GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

شیخ بشیر احمد کی کہانیوں میں کشمیر کا درد



شیخ بشیر احمد ایک طویل عرصے سے اردو میں کہانیاں لکھتے آرہے ہیں۔تاحال ان کی کہانیوں   کے دو مجموعے"بند مٹھی سے بھاگا پرندہ (2012) اور"کلی کی بے کلی"(2015) زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ادبی فن پارہ تخلیق کار سے خون جگر مانگتا ہے۔ ادبی دنیا ب

کڑوا سچ

افسانہ


ہر صبح ہر اخبار میں مختلف نوعیت کی چیزیں پڑھنے کو ملتی ہیں لیکن میں جن خبروں کی جانب اشارہ کررہا ہوں اُن کے تعلق سے ہی ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اِن خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہوتی۔ کوئی سچائی نہیں ہوتی، خبروں کے پس منظر میں ہر کہانی من گھڑت ہوتی ہے اور تو اور چینلوں پر دکھائی ج

غزل



ترے رُخسار پہ اِس تِل کا نظارا کیا ہے
سامنے اِس کے کوئی عرش کا تارا کیا ہے

پھر تو آتا ہی نہیں دِل کو کسی طرح قرار
دِل میں ہو عِشق تو پھر صبر کا پارا کیاہے

یہ بھی اِک گوہرِ نایاب ہے اِن آنکھوں کا
کیسے بتلائیں اُنہیں اَشک ہمارا کیا ہے

مختصر افسانے



آواگون

ساری رات کھلی آنکھوں اضطراب و پریشانی میں گزار کر پو پھٹے ہی وہ اپنے بیٹے کی تلاش میں نکلا تو گھر سے باہر قدم رکھتے ہی اس کی  نظر اپنے لاڈلے پر پڑی جو اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کی طرف آرہا تھا۔اس کی جان میں جان آگئی ،وہ اُلٹے پائوں واپس گھر میں داخل ہو

ایک کنگھا دو گنجے

انشائیہ


 ویسے تو کنگھا بال بنانے اور سنوارنے کے لئے نہایت کار آمد چیز ہے ۔اس کی وجہ سے دلوں کے رشتے قائم ہوتے ہیں۔ بن سنور کے مرد و زن کا گھر سے نکلنا عجیب و غریب سا لگتا ہے ۔ آدم و حوا کے پسماندگان کی زلفوں کو آئینہ کے سامنے سنوارنا کسی عبادت سے کم نہیں لگتا ہے۔ کنگھے سے بالوں میں

غزل



اس دور میں جینا کوئی آسان نہیں ہے
کوئی نہیں ایسا جو پریشان نہیں ہے

انسانیت سے دور ہے دُنیا میں وہ انساں
اخلاص و وفا کی جسے پہچان نہیں ہے

میں بھولتا جاتا ہوں مرے ساتھ جو بیتی
ہر چند اسے بھولنا آسان نہیں ہے

لازم ہے کہ ب

برسات



چھم چھم کر کے آتی ہے برسات
رت یہ سہانی لاتی ہے برسات

ٹپ ٹپ چھت سے برسے جائے ،آہ!
قطرہ قطرہ موتی لاگے آہ

کُھل کے برسا بادل ایسے آج
دل میں مچتی ہلچل جیسے آج

سنّاٹوں سے آتی ہے آواز
یادوں کے ہچکولوں کا آغاز
<

غزلیات




دل میں جس کے حقیقت کی فنائی ہے
تا، بہ اوجِ فلک، اُس کی رسائی ہے

ہم کو ،کاہے کو مل جائے خوشی، یارو!
جب طبیعت میں ہی اپنی گدائی ہے؟

جی کہیں اب لگائے لگ نہیں جاتا!
کیسی مے تو نے ساقی! مجھ کو پلائی ہے؟
 
کتنے ہی غم ملے









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2016 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By