تازہ ترین

کرونا کرفیو ؛ شہر میں صورتحال جوں کی توں

سڑکیں سنسان،دکان اورتجارتی مراکز مقفل

22 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر//کورنا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی خاطرشہر سرینگر میں کل بھی سخت ترین بندشیں عائد رہیں جس دوران شہر میںجہاں سڑکوں کو سیل کردیا گیا تھا اور پولیس اور سی آر پی ایف کے اضافی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا وہیں سول لائنز ،پائین شہر اور دیگر علاقوں میںدکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے۔جمعرات کو شہر خاص کے خانیار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے کرئونا وائرس میں مبتلا ہونے کی خبروں کی باز گشت کے بعد سرینگر میں احتیاتی طور تمام سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ پائین شہر اور سیول لائنز میں پولیس نے دکانداروں کو اپنی دکانیں،تجارتی و کاروباری مراکز اور تجارتی و کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان گاڑیوں پر لگے لوڈ سپیکروں کے ذریعے کیاگیا جبکہ کئی مصروف ترین سڑکوں کی ناکہ بندی کی گئی اور ان پر جگہ جگہ خارر دار تاریں نصب کرکے مسافر بردار ٹریفک کی نقل و حمل کو بندکیا گیاتاہم نجی ٹرانسپورٹ دن بھر جاری رہا۔ سرینگر میں امیراکدل،بٹہ مالو،ٹینگہ پورہ،حیدرپورہ،نوگام بائی پاس،ہمہامہ کے علاوہ شہر خاص میں بھی متعدد جگہوں پر سڑکوں پر خارر دار تاریں نصب کی گئیں تھیںاور گاڑیوں کو روکا جارہا تھا ۔شہر میں دن بھر بازار بندرہے اور سڑکیں بھی سنسان نظر آرہی تھیں۔ پائین شہرمیں صبح سے ہی پولیس اور فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم لوگوں کو چلنے پھرنے سے نہیں روکا جارہا تھا ۔نالہ مار روڈ پر متعدد مقامات پر خار دار تار نصب کی گئی تھی اور یہاں سے گذرنے والی نجی گاڑیوں کو بھی روکا جارہا تھا ۔قمر واری میں پل کے قریب سڑک پر خار دار تار نصب کی گئی تھی جبکہ نور باغ ،عید گاہ اور صورہ میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملی ۔شہر میں دفعہ 144کے تحت عائد پابندیوں کی وجہ سے لوگ زیادہ تر گھروں میں ہی رہے ۔کئی مقامات پر تعینات پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی اور صرف لازمی سروسز اور ہسپتال جانے والی گاڑیوں کو ہی چھوڑا جارہا تھا ۔اس صورتحال کی وجہ سے ہر گلی اور سڑک ویران اور بازار صحرائیں مناظر پیش کر رہے تھے اور شہر میں ہر سو عجیب و غریب ماحول اورخاموشی دیکھنے کو ملی۔ شاہراہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے پر واقع بلیوارڈپر بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملی۔سرینگر میں صبح کے وقت پارکوں میں جہاں لوگ صبح کی سیر کرنے کو جاتے تھے، وہ بھی بڑی حد تک متاثر ہو ئی ہے جبکہ میدانوں میں بھی نوجوانوں نے کھیل کود کا سلسلہ ترک کیا ہے۔ اس صورتحال سے عملی طور پرشہر میں لاک ڈائون کا ماحول ہے۔