GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

غزل



  اے خدا تو ہی بدل دے فیصلہ تقدیر کا
کب سے لاینحل ہے اب تک مسئلہ کشمیر کا
نفسی نفسی کا سماں ہے کون کس کے آئے کام ؟
بے کسی میں دیکھنا کیا حال ہے دلگیر کا
شہر ِنا پرسان کا پوچھے نہ کوئی مجھ سے حال
جو بھی سچ بولے، لگے پرچہ اُسے تعزیر کا
کرتے ہوں ج

سنگ تراش

کہانی


حسینہ حسن کی دیوی Godess of beautyتھی۔ اُس کی آنکھوں میں جھیل کی سی نیلاہٹیں تھیں۔ اُس کے رخساروں پر گلاب کی پتیاں بکھری رہتی تھی۔ اُس کے ہونٹوں پہ شفق کی سرخی پھیلی رہتی تھی۔ میں نے اُس کے گھنے بالوں میں چاندنی راتوں کے کیف آور سانسوں کو مجسم ہوتے دیکھا ہے۔ اُس کی بل کھاتی سیاہ ذل

پہچان

افسانہ


  بہت عرصہ گذر جانے کے باوجود گلہ جوُ کو آج تک اپنے ہمسایوں کے متعلق کوئی جانکاری نہیں ملی ہے اور نہ کوئی اُ س کے ساتھ متعارف ہُوا ہے۔ محل نما عمارات اونچی اونچی دیواروں کے حصار میں خالی خالی نظر آرہی ہیں۔ جیسے اُن میں کوئی مکین ہی نہ ہو۔ صبح و شام کے وقت چھوٹی گاڑیوں کی گڑ

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تعینات



 ریاست کے معروف ادیب ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں اردو کا اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے اور انہوں نے چند روز قبل اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ریاست کے ادبی حلقوں نے ڈاکٹر مشتاق کی تعیناتی کو سراہاہے اور اُمید ظاہر کی کہ وہ ادار

نصرت چودھری کی غزلوں کا مختصرجائزہ



’’  نصرت چودھری ریاست جموں و کشمیر کی ایک ابھرتی شاعرہ ہیں۔‘‘
نریندر ناتھ سوز کا یہ جملہ پڑھ کر کلیجہ منھ کو آتا ہے۔بات ۲۰۰۴ ء کی ہے جب نصرت کا پہلا اور آخری شعری مجموعہ ’’ہتھیلی کا چاند‘‘شائع ہوا تھا۔ایک آن کے لئے لگتا ہے کہ ماضی،حال اور مستقبل نصرت چودھری کی

غزل



 فصلِ گُل میں ذکر اُس کا ہے نظارے کے قریب 
بات کچھ کچھ لگ رہی ہے استعارے کے قریب

پُھول، خوشبو،روشنی،آنچل،شفق ،قوسِ قزح 
کھل گئے ہیں رنگ سب اُس کے اشارے کے قریب

جلتے بُجھتے دل کو اُس نے دی ہے یوں روشن اُمید 
جیسے جگنو رکھ د

کفارہ

افسانہ


 شاہزیب کے اس غیر متوقع فیصلے نے پورے گھر میں کھلبلی مچادی تھی __ گھر کے سارے کے سارے افراد اس فیصلے کا سبب جاننے کے لئے سوچوں کے گرداب میں ڈوب گئے _____،،، 
شاہزیب گْل محمد کا چھوٹا بیٹا تھا __ جو نہایت ہی نازونعم اور لاڈ پیار سے پروان چڑھا تھا۔ گْل محمد نے اْسے اس غرض س

وہ زمانہ یاد ہے



 (مرحوم حسرتؔ موہانی کی روح سے معذرت کے ساتھ)

مُجھ کو اپنی زِندگی کا وہ زمانہ یاد ہے
رُوٹھنا میرا مُجھے ’’ماں‘‘ کا منانا یاد ہے 
قحطِ زر کی مار میں اکثر جِیا کرتے تھے لوگ
محنتِ شاقہ سے اُن کا زر کمانا یاد ہے
درجنوں گھر میں ہوا کرتے تھے

غزلیات



پسند آئی رب کو تیری ہر اَدا
تُو دریائے رحمت ہے ابرِ کرم
دِیا جوڑ دین و سیاست کو ہے
کہ واری ہیں تجھ پر ہزاروں اِرم
مٹادیں جہالت کی رسمیں یہاں
شہ ِ دین تُو ہر جُگ ہیں ہے محترم
ترے گُن کہاں تک گِنوں برملا
ہے عاجز زباں، ناتواں ہے قلم

فکرِ آخرت



 کب ہمیشہ ساتھ رہنے والی ہے یہ زندگی
ہائے سمجھے گا نہیں لیکن یہ غافل آدمی
بے حسی، غفلت میں گزری زندگی میری تمام
ذکرِ دُنیا میں لگا ہوں، فکرِ عقبیٰ ہی گئی
زادِ رہ لاتقنطوا کے ما سوا کچھ بھی نہیں
ایک اُمیدِ شفاعت ہے مجھے بس آپؐ کی
یاد آیا ل









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2017 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By