GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

ملک کا آخری بادشاہ

افسانہ نگار


 سپہ سالار سنگ مرمر سے تراشے ہوئے محل کے سامنے کچھ دیر کے لےے رک گیا پھر رنگ برنگے پھولوں سے ترتیب دیئے گئے وسیع باغ کے درمیان خوبصورت پتھرں کار استہ کو طے کر کے محل میں داخل ہوگیا۔ سپہ سالار کا چہرہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا جیسے پریشانیوں نے اس کے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لی

مشتاق احمد وانی کا افسانہ ” اندر کی باتیں“........ ایک آتش فشاں



 معاصر اردو ادب میں مشتاق وانی ایک مانوس قلمکار کا نام ہے۔تخلیق۔ تحقیق اور تنقید کو یکساں طور پر ایک معیار کے ساتھ برتنا آسان نہیں۔لیکن مشتاق وانی ایسا کر گذرتے ہیں۔ اس سے ان کی ہمہ جہت ادبی شخصیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔تانیثیت کے حوالے سے ان کی مفصل تصنیف ان کے وسیع وع

غزل



کسی کو پانے کا نشہ عجیب ہوتا ہے
کس کو کھونے کا دُکھڑا عجیب ہوتا ہے

ترے خلاف کبھی فیصلہ نہیں ہوگا
مجھے پتہ ہے کہ پیسہ عجیب ہوتا ہے

ہرا یک شخص سے ملتا ہوں میں محبت سے
اسی لئے مجھے دھوکہ عجیب ہوتا ہے

گناہ گار تو پھرتا ہے شا

غزل



کسی کو پانے کا نشہ عجیب ہوتا ہے
کس کو کھونے کا دُکھڑا عجیب ہوتا ہے

ترے خلاف کبھی فیصلہ نہیں ہوگا
مجھے پتہ ہے کہ پیسہ عجیب ہوتا ہے

ہرا یک شخص سے ملتا ہوں میں محبت سے
اسی لئے مجھے دھوکہ عجیب ہوتا ہے

گناہ گار تو پھرتا ہے شا

خواب کہانی

مختصر افسانہ


اُس روز صبح سویرے بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں پڑتے ہی میرے اندر عجیب ہلچل سی مچ گئی اور ساتھ ہی میرا کہانی لکھنے کا موڈ بن گیا کمرے تک آتے آتے یہ بھی محسوس ہوا کہ میں آج شاید ایک ساتھ کئی کہانیاں لکھ ڈالوں گا ........ابھی پہلی کہانی شروع ہی کر رہا تھا کہ فیض نے باہر سے آ واز د ی  ۔ مزیدپڑھیں۔۔۔

کس جرم کی پائی ہے سزا



پہلاقیدی ” ہاں تنہائی زہرہے ، ایک قاتل ہے وہ قاتل کہ جسے مقتول کی کوئی پرواہ نہیں ، لیکن لوگ کب سمجھتے ہیں پہلے میں بھی نہیں سمجھتا تھاکہ پہلے اس کی میری ایسی ملاقات نہیں رہی تھی، وہ جوانی کہ جسے میں اب ایک خواب سمجھتا ہوں اور وہ دن کہ جواتنی تیزی سے گزرے کہ میں کچھ یاد بھی کرو

غزلیات



کل کی ہوتی نہیں سبیل کوئی
مسئلہ جب بھی ہو طویل کوئی
زندگی میں ضمیر ہے اَیسے
جسے رستے میں سنگِ میل کوئی
ہم ہر ایک بات مان بھی لیتے
آپ دیتے اگر دلیل کوئی
موڑ پایا نہیں کسی صورت
کہنہ رسموں کی یہ فصیل کوئی
خود کو کرتا ہے جتنا وہ ظاہر
مزیدپڑھیں۔۔۔

زندگی اور تو کل



آخرت کے بدلے دنیا ہی خریدی ہم نے پھر
احمقانہ کیا یہ سودا بازیِ¿ انساں بھی ہے
چھوڑ کر نیکی ہدایت، ہے یہ گمراہی بدی
سخت کیوںنیکی ہمیں ہے، کیوں بدی آساں بھی ہے
اہل ِ باطل کے لئے جنّت ہے یہ دُنیائے دُوں
حق پرستوں مومنوں کے واسطے زنداں بھی ہے

صبح سویرے



صبح سویرے جا گو سارے
قدرت کے رنگ دیکھو پیارے
سورج نکلا ،ہوا اجالا
سوگئے سارے چاند ستارے
تو بھی اٹھ جا سو نے والے
کر لے اپنے کام تو سارے
دیکھو باغ میں چہل پہل ہے
کیسے پُر رونق نظّارے
کتنے سارے کتنے کومل
پھول کھلے ہیں نیارے نیارے

نئی صبح



دن کے اُ جالوں پہ 
کب سے
تاریکیوں کے پہرے ہیں 
ہر بشر خوف زدہ سہماسہما
ا پنی ذات کے حبس میں خاموش
نایاب گوہر صدف کی مانند
جیسے بے قر ار بلبل کوئی چمن سے دور
جس کا کوئی پرسان حال نہیں
پرائے تو پرائے
اپنوں نے تیروں سے چھلنی کئ









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By