تازہ ترین

بھارت میں11اموات،606 افرادمتاثر

مئی کے وسط تک مریضوں کی تعداد13لاکھ تک پہنچنے کااندیشہ

27 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دلی //ہندوستان میں کوروناوائرس کے معاملات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ملک میں اب تک اس کے 606 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ چکی ہے ۔وزارت صحت نے بدھ کے روز بتایا کہ ملک میں کورونا کے 606 معاملوں کی تصدیق ہوچکی ہے ۔جن میں 563مریض ہندوستانی ہیں جبکہ 43 کا تعلق بیرون ممالک سے ہے ۔خیال رہے ہندوستان کووڈ19 کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں ہے اوران دومرحلوں میں متاثرین اوراموات کی تعدادمیں اضافہ ہوتاہے۔مرکزاورریاستی سرکاریں کوروناوائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں،اوران کوششوں کی ایک اہم کڑی کے بطورپورے ملک میں منگل اوربدھ کی درمیانی رات سے21روزہ لاک ڈاون شروع ہوچکاہے۔ سائنس دانوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ملک میں متاثرہ آبادی اس رفتار سے بڑھتی رہی تو مئی کے دوسرے ہفتے تک ہندوستان میں کورونا کے 13 لاکھ مریض ہو جائیں گے۔ ہندوستان میں کورونا کے معاملوں کا مطالعہ کرنے والےCOV-IND-19 اسٹڈی گروپ کے محققین نے موجودہ اعداد و شمار کا مطالعہ کرنے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا ہے۔ اس گروپ کے ڈیٹا سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں ٹیسٹنگ کی شرح بہت کم ہے۔ صرف18 مارچ کو ہی ملک میں کورونا ٹیسٹ کیلئے11ہزار500افرادکے نمونے لئے گئے تھے۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ لوگ جانچ کیلئے آگے نہیں آرہے ہیں۔COV-IND-19 کے مطالعاتی گروپ کے ایک سائنس دان کاحوالہ دیتے ہوئے میڈیارپورٹ میں کہاگیاہے کہ ابھی تک کووڈ19کیلئے کوئی ویکسین منظور نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کسی دوا کی ایجاد ہوئی ہے،اور اس صورتحال میں ہندوستان میں دوسرااورتیسرامرحلہ زیادہ تباہ کن نتائج کاموجب بن سکتاہے۔سائنس دانوں اورطبی ماہرین نے خبردارکیاہے کہ بھارت میں حفظان صحت کا نظام پہلے ہی دباو میں ہے۔ سائنس دان کے مطابق ، ایسا ہی نمونہ دوسرے ممالک جیسے امریکہ یا اٹلی میں بھی دیکھنے کو ملا۔ وہاں کووڈ19 آہستہ آہستہ پھیلا اور پھر اچانک تیزی سے معاملات سامنے آنے لگے۔COV-IND-19کے مطالعاتی گروپ نے کہا کہ ہمارا موجودہ تخمینہ ہندوستان میں ابتدائی مرحلے کے اعداد و شمار پر مبنی ہے جو کہ کم ٹیسٹنگ کی وجہ سے ہے۔