GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

بند کھڑکی کا کرب

افسانہ


میری بے چینی بے سبب نہیں تھی ۔ذہن و دل میںایسا طلاطم بپا تھا جو مجھے ایک پل بھی سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔میں اپنی کھڑکی سے سامنے والے گھر کی تیسری کھڑکی کو بار بار دیکھ رہی تھی۔ یہ پچھلے پانچ دن سے لگاتار بندپڑی تھی۔ حالات کتنے بھی خراب ہوجاتے ‘ تنائو کتنا بھی بڑھ جاتا

وصیّت‎

افسانہ


صلاح الدّین ۔ ۔ ۔!
وجود کو چیرتی دادی کی  جگر سوز۔ ۔ ۔ دلخراش چیخ نے زُلفی اور رافعیہ کو سرسے پاؤں تک لرّزا کر رکھ دیا۔ ۔ ۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے دادی کا وجود پلنگ پر دیوار کی جانب ڈھلکنے لگا۔ ۔ ۔رافعیہ نے جلدی سےگرتے دادی کے وجود کو اپنی باہوں  کے ناتمام حصار

ماہ صیام



ہزار رحمتیں لے کر ہے پھر ماہ صیام آیا

 ہماری مغفرت کا پھر ہے یہ لے کر پیام آیا 
یہ رحمت خیر و برکت مغفرت کا ہی مہینہ ہے 

خدا کی پوری رحمت کا یہ لے کر انصرام آیا  
سعادت ہی سعادت دیکھئے ہے ماہ رمضاں میں 

دھرتی کتنی پیاری پیاری



یہ دھرتی کتنی پیاری ہے 
دیکھو کتنی نیاری ہے 
 ساگرکی یہ چنچل لہریں 
چھل چھل کرکے  بہتی ہیں 
اور کہیں پے اونچی اونچی 
شور مچاتی رہتی ہیں 
 ساگر کی لہروں کے اندر 
رب کی نعمت بہتی  ہے 
ان لہروں کی گہرائی میں

دھوپ

افسانہ


طوفان تھماتوسہی، لیکن تب تک سب اتھل پتھل ہوچکاتھا۔
 ایسی بارشیں ،طوفانی اور منہ زورقسم کی ،عموماًیہاں  ہوتی نہیں لیکن کبھی کبھارجو موسم کے موڈ میں شوخی آجائے  توپھرسارے ریکارڈ توڑبھی دیتاہے۔ایسے میں،یاتوہلکی بونداباندی کے ساتھ اس قدر تیز ہوائیں چلیں گی کہ ا

نعت پاک



رسولِ پاک کی محفل میں میں اگر جاؤں
تو سر سے پاؤں تلک دوستو سنور جاؤں
اے کاش ایسا ہو میں ساری عمر نعت کہوں
لیے ہوئے میں سر حشر یہ گہُر جاؤں
حبیبِ پاک کو ہر لمحہ سوچتا ہی رہوں
درودِ پاک سے زنبیل اپنی بھر جاؤں
کبھی کبھی جو بھٹکتا ہوں راستے سے

غزلیات



 یہ غلط ہے کہ کہاں اہل ہنر ملتے ہیں
وہ زمانے میں ہیں محدود مگر ملتے ہیں

کر سکیں جن سے ہم تعمیر محبّت کا محل
ایسی دیواریں ہی ملتی ہیں نہ در ملتے ہیں

چاپلوسی کے سوا کچھ نہیں مرغوب جنہیں
سب کے درپر وہ جھکاتے ہوئے سر ملتے ہیں

یا د نبی ؐ



دِل میں یاد نبی کو اُتاریں گے ہم 
اپنی قسمت کو ایسے سنواریں گے ہم 

وہ مدد کو ہماری بھی آجائیں گے 
سچّے دل سے جب اُن کو پُکاریں گے ہم 

غصّہ لالچ نفس اور تکبّر دغا 
یہ ہی کافر ہیں بس ان کو ماریں گے ہم 

نعت شریف



انؐ کی خاکِ کفِ پا ہے سرپر مرے
کتنے رتبے ہیں اللہ اکبرمرے
جب سے میں آپؐ کا آئینہ بن گیا
پیچھے پیچھے ہیں کتنے سکندر مرے
سنگِ درآپؐ کا میں اگر دیکھ لوں
غم کے ہٹ جائیں سینے سے پتھر مرے
ان کے غم میں جودواشک میں رو دیا
معتقد ہوگئے ماہ واختر

جلوہ گر



دور عرش بریں پر
صبح ازل سے 
تھا نقش اک نام
پیارا سا
جو ارض مقد س پر
ظلمت کفر میں
تب
گڑھا گڑھا لہو
پی رہا تھا
معصوم بیٹیوں کا 
اور
اند ھیرے تھے چھائے ہر سو
عقل مقفل تھی کو ُبہ کوُ
سبھی بنے تھے عدو رُو بہ









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By