تازہ ترین

افرا تفری کا عالم کیوں؟

4 اگست 2019 (02 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک
پچھلے کچھ ہفتوںسے سوشل میڈیا پر پے درپے ایسے سرکاری احکامات وائرل ہوئے ہیں جن سے ریاست بھر میں افرا تفری کا بازار گرم ہوا اور لوگوں میں اس قدر خوف اور دہشت کا ماحول پیدا ہورہا ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔پہلے تو ریاستی انتظامیہ ایسے سرکولر اور احکامات سے انکار کرتی رہی لیکن گزشتہ ایک ہفتہ سے پہلے ریلوے ملازمین اور پھر یاتریوں اور سیاحوں سے متعلق جاری ہونے والے احکامات نے سب پر خوف طاری کردیااور اس کے بعد متعددہسپتالوں کی انتظامیہ کی طرف سے ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے ، این آئی ٹی اور دیگر اداروں میں زیر تعلیم طلباء کو واپس اپنے گھروں بھیجنے ،ضلع کرگل کے تمام مجسٹریٹس کو ڈیوٹی پر حاضر رہنے و دیگر ایسے حکمناموں نے ان افواہوں کو تقویت بخشی جو پہلے سے ہی سرگرم تھیں ۔قابل ذکر ہے کہ ان میں سے کئی احکامات سرکاری طور پر جاری کئے جانے کے پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے جس کے نتیجہ میں آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہر زبان پر یہی الفاظ ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر کے حوالے سے کوئی بڑا واقعہ رونما ہونے والاہے ۔یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی ضرورت کا سامان ، پیٹرول اور اے ٹی ایمز مشینوں سے پیسے نکالنے کی کوشش میں ہیں تاکہ کسی بھی طرح کے حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیاررہاجاسکے جبکہ سیول سیکریٹریٹ میں تعینات جموں کے بیشتر ملازمین واپس اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔ایسے حالات میں فوج، سی آر پی ایف ، بی ایس ایف او ر ریپڈ ایکشن فورسز کی نقل و حمل بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے اور ریاست بھر خاص طور پر حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد و اندرونی حساس علاقوں میں فورسز کی نئی کمپنیاں تعینات کی جارہی ہیں ۔اگرچہ ریاستی گورنر اور دیگر حکام مسلسل اس بات پر زور د ے رہے ہیں کہ لوگ افواہوں پر کان نہ دھریں لیکن اتنی بڑی تعداد میں فوجی نقل و حرکت اور پے در پے احکامات کے جاری ہونے کے پس پردہ کیا حقائق ہیں، انکے بارے میں وضاحت کے ساتھ کچھ نہیں بتایا جاتا۔ریاست بھر میں فورسز کی تعیناتی سے عوامی حلقوں کی طرف سے یہ سوال بھی کیاجارہاہے کہ اگر امرناتھ یاترا کو کشمیر میں پاکستانی حمایت یافتہ جنگجوئو ں کے ممکنہ حملے سے خطرہ تھا تو پھر جموں صوبہ میں بھی کیوں فورسز کی تعیناتی ہوئی ہے اور کشتواڑ میں چل رہی سالانہ مچھیل یاترا کو معطل کردیاگیاہے جبکہ اسی طرح سے پونچھ کے منڈی علاقے میں ہونے جارہی سالانہ بڈھا امرناتھ یاتراپر شروع ہونے سے قبل کیوں سیاہ بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ریاست میں آئندہ دنوں حالات کیا سمت اختیار کریں گے، مرکزی حکومت کشمیر کے تئیں کیا فیصلہ لے گی اور پاکستان کے ساتھ پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی کا نتیجہ کیاہوگا، یہ تو وقت ہی بتائے گالیکن فی الوقت افواہوں کی وجہ سے صورتحال مخدوش بنی ہوئی ہے اور ہر طرف افراتفری کا ماحول پایاجارہاہے ۔سرکاری احکامات اور سرکولر سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہونے چاہئے تھے لیکن اب چونکہ ایسا ہوچکاہے تو ریاستی و مرکزی حکام کو روز بروز پھیل رہی افواہوں پر قابو پانے کیلئے ضروری اقدامات کرنے چاہیںاور حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے لوگوں کے متذبذب ہورہے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔عوام کی طرف سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ اگر غیر ریاستی باشندوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایڈوائزری جاری کی گئی تو ریاستی عوام کی حفاظت کے لئے کوئی بات کیوں نہیں کی جاتی، کیونکہ خطرات تو بہرحال سبھی کو درپیش ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے انتظامیہ کو کھل کر بات کرنی چاہئے۔ساتھ ہی عوام پر بھی یہ لازم بنتاہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر یقین کرنے سے قبل اس کی تصدیق کریں کیونکہ ایسی افواہیں پھیل رہی ہیں ۔جو اکثر اوقات بعد ازاں غلط ثابت ہوتی ہیں۔ موجودہ حالات میں جہاں عوام کوانتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کرناہوگاوہیں حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے پلو جھاڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔