GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

افلاطون

افسانہ


 بستی کے سب لوگ صمد چاچا کی عزت کرتے تھے۔ اسی سال کا بوڑھا، درمیانی قد ،چہرے پر کُھر دری جھریوں کا گراف کسی مصّور کے کینواس پر اُبھرتی ہوئی کوئی پُر اسرار تصویر لگتی تھی۔ اُس کے منہ سے جو بھی بات نکلنی تھی اثر رکھتی تھی۔ اس لئے کہ اُسکی ہر بات اُس کے دِل کے دریچے کو وا کرنے ک

ثمر

افسانہ


 حبیب خان کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو اسپتال میں چار پائی پر لیٹے ہوئے پایا۔اس کے جسم کا انگ انگ یوں ٹوٹ رہا تھا جیسے سٹرک کو ٹنے والا رولر اس سے روند کرگُزرا ہو۔اسے محسوس ہوا جیسے اس کی ایک ٹانگ بے حس ہو چُکی ہے جبکہ سر اور جسم کے کئی حصوں سے درد کی شدید ٹیسیں اٹھ رہی

دیپک بُدکی!

’’ ادھورے چہرے‘‘ ایک منفرد افسانوی مجموعہ


سرزمین ِ کشمیر میں اُردو میں لکھنے والی عہد آفرین ہستیوں کی فہرست طویل ہے اور یہ بات اُمید افزاء ہے کہ اس میں ہر دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ دہائیوں کی ادبی تواریخ کی اگر اوراق گردانی کی جائے تو مرحومین کی صف میں پریم ناتھ پردیسی، میر غلام رسول نازکی ، رامانند ساگر، شی

غزلیات



جب بھی میں گمرہی سے ملتا ہوں
ایک تشنہ لبی سے ملتا ہوں
عین اسی وقت اندھیرا ہوتا ہے
جب بھی میں روشنی سے ملتا ہوں
لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں
جب بڑی سادگی سے ملتا ہوں 
مجھ سے ملنا اسے نہیں منظور 
اور میں روز اسی سے ملتا ہوں 

شفاخانہ

افسانہ


سورج مشرق سے مغرب تک کا سفر طے کر چکا تھا۔اب ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔درختوں کے پتے کھڑ کھڑ ا رہے تھے۔پرندے اپنےاپنے گھونسلوں کی طرف اڑتے جارہے تھے۔چرواہے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ ہانک رہے تھے۔ہر شخص اپنے گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔دور کسی جنگل سے کوئل کی کوک صاف سنائی دے رہی ت

غزل



کیسی گھٹن ہے آج بہاروں کے درمیاں
ارماں سُلگ رہے ہیں شراروں کے درمیاں

تڑپا رہی ہے دَرد میں ڈوبی ہوئی صَدا
کوئی سسِک رہا ہے چناروں کے درمیاں

بکھِرا نہیں ہے یوں ہی پرندوں کا قافلہ
پنہاں تھا کوئی خوف قطاروں کے درمیاں

نعت پاک



دلکش ہے بہت صورتِ سلطانِ مدینہ
اے صلّ علیٰـ خلقتِ سلطانِ مدینہ
سب جانتے ہیں رحمت سلطانِ مدینہ
پوچھو نہ مگر غیرتِ سلطانِ مدینہ
معراج کا اعزاز ملا صرف انھی کو
کہتے ہیں جنھیں حضرتِ سلطانِ مدینہ
نبیوں کی امامت کریں امت کی شفاعت
اعلیٰ ہے بہ

غزلیات




کچھ دنوں سے تری یادوں کاسفر جاری ہے
ہاں  یہی  ایک  محبت کا  ہنر  جاری ہے

بے وفا میں تو نہیں ہوں تجھے معلوم ہے یہ
تیری گلیوں سے مرا اب بھی گزر جاری ہے

ایک دن میں تری دنیا سے  چلا جائوں گا
سب کے ہونٹو ں پہ یہی ایک خ

اے خُدا



اے خُدا! اے مالکِ کون و مکاں
تِرے قبضے میں زمین و آسماں
تیری قُدرت کا نمونہ زندگی
معرفت کا ایک ذریعہ موت بھی
پیڑ پودے، سبزہ وگُل، برگ و بار
ہے ہر اِک سُو تِری صنعت کی بہار
تیرے باعث زندگی کا ہا و ہُو
اول و آخر فقط ہے تُوہی تُو

اِلٰہی پریشان اِنسان کیوں ہے



اِلٰہی پریشان اِنسان کیوں ہے
ہر سوچ ، ہر فِکر وِیران کیوں ہے
سَمندر بہت پُرسکون تو ہے لیکن
پیالی میں آیا یہ طوفان کیوں ہے
ہُوتے ہیں آدم سے کیا کام ایسے
کھڑا دُور شیطان حیران کیوں ہے
پانی کے قطرے تو ہیں بیش قیمت
مگر خُونِ معصوم ارزان کی

تمہارے نام



یہ شام گیسو گلاب صبحیں
تمہارا طرزِ ادا غضب ہے
مجھے بتا دے اے میرے ہمدم 
خدا کی بارش تری نوازش
میرے مہر کی دلیل بن کر 
 تمام طرفوں میں نور بھر دے
 میری سمجھ سے بھی جو ہے بالا 
 وہ میرے دل میں اُتار کر تو
اُتار کر لازوال ک









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By