تازہ ترین

کشمیر ویلی۔۔۔۔ اسٹوری آف اے جرنلسٹ

وادی کے ایک ہدایت کار حسین خان نے’’ کشمیر ویلی ۔۔۔ اسٹوری آف اے جرنلسٹ‘‘ کے عنوان سے ایک فلم بناکر ثابت کردیا کہ پردے پہ عشقیہ کہانیوں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ پیش کیاجا سکتا ہے۔ خان نے تین سال تک محنت و مشقت کے بعد ایک ایسی کہانی پردے پر لائی جو تمباکو،ڈرگ مافیا،سگریٹ نوشی جیسی کئی برائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ فلم میں کئی نقلی غیر سیاسی ایجنسیوں کا پردہ بھی فاش کیا گیا ہے۔میرے خیال میں فلم میں 80% سماجی برائیوں کی عکس بند ی کی گئی ہے۔ یہ فیوچر فلمز کشمیر کی پہلی پیش کش ہے جو اردو زبان میں دستیاب ہے ۔ آج کل اس کا کشمیری ورژن چلایا جارہا ہے۔سرکار نے 20؍مارچ تا 4؍اپریل اسے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوؤکیشن سنٹر میں اس کاشو کر نے کا موقع فراہم کیا۔فلمساز کا کہنا ہے کہ یہ میرے بچپن کاخواب تھا۔یونیورسل سرٹیفکیٹ پانے والی یہ فلم شائقین کے لئے مفید ثابت ہونے کی توقع ہے۔اُ

پنڈت رام چند کاک

 تاریخ گواہ ہے کہ اہل کشمیر نے بہت کم ایسے لیڈروں اور حاکموں کو دیکھا ہے جنہوں نے اس قوم کو لوٹنے کی بجائے اس کی بھلائی اور بہتری کے لئے اپنے دل اور دماغ کی توانائیاں صرف کیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج تک ہم نے قائد اعظم جیسا بے لوث رہنما ، گاندھی جیسا بے نفس نیتا یہاں پیدا ہی نہ کیا۔ اس معاملے میں ہماری سر زمین بانجھ ہے ۔ البتہ تاریخ کے اوراق کھنگالتے ہوئے کئی ایک تابناک شخصیات سے ہماراسابقہ پڑتاہے جن کے ذاتی اوصاف کی کھلی کتاب قابل صد ستائش ہے ۔ انہی شخصیات میں مہاراجہ ہری سنگھ کے آخری ایام کے وزیراعظم کشمیر پنڈت رام چند کاک بھی شامل ہیں جنہوں نے کسی نتیجے کی پرواہ کئے بغیر علی الاعلان ریاست کے سیاسی مستقبل کے لئے ایک صحت مند، باوزن اور بااصول رائے دی اور یوں اپنے منصب کا ہی حق اد ا نہ کیا بلکہ کشمیرکا سپوت ہونے کا بھی ثبوت پیش کیا ۔افسو س ان ایام میں کاک صاحب کو وقت کے جابروں نے اُن

آہ! آزادی پسندنذیر احمد وانی

 موقر انگریزی روزنامہ’’ گریٹر کشمیر‘‘(  ۱۸؍مارچ) کے صفحہ اول پر نذیر احمد وانی ولد غلام رسول وانی کی امریکہ میں وفات کی خبر پڑھ کر مجھے بہت دکھ اور افسوس ہوا ۔ اس سانحہ ٔارتحال کے ساتھ ہی اچانک ماضی کی کچھ یادیں مجھے تازہ ہوگئیں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کرے ۔مرحوم نذیر احمد دراصل شہر خاص تارہ بل سرینگر کے وانی خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ یہ خانوادہ محاذ رائے شماری سے وابستہ ہونے کے کارن سیاسی سرگرمیوں میں مشغول رہتا تھا ، اس کی پاداش میں بخشی دور حکومت میںمرحوم نذیر احمد کے والد غلام رسول وانی کو سرینگر سے مظفر آباد جلائے وطن کیا گیا تھا ۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب نذیر احمد وانی اپنے ہم جماعتی میر شوکت احمد کے ساتھ آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے اور راقم السطور ایس پی کالج میں زیر تعلیم تھا ۔چنانچہ ایک دن وانی خاندان کے حاجی احمد اللہ صاحب جو کہ

خدا وندانِ محکمہ تعلیم سے

ریاست جموں کشمیر میں ہر دور میں حکومت کی جانب سے ہمیشہ محکمہ تعلیم پر ہی تلوار گرتی رہی ہے اور یہی محکمہ حالات کا سب سے زیادہ متاثر رہا ہے۔ ابھی سال 2016ء کی غم زدہ یادیں تازہ ہی ہیں کہ حکومت کی جانب سے یکم مارچ 2017ء کو اساتذہ کے تبادلوں کے بارے میں حکم نامہ منظر عام پر آگیا۔اگر چہ کسی بھی محکمے کے ملازمین کے تبادلے عوامی مفاد کے پس منظر میں کئے جاتے ہیں لیکن یہاں اس کے برعکس ہوا ، نتیجہ یہ کہ محکمہ تعلیم کے تبادلوں سے عوام کا ایک وسیع حلقہ ناراض ہوگیا۔کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگرتبادلے عمل میں لانے ہی تھے تو سرما کی تین مہینوں کی چھٹیوں میں تبادلے عمل میں لائے جاسکتے تھے۔بات یہیں پر ختم ہوجاتی تو زیادہ شوروغل نہیں اٹھتا،لیکن محکمہ تعلیم نے جن اساتذہ صاحبان کا تبادلہ عمل میں لایا ،ان میں سے اکثر و بیشتر چھ ماہ پہلے ہی نوکری سے سبکدوش ہوگئے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ لیکچرر صاحبان کو

اساتذہ کا جرم کیا ؟

 انسانی معاشرہ میںسب سے اہم ترین کام تعلیم و تربیت ہے۔ تعلیم و تربیت کا مطلب ہے ایک انسان کو زندگی کا شعور بخشنا، مقصد حیات سمجھانا اور سماج کو درپیش مسائل کے حل میں آرا ء اور تجاویزپیش کرنا۔ جو معمار سیرت یہ کام اپنے کاندھوں پر لے وہی اُستاد کہلاتا ہے ۔ در حقیقت اُستاد ایک شمع کی مانند ہوتاہے جو خود جلتے جلتے چہار سُو نور افشانی کرتا رہتاہے، اسی مناسبت سے وہ اطمینان قلب اور سماج میں عزت و توقیر پاتا ہے۔ والدین کی شفقت بھری آغوش کے بعد بچہ مدرسہ کی آغوش میں اصل پرورش پاتا ہے اور یہ آغوش کہیں زیادہ وسیع ،دلکش اور پیاری ہوتی ہے۔اگرچہ ماں باپ بچے کو اللہ کے اذن سے جنم دیتے ہیں لیکن اُستادکی تربیت سے اُس کے لئے جہالت و لاعلمیت کے سمندر سے نجات دلانے والی کشتی ہوتی ہے جو اسے ساحل ِمراد تک پہنچادیتی  ہے ۔اس کے ہاں سے نہ صرف بچے کو لاڑپیار ملتا ہے بلکہ زندگی کو درکار علوم و فنون

اُستاد کی فریادSSA

دُنیا کے ہر قوم و سماج میں اساتذہ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ ہر قوم و سماج ان ہی کی کاوشوں سے مہذب بن جاتا ہے اور وقار حاصل کرتا ہے۔ قوموں کے آگے لے جانے اور ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے میں اساتذہ کا اہم  کردار  ہوتا ہے۔ اس لئے ہر زمانے میں اِ ن قوم کے معماروں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اساتذہ نے ہمیشہ اپنا خونِ صرف کرکے دوسروں کے سینوں کو علم کے نور سے منور کیا یہ دُنیا  جو آج زبردست ترقی کی راہ پر ہے اور ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے اس میں کسی نہ کسی طرح اساتذہ کا خونِ جگر شامل ہے۔ ہمارے یہاں اساتذہ کے ساتھ ناروا سلوک روا  رکھا جارہاہے، ہمارے اربابِ اقتدار ہم بے نواؤں کو بار بار پس پشت ڈال دیا ، ہمارے حقوق سلب کئے، طرح طرح کے حیلوں سے ہماری تذلیل کی گئی ، ہمارے نام آڈر پر آڈر نکالنے سے کس طرح ذہنی اذیت  ہمیںدی گئی اور کس طرح ہم کو

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف۔۔۔

جس قسم کے حالات سے اس وقت ہندستانی مسلمان گذر رہے ہیں اس کے تناظر میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ایک فیصلہ کن مرحلہ آچکا ہے، جہاں ہندوستانی مسلمان یقینا دو گروہ میں تقسیم ہوں گے۔ ایک گروہ تو ان لوگوں پر مشتمل ہوگا جو معصیت کی خاردار گھاٹیوں سے نکل کر نیکیوں کے گلشن بہار میں داخل ہونے کا ازسرنو عہد کرے گا،اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر عمل پیرا ہوگا۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہوگا جو حب جاہ، حب مال اور عہدے اور منصب کی خاطر اپنے ایمان کا سودا کرے گا۔ شریعت کو ان ادنیٰ مقاصد کے حصول کے خاطر بیچ دے گا۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم کو منافقوں کی صف میں شامل ہونے سے پوری طرح محفوظ فرمائے۔ (آمین) مسلم پرسنل لاء کو لے کر امت مسلمہ کا جو احتجاج اور دفاعی مزاج بناہوا ہے اسے قابل تعریف ضرور کہا جاسکتا ہے لیکن صرف دفاعی یا احتجاجی مزاج کا بننا ، مختلف جلسوں میں شرکت کرنا، علم

مدارس ۔۔۔ آگ زنی میں کس کا ہاتھ؟

کشمیر میں رواں ایجی ٹیشن کے دوران جہاں بے شمار دل دہلانے والے واقعات رونما ہوئے ،وہیں نظام تعلیم پر بھی اُفتاد پڑی ۔ا س بنا پر طلبہ نے نامساعد حالات کے سبب بہت کچھ کھودیا۔ اب اسکولوں کی آگ زنیاں ہورہی ہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم میں انقلاب وتغیر کی ہوائیں چلیں تو نوجوانوں خاص کر طلبہ وطالبات نے ہراول دستے کاکام دیا اور تعلیم کدوں نے انقلاب کی کامیابی میں اپنا خصوصی رول ادا کیا ۔ دنیا کا ہر باشعور اور مہذب انسان مانتا ہے کہ تعلیمی ادارہ کسی بھی قوم یا ملت کا ایک بیش قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ ان سے قوموں کی تقدیریں بدل سکتی ہیں بشر طیکہ نظام ِتعلیم اور نظر یۂ تعلم دُرست ہو۔ کشمیری قوم بہت خوش قسمت ہے کہ چرب دست و تردماغ ہو نے کے ناطے یہ تعلیم وتدریس اور خواندگی کو قدر ومنزلت کا مقام دیتی چلی آئی ہے ۔ا س نے غلامی ا ور محکومی کے دور ِ ظلمت میں بھی اپنی اس فطری خصوصیت کا قدم قدم پر ثبوت