تازہ ترین

یادوں کے جھروکے سے

منظر منظر نقش نظر میں دل میں چہرہ چہرہ ہے

4 اگست 2019 (02 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک
خدمت خلق کی راہ پر وہ بھی لڑھک گئے جن سے لڑھکنے کی امید نہ تھی!یہ صرف انسان ہی نہیں ہے جس کی یادیں ہوتی ہیں بلکہ غور کیا جائے تو تجربہ بتاتا ہے کہ جانوروں کی بھی یادیں ہوتی ہیں۔ ہم نے بچپن میں ایک غلام اینڈروکلیس اور شیر کی کہانی سنی ہے کہ کس طرح ایک غلام جب اپنے مالک کے ظلم وستم سے تنگ آکر جنگل کی طرف بھاگا تھا تو وہاں اس نے ایک شیر کو کراہتے ہوئے دیکھا کیونکہ شیر کے پاؤں میں ایک کانٹا چھب گیا تھا۔ اینڈروکلیس نے اس شیر کے پاؤں سے وہ کانٹا نکالا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد اینڈروکلیس گرفتار ہوا اور اس وقت کے قانون کے مطابق سزا کے طور اینڈروکلیس کو تین دن کے بھوکے شیر کے آگے ڈال دیا گیا مگر سب لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ اس شیر نے تین دن سے بھوکا ہوکر بھی اینڈروکلیس کو نہیں کھایا۔ یہ وہی شیر تھا جس کے پاؤں سے اینڈروکلیس نے کانٹا نکالا تھا۔ شیر کو اینڈروکلیس کا وہ احسان یاد تھا۔ اسی طرح بہت سے واقعات اور آئے دن کے ہمارے تجربات بھی ہمیں بتاتے ہیں کہ یادیں جانوروں کی بھی ہوتی ہیں۔ یادیں ان واقعات اور تجربات کی بھی ہوتی ہیں جو انسان کی اپنی ذات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اپنی یادوں میں وہ یادیں بھی سمائی رہتی ہیں جو دوسرے لوگوں نے اپنے واقعات یا تجربات کے حوالے سے بتائی ہوتی ہیں۔ اپنی یادوں میں وہ یادیں بھی بس گئی ہوتی ہیں جو تاریخ سے اخذکردہ ہوئی ہوتی ہیں۔ سب سے بہتر وہ ذہن ہے جس کی یادوں پر اللہ کی یاد، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یادیں اور اہل بیت اطہارؓ کی یادیں اور اصحاب رسولؓ کی زندگی کی یادیں حاوی ہوں۔ ایسی یادیں جہاں کردار سازی میں معاون بنتی ہیں ،وہاں آخرت میں کامیابی کی ضامن بھی بن سکتی ہیں۔ ان یادوں سے اخلاق حسنہ اور خدمت خلق کے دروس مل جاتے ہیں۔ ان یادوں سے انسان سے محبت کرنے کا سبق مل جاتا ہے، ہر مخلوق سے رحم کرنے کی تحریک مل جاتی ہے   ؎
جس نے انساں سے محبت ہی نہ کی ہو اقبال
درحقیقت  وہ  خدا  کا  بھی  طلب گار نہیں ہے
سر سید احمد خان کو بعض علما اچھی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہ نیچری تھے مگر ذرا ان کے دل کو تو دیکھو کہ اس میں مسلمانوں کے لئے کتنا درد تھا اور وہ مسلمانوں کے لئے کیسے تڑپتا تھا، اس دل میں مسلمانوں کے لئے کتنی محبت تھی۔ انگریز سرسیّد احمد خان کی بہت عزت کرتے تھے کیونکہ غدر کے وقت اس نے کئی انگریزوں کی جانیں بچائی تھیں اور انہیں اپنے گھر میں چھپا لیا تھا۔ انگریز انہیں اپنا محسن مانتے تھے۔ ایک واقعہ یوں ہوا کہ انگریزوں کے دور حکومت میں ایک سرکاری عہدے کو پُر کرنے کے لئے انٹرویو لیا جانے والا تھا تو ایک مسلمان لڑکا انگریز حاکم کے پاس گیا اور کہا کہ میں سر سیّد احمد خان کا داماد ہوں۔ چنانچہ اسی بنیاد پر اس لڑکے کو وہ نوکری دی گئی۔ بہت وقت گزر گیا، ایک دن یونہی باتوں باتوں میں انگریز حاکم نے اس مسلمان لڑکے سے کہا کہ جب تم نے اس عہدے کے لئے انٹرویو لیتے وقت سر سیّد احمد خان کا داماد ہونا ظاہر کیا تو میں نے تمہیں احساس دئے بغیر چپکے سے اس کی تصدیق کے لئے سرسیّد صاحب کو فون کیا تھا اور تمہارے بارے میں پوچھا تھا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کرنے کے ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی تھی کہ یہ عہدہ آپ کو ہی دیا جائے۔ یہ سنتے ہی اس لڑکے کے پسینے چھوٹ گئے اور شرمندگی سے سر چکرانے لگا کیونکہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ اب اس کی شادی بھی ہوچکی تھی۔ وہ کوئی بہانہ بناکر انگریز حاکم کے پاس سے تو چلاگیا مگر ندامت نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ اپنی بیوی کو ساتھ لے کر سرسیّد کے پاس گیااور وہاں اسے سارا واقعہ سناکر اُن کے پیر پکڑ لئے اور معافی مانگنا شروع کی۔ سرسیّد نے اسے گلے سے لگالیا اور کہا کہ اب تک تو یہ بات جھوٹ تھی لیکن آج میں تمہاری بیوی کو اپنی بیٹی بنالیتا ہوں اور آج سے تم واقعی میرے داماد ہو۔ سرسید نے اس نوجوان سے کہا کہ جب اس انگریز نے مجھے فون کرکے یہ بتایا تھا کہ ایک لڑکا آیا ہے اور کہتا ہے کہ میں سرسید کا داماد ہوں، تو میں نے سوچا کہ اگر مجھے گالی دینے سے ایک مسلمان کو روزگار ملتا ہے تو اچھا سودا ہے، چنانچہ میں نے انگریز افسر کو ہاں کہا۔ 
یہ تھا وہ درد جو لیڈروں کے دل میں اپنی قوم کے لئے ہوا کرتا تھا۔ سرسیّد نے سوچا اگر کسی مسلمان کے مجھے گالی دینے سے اس کی بے روزگاری چلی جاتی ہے تو مبارک ہے۔( اگر میری یاداشت صحیح کام کررہی ہے تو یہ واقعہ میں نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے ملفوظات میں کہیں پڑھا ہے)۔انگریز حاکموں نے ان کے احسان کے عوض انہیں انعامات اور مراعات دینے چاہے مگر سرسید نے ان کے بدلے مسلمانوں کی تعلیم کے لئے ایک یونیورسٹی قائم کرنے کی اجازت مانگی جو انگریزوں نے قبول کرلی اور یوں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو معرض وجود میں لایا۔ایک بزرگ نے مجھے ایک دن کہا کہ اللہ کے کسی صالح بندے نے سرسید کو خواب میں دیکھا تھا تو پوچھا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ سرسید نے جواب دیا کہ بہت اچھا معاملہ کیا اور اس خیر خواہی اور محنت کے عوض میری مغفرت فرمادی جو میں نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کی تھی۔
ایک دن مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک بڑے کمرے میں صحابہؓ کے ساتھ بیٹھے تھے تو انہوں نے ان صحابہؓ سے پوچھا، اگر آپ سے پوچھا  جائے کہ اللہ سبحان و تعالیٰ سے ایسی چیز مانگو کہ وہ آپ کو یہ کمرہ بھر کے دیدے جسے آپ اللہ سبحان وتعالی کی راہ میں لگادو، تو کیا مانگو گے؟ ایک صحابیؓ نے کہا: میں مانگو گا کہ یہ کمرہ سونا سے بھر جائے تاکہ میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کچھ اچھا مانگو؟ تو دوسرے صحابیؓ نے کہا میں اس کمرے کو ہیرے جواہرات سے بھرنے کی دعا مانگو گا تاکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرلوں۔ حضرت عمر ؓنے کہا کچھ اچھا مانگو؟ جس پر ایک صحابیؓ نے کہا، حضرت آپ ہی فرمائیں کہ کیا مانگنا چاہیے؟ تو حضرت عمر ؓنے کہا:اگر مجھ سے ایسا پوچھا جائے گا تو میں مانگو گا کہ یا اللہ اس کمرے کو عبیداللہ بن جراحؓ، معاذ بن جبلؓ اور دوسرے ایسے ہی لوگوں سے بھردو تاکہ میں انہیں جگہ جگہ تمہارا پیغام عام کرنے کے لئے بھیج دوں۔‘‘جب ایسے لوگ تھے اور ایسا مومنانہ جذبہ تھا تو دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ باوقار اور باعزت تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صحابہ ؓکی یہی دولت چھوڑی تھی اور مسلمانوں کا پورے عالم میں ڈنکا بج رہا تھا۔ پھر وہ لوگ نہ رہے تو مسلمانوں کا وقار اور عزت بھی ویسی نہ رہی اور وہ بلواسطہ یا بلاواسطہ کفر کے غلام بن گئے ،حالانکہ آج مسلمانوں کے پاس سونا، ہیرے جواہرات اور ڈالر اور تیل اتنی مقدار میں ہے کہ کئی عرب شیخوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے اول نمبر پر سرمایہ دار قرار پانے والے بل گیٹس کی ساری جائیداد خرید کر صدقہ کرسکیں مگر اتنی مادی دولت ہونے کے باوجود کوئی وقار اور عزت نہیں بلکہ وہی عالم ِکفر کے غلام۔ وجہ یہ کہ مسلمان قرآن اور سنت سے دور ہوا۔ اس نے زبان ہلانے اور تقریروں کو ہی دین جانا، وہ اپنے آپ کو قرآنی ماڈل نہ بنا سکا۔ اس نے دین کو اپنی عقل کے تابع بنادیا، وہ اپنی عقل کو قرآن وسنت کے تابع بنانے پر آمادہ نہیں رہا   ؎ 
   یہی  ہے عبادت یہی دین و ایماں 
  کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب طفل ِشیر خوارتھے، اس وقت بھی عدل و انصاف اتنا پسند تھا کہ جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپؐ کو ایک طرف کا دودھ پلاکر دوسری طرف پیش فرماتیں تو آپ قبول نہیں فرماتے تھے کیونکہ باذن اللہ سمجھتے تھے کہ وہ آپؐ کے دودھ شریک بھائی کا حق ہے۔ صبر وتحمل ایسا تھا کہ ایک اعرابی آتا ہے اور آپ کی چادر کو اتنا زور سے کھنچتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر نشانات پڑجاتے ہیں اور وہ کہہ رہا ہے: مجھے اللہ کے مال میں سے دیجئے۔ آپؐ مسکرادیتے ہیں اور صحابہؓ کو اسے مال دینے کے لئے کہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو تجھ سے قطع رحمی کرے تو اس کے ساتھ صلہ رحمی کر، جو تجھے نہ دے تو اسے دیدے، جو تجھ پہ ظلم کرے تو اسے معاف کردے اور جو تجھ سے برا سلوک کرے تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کر۔ ایسے اَن گنت واقعات ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح لوگوں کے دُکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے اور ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ کس طرح ایک بڑھیا کی لکڑی کا بوجھ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر نازنین پر اُٹھایا اور اس بڑھیا کے گھر تک پہنچایا۔ کس طرح ایک مشرک عورت گھر کے اوپر سے ان کے راستے چلتے وقت گندی چیزیں ڈالا کرتی تھی اور پھر جب کچھ وقت کے بعد تین چار دن ایسا نہ ہوا تو وہ اس عورت کے گھر گئے اور وہاں اُسے بیمار پایا جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا کہ جو کام آپ کیا کرتی تھیں وہ کچھ دنوں سے دیکھنے میں نہیں آیا، تو میں نے سوچا آپ کی خیریت دریافت کرلوں کہ آپ بیمار تو نہیں۔ پھر اس عورت سے کہا کہ میرے لائق کوئی کام ہو تو کہو، کسی مدد کی ضرورت ہو تو کہو۔ اسی طرح اصحاب رسول ؓکی مثالیں ہیں کہ کیسے امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک نابینا بڑھیا کے گھر کا کام کاج کرتے تھے، کیسے امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رات کے دوران گشت کرکے دیکھا کرتے تھے کہ کہیں کوئی مصیبت میں مبتلا تو نہیں ہے۔ اسی طرح اہل بیت اطہار ؓ اور باقی صحابہؓ کا حال تھا۔درد کا جذبہ بھی اصل میں محبت کے معانی کی حدود میں ہی آتا ہے۔ محبت کی تعریف وسیع ہے اور درد کا جذبہ محبت کی ہی فطرت، خصوصیت اور ایک قوت ہے   ؎
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں 
خدمت خلق کا جذبہ درحقیقت اسی درد کی نشاندہی کرتا ہے جو انسانی دل کے اندر محبت کے جذبے سے جڑا رہتا ہے اور خدمت خلق کا یہ جذبہ درمندی سے ہی ابھرتا ہے۔ جو دل اس جذبے سے خالی ہوتا ہے وہ دل اپنی اصل خصلت  کھویا ہوا ہوتا ہے۔خدمت خلق ایک جامع تصور ہے اور اس کا مفہوم وسیع ہے۔ خدمت خلق کا پہلا درجہ یہ ہے کہ تمہاری وجہ سے کسی مخلوق کو بلا شرعی وجہ کے تکلیف نہ پہنچے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم سے اللہ کی مخلوق کو آرام پہنچے۔ تیسرا اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ تم دوسرے کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرو، خواہ تمہیں مشقت بھی اُٹھانا بھی پڑے، یعنی تمہیں اگر دوسرے کو راحت پہنچانے کے لئے تکلیف بھی اُٹھانا پڑے تو اُسے گوارا کرو۔ایک بزرگ کے بارے میں سنا ہے کہ تیز دھوپ میں وہ کسی پیڑ کے سائے میں آرام فرما رہے تھے، اسی دوران نیند غالب آگئی اور وہ سوگئے۔ کچھ دیر کے بعد مسجد سے اذان ہوئی تو وہ بیدار ہوگئے۔ جاگنے پر دیکھا کہ ان کی چادر کے ایک حصے پر ایک بلی آکر سوگئی ہے۔ ان کے جسم پر ڈھانپنے کے لئے اس چادر کے سوا اور کوئی کپڑا نہ تھا۔ انہوں نے بلی کو جگانا اور اس کی نیند میں خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ چادر کا اتنا حصہ کاٹ دیا جس پر بلی سوئی تھی اور مسجد چلے گئے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے(بخاری، کتاب الادب) ۔ اس کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی مخلوق کے ساتھ ظالمانہ برتاو کرتے ہیں وہ اللہ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ علامہ رازی نے عبادت کا خلاصہ دو چیزوں کو بتایا ہے، ایک امر الہٰی کی تعظیم اور دوسرا خلق خدا پر شفقت۔ دین صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشرت، معاملات اور اخلاقیات بھی دین کےا جزا ہیں۔ ان کی طرف تغافل شعاری نے مسلمانوں میں بے پناہ مسائل پیدا کئے ہیں۔ سماجی فلاح وبہبود کی طرف غیر ذمہ دارانہ طرز عمل انتشار اور تفرقہ بھی پیدا کردیتا ہے، اس لئے ائمہ مساجد اور خطیبوں کو اپنے وعظ وتبلیغ میں اس موضوع کی جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے۔دو چیزیں ہیں: ایک ہے مطلوب اور دوسری ہے موعود۔ مطلوب وہ چیز ہے جس کا اللہ تعالیٰ مطالبہ کرتا ہے، یعنی نماز، روزہ، زکوات، حج۔ دوسری چیز ہے موعود، یعنی جس چیز کا اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے، یعنی صدقات سے بلائیں دفع ہوں گی، والدین کی تابعداری سے پریشانیاں دور ہوں گی، بے حیائیوں کے بدلے قہر ہوگا، حرام رزق سے دل کا سکون جاتا رہے گا وغیرہ وغیرہ۔ہمارے یہاں خدمت خلق زبان پر تو تقریباً سب کو ہے مگر عملی طور اس پر کچھ زیادہ عمل نہیں ہے۔ میں عام طور اپنے مضامین میں وہی باتیں لکھتا ہوں جو میرے مشاہدے میں آتی ہیں۔ ہمارے کچھ ڈاکٹروں کا جذبہ خلق ایسا ہے کہ انہوں نے اپنی روشن ضمیری کی مثالیں قائم کی ہیں لیکن بعضے ایسے ہیں دین وایمان کو چند روپیوں تک محدود کیا ہے۔ یہاں میری نگاہوں کے سامنے کئی کلنک ہیں۔ ان میں ایک درویشی بھی ظاہر کرتا ہے مگر ایک دوست نے مجھے بتایا کہ مجبوری اور ضرورت کے وقت بھی اسے فون کریں یا مسیج دیں تو وہ ریسپانڈ ہی نہیں کرتا، سمجھتا ہوگا یہ آدمی کلنک پر آئے گا تو چار سو ملیں گے، باقی مریض کی مجبوری اور پریشان حالی جائے بھاڑ میں۔ وہ ڈاکٹر لوگ خدمت خلق کے جذبے سے کہاں واقف ہوں گے جو مریض کو گاہک اور اے ٹی ایم کارڈ سمجھتے ہوں؟ دوسرے پیشوں سے وابستہ لوگ بھی ا س قماش کے لوگوں سے مختلف نہیں، ان میں بھی بہت ساروں کا رویہ خدمت خلق کے اعتبار سے قابل ستائش نہیں   ؎

اِک   شجر   ایسا    محبت   کا     لگایا     جائے

جس کا  ہمسائے  کے آنگن میں بھی سایہ جائے

zirsha123@gmail.com
(بقیہ منگل کے شارے میںملاحطہ فرمائیں)