تازہ ترین

سیلفی۔ ایک نیانفسیاتی مرض

بناوٹ اور مصنوعی پن کا جنوں

24 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد ندیم الدین
ہر مسلمان پر تقوی کی زندگی گزارنا صرف ضروری ہی نہیں بلکہ فرض عین ہے، بلا امتیاز رنگ ونسل عنداللہ قبولیت کا دارومدار بھی اسی پر ہے "ان اکرمکم عند اللہ اتقکم "اور تقوی نام ہے دو چیزوں کے مجموعے کا ۱۔امتثال اوامر،۲۔اجتناب عن النواہی۔ تاہم ان میں بھی اہم ومقدم اجتناب عن النواہی(گناہوں سے بچنا)ہےیہی وجہ ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”تم حرام سے بچو عابد بن جاؤگے‘‘لیکن مسلمانان عالم نے اسی اہم جزء کو بھلاکر، آخرت کی پرواہ کئے بغیرجب حرام کی پر خطر اور خاردار وادی میں قدم رکھا اور تسکین نفس کے خاطر حرام کو ضرورت دین و اصلاح دین کا لیبل لگا کرحلال کرنے لگے ،تو شیطان نے بھی انہیں ایسے ایسے حرام کاموں کا چسکا لگایاجو غیرت ایمانی اور تقاضہ اسلامی کے بالکل خلاف ہے اور آج امت مسلمہ جن حرام کاموں میں سب سے زیادہ مبتلاء ہیں ان میں سے ایک تصویر کشی بھی ہے ،جس کے بدترین شوق نے امت مسلمہ کی روحانیت پر زبردست بم باریاں کی ہیں ،اور انسان بھی اس کا ایسا عادی ہوگیا کہ اس کے دل سے اس کی حرمت رفتہ رفتہ ختم ہی ہوگئی ،انسان اسے اپنی زندگی کا جزءلاینفک سمجھنے لگاجب کہ اس کی حرمت نصوص قطعیہ ،آثارصحابہ اور اجماع امت سے ثابت ہے،تقریبا چالیس احادیث اس کی حرمت سے متعلق ہیں ،چنانچہ ایک حدیث میں آپﷺنے ارشاد فرمایا”تصویر بنانے والے کوروز قیامت سخت ترین عذاب دیا جائیگا،( بخاری وابن ماجہ) ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا:تصویر بنانے والوں کو روز قیامت حکم دیاجائیگا کہ جو بنایا ہے اس میں روح ڈال کے بتاو(بخاری)ایک موقعہ پر آپ ﷺنے ایسے شخص پر لعنت کی ہے، (مسلم ) ایک حدیث میں ہے کہ ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصاویر ہو(بخاری)نیز اس میں بے شمار مفاسد بھی ہے۔چنانچہ جہاں ایک طرف یہ تصاویر بے حیائی ،بد فعلی اور جذبات کو بر انگیختہ کرتی ہیں تو وہیں نسل نو کے اخلاق اور دین کی تباہی کا ذریعہ بھی ہیں،جہاں ایک طرف یہ بت پرستی اور شرک کا ذریعہ ہیں تو وہیں عورتوں کی عفتوں اور عزتوں کی تباہی کا باعث بھی اورجہاں اس میں وقت کا ضیاع ہے، تو وہیں ریاکاری کا ذریعہ بھی ہیں اور جہاں یہ تصاویر غم اور گناہ کو ہمیشہ زندہ رکھنے کا سبب ہیں تو وہیں کفارومشرکین سے مشابہت بھی بدرجہ اتم اس میں موجود ہے۔
جدید دور کی پیداوار اور تصویر کی ایک نئی قسم’ سیلفی ‘ہے ،اس کا سب سے پہلے استعمال۲۰۰۲ میں کیاگیااور جس نے ۲۰۱۳ میں عالمی ریکارڈاپنےنام کیا،جس نے ہر کسی کوعوام تو عوام خواص کو بھی اپنا ایسادیوانہ وپاگل بنالیاکہ چلتے پھرتے،اٹھتے بیٹھتے،سوتے جاگتے ،لڑتے جھگڑتے،مانتے بگڑتے،خاندان کے ساتھ ہو یا دوستوں کی محفل میں ،ریسٹورینٹ ہو یاخاندان کے اجتماعات میں ،شادی بیاہ کا موقعہ ہو یا کوئی اور محفل ہر جگہ اور ہر کسی پر سیلفی کا جادو سر چڑھ کر بول رہاہے،محض اپنے فالوورز کو متاثر کرنے کے خاطر خطرناک ،اونچی اونچی پہاڑیوں اور بلند بلند عمارتوں پر سیلفی لینا انسان کا محبوب ترین مشغلہ بن گیااور ایک اچھا خاصا بظاہر سنجیدہ اور متاثر کن دکھائی دینے والا شخص جب آڑے ترچھے زاویوں سے ، ٹیڑھے میڑھے منہ بنا کر، ہونٹوں کو منہ چڑانے کے انداز میں سکیڑ کر جب دیوانہ وار سیلفی لینے میں مشغول ہوتاہے تو یوں لگتا ہے جیسے اس کی شخصیت کو گہن لگ گیا ہے۔ اس کی اصلیت عیاں ہو گئی ہے ۔ اسے دیکھنے والوں کے اذہان پر کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔عیادت کرنے اسپتال جائیں تو درد سےکراہتے مریض کے ساتھ سیلفی، آخری سانس ،اور پھر جنازہ کے وقت سیلفی ،حتی کہ نماز پڑھتا ہے تو سیلفی لیتے ہوے،زکوۃ دیتا ہے تو سیلفی لیتے ہوے،خدمت خلق کرتاہے تو غریبوں کی عزت کو مجروح کرکے سیلفی لیتے ہوے،جب کہ آپﷺ نے فرمایا :’’جس نے ریاکاری سے نماز پڑھی تو اس نے شرک کیا،جس نے ریاکاری سے روزہ رکھا تو اس نے شرک کیا،اور جس نے ریاکاری سے صدقہ و خیرات کیا تو اس شرک کیا۔‘‘اب تو صفاومروہ کی سعی ورمی جماربھی سیلفی کی نذرہوگئی، وقتِ طواف قبلہ کے بجائےسیلفی کے شوق میں فون کی سکرین کی طرف توجہ ہے،فیاحسرتا ! اب اسے مساجد کا احترام ہے نہ مقامات مقدسہ کا،نہ کعبۃ اللہ کی عظمت ہے نہ روضہ رسول کا ادب۔جب کہ حضرت عباس بن ربیعہ کا قول ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تک امت کعبۃ اللہ کی حرمت اسی طرح کرتی رہے گی جیسا کہ اس کا حق ہے،تو وہ خیروبرکت سے بہرہ ور رہے گی جب اس کی عظمت چھوڑ دیگی تو تباہ و برباد ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ مکہ مکرمہ کے علاوہ کسی مقام پر مجھ سے ستر۷۰ غلطیاں سرزد ہوجائیں تو یہ میں گوارہ کرسکتاہوں،لیکن یہ گوارہ نہیں کہ مکہ مکرمہ میں ایک بھی غلطی سرزد ہوجائے(ابن ماجہ)
الغرض اب انسان کے دن کی ابتداء و انتہاء اسی سے ہے گویا وہ اس کی شریک حیات بن چکی ہے، دوسرے لفظوں میں سیلفی ایسی آکسیجن بن چکی ہے جس کے بغیر زندہ رہنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوچکا ہے، اب اس کی عبادتوں میں اخلاص نام کی کوئی چیز ہی نہیں رہ گئی، سیلفی کے عفریت نے انسانی رویوں میں بے اعتنائی ولاپرواہی اور بے تعلقی کے ایک نئے باب کا اضافہ کردیا، سیلفی کا یہ رجحان جتنا پر لطف ہے اتنا ہی خطرناک بھی ،یہی وجہ ہے کہ سیلفی کی وجہ سے روز افزوں نوجوانوں کی شرح اموات میں اضافہ ہی ہورہا ہے،اس کی وجہ سے سب سے پہلی موت امریکہ میں اس وقت ہوی جب تین نوجوان چلتی ٹرین کے ساتھ تصویر لینے کی کوشش کررہے تھے،لیکن چلتی ٹرین کی وجہ سے وہ ٹرین کی زد میں آگئے اور لقمہ اجل بن گئے، تازہ ترین اطلاع کے مطابق ۲۷۶ اموات سیلفی کی وجہ سے ہوچکی ہے،ماہرین نفسیات نے سیلفی کو نئی نفسیاتی بیماری قرار دیا۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ سیلفی کی عادت در حقیقت انسان کے اندر چپھی بدترین خود پرستی وخود پسندی کی عادت کو ظاہر کرتی ہے،جس سے انسان کی زندگی میں بناوٹ اور مصنوعی پن بڑھتا ہی جاتاہے، اپنے خدوخال کے حوالے سے وہ منفی رویوں کا شکار ہوجاتا ہے یہی رویے اسے ذہنی دباؤ،تنہائی پسندی کا شکار بنا دیتے ہیں ،ماہرین نفسیات کے مطابق اس دماغی خلل کا تاحال کوئی طریقہ علاج طے نہیں ہوسکا۔ان سب سے بڑھ کر یہ ایک فعل حرام ہے،ایسا شخص خدا و رسول کی لعنت کا مستحق ہے ،جس سے بچنا بے حد ضروری ہے ،اوروالدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو سیلفیز لینے سے روکے ورنہ بچوں کا اس کی طرف بڑھتا ہوا رجحان بڑے مسائل کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔
������
مدرس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد