تازہ ترین

سکمز میں2نئے مشتبہ مریض داخل، لداخ میں 3نئے کیس

۔ 2ڈاکٹر بھی زیر نگرانی،213کے نمونے حاصل ، 205منفی، 4مثبت اور 4کی رپورٹ آنا باقی

22 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز احمد
  سرینگر //شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ (سکمز)میں سنیچر کو مزید 2افراد کو آئیسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا جبکہ 2افراد کو نگرانی کے 14دن مکمل ہونے کے بعد گھر روانہ کیا گیا ۔ادھر لداخ خطے میں مزید 3 افراد کو کرونا وائرس میںمبتلا پایا گیا ، اس طرح لداخ میں تعداد 13تک پہنچ گئی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ سکمز کے نگرانی وارڈ میں ابھی بھی 16افراد داخل ہیں جن میں کورونا وائرس سے متاثرہ خاتون کے دور رشتہ دار بھی شامل ہیں۔سکمز کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’ سنیچر کو آئیسولیشن وارڈ میںمزید 2افراد کو داخل کیا گیا اس طرح قارنطین وارڈ میں داخل مشتبہ مریضوں کی تعداد16پہنچ گئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ زیرنگرانی 18افراد میں سے 2نے نگرانی کے 14دن مکمل کرلئے جس کے بعد انہیں گھر بھیج دیا گیا۔ ادھرہفتے کو281افراد کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں سے جموں و کشمیر لوٹ آئے جن میں 92افراد کو گھروں میں زیرنگرانی رکھا گیا جبکہ 6افراد کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ۔ ان افراد میں 4 کو کشمیر کے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ادھرسرینگر کے ڈلگیٹ میں قائم سی ڈی اسپتال میں مزید 1مشتبہ مریض کو داخل کیا گیا ۔ ڈاکٹر جان نے کہا ’’ اس وقت سی ڈی اسپتال سرینگر کے اندرخصوصی نگرانی میں 12افراد ہیں‘‘۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نگرانی کیلئے قائم وارڈوں میں مریضوں کیلئے تمام تر سہولیات دستیاب ہیں۔ محکمہ صحت کے  ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کو جموں و کشمیر میں زیرنگرانی رکھے گئے افراد کی تعداد 3611تک پہنچ گئی ہے جن میں 2557افراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے جبکہ 50افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کل 213افراد کے نمونے حاصل کئے گئے ہیں جن میں 205منفی جبکہ 4مثبت اور 4کی تشخیصی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کو 175افراد بنگلہ دیش، سعودی عرب اور دیگر کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے کشمیر لوٹ آئے جبکہ بھارت کی مختلف ریاستوں سے 3809افراد بھی وارد کشمیر ہوگئے۔معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کے دو بڑے اسپتال میں تعینات 2ڈاکٹروں کو ابتدائی علامات پائے جانے کے بعداُنہیں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ مختلف نگرانی وارڈوں میں رکھے گئے ڈاکٹروں میں سے ایک سکمز صورہ کے شعبہ ریڈیولاجی میں تعینات ہے جبکہ دوسرا ڈاکٹر صدر اسپتال سرینگر میں کام کررہا ہے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سکمز کے شعبہ ریڈیو لاجی میں کام کرنے والی خاتون ڈاکٹر کوکورونا وائرس سے متاثرہ خاتون کی ڈاکٹر بیٹی کے ساتھ سکمز میں نگرانی میں رکھا گیا ہے جبکہ جی ایم سی سرینگر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کو گھر میں ہی نگرانی رکھنے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جی ایم سی سرینگر میں موجود ذرائع نے بتایا ’’ پی پی ایف اور ماسکس کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹروں کا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے‘‘۔ جی ایم سی سرینگر کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ ضروری سامان کی عدم دستیابی کی وجہ سے جونیئر اور سینئر ڈاکٹروں کوسخت مشکلات درپیش ہیں جسکی وجہ سے جونیئر ڈاکٹروں نے جمعہ کو احتجاج بھی کیا‘‘۔ مذکورہ ڈاکٹر نے مزید بتایا کہ احتجاج کے بعد اگرچہ جی ایم سی سرینگر انتظامیہ نے ڈاکٹروں کی باتیں سنیں لیکن سہولیت کی عدم دستیابی کی وجہ سے طبی عملہ کو بدستور خطرات لاحق ہیں۔ سی ڈی اسپتال میں شعبہ امراض چھاتی کے سربراہ ڈاکٹر نوید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ایک خاتون ڈاکٹر کے نمونے منفی آئے لیکن اس کے باوجود مذکورہ ڈاکٹر کوگھر روانہ کرکے نگرانی برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ مریضوں کا ملاحظہ کرنے کے دوران اسکو کسی مریض کا انفکیشن منتقل ہوگیا تھا لیکن تشخیص کے بعد رپورٹ منفی آئی ہے‘‘۔ سی ڈی اسپتال سرینگر کے  میڈیکل سپر انٹنڈنٹ نے بتایا ’’ مذکورہ خاتون ڈاکٹراپنے ہی گھر کے اندر نگرانی میں ہے‘‘۔ ادھر لداخ میں مزید تین افراد کو کورونا وائرس میں مبتلاء پایا گیا ہے جس کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مہلک وائرس میں مبتلاء افراد کی تعداد13پہنچ گئی ہے۔