ہے، پر کئی ایک مقامات پر گہرے کھڈوں نے نہ صرف غیر ریاستی سیاحوں کو بلکہ مقامی لوگوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر اگرچہ ان تین برسوں میں دو سے تین بار تارکول بچھایا گیا لیکن یہ سرما میں بارشوں اور برف باری کے بعد اکھڑ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سڑک کے مختلف مقامات پر دوبارہ گہرے کھڈے پیدا ہو گئے ہیں۔ڈل میں شکارہ چلانے والے علی محمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اُن کھڈوں کو بھرنے کے حوالے سے سرکاری اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈل جھیل کو دیکھنے ہزاروں سیاح یہاں آتے ہیں لیکن انہیں بلیوارڈ سڑک پر پیدا ہوئے گہرے کھڈوں سے کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ

بٹوارہ میں 6دہائی پرانا ڈاک خانہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر مقفل

سرینگر//بٹوارہ میں قریب 4ماہ قبل 6دہائیو ں سے قائم ڈاک خانہ کو کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے بند کئے جانے سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مقامی آبادی نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاک خانہ کو کسی موزون جگہ پر دوبارہ کھولا جائے جس پر کنٹونمنٹ بورڈ بھی معترض نہ ہو۔ شہر کے بٹوارہ علاقے میں گزشتہ 60 برسوں سے زائد عرصے سے قائم ڈاک خانہ کو کنٹونمنٹ بورڑ نے مارچ میں اچانک بند کردیا جس کی وجہ سے قریب 40 ہزار کی آبادی کو گزشتہ 4ماہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔ سرینگرمیں قائم قدیم ڈاک خانوں میں سے ایک ڈاک خانہ کو مارچ میںمقفل کر دیااور تمام سامان اور دیگر اشیاء کو گاڑیوں میں لادکر جنرل پوسٹ آفس منتقل کیا گیا۔ مقامی لوگ حسرت بھری نگاہوں سے اس قدیم ڈاک خانے کو مقفل ہوتے دیکھتے ہی رہ گئے۔ م

ہمدانیہ کالونی بمنہ سیکٹر 1سے 12سیکٹر

سرینگر //ہمدانیہ کالونی بمنہ میں سیکٹر 1سے لیکر سیکٹر 12تک سڑکوں کی خستہ حالی اور ترسیلی لائنوں کا خطرہ عوام کیلئے لٹکتی تلوار کے مانند ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار نے ان تمام کالونیوں کو نظر انداز کیا اور یہاں تعمیر وترقی کے دعویٰ بھی فرضی ہے ۔مین سڑک سے اُن کالونیوں میں جانے والی اندروانی سڑکوں کی حالت ایسی ہے کہ وہاں گہرے کھڈے پیدا ہوئے ہیں جبکہ بارشوں میں یہ سڑکیں تالاب کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کالونیوں میں سے کئی ایک کالونیاں ایسی ہیں جہاں ڈرنیج سسٹم بھی موجود نہیں ہے اورگھروں سے نکلنے والے گندے پانی کی نکاسی نہیں ہو پا رہی ہے ۔ان کالونیوں میں نہ صرف سڑکیں خستہ حال ہیں بلکہ بجلی کی ترسیلی لائنیں بھی عارضی طور پر پیڑ وں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں جس سے اُن کالونیوں میں عوام کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے ۔لوگوں کاکہنا ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے کئی مرتبہ مح