تازہ ترین

اقوام متحدہ بھی جمعیت مجلس اقوام جیسا

بخشو بلی ، میں لنڈورا ہی بھلا

4 اگست 2019 (02 : 10 PM)   
(      )

علی اسرار
اس  بدلتی دنیا میں اب انسان کا زندہ رہنا مشکل ہو تا جا رہا ہے۔کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر اسرائیل کے تعلق سے ایک ویڈیو میں ذی عزت فلسطینی شہریوں کو برسر سڑک پولیس کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھا ۔ اسرائیلی پولیس کے چاق و چوبند جوان، ان بد قسمت شہریو ں کے خلاف تشدد کا ہر کوئی دائو پیچ کھیل رہے تھے۔ شکل و صورت سے معصوم اور گاڑی و لباس سے رئیس دکھائی رہے ان لوگوں کو نہ صرف سرعام ہانکا اور مارا پیٹا جارہا تھا بلکہ پولیس کے ان بے لگام غنڈوں کے ہاتھوں ان شہریوں کو بے عزت بھی کیا جارہا تھا۔ مظلومین میں شامل اڈھیر عمر کی ایک خوب رو خاتون کو گاڑی سے نیچے گھسیٹا گیا، اُس کے سر سے سکارپ ہٹانے کی بار بار کوششیں کی جاتی رہیں اور اُس کو پوری طاقت و زبردستی سے سڑک پر لٹادیا گیا۔ خاتون کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کی طرف موڑ کر ہتھکڑی سے باندھا گیا اور سر راہ اسی حالت میں چھوڑا گیا۔ اُس خاتون کی فیملی میں شامل مردوں کے ساتھ بھی تشدد آمیز بلکہ حد سے زیادہ ظلم و ستم کیا جاتا رہا اور اُن کے کمسن بچے اپنے والدین و فیملی کے دیگر بزرگان کے ساتھ سختی کا یہ عالم دیکھ دیکھ کر روتے بلکتے نڈھال ہورہے تھے۔ نہ کسی عام انسان سے اس قدر ظلم سہنا برداشت ہوسکتا ہے اور نہ ہی کشمیر میں میرے جیسا کوئی دوسرا آدم زاد اس طرح کے مناظر کو دیکھنے کی تاب لا سکتا ہے۔ اسی عالم مایوسی میں، میں نے ہینڈ سیٹ کو ہی سوئچ آف کردیا۔ 
فلسطین کی سر زمین پر وہاں کے پشتنی باشندوں کے ساتھ اسرائیلی حکام کی دھینگا مشتی اور ظلم و جبر کی کہانیوں کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت ۱۹۴۸ء میں اس سرزمین کے ایک حصے پر اسرائیل نام سے ایک نئے ملک کی سرحدیں کھینچیں گئی اور دنیا بھر سے یہودیوں کو لا لا کر ان سرحدوں میں بسایا جانے لگا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ زمیں جب بھی تنگ پڑتی ہے، جابر حکمران فلسطینی شہریوں کے گھر اور شہر اُجاڑ کر اس تنگی کو فراوانی میں تبدیل کرتے ہیں۔ تب کی برطانوی حکومت  نے بالفور ڈیکلریشن کے تحت فلسطین کے ایک چھوٹے سے حصے پر یہودیوں کیلئے قیام وطن کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر ہیری ٹرومین نے ۱۴ مئی ۱۹۴۸ء کو اسرائیل کے قیام کے دن ہی اس نئی مملکت کو تسلیم کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرزمین فلسطین یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں مذاہب کا مسکن رہا ہے ۔ خطہ عرب میں زمانہ قدیم سے قوموں کا بننا اور بگڑنا ایک تاریخی حقیقت رہی ہے ۔ حضرت عیسی علہم کو پیغمبری کا منصب حاصل ہونے کے ساتھ ہی اس پورے خطے میں یہودیت کا بول بالا ہوا۔پھر عیسائیت کو پھیلائو ملنے کے نتیجے میں یہودیوں کو جگہ جگہ سے بیدخل ہونا پڑا ۔ اسی خطہ میں اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی تاریخ نے اپنے آپ کو دوہرایا اور ایک نئے آرڈر نے جنم لیا۔ مذہب اسلام بھی آناً فاناً خطے اور خطے سے باہر باقی علاقوں میں پھیلتا گیا اور اس کے نتیجے میں یہودیوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کو بھی خسارہ برداشت کرنا پڑا تھا۔ یہ خدا کی کرشمہ سازی ہے کہ جیسے حضرت موسی علیہ السلا م نے محض امرخدا کا سہار ا لے کر پیغام خداوندی کی ترویج کردی تھی اور بعد میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بھی اسی سرزمین پر عیسائیت کا پھیلائو کرنے کا موقعہ بخشا گیا تھا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پیدائشی یتیم تھے۔ آپؐ کا بچپن بکریاں چرانے میں گزر گیا اور آگے کی حیاتِ مبارک کا ایک حصہ تجارتی سفر میں بسر ہوا۔ پھر جب رب العزت نے اپنے چہیتے بندے کو پیغمبر و رسول مقرر کیا تو محمد صلعم کے ہاتھوں میں تلوار نہیں تھما دی تھی بلکہ نور وحی کا قندیل حوالے کر دی۔ آپ صلعم کے سامنے دشواریاں ہی دشواریاں تھیں ۔ اپنے مخالفین کے عتاب سے بچنے کیلئے آپ ﷺ کو کبھی چھپ چھپا کر توحیدی عبادت کرنا پڑی اور کبھی اپنے پیدائشی مقام مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانا پڑا ۔ پھر جب مشرکین کے فوجی عتاب کا مقابلہ کرنا تھا تو مٹھی بھر بے سر وسامان ساتھیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے آپ صلعم کے دندانِ مبارک تک بھی شہید ہوئے۔ تاریخ کے ان منہ بولتے حقایق کو یہاں بیان کرنی کی غرض اس مفروضے اور غلط بیانی کا توڑ ہے کہ’’ اسلام تلوار کی نوک پر پھیلا ‘‘۔ یہ ایک مکروہ اور بے بنیادپروپیگنڈہ بازی ہے۔ تب کے یہودی و نصاریٰ حضرت موسی ؑ اور حضرت عیسیؑ کی تعلیم سے بہت دور پڑ گئے تھے۔ اس وجہ سے ظہور اسلام کے ساتھ ہی ،مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، زیادہ تر یہودیوں نے دنیا بھر کے دیگر ممالک کا رُخ کیا اور مہاجرین بن کر سراغ رسانی کی اپنی دیر ینہ فتنہ سامان صفت اور اپنی کاروباری مہارت کی حیثیت کو نکھارتے گئے۔ جرمنی کا ہٹلریہودیوں کا کیونکر اس قدر کٹر دشمن ہوگیا تھا کہ انہیں لاکھوں کی تعداد میں پکڑ پکڑ کرموت کی نیند سلاتا رہا؟ ظاہر ہے کہ ہٹلر نے یہودیوں کی اُن صلاحیتوں خاص کر جاسوسانہ ذہن کو تب ہی پرکھ لیا تھا  اور یہی بھدی صفت اب کی مملکت اسرائیل کا بنیادی پتھر اور سب سے بڑا ہتھیار بنا ہوا ہے۔ اسرائیل کی جیب میں سب سے اہم کارڈ سراغ رساں ایجنسی ’’موساڈ‘‘ نام سے موسوم ہے۔ موساد کی کامیابیاں سینکڑوں ہیں اور اکثر کاروائیاں واقف کار ان ِ حق کے دلوں کو دہلاتی رہتی ہیں۔ ہٹلر کو شاید یہودیوں کی اسی بد فطرتی نے سب سے پہلے پریشان کردیا تھا۔ بعد میں دوسری عالم گیر جنگ میں ہزیمت یافتہ ہٹلر کے اس یہود دشمنی کارڈ کو بھی امریکہ نے اپنے کارگر ہتھیار میں تبدیل کردیا۔ اس قدر شاطر دماغ لوگوں کیلئے نہ صرف اسرائیل نام سے ایک ملک کو قائم کیا بلکہ دنیا بھر کے مضبوط تر ممالک کی فہرست میں بھی شامل کرایا۔ اب حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کی وساطت سے امریکہ کو خطہ عرب سے متعلق پل پل کی خبر ملتی رہتی ہے۔تاہم اس طرح کی امریکی بالادستیوں اور کوتاہ اندیشیوں کے نتیجے میں ایک طرف دنیا میں انارکی پھیلتی جارہی ہے، امریکی وقار کو شدید زک پہنچ رہاہے اور دوسری جانب اقوام متحدہ کی ساکھ اور شبیہ بری طرح سے متاثر ہوتی جا رہی ہیں۔ 
اسرائیل کے عرب ہمسایہ ممالک کے تئیں جارحانہ عزائم و تشدد آمیز کاروائیوں کے خلاف اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے درجنوں فیصلوں کو امریکی ویٹو پاور نے غیر موثر بنادیا ہے جب کہ اسرائیل امریکی شہ پر انپے جنگی جنون میں دن بہ دن اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ ایک کروڑ سے بھی کم آبادی کے اس ملک کے پاس ایٹم بموں اور ایٹمی ہتھیاروں کی کثرت ہے، جب کہ اسرائیل سے کئی گنا پڑے ملک ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے زبردستی روکے رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کو برصغیر کے معاملات میں براہ راست مداخلت کرنے کا موقعہ دیا جاتا، تو بھارت اور پاکستان کے درمیان دشمنی کا باعث بننے والا کشمیر مسلٔہ پچھلے ستھر سال سے لٹکتا نہ رہتا۔ ان دونوں ممالک کے کروڑوں مفلس اور لاچار لوگوں کو بنیادی مراعات نصیب ہوجاتیں اور اس خطہ میں ہتھیاروں کی دوڑ نہ لگ جاتی، لیکن امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک نے اس طرح کے حالات سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے اقوام متحدہ کو ربر کی مہر بناکر رکھ دیا۔ امریکہ کی اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ کاروائیوں کے نتیجے میں دنیا کی امن پسند آبادیاں تذبذب کا شکار ہوا جا رہی ہیں جو مستقبل قریب میں اقوام متحدہ کے وجود کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ ابھی دنیا بھر کی کمزور قومیں اس ادارے کی غیر جانبدارانہ حیثیت و افادیت کو لے کر شش و پنج میں پڑی ہوئی ہیں۔ تاہم اتنا تو ہر کسی ملک پر عیاں ہے کہ امریکہ اور کئی دیگر مغربی ممالک عالمی امن کو مضبوط بنانے کے بجائے اب محض اپنے مفادات کو تقویت دینے کی فکر کررہے ہیں۔ امریکہ، جس سے حصول انصاف کی اُمید میں برس ہا برس سے دنیا بھر کی دبی کچلی قومیں مثبت طوقعات رکھتی تھیں اور امریکہ کو اپنا مسیحا بھی مانتی تھیں، اب وہی امریکہ اپنے ملکی مفادات، دوست ملکوں کے مقاصد کو حاصل کرنے کی فکر لگا ہوا ہے۔ امریکہ کی یہ سوچ عالمی انجمن اقوام متحدہ کے وجود کی بیخ کنی کرنے کے لئے سامان بنانے کا ماحول تیار کرتی نظر آرہی ہے۔ امریکہ اب تقریباً ہر معاملے کو لے کرمجلس اقوام متحدہ میں ’’گنگا گئے گنگا رام ، جمنا گئے تو جمناداس‘ ‘جیسا رویہ اپناتا رہا ہے۔ پہلے جب امریکہ کو ہماری ہمسائیگی میں پاکستان میں اپنے مفادات محفوظ نظر آتے تھے تو کشمیر سمیت پاکستان کی ہر کسی تجویز و تحریک کو اقوام متحدہ میں کامیاب بنانے کا کردار نبھایا کرتا تھا۔اب اچانک طور امریکی پالیسی کا منظر نامہ بدل گیا ہے اور خالص اپنے نجی مفادات کی فکر میں پاکستان کو سر راہ چھوڑ کر بھارت کے ساتھ دوستی بنانے میں لگ گیا ۔ اس وجہ کو لے کر امریکہ کو برصغیر کی سیاست و اقتصادیات کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں بھاری اُلٹ پھیر کرنا پڑا۔ بھارت بھی اپنے دیرینہ دوست ملک روس کی رفاقت سے محروم ہوتا جارہا ہے، جب کہ چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی بام عروج کو پہنچنے لگی ہے، لیکن کچھ وقت سے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے پس منظر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نظریں دوبارہ پاکستان پر ٹک گئی ہیں۔ عمران خان کو وائٹ ہاؤس میں بر اجمانے کی حالیہ دنوں دعوت ملی اور چند ایام قبل امریکہ میں عمران کی مختصر وقت کے قیام کے دوران بعض سیاسی حلقوں کو دونوں ممالک کے تعلقات میں پھر سے گرماہٹ پیدا ہوجانے کی خبریں دی ہیں۔ اس معاملے کو لے کرلوگ کچھ بھی اٹکلیں لگائیں، لیکن ہمارے موضوع سے ہٹ کر کچھ بھی حاصل ہونے کو نہیں ہے،یعنی سپر پاور امریکہ کی خودغرضی کا ایک اور پینترہ ہے اور پرانے حساب سے اپنے مسائل کا نپٹارا کرنے کی ایک اور کوششیں میں لگ گیا ہے۔ پہلے جب امریکہ کو ضرورت محسوس ہوئی تھی توافغانیوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرکے اُن کو مجاہدین آزادی قرار دیا تھا۔ پھر جب سوئویت روس ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کا دیرینہ مقصد بر آیا تو مجاہدین آزادی کو تخریب کار اور دہشت گرد کا نام ملا اور اقوام متحدہ کے لیبل چڑھاکر ’’دہشت گردوں‘‘ کے پورے ملک پر چڑھائی کی گئی۔ اب نہ صرف نیویارک کے نائین الیون سے متعلق امریکی فلم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوتا جارہا ہے بلکہ خود امریکہ کے انصاف پسند حلقوں کے شکوک و شبہات حقیقت کے روپ میں سامنے آتے جا رہے ہیں۔ادھر سابق برٹش وزیراعظم مسٹر ٹونی بلیر نے عراق پر امریکی حملے کا ساتھ دینے کے بعد اب سیاست کو سچ کا جامہ پہنایا ہے ۔ ٹونی بلیر کا اب ماننا ہے کہ عراق پر چڑھائی کرتے وقت مقرر کردہ جوہات بے بنیاد تھیں اور اس حملے کا کوئی جواز نہیں تھا، لیکن اقوام متحدہ اس طرح کے ثبوت سطحِ آب پر آنے کے بعد بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ چند ماہ قبل ایک موقع پر بر صغیر کے اس حصے میں محاز آرائی کے دوران بھارت اور پاکستان، دو نیوکلیئرممالک آپس میں جنگ لڑنے کے دہانے پر کھڑا ہوگئے تھے لیکن دونوں ممالک کوجنگ لڑنے پر اقوام متحدہ کی طرف سے تادیبی کاروائی ہونے سے زیادہ امریکی پابندیوں کی فکر ستارہی تھی۔حالانکہ امریکہ نے جب جاپان کے ناگاساکی اور ہیرو شما شہروں پر نیوکلیر بم برسائے تھے توستھر سال سے زائد عرصہ گزر جانے پر اب تک بھی کوئی دوسرا ملک اس کے خلاف صدمہ اظہار کرنے کی جرائت نہ جٹا سکا ہے۔ اس طرح سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ اپنی افادیت کھو چکا ہے اور دنیا بھر کی نادار اور کمزور قومیں اس عالمی اداریت میںیقین نہیں رکھتی ہیں۔ اس ادارے کا وجود بھی لیگ آف نیشنز کی طرح اختتام کے قریب ہے۔ آثار وقرائین بتارہے ہیں کہ نیا جو بھی نظام جڑ پکڑے گا، امریکہ اور دیگر طاقت ور استحصالی ممالک کا ہرگز قیدی نہیں بننے دیا جا ئے گا۔    