تازہ ترین

بھاجپا وزیر کے متنازعہ بیان پر اُبال

سرینگر// حکمران جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔جمعرات کی شام پارٹی کے ممبر قانون ساز کونسل یاسر ریشی نے حلف اٹھانے انکار کردیا جبکہ حلف دلانے کی تقریب کا بھی پی ڈی پی ارکان نے بائیکاٹ کیا۔ذرائع سے کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ جموںمیں حال ہی میں نئے منتخب ہوئے ممبران قانون ساز کونسل کو حلف دلانا تھا تاہم  اس موقعہ پر پی ڈی پی کے قانون ساز کونسل ممبرحلف برداری کی رسم سے دور رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صنعت کے وزیر چندر پرکاش گنگا کے تازہ بیان اور قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان اجاگر ہوئے اختلافات کی وجہ سے یاسر ریشی حلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی حلف اٹھایا۔ذرائع کے مطابق اگرچہ پی ڈی پی کے قانون ساز کونسل ممبر سریندر چودھری،فردوس ٹاک، طفر منہاس اور سیف الدین بٹ پہلے تقریب میں شام

این سی کی ریلی،پتلا نذر آتش کردیا

سرینگر//نیشنل کانفرنس کی طرف سے پی ڈی پی سرکار کے کابینہ وزیر چندر پرکاش گنگا کے اُن ریمارکس کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ، جس میں موصوف نے کہا ہے کہ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ہیں اور کشمیر میں احتجاج اور پتھرائو کرنے والوں کیلئے گولی ہی بہتر علاج ہے‘‘۔ احتجاجی ریلی میں پارٹی کے کئی عہدیداران، یوتھ اور خواتین ونگ کے لیڈران نے شرکت کی۔ احتجاجی ریلی پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں برآمد ہوئی اور لالچوک کی طرف پیشقدمی کے دوران پولیس کی بھاری جمعیت نے احتجاج کرنے والوں کو زبردستی روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس موقعے پر مظاہرین نے زور دار نعرے بازی کی اور چندرپرکاش گنگا کا پتلا بھی بھی نذر آتش کیا۔ مظاہرین زیادتیوں، بے جا اور بلا جواز طاقت کے استعمال، پیلٹ گنوں اور گرفتاریوں کیخلاف احتجاج کررہے تھے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کاڑ اُٹھا

تاجر انجمنیں بر ہم،بیان کو انتہا قرار دیدیا

سرینگر// ریاستی وزیر پرکاش چندر گنگا کے بیان کوصنعت کاروں اور تاجروں نے مشترکہ طور پر اس طرز عمل کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ کشمیرچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز،کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن اور فیڈریشن آف چیمبر آف انڈسٹریز اینڈ کامرس کی ایک مشترکہ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں مشتاق احمد وانی،محمد اشرف میر اور محمد یاسین خان نے شرکت کی ۔ میٹنگ کے دوران موجودہ صورتحال کو زیر غور لایا گیا۔کشمیرچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر مشتاق احمد وانی نے کہا کہ میٹنگ میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے کچھ حصوں کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات سامنے آرہے ہیں جس میں معصوم لوگوں کو ڈھال بنانے اور ان پر ’’سفاکانہ طاقت‘‘ استعمال کرنے کی وکالت کی جا رہی ہے۔ میٹنگ میں وزیر صنعت چندر پرکاش گنگا کے’’اشتعال انگیز‘‘ بیان کو بھی زیر غور لا

پی ڈی پی وضاحت کرے:کانگریس

 سرینگر //ریاستی کانگریس نے ریاستی کابینہ وزیر کے بیان کو استحصالی سیاست کاحصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چندر پرکاش گنگا کا بیان حکومتی ذہنیت کی عکاس ہے ۔پارٹی ترجمان نے کہا کہ حکومت وادی کشمیر میں کشیدہ حالات کو معمول پر لانے کے بجائے اور زیادہ آگ لگا رہی ہے ،جو کہ نا قابل برداشت ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام کشمیر میں حالات کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہے جبکہ بی جے پی لیڈر اور کابینہ وزیر کا بیان استحصالی سیاست اور حکومتی ذہنیت کی عکاس ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر کشمیر میں امن قائم کرنے اور حالات کو معمول پر لانے کے بجائے دھمکی آمیز بیان دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ وزیر کی جانب سے دئے گئے بیان سے کشمیر وادی میں حالات اور زیادہ خراب ہوسکتے ہیں ۔کانگریس ترجمان نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اس معاملے پر وضاحت کرنی چاہئے جبکہ ریاستی حکومت کی غلط پال

طلبہ و طالبات کا احتجاج جاری

سرینگر// طلاب کے احتجاجی مظاہرے جمعرات کو چوتھے دن بھی سرینگر، بانڈی پورہ ، اننت ناگ ،پٹن اورکنگن میں جاری رہے۔مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور شلنگ کے علاوہ ہوائی فائرنگ کا سہارا لیا گیا۔ جس کے دوران نصف درجن طلبا زخمی ہوئے۔نوا کدل ہائر اسکینڈری اسکول کی طالبات نے وردیوں میں ملبوس براری پورہ کی طرف پیش قدمی کی تاہم فورسز اہلکاروں نے انکی پیش قدمی کو روک دیا جس کے بعد سنگبازی کا سلسلہ شروع ہوا۔طالبات نے بھی فورسز پر پتھرائو کیا جبکہ فورسز نے ٹیر گیس اور پاوا شلنگ کی ۔اس دوران شہر خاص میں بھی احتجاجی مظاہروں کا دائرہ پھیل گیا جبکہ صفا کدل میں بھی احتجاج ہوا۔ ارشاد احمد کے مطابق گورنمنٹ بائز ہائر سیکنڈری سکول گاندربل سے درجنوں طالب علموں نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے گاندربل صفاپورہ شاہراہ پر دھرنا دیتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ اسی دوران چند طلاب نے دوکانوں اور گاڑیوں پر پتھراؤ کے

ایک اور طالبہ اسپتال پہنچی

سرینگر//سکہ ڈافر میں قائم بنکر میں تعینات فورسز اہلکاروں نے پلوامہ ڈگری کالج میں پیشہ آئے واقعہ اور اقراء صدیق پر پتھر برسانے کی کاروائی کے خلاف مظاہرین میں شامل ایک اور18 سالہ طالبہ کوکنچہ مارکر زخمی کردیا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات پر مشتمل جلوس جو نہی سکہ ڈافر پہنچا تو وہاں مظاہرین اور فورسز اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ فورسز اہلکاروں نے خوشبو اختر دختر غلام محمد کوچھے ساکن نورباغ کو سیدھے کنچے کا نشانہ بنا کرزخمی کردیا ۔ مظاہرین میں شامل ایک اور طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’’ ڈگری کالج پلوامہ میں طالب علموں پر فورسز کی یلغار اور سرینگر کے نواکدل وومنز کالج کی طالبات پر طاقت کے استعمال کے خلاف وہ جمعرات کو ایک مرتبہ پھر سے سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلی تھیں‘‘ ۔طالبہ نے بتایا کہ نواکدل ہائر

طلاب تعلیمی سرگرمیاں بحال کریں

  سرینگر//کشمیر یونیورسٹی اسٹو ڈنٹس یونین نے طلبہ سے کامیاب مزاحمت جرات اوراتحاد کا مظاہرہ کرنے کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ ڈگری کالج میں فورسز کی طرف سے طلاب کو نشانہ بنانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے مثالی تھے۔بیان میں کہا گیا کہ ان مظاہروں سے دنیا بھر میں ایک پیغام پہنچایا گیا کہ حق خودارادیت کی جڑیں جموں کشمیر کے فرد خواہ وہ خواتین ہو یا مرد ، یا نوجوان میں مضبوط ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے دوران بھی طلاب بھارت کے خلاف مزاحمت اور ظلم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ ضرورت پڑنے پر جاری رکھیں۔ کشمیر اسٹوڈنٹس یونین نے  خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے اس منصوبہ بندی کا سلسلہ شروع کیا جس کے تحت جائز مبنی برحق انکی جدوجہد کو متاثر کرنے کیلئے  مین اسٹریم جماعتوں سے بلواسطہ یا بلاواسطہ منسلک طلباء اور نوجوان ا نجمنوں کو

کیاجموں وکشمیر کیلئے آئینی ترامیم قابل عمل ہیں؟

سرینگر// دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے استفار کیا ہے کہ آیا جموں وکشمیر پر آئینی ترامیم کا اطلاق عمل مین لایا جاسکتا ہے ۔دلی عدالت کی طرف سے یہ سوال 1954کے صدارتی حکم(جس کی رو سے مرکز میں آئینی ترامیم کااطلاق ریاست جموں وکشمیر پر ممنوع ہے) کے خلاف دائر عرضی کو زیر سماعت لاتے ہوئے پوچھا گیا ۔دلی عدالت عالیہ کی کارگزار چیف جسٹس جسٹس گیتا متل اور جسٹس انو ملہوترا پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے اس عرضی کی سماعت ہوئی جس میں 1954کے صدارتی حکم کو چیلینج کیا گیا ہے ۔ڈویژن بنچ نے مرکزی حکومت کے کونسل اور ایڈوکیٹ جنرل جموں وکشمیر جہانگیر اقبال گنائی سے اس سوال کا جواب اگلی سماعت پرپیش کرنے کی ہدایت دی کہ آیا مرکز مین آئینی ترامیم کا اطلاق ریاست جموں وکشمیر پر ممکن ہے کہ نہیں ۔یہ عرضی سرجیت سنگھ نامی شخص کی طرف سے17ستمبر2016کو پیش کی گئی تھی ۔بنچ نے دونوں طرف کی پارٹیوں کو ہدایت د

نوجوان کو گاڑی سے باندھنے کا واقعہ

سرینگر//  فوج کی طرف سے انسانی ڈھال کے طور نوجوان کو استعمال کرنے کے معاملے میں فوجی ہائی کمان کے دبائو کے بعد کورٹ آف انکوائری تیزکی گئی ہے جبکہ پولیس نے اس معاملے پر فوج سے واقعات کی ترتیب حاصل کرنے کیلئے دو مکتوب روانہ کئے ہیں۔اٹلی گام بیروہ میںژھل براس کے نوجوان کو پولنگ کے روز گاڑی سے باندھ کر دیہاتوں میں گشت کرنے کے معاملے میں مزید پیشرفت ہوئی ہے اور فوج نے  اس سلسلے میں تحقیقات کرنے کا حتمی فیصلہ لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے فوج نے اس تحقیقات کو فرد جرم نہیں بلکہ’حقائق کی تلاش پر مبنی مشن‘‘(’فیکٹ فینڈنگ مشن) کا نام دیا ہے۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر تحقیقات کے دوران اس بات کا پتہ چلا ہے کہ53آر آر کے میجر لتل گوگائے نے ایک درجن افراد کی جان بچائی۔انہوںنے کہا  ہے کہ جب نوجوان کو خانصاحب علاقے میں گاڑی سے باندھا گیا اس وقت بڈگام می

ضمنی انتخابات کے زخم:ڈھلون چرار شریف کی فضائیں فیضان کی جدائی میںبدستور ماتم کناں

چرار شریف//صبح کے8 بج چکے تھے ‘حلقہ انتخاب چرارِ شریف میں 86ووٹ پڑ چکے تھے تاہم دیگر انتخابات کے برعکس پہلی مرتبہ ووٹروں کی قطاریں نظر نہیں آرہی تھیں گویا چرار شریف حلقے سے منسلک تمام پولنگ بوتھوں پر بے تحاشہ پولنگ ہونے کی روایت ٹوٹ رہی تھی۔اکثر پولنگ بو تھوں پر الو بول رہے تھے جبکہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی بیٹھے تھے ۔اس دوران کئی پولنگ مرکز پراُکا دُکا پتھر پھینکنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ڈھلون چرار شریف میںقائم گورنمنٹ ہائی سکول کے پولنگ بوتھ پر تعینات فورسز اہلکاروں نے پولنگ بوتھ کی طرف کچھ پتھر پھینکنے والے بچوں کی طرف جوابی سنگ بازی کی۔ صورت حال کچھ دیر تک جوں کی توں رہی ،اس دوران دوسرے کچھ نوجوان بھی مشتعل ہوکر پولنگ مرکز پر پتھرائوکرنے لگے جبکہ فورسز نے ایک منٹ ضائع کئے بغیر، کسی مجاز آفسر یا موقعہ پر موجود پریذائڈنگ آفسر سے اجازت لئے بغیر پولنگ بوتھ سے تقریباً200فٹ ک

آرمی سگنل سینٹر میں آگ

 بارہمولہ// شمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبے میں آرمی سگنل سینٹر میں کل علی الصبح آگ لگ گئی جس سے اسے کافی نقصان پہنچا  ۔ جمعرات کی صبح بارہمولہ میں 19 انفنٹری ڈویژن میں واقع سگنل مرکز میں آگ لگ گئی۔ فوج کی تین فائربریگیڈ گاڑیوں کو آگ بجھانے کے لیے فوری طور پر روانہ کیا گیا۔ اس کے بعد چار دیگر فائربریگیڈ کی گاڑیوں کو آگ بجھانے کے کام پر لگایا گیا۔اس مرکز میں آگ لگنے کے اسباب کا پتہ لگایا جارہا ہے ۔ حادثے میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔