GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

صِلہ



اشتیاق کے والد احمددین محکمہ برقیات میں ادنی ٰدرجہ کے ملازم تھے لیکن مذہبی و اخلاق لوازمات سے آراستہ سوچ سمجھ کے مالک ۔ یہی وجہ تھی کہ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود وہ مقامی مسجد میں پیش امام کے فرائض ادا کرتے تھے۔ اور لوگ انکی عزت کرتے تھے ،اتنا ہی نہیں،اشتیاق کے ماںحاجرہ بی مک

’’یادیں‘‘



ہم سب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہورہاکرکٹ میچ دیکھنے میںمحو تھے۔ کمرے میں بہت شور وغل تھا۔ میچ بڑا دلچسپ تھا، جس نے ہمیںکچھ پلوں کے لئے باہر کی دنیا سے ہی بے خبر کردیا تھا۔ اسی دوران کسی نے دروازے کو زور سے دھکا مارا ۔دیکھا تو بوندو تھا۔ کیا بات ہے بوندو؟ میں نے پوچھا…آمن

عبد الرحمان مخلصؔ۔۔۔

اِنشائیہ ہے پہچان اِن کی


انشائیہ نگاری ایک ایسا فن ہے کہ جس کے لیے زبان پر مکمل دسترس ہونا اور علم وادب کا گہرا مطالعہ لازم وملزوم ہے۔ دیگر نثری اصناف کے برعکس انشائیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک وسیع اور لا محدود صنف ہے کیوں کہ اِس میں موضوع کی کوئی قید نہیں۔ سماجی ، مذہبی، اخلاقی، سیاسی، تہذیبی غرض کسی ب

غزلیں



احساس میں وہ پھول میں خوشبو کی طرح تھا یا میرے لئے رات میں جُگنو کی طرح تھا اب روٹھ کے بیٹھا ہے تو لگتا ہے کہ جیسے وہ دشتِ خیالات میں آہو کی طرح تھا اُس شخص کی باتوں میں حلاوت تھی غضب کی لہجہ بھی جھنکتے ہو ئے گْھنگھرو کی طرح تھا ایسے ہی وہ ہر زخم سے محفوظ نہیں تھا وہ دل تھا

اکتشافی تنقید....... ایک جائزہ



پروفیسرحامدیؔ کاشمیری(۱۹۳۱؁ء)۔۔۔ایک نظریۂ ساز نقاد‘ناول نویس وافسانہ نگار اورایک کامیاب شاعر کی حیثیت سے اردو میں ایک ممتاز مقام کے حامل ہیں۔پروفیسر موصوف کی علمی وادبی خدمات کا اعتراف معتبر ناقدین‘معلمین‘مفکرین اور دانشور وقتاََفوقتاََکھلے دل سے کرتے آے ہیں۔معروف

غزلیات



رازِ پنہاں اگر کُھلے سائیں طورِ موسیٰ ترا جلے سائیں چال ہم سے نہ اس طرح چلیے! چال ہم بھی بہت چلے سائیں جن سے پڑتے ہوں پائوں میں چھالے طے کئے ہیں وہ مرحلے سائیں جشن کر لو مری تباہی کا ٹوٹ جاتے ہی حوصلے سائیں وصل کا آفتاب مرتا ہے ! شام سے پہلے، دن ڈھلے سائیں بُھوت کیا اس مکاں م

تضمین



گھیر ے رہتی ہے اسی غم کی فراوانی مجھے جانے والا دے گیا پیہم پریشانی مجھے دیکھتے ہیں ہم نوا بچشم ِ حیرانی مجھے ’’جانے والے آ نہیں تاب پشیمانی مجھے چھیڑ تی رہتی ہے میرے گھر کی ویرانی مجھے‘‘ محو ِ حیرت کر گئی ان کی مہربانی مجھے ظلمتوں میں بھی نظر آتی

غزل



بہر عالم تیری آنکھوں کی مستی پُر اثرہوگی پلک جھکتے ہی شب ہوگی پلک اُٹھتے سحر ہوگی کہاں تک جائو گے دامن بچا کر تم بھلا مجھ سے کہ پر چھائیں مری ہستی کی تاحدِّ نظر ہوگی مرِی دھرتی تِری خاطر ہزاروں روپ بدلوں گا یہی میرے قدم ہونگے یہی تیری ڈگر ہوگی اَدیبو درد مندو اے فقیرو اور









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By