تازہ ترین

۔370اور35اےکیساتھ چھیڑ چھاڑ| عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کی توہین ہوگی:بار ایسوسی ایشن

4 اگست 2019 (02 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//جموں کشمیرہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وادی میں نیم فوجی دستوں کی بے مثال اضافی تعیناتی کے بعدامرناتھ یاتریوں،سیاحوں اور بیرون ریاستوں کے کشمیر میں زیرتعلیم طلباء کو فوری طور کشمیر سے چلے جانے کی ایڈوائزری جاری کرنے کے بعد وادی میں پیدا ہوئی موجودہ صورتحال پر تشویش کااظہار کیا ہے ۔بار نے کہا کہ ان اقدامات سے لگتا ہے کہ ریاست کے خصوصی درجہ کے تحفظ کیلئے آئین میں موجود دفعات 370اور35Aکو ختم کیا جارہا ہے ۔بار کی ایگزیکیٹوکمیٹی کی میٹنگ میں ممبران نے کہا کہ کم سے کم عدالت عظمیٰ کی چار آئینی بنچوں نے مختلف معاملات میں  بھارت کے آئین میں شامل کئے گئے دفعہ35Aکوآئینی طور درست قراردیا ہے۔ ممبران نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متذکرہ بالا آئینی فیصلے حتمی ہیں اور دفعہ 370یا35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا کچھ کیاگیا تو وہ دیدہ دانستہ ،قصداً بھارت کی عدالت عظمیٰ کے احکامات کی عدولی ہوگی اوراس نافرمانی کے مرتکب افراد کارروائی کے مستحق ہیں۔ ممبران نے یہ بھی کہا کہ حکومت ہنداوراس کے سول اور عدالتی ادارے اور حاکم لازمی طور عدالت عظمیٰ کے احکامات کے بموجب کام کرنے کے پابند ہیں اوران پر عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کااحترام کرنالازم ہے اور عدالت کی بے عزتی نہیں کرنی ہے ۔اس لئے یہ حکومت ہنداور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر من وعن عمل کریں ۔ممبران نے یہ بھی کہا کہ ریاستی قانون ساز اسمبلی کے حلقوں کی نئی حد بندی کے معاملہ میں بھی عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا ہے جس کی توثیق عدالت عظمیٰ نے بھی کی ہے اور یہ فیصلہ بھی اس معاملے میں حتمی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اس کااحترام کرنا سبھی اداروں پر لازمی ہے ۔ بار ممبران نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی طور ہی حل کرنا ہے نہ کہ فوجی طریقہ سے۔بار نے اُمید ظاہر کی کہ ہندوپاک خطے میں تنائو کودور کرنے کی راہیں تلاش کریں گے اور کشمیر مسئلہ کوحل کرنے کیلئے سہ فریقی بات چیت کاانعقاد کریں گے اور اس مسئلہ کو پرامن طور حل کرنے کی کوشش کریں گے۔