GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

درد کا دریا



پو پھٹتے ہی دریا کنارے پہنچ کر اس نے اطمینان کی سانس لی ،نہ گاڑیوں کا شور۔نہ لوگوں کی دھکم پیل،ہر طرف پرسکون خاموشی۔اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس نے دوسرے کنارے پر اپنے بھائی،جس سے ملنے کے لئے وہ سخت بے تاب تھی، کو منتظر پایا۔ اس کو یقین ہوگیا کہ آج اس کی برسوں کی آرزو پور

غزل



ہرایک رہگزر پہ ہے یہاں طویل انتظار 
محبتوں کا یہ سفر بھی کس قدر ہے یادگار

نہ کوئی غم ہے زندگی میں اور نہ کوئی انتشار 
نہ کوئی منتظر مرا نہ ہے کسی کا انتظار

بصارتوں سے آشنا تھی کون سی نظر، بتا؟
کیا ہے آنکھ آنکھ پر محبتوں میں ا

غزلیات



سلگ رہا تھا جو برگِ چنار، ہے اب بھی 
فضا میں گونجتی میری پکار ہے اب بھی

مرا ضمیر ستانے لگا مجھے، شاید
شفق کی سرخیوں پہ اشک بار ہے اب بھی

عجیب شخص ہے، دھوکہ بھی کھا گیا جس سے
اسی کی بات پہ کیوں اعتبار ہے اب بھی

یہ کشمکش

’گھر آنگن ویرانی ‘

افسانہ


وہ کئی برسوں سے اُن جڑواں بچوںکو پیار سے پال رہی تھی بچے بہت خوبصورت تھے ۔اُن کی صورتیں بہت ملتی جُلتی تھیں گول گول آنکھیں‘گلابی رنگت کے چہرے‘  کالے گھنے بال اورقد۔۔۔ قد میں بھی ذرہ برابر فرق نہیں  ۔وہ جب اسپتال میں پیدا ہوئے تھے تو خوشی  کے مارے سب کی بانچھیں کھل گئ

غزل



سوالوں کے جوابوں میں تو آئے
وہ ہم خانہ خرابوں میں تو آئے

جو امکاں سے پرے ہے ایک پیکر 
وہ کم سے کم سرابوں میں تو آئے

بسانا ہے نواحِ جاں میں جس کو
خیالوں اور خوابوں میں تو آئے

اگر ڈر ہے اسے رسوائیوں کا
وہ سو پر

مرحوم گلشن ؔخطائی

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا


کشمیر کے دبستانِ اردو شاعری کا اور ایک گل خزاں رسیدہ ہوگیا اور دور فضائوں میں کہیں کھوگیا اسطرح کہ دوبارہ واپس نہ آسکے۔جس نے اردو شاعری اور فکشن نگاری کے کینوس پر کچھ ایسی انمٹ تحریرین چھوڑیں جو قارئین اردو ادب کو ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیںگیں اور ان کے دوست واحباب کو مغموم

گلشن ؔخطائی کی یاد میں



گُم ہو گئی خوشبوئے گُلستانِ خطائی

مہکا ئیگی اب گورِ غریبانِ خطائی
زخم ایسا دے دیا ہے کہ اب بھر نہیں سکتا 

کرنا بھی چاہوں صبر اگر کر نہیں سکتا
اب دل سے حسرتوں کے جنازے نکل گئے

آنکھوں سے آنسؤں کے فوارے نکل گئے

’’گلشن میں شرافت ہے‘‘



کسی شاعر نے کہا ہے  ؎
زندگی یوں ہوئی بستر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شعر مرحوم گلشن خطائی کی زندگی پر صادق آتا ہے۔ زندگی کی تلخ کٹھنائیاں اور بے وطنی کی محرومیاں ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ ان کے دل پر کیا گزری وہ ان کا دل ہ









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2016 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By