تازہ ترین

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں کل جماعتی میٹنگ | ’گپکار اعلامیہ ‘جاری

مخصوص شناخت کیساتھ چھیڑ چھاڑ، غیر آئینی حد بندی یا ریاست کی تقسیم کو حملہ تصور کیا جائے گا

5 اگست 2019 (00 : 12 AM)   
(   عکاسی: حبیب نقاش    )

بلال فرقانی
سرینگر//کل جماعتی میٹنگ میں سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگر مرکز کی جانب سے دفعہ 370یا 35-اےکو ختم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف متحدہ طور پر سینہ سپر ہوں گے۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل جماعتی میٹنگ کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا جسے ’’گپکار اعلامیہ ‘‘ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال غیر یقینی ہے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف کوئی بھی اقدام حملہ تصور کیا جائے گا ۔اعلامیہ میں لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ لوگوں کو چاہئے وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پر امن رہیں۔میٹنگ کے دوران ریاست کی مخصوص شناخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، غیر آئینی حد بندی یا ریاست کی تقسیم کو جموں کشمیر اور لداخ کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا ۔ میٹنگ میں صدر جمہوریہ ہند ، وزیراعظم اور ملک کے دیگر سیاسی لیڈران سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارتی آئین میں ریاست کے لوگوں کو دی گئی ضمانتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنا رول نبھائیں۔  ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی، کانگریس، پیپپلز کانفرنس، عوامی نیشنل کانفرنس، عوامی اتحاد پارٹی، شاہ فیصل اور دیگر پارٹیوں نے شرکت کی۔ جو دیگر میٹنگ میں موجود تھے ان میں محبوبہ مفتی، مظفر حسین بیگ، عبدالرحمان ویری، عمر عبداللہ، سجاد غنی لون، عمران انصاری، محمد اکبر لون، شاہ فیصل، علی محمد ساگر، محمد یوسف تاریگامی، حکیم محمد یاسین، غلام حسن میر وغیرہ شامل تھے۔