GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

سوئچ بورڈ

افسانہ


مکان دیدہ زیب تھا
کمروں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی۔ کچھ کمرے سامان زیست سے لدے بھرے تھے ۔ کچھ کمروں میں خوردنی اشیا وافر مقدار میں تھیں۔ کچھ کمرے بڑی نفاست اور خوبصورتی سے سجائے گئے تھے، جیسے کسی خاص مہمان کا انتظار ہو۔ کچھ کمروں میں قدیم کتابوں کے بڑے بڑے ڈھیر تھے۔ اور

چار چہرے

افسانہ


ملک کے ایک عام شہری کی قسمت کا جب ستارہ چمکا تو وہ ملک کا سربراہ بن بیٹھا۔بیوی بچے تو تھے نہیں اس لئے موہ مایا کے مکڑ جال سے دور اس پہ بس یہ دھن سوار تھی کہ اپنے دور حکومت میں وہ دو ایسے کام کر دکھائے جو اس کی شخصیت میں چار چاند لگائیں اور عوام وخواص اسے اپنا محبوب رہنما سمجھنے ل

نعت



 مہر و مہ سے فزوں روشنی آپؐ کی
لے بلا دھوپ اور چاندنی آپؐ کی 
غنچہ و گل کی مسکان ہے آپؐ سے
اُن کو بخشی خدا نے ہنسی آپؐ کی 
اور کچھ مجھ کو دنیا میں بھاتا نہیں
میں نے دیکھی ہے جب سے گلی آپؐ کی 
ان سے اللہ کی ذات راضی ہوئی
جن کو صحبت کی

نعت پاک



عام عفو و کرم بہانہ تھا
خلقِ پیغمبری بتانا تھا

فرش سے عرش تک گئے آئے
ایسی رفعت کا کیا  ٹھکانا  تھا

پلٹا سورج تو ہوگیا ثابت
آپؐ کا حکم قادرانہ تھا

پرچمِ خیبری عطا کر کے
 رتبۂ حیدری ؑ دکھانا تھا

غزلیات



ہم لوگوںنے جیتے جی مر دیکھا ہے
خوف پہ غالب آکر محشر دیکھا ہے

جو وادی کل تک جنت کہلاتی تھی
اب اس میں دوزخ کا منظر دیکھا ہے

تم کرتے ہو بات نجابت کی لیکن
اک بُزدل بھی تیرے اندر دیکھا ہے

پھر کھیتوں پر ٹڈِیاں حملہ آور ہیں مزیدپڑھیں۔۔۔

کالی یادیں



چشمِ غور و فِکر میں دُکھ کا سمندر آ گیا
چھ دِسمبر بانوے کا یاد منظر آ گیا
موت کے سائے مسلّط تھے بساطِ زِیست پر
کالی یادوں کا وہ سایہ پِھر سے سَر پر آ گیا
نام پر مذہب دھرم کے ایسی بھی سازِش ہُوئی
رام کی دھرتی پہ راون راج کی کوشِش ہُوئی

میاؤں

افسانہ


میرے گھر کے کشادہ صحن میں اِدھر اُدھر سے قسم قسم کے جانور وں اور پرندوں کا آنا جانا سال کے سال لگا ہی رہتا ہے۔ میں نے اپنے چار کنال کے صحن کو ایک بھر پور گھنے جنگل کا نمونہ جو بنا رکھا ہے۔ خصوصاً گلی محلے کے آورہ کتوں سے بچتی بچاتی آوارہ بلیوں کی تو یہ محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔

غزل



آلام سے دہشت ہے نہ گردش سے خطر ہے 
اب نام  ترا وردِ  زباں شام  و  سحر  ہے

کب میں نے کہا ہے کہ مری فن پہ نظر ہے 
آغازِ  سْخن  ہے  ابھی  آغازِ   سفر   ہے

اس منبع انوار پہ ٹھہرے گی نظر کیا 
جس منبع  ان

مرحوم خواجہ صاحب

۔۔۔۔۔۔میدان صحافت و ادب کا شہسوار


سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جائوں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ  جائوں گا
آج سے سات سال قبل پچیس نومبر کے دن فن صحافت و ادب کی گود سونی ہ ہوگئی۔ آسمان صحافت و ادب کے ایک روشن آفتاب،مرد قلندر ،اعلیٰ پائے کے صحافی،دانشور اور مصنف خواجہ ثناء اللہ بٹ صاحب اپنے چاہ









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2016 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By