تازہ ترین

غیرت مرگئی ہے !

 جس قوم میں غیرت اور حیا کا خاتمہ ہو جائے وہ قوم کبھی اصل معنوں میں کامیاب نہیں کہلا سکتی، اگرچہ وہ کتنی بھی مالی خوش حالی اور جسمانی تنومندی ر کھتی ہو۔ بے غیرتی اور بے حیائی انسانی معاشرے کے لئے سم قاتل سے کم نہیں ہوتی۔ جس معاشرے کے مرد وزن اس بیماری کا بر وقت تدارک نہ کریں وہ دیر سویر تباہی کے دہانے پر پہنچ کر رہ جاتے۔ یہ بات اصولاً طے ہے کہ اس نوع کی تباہی انسان کی خود کی کمائی ہوتی ہے ۔ کشمیر میں مصائب و مظالم کے بیچ بے حیائی اور بے غیر تی کا بھی دور دورہ  ہورہاہے ۔ حیا سوزی اور غیرت سے تہی دامن ہو کر ہمارا انفردای واجتماعی کردار کتنا بے ڈھب اور بد نما ،اس کا ذکر کرنے سے قلم بھی تھرا اُٹھتا ہے ۔ بے غیرتی و بے مروتی کے گدلے سمند رمیں ڈوب کر ہم کہاں پہنچے ہوئے ہیں اور ہمارا مستقبل ان حوالوں سے کتنا تاریک ہے،اس کے لئے راقم الحروف اپنے صرف ایک روز مرہ تجربے کا  ذکر کر نا

جموں کشمیر کا سیاسی بحران

 جموں کشمیر میں قریب تین سال گٹھ بندھن سرکار میں رہنے کے بعد بی جے پی نے اچانک حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کیا، جس کے بعد محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا اور صدر جمہوریہ ہند کی منظوری ملتے ہی جموں کشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ بی جے پی کے اِس یک لخت فیصلہ پر تعجب نہیں ہوا کیونکہ پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد والی حکومت جب سے بنی ہے تب سےدونوں جماعتوں کے لیڈروں میں ٹکراؤ ہی دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ محبوبہ مفتی کا وزارت داخلہ کی طرف سے جموں کشمیر میں نافذ العمل افسپا (AFSPA) اور دیگر کالے قوانین کو ہٹانے کی مانگ کرنا، پی ڈی پی کا حریت پسند لوگوں سے بات چیت کا وعدہ کرنا اور جی ایس ٹی کے نفاذ پر بھی یہ ٹکراؤ صاف نظر آ تا رہا۔ اُس پر غضب یہ کہ پولیس، فورسز اور فوج ریاستی حکومت کے ذریعے نہیں بلکہ مرکز کے ذریعہ کنٹرول کی جاتی رہی ہیں۔ یہی تضاد بی جے پی او

شینا زبان

 جموںو کشمیر کے آئین میں شامل زبانوں میں ایک زبان شینا بھی ہے ۔ یوں تو یہ زبان جموںو کشمیر کے آئین میں دردی کے نام سے درج ہے، شینا زبان بولنے والوں کی سب سے بڑی آبادی پاکستان کے شمالی علاقہ جات یعنی گلگت اور اس کے گردو نواح میں آباد ہے۔اس علاقے کو باہر والے دردستان کے نام سے جانتے ہیں اور یہاں کے رہنے والوں کو درد اور یہاں کی زبان کو دردی کہا جاتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اس بات کو آج تک سمجھ نہیں پائے کہ انہیں درد اور اُن کی زبان کو دردی کیوں کہا جاتا ہے۔یہ لوگ اپنے بودوباش کے علاقے کو’ ’شناکی‘ ‘اپنی زبان کو شینا اور خود کو شین کہتے ہیں ۔یہاں سے مختلف ادوار میں لوگ ہجرت کرتے کرتے ریاست جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ان کی زبان کو آئینی حیثیت حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے وہ تمام حقوق مل گئے جو آئ