GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

عہد ِ محبت

افسانہ


رات کے دس بج رہے تھے ۔ طاہر کھانا کھا کر چار پائی پر لیٹا ہی تھا کہ سرحد کے آر پار سے بے تحاشہ گولیاں چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ گولیوں کی بھیانک آوازوں نے رات کا پُر سکون ماحول درہم برہم کر ڈالا۔ تاہم طاہر پر ان گولیوں کا کوئی اثر نہیں تھا۔ وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ کیونکہ یہ تو

’’رکھشک‘‘

افسانہ


   تقریباً شام کے ساڑھے چھ بجے کا وقت تھا، ہلکی ہلکی سی بارش کے بعد اب بارش کی رفتار بھی تیز ہونے لگی تھی۔ اور دن بھر کی بارش کی وجہ سے گرمی میں بھی قدرے کمی محسوس ہو رہی تھی۔ اگرچہ کام کا وقت ایک گھنٹہ پہلے ختم ہوگیا تھا اور بیشتر ملازم اپنے گھروں کو نکل چکے تھے۔ تاہم بارش

محافظ امن کے



یہ جلتا سلگتا جہنم نما ہے
ہر اک شخص ہر حال بے دست و پا ہے
سروں کی ہے کھیتی یا مقتل سجا ہے
کہاں امن کے ہیںمحافظ ،کہاں ہیں؟
یہاں روز بجھتے دئے زندگی کے
ہیں قصے یہاں انگنت بے بسی کے
اندھیرے ملیں نام پہ روشنی کے
<

غزلیات



بار ہا ہم نے چناروںکے شر ر دیکھے ہیں
خون، لاشیں، دھواں جلتے ہوئے گھر دیکھے ہیں
ایک مُدت سے نہیں آنکھ نے دیکھی شبنم
سب کے رخسار مگر اشک میں تر دیکھے ہیں
ننھّی کلیوں کو مسلنے کے یہ وحشی منظر
لاکھ چاہا تھا نہ دیکھیں گے مگر دیکھے ہیں
جس زمین پر کب

یہاں شادماں پھِر عوام ہو



جہاں پاک سیرت ہوں آدمی، جہاں مومِنوں کا قیام ہو
وہی پھِر سے بستی دِکھا ہمیں، جہاں معبدوں کا مقام ہو
یہاں نام تیرا ہے منقسِم، یہاں خلق بستی ہے دو قِسم
یہاں ناخدائوں کا ہے غلغلہ، یہاں کِس سے مُثبت کلام ہو
یہ زمینِ مہجوُرؔ و رسول میرؔ، یہ زمینِ حبہؔ ہے رزم

زندگی اور توکلّ



 مورِ بے مایہ پہ بھاری قطرۂ نیساں بھی ہے
اشکِ مژگاں کو تو کافی جنبشِِ مژگاں بھی ہے
دل مرا گریاں بھی ہے جُویاں بھی ہے نالاں بھی ہے
اور دل ہی میں نہاں اس درد کا درماں بھی ہے
کچھ غمِ دوراں، غمِ جاناں، غمِ ہجراں بھی ہے
اور کچھ اِس دل پہ یہ داغِ غمِ ِپن

آسودگی

افسانہ


 ٹریفک جام،ٹریفک جام اور ٹریفک جام۔۔۔۔۔ وقت کا ضیاع  تو ہے ہی اس سے بڑھ کر ہے یہ ذہنی کوفت ،جوٹریفک جام میں پھنسے معقول آدمی کو پاگل بنا دیتی ہے ۔ خیرمجھ ایسے خود رفتہ کے لئے ایسی اذیت  رساں سچویشن میں ایک آسائش تو  میسر رہتی ہے کہ تخیل کے پیرا شوٹ کے سہارے کہیں بھی

پھانسی ۔۔۔۔ایک جائیزہ



علامتی تخلیق -معنی سے زیادہ مفہوم سے سروکار رکھتی ہے ‘کیونکہ اس کے استعاراتی نظام کی حیرت انگیز(Wondrous) معنویت کی تفہیم کے لئے موضوعی سیاق وسباق (Subjective Context) کا استدلالی طریقہ کار ہی کار آمد ثابت ہوتا ہے یعنی جو علامت متن (text)میں استعمال ہوتی ہے وہ اپنی تفہیم متن کے ہی ماحول سے

غزل



 دور تک نگاہوں میں اک غبار ہوتا ہے
جب بھی ذہن ِانساں میں انتشار ہوتا ہے
جب یہ صاف گوئی ہے باعثِ پریشانی
یہ گناہ کیوںمجھ سے بار بار ہوتا ہے
کس لئے کسی کو ہم گفتگو کی زحمت دیں
دل میں جو ہے چہرےسے آشکار ہوتا ہے
منحصر ہے انساں کی اپنی سوچ پر ورنہ

ماں



بھٹک جاتے ہیں جب بھی ہم کسی پُرخار جنگل میں
ہمارا نام لے لے کر صدائیں کون دیتا ہے
بہت اپنے ہیں دُنیامیں مگر پنچھیؔ سِوا ماں کے
بلائیں کون لیتا ہے دُعائیں کو دیتا ہے

جیٹھی نگر مالیر کوٹلہ روڑ کھنہ14101پنجاب<









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2016 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By