تازہ ترین

سیاحتی صنعت کے تابوت میں آخری کیل:سیاحتی تاجر برادری

4 اگست 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر// سیاحتی تجارت سے وابستہ رکھنے والے لوگوں نے حکومت کی طرف سے سیاحوں اور یاتریوں کے نام کشمیر چھوڑنے کی ایڈوائزری پر تشویش کا اظہار کیا،جبکہ سرکار کی اس کاروائی کو کشمیر کی دم توڑتی سیاحتی صنعت کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا۔ٹورسٹ ٹریڈ فرٹنٹی نے کہا کہ اس ایڈوئزاری کو اس وقت جاری کیا گیا،جب یاتری سفر کے مختلف پڑائو پر تھے۔ انہوں نے یاترا کو ختم کرنے کے فیصلے کو کشمیریوں کی شبیہ کو مسخ کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک  رودار معاشرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر بطور ایک پرامن سیاحتی مقام کی شبیہ کو بھی داغدار بنادیا گیا۔ ٹورازم فرٹنٹی نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ اگر لوگوں کی سلامتی اور حفاطت سرکار کیلئے ترجیج نہیں ہے،جبکہ سیاحون کو وادی چھوڑ کر چلے جانے کی ہدایت دی گئی۔انکا کہنا تھا کہ سیاحوں کو ہوٹلون،ہاوس بوٹوں،گیسٹ ہائوسوں سے باہر نکالنا یہاں کی روایت نہیں ہے۔ٹورسٹ ٹریڈ فرٹنٹی نے بتایا کہ کشمیر میں اس طرح کا نا خوشگوار واقعہ کھبی پیش نہیں آیا،جب سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایڈوائزری اور سیاحوں کے اخراج کے نتیجے میں ہوٹل مالکان،ریستوران،ٹور اینڈ ٹراول شعبے،ٹرانسپورٹ،ڈست کاری،تھوک و پرچون،شکارہ والوں اور مرغبانوں کے علاوہ سیاحت سے جڑے روزانہ اجرات کمانے والوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پرے گا۔ ٹورسٹ ٹریڈ فرٹنٹی نے کہا کہ وادی میں سیاحتی صنعت موجودہ دور کے دوران روزگار فرہم کرنے کا بڑا ذریع ہے،جس کے نتیجے میں عملے کو پہلے اس کا سامنا کرنا پرے گا،جب یونٹوں کے پاس زر نہیں ہوگا۔انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ سرکاری ایڈوئزاری کو افواہ کا نام دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایڈوازری اصل میں عوام کے خلاف ایک بڑا کریک ڈائون ہے۔