تازہ ترین

جموں کشمیر میں 4329زیر نگرانی، 485نے مدت پوری کی

متاثرہ ممالک سے مزید348 اور مختلف ریاستوں سے1773کشمیر پہنچے

24 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز احمد
سرینگر // شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ (سکمز) کے خصوصی ائیسولیشن وارڈ میں صرف ایک مریضہ زیر علاج ہے۔ اس دوران پیر کو صورہ میں کوئی شخص نہیں لایا گیا لیکن سی ڈی اسپتال میں مزید 8افراد کو داخل کیا گیا۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’ سوموار کو کوئی مشتبہ مریض آئیسولیشن وارڈ میں داخل نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو بنکاک سے واپس لوٹنے والے مشتبہ مریض کاتشخیصی رپورٹ منفی آیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ آئیسولیشن وارڈ میں اسوقت 1مریضہ داخل ہے جبکہ قرنطینہ وارڈ میں 20افراد کو زیرنگرانی رکھا گیا ہے۔ڈاکٹر جان نے بتایا کہ اس کے علاوہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک چین ، ایران ، اٹلی، کوریا ، ملیشیاء، انڈونشیا اور دیگر جنوب مشرقی ایشیاکے دیگر ممالک سے آنے والے افراد کیلئے قائم کئے گئے او پی ڈی میں روزانہ 50افراد ملاضہ کیلئے آتے ہیں جن میں ابتدائی علامات والے مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے جبکہ دیگر  افراد کو گھروں میں زیر نگرانی رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے آنے والے افراد متواتر طور پر رابطے میں ہے۔  ادھرسوموار کو مزید 348کشمیری کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک چین، ایران ، اٹلی اور جنوب مشرقی ایشیاء سے واپس لوٹ آئے جبکہ بھارت کی مختلف ریاستوں سے 1773افراد بھی وادی میں داخل ہوئے۔ سی ڈی اسپتال سرینگر میں سوموار کو مزید 8مشتبہ افراد کو داخل کیا گیا ہے اور اس طرح اسپتال میں داخل مریضوں کی تعداد 10ہوگئی ہے۔ سی ڈی اسپتال سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک  نے بتایا ’’ سوموار کو 8مریضوں کو داخل کیا گیا جن کے خون کے نمونے تشخیص کیلئے بھیج دئے گئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ آئیسولیشن وارڈ میں داخل افراد کی تعداد 10ہوگئی ہے ۔ ڈاکٹر ٹاک نے بتایا ’’ سی ڈی اسپتال میں ابتک 53نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں 45منفی آئے ہیں جبکہ 8کی رپوٹ کا ابھی بھی انتظار ہے۔ادھرحکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلٹین میں بتایا گیا ہے کہ جموںوکشمیر میں اب تک 4329 ایسے اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جو یاتو بیرون ممالک سے واپس آئے یا مشتبہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔ان میں سے چار افراد کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ 2916 اَفراد کو ہوم کورنٹین جبکہ 50اَفراد کو ہسپتال کورنٹین میں رکھا گیا ہے۔جن اَفراد کو اپنے گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے اُن کی تعداد 878ہیں جبکہ 485اَفراد نے 28دِن کی نگرانی کی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب تک 256 نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں جن میں سے 231 نمونوں کی رِپورٹ منفی آئی ہے ، چار نمونے مثبت پائے گئے ہیں جبکہ 21 نمونوں کی رِپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیاہے کہ وہ بغیر ضرورت گھروں سے باہر نہ آئے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلائوکو مؤثر طور روکا جاسکے۔چنانچہ طالب علموں اور دیگر افراد کی ایک بڑی تعداد واپس جموں وکشمیر پہنچ چکی ہے لہٰذا اُن سے کہا گیا ہے کہ وہ ایڈ وائزری کی مکمل پاسداری کریں۔ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیاہے کہ کچھ طالب علموں اور دیگر مسافروں نے اپنے سفر کی مکمل تفصیلات نہیں دی ہیں۔ایسے طالب علموں اور مسافروں سے کہا گیاہے کہ وہ اپنے نزدیکی طبی ادارے یا کووڈ ۔
19 ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ قائم کر کے اپنے سفر کی تفصیلات دیں اور رضاکارانہ طور 14روز کے کورنٹین میں جائیں ۔ یہ قدم ان کی او ران کے رابطے میں آنے والے افراد کی بھلائی کے لئے ہے۔ایڈوائزری میں باہر سے آنے والے لوگوں کے اہل کنبہ ، ہمسایوں او ردیگر لوگوں سے کہا گہا ہے کہ وہ باہر سے آنے والے افراد کی آمد کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ عوامی صحت کے مفاد میں مناسب اقدامات کئے جاسکیں۔اس سلسلے میں عام قومی سطح کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ 0191-2549676 ( جموں کشمیر کیلئے ) ،,01912674444,01912674115 0191-2520982 ( صوبہ جموں ) ، 0194-2440283 اور 0194-2430581 ( صوبہ کشمیر ) کیلئے قائم کئے ہیں ۔ ایک دوسرے سے سماجی دوری بنائے رکھنے کی عمل آوری کے لئے ایڈوائزری میں کہا گیاہے کہ یہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اِنتہائی لازمی ہے۔اس کے لئے ہجوم سے دُور رہنا ، اجتماعات سے اجتناب کرنا اور دوسرے لوگوں سے دُور ی بنائے رکھنا ( 6فیٹ یا 2میٹر تک ) شامل ہیں۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے’’عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال سے احتراز کریں ،بھیڑ بھاڑ والی جگہوں اور اجتماعات سے دوررہیںاور کھلے میں نہ تھوکیں۔لوگوں کو چاہیئے کہ وہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں ۔ پانی او رصابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں اور کھانستے یا چھینکتے وقت مناسب احتیاط برتیں۔‘‘لوگوں سے کہا کیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ایڈوائزری سے سختی سے عمل کریں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرکار کی جانب سے فراہم کی جانے والی اطلاعات پر ہی بھروسہ کریں۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ نہ افواہیں پھیلائیں اور نہ ان پر کان دھریں۔