تازہ ترین

سرینگر کی کرونا مریضہ صحت یاب، لداخ میں 2کی حالت مستحکم

ایڈوائزریوں پر عمل کیا جائے،گھبرانے کی ضرورت نہیں: آہنگر/ شاہد اقبال

25 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// وادی میں کرونا وائرس کے مزید3نئے کیس سامنے آنے کے بیچ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالغنی آہنگر نے منگل کو اعلان کیا کہ وادی سے تعلق رکھنے والی کورونا وائرس میں مبتلا پہلی مریضہ ٹھیک ہو رہی ہے،اور قرنطینہ میں متعین کردہ عرصہ گزارنے کے بعد اس کو رخصت کیا جائے گا۔مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹرشاہد اقبال چودھری نے کہا اس مہلک  وائرس سے بچائو کیلئے صحت سے متعلق ایڈویزری پر عمل کرنے اور بندشوں کے احکامات پر عمل در آمد کرنا لازمی ہے۔ اس دوران لداخ کے کمشنر سیکریٹری ہیلتھ ریگزن سمپھل نے کہا ہے کہ لداخ میں کرئونا وائرس میں مبتلا2مریض صحت یاب ہو رہے ہیں۔سرینگر میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اے جی آہنگر اور ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ ہم وادی کے لوگوں کے ساتھ یک اچھی خبر کا اشتراک کرنا چاہتے ہیں،پہلا مریضہ جسکا ٹیسٹ وائرس کے حوالے سے مثبت آیا تھا،تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے اور ہمیں اس بات پر اعتماد ہے کہ قرنطینہ کا وقفہ مکمل کر کے اس کو رخصت کیا جائے گا‘‘۔ڈاکٹر آہنگر نے کہا’’میں اپنی ٹیم،ملازمین اور معالجین کے علاوہ نیم طبی عملے کو سلام پیش کرتا ہوں،جو ہمہ وقت کام کر رہے ہیں،اور ہم کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں‘‘۔
تاہم انہوں نے کہا  اس وائرس سے بہتر بچائو یہ ہے کہ ایک آدمی سے دوسرے آدمی یا سماج میں اس کو پھیلنے سے روکا جائے۔انہوں نے کہا’’ تشویش اس بات کی ہے کہ وائرس کا پھیلائو تیزی سے اس وقت پھیلتا ہے جب اس میں مبتلا کوئی شخص کسی سے رابطہ قائم کرتا ہے،اور ایک مریض کئی ایک لوگوں کو اس میں مبتلا کرسکتا ہے،اسی لئے لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس زنجیر کو توڑ دیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے جو صحت سے متعلق ایڈوئزری اور بندشوں کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ان کو قابل عمل بنایا جائے۔ انہوں نے لوگوں  پر بھی زور دیا کہ وہ از خود کرونا وائرس سے بچائو کیلئے ادویات کا استعمال نہ کریں۔ ڈاکٹر آہنگر نے کہا’’ میرے مشاہدہ میں یہ بات آئی کہ کچھ لوگ ادویات فروشوں کے پاس جاکر کرئونا وائرس سے بچائو کیلئے دوائیاں خریدتے ہیں،تاہم ان ادویات کا طویل عرصے انسانی جسم پر مضر اثرات ہونے کا احتمال ہے۔اس سے انسان اندھا بھی ہوسکتا ہے،اور کوئی بھی دوا ڈاکٹری مشورے کے بغیر نہ لی جائے۔ ڈاکٹر آہنگر نے کہا کہ مہلک ثابت ہوئے  باریک جراثیم(کرونا وائرس) کے خلاف عالمی جنگ کواس کی منتقلی کی زنجیر توڑ کر کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر آہنگر نے کہا’’ میں نے57ٹیسٹ کئے،جن میں55منفی ثابت ہوئے،اور ہمیں اس بات پر اعتماد ہے کہ دیگر مریض( صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں) جو نگرانی میں ہیں، بہت جلد صحت یاب ہونگے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد4ہوگئی ہے،جبکہ سرینگر سے2اور بارہمولہ سے ایک تازہ کیس سامنے آیا،جن کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ساتھ مواصلاتی رابطہ قائم کیا گیا ہے،اور اس کیلئے لینڈ لائن اور25موبائلوں پر ہمہ وقت معالجین دستیاب رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا’’ اسپتالوں کا رخ اسی وقت کریں جب اسپتالوں میں آنا  انتہائی ضروری ہو‘‘۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کہا کہ صحت سے متعلق ایڈوائزریوں اور بندشوں پر عمل کرنا’’ مرضی نہیں لازمی ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ ہمارے پاس اٹلی کی مثال موجود ہے جہاں مثبت کیسوں اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ہیلتھ اور امتناعی احکامات پر عمل نہ کرنا مہنگا ثابت ہوسکتا ہے‘‘۔انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ صحت سے متعلق ایڈوائزریوں کو قابل عمل بنائے اور امتناعی احکامات پر عمل کریں،اور اس مہلک وائرس کی ایک دوسرے پر منتقلی کی زنجیر کو اسی طرح سے توڑا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی معالجین اور نیم طبی عملے سے انکی اپیل موثر ثابت ہوئی اور1200 لوگ رضاکارانہ طور پر سامنے آئے۔ ڈاکٹر شاہد چودھری نے مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ نے صارفین کو گھر تک راشن پہنچانے کیلئے تمام تر انتظامات کئے ہیں۔ان کا کہنا تھا’’ ہم وائرس کو اپنے صحت کا نظام بگاڑنے کا موقعہ فراہم نہیں کرینگے اور ناہی ہمارے خلاف جنگ جیتنے دیں گے، اور اس کو شکست فاش کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کیلئے تمام لوگ تیار رہیں‘‘۔ادھر لداخ میں بھی ضلع انتظامیہ نے کرونا وائرس سے متاثرہ2مریضوں کے ٹھیک ہونے کا دعویٰ کیاہے۔حکومتی ترجمان اور کمشنر سیکریٹری ریگزن سمپھال نے بتایا کہ 2مریض جن میں کرئونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی،اب ٹھیک ہوگئے ہیں،اوراب کرئونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد خطے میں13سے کم ہوکر11رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں مریضوں کے نمونے اب منفی آئے ہیں،اور انہیں ایسولیشن وارڈ سے قرنطینہ وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے،جہاں متعین کردہ مدت کو مکمل کرنے کے بعد انہیں رخصت کیا جائے گا۔