تازہ ترین

مزید خبریں

3 اگست 2019 (20 : 11 PM)   
(      )

نیو ڈسک

سمبل بار ایسوسی ایشن کے انتخابات منعقد

ایڈوکیٹ محمد مقبول ڈار صدر | ایڈوکیٹ غلام محی الدین پرے سیکریٹری منتخب 

سرینگر//بار ایسوسی ایشن سمبل کے انتخابات سنیچر کو کورٹ کمپلیکس میں منعقد ہوئے جس میں سبھی وکلاء نے ووٹ دیکر اپنی نئی باڈی منتخب کی۔ووٹنگ عمل کے دوران ایڈوکیٹ محمد مقبول ڈار صدر جبکہ ایڈوکیٹ مشتاق احمد ہرہ نائب صدر اورایڈوکیٹ غلام محی الدین پرے سیکریٹری منتخب ہوئے۔نومنتخب بار ٹیم نے اپنے سبھی وکلاء کا شکریہ ادا کیا اور اُن کی بہتری کیلئے کام کرنے کا عزم دہرایا۔
 
 

فوج کا شوپیان میں مارے گئے اہلکار کو خراج عقیدت

سرینگر//فوج نے شوپیان میں مارے گئے فوجی کوخراج عقیدت پیش کیا ہے ۔مذکورہ اہلکار2اگست کو جنگجومخالف آپریشن کے دوران پاندوشن نامی گائوں مارا گیا۔اس دوران بادامی باغ چھائونی میں ایک تقریب کے دوران چنار کور کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلن اور فوج کی تمام رینکوں کے افسروں نے خراج عقیدت پیش کیا۔اس موقعہ پر دیگر سکیورٹی ایجنسیاں بھی موجود تھیں ۔مذکورہ اہلکار ’سپاہی رنبیر‘ کوجھڑپ کے دوران گولی لگی تھی اوراُسے فوری طور 92بیس اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ 
 
 
 

چیف جسٹس کا ضلع کورٹ کمپلیکس بڈگام کا دورہ 

بڈگام//جموں کشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس جسٹس گیتا متل نے سنیچرکو ضلع کورٹ کمپلیکس بڈگام کا دورہ کیا ۔ چیف جسٹس کو وہاں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج راجہ شجاعت علی خان ، منصف تبسم قادر ، ایس ایس پی اور بار صدر نے اُن کا استقبال کیا ۔ اس موقعہ پر چیف جسٹس نے وکلاء کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جس دوران وکلاء نے اپنے مطالبات کی ایک فہرست پیش کرتے ہوئے انہیں عدالت کی سرگرمیوں اور حصولیابیوں کے بارے میں تفصیلات دیں ۔ وکلاء نے سب رجسٹرار کے اضافی کورٹ ، وکلاء کیلئے اعلیحدہ کنٹین سہولیت ، پارکنگ کی جگہ میں توسیع اور عام لوگوں کی سہولت کیلئے ڈاک خانہ اور بنک کاؤنٹر کھولنے کی مانگ کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عام لوگوں کو انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنانے میں بار اور بنچ کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے ۔ انہوں نے بار کی جانب سے سامنے رکھے گئے جائیز مطالبات پر مناسب غور کا یقین دلایا ۔ انہوں نے اس دوران وہاں ایک چائیلڈ کئیر روم کا بھی افتتاح کیا ۔ 
 
 

ڈی سی بارہمولہ نے عید الاضحی کیلئے انتظامات کا جائزہ لیا

بارہمولہ//ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ ڈاکٹر جی این ایتو نے متعلقہ محکموں کے افسران کی ایک میٹنگ کی صدارت کے دوران ضلع میں عید الاضحی کی تقریب کے سلسلے میں کئے جانے والے انتظامات کاجائزہ لیا۔اس موقعہ پر صفائی ستھرائی ،ٹریفک کی آواجائی،پارکنگ،صحت سہولیات،بجلی اورپانی کی سپلائی اور اشیأ خوردنی کے علاوہ قربانی کے جانوروں کی خریدوفروخت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔عید الاضحی کے پیش نظر ترقیاتی کمشنر نے متعلقہ آفیسران پر زوردیا کہ وہ تمام لازمی انتظامات کو حتمی شکل دیں تاکہ لوگوں کو کسی بھی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوںنے عیدگاہوں،خانقاہوں اور زیارتگاہوں کے گردونواح میںصفائی ستھرائی کی طرف ٹھوس توجہ مبذول کرنے کی ہدایت دی۔ترقیاتی کمشنر نے عوام کے لئے بہتر ٹرانسپورٹ خدمات میسررکھنے پر بھی زوردیا۔قربانی کے جانوروں کی فروخت کے بارے میں ترقیاتی کمشنر نے چیف اینمل ہسبنڈری آفیسر پرزوردیا کہ یہ جانورصرف کیریاپا پارک بارہمولہ اورآزاد گنج میںہی فروخت کئے جائیں تاکہ لوگوں کو ٹریفک جامنگ کے مسئلہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
 
 
 

مراکش کے ہائی کمشنر گورنرسے ملاقی 

سرینگر//بھارت میں مراکش کے سفیر جے گوبردن نے یہاں راج بھون میں گورنر ستیہ پال ملک کے ساتھ ملاقات کی ۔ سفیر موصوف نے دونوں ملکوں کے مابین تمدنی اور اقتصادی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے معاملات پر گورنر کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ْ۔ گورنر نے سفیر کی توجہ ان معاملات کی طرف دلائی جن کے ذریعے مراکش اور بھارت کے درمیان تعلقات مزید وسیع ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے سرینگر میں اُن کے قیام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ 
 
 
 

امرناتھ یاتریوں کی جموں سے واپسی شروع 

مچھیل یاترا بھی معطل ، ویشنو دیوی آنیوالے عقیدتمند متاثر

یوگیش سگوترہ 

جموں //سیکورٹی ایڈوائزری جاری ہونے کے بعدجموں میں خیمہ زن امرناتھ یاتری یاترا کئے بغیر ہی واپسی کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔اس دوران جموں میں یاتریوں کیلئے چلائے جارہے لنگربھی بند کردیئے گئے ہیں ۔امرناتھ یاترا کو خراب موسمی حالات کے پیش نظر یکم سے چار اگست تک پہلے سے ہی معطل کیاگیاتھاتاہم گزشتہ روز محکمہ داخلہ کی طر ف سے یاتریوں اور سیاحوں کو فوری طور پر کشمیر سے واپس جانے کی ہدایت کے بعد جموں میں اپنی باری کا انتظار کررہے یاتری بھی واپس ہوناشروع ہوگئے ہیں ۔یاتری نواس میں مایوسی کے عالم میں بیٹھے ایک یاتری نے کہا’’ہم پانچ اگست کو یاترا کی بحالی کا انتظار کررہے تھے لیکن حکومت کی طرف سے ایڈوائزری جاری ہونے کے بعد ہم نے یاترا کئے بغیر ہی واپسی کا منصوبہ بنایاہے اور آج شام کو ہم واپس جارہے ہیں ‘‘۔ایک اور یاتری نے کہاکہ وہ زبردست مایوس ہوئے ہیں لیکن واپس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ وہیں سنیچر کی صبح یاتریوں کو لیکر یاتری نواس جموں پہنچنے والی تازہ بسوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور امرناتھ یاترا کیلئے آنے والے بیشتر یاتریوں نے پھر ویشنو دیوی شرائن کٹرہ کارخ کیا ۔اس دوران یاتریوں کیلئے لنگر چلانے والوں نے بھی لنگر بند کردئے ہیں۔ایک لنگر مالک نے بتایا’’ہم تذبذب میں ہیں اور صحیح وجہ نہیں جان پارہے ‘‘۔واضح رہے کہ یکم جولائی سے شروع ہوکر 46دن تک جاری رہنے والی یاترا کو 15اگست کو ختم ہوناتھاتاہم اسے پہلے ہی ختم کردیاگیاہے ۔وہیں کشتواڑ ضلع انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے شروع ہوئی مچھیل یاترا کو ہفتہ کے روز معطل کردیا۔ضلع انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کشتواڑ ضلع میں واقع درگا ماتا کے مندر کی مچھیل یاترا کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ایک مقامی شہری نے بتایاکہ کشتواڑ سے کسی بھی یاترا بس کو چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جبکہ چاپر سروس بھی معطل کی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ مچھیل یاترا 25جولائی سے شروع ہوئی تھی اور 5 ستمبر کو اختتام پذیر ہونے والی تھی۔دریں اثناء ویشنو دیوی شرائن جانے والے عقیدتمند بھی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پریشان ہیں اور انہیں اپنی ٹکٹیں منسوخ کرواناپڑرہی ہیں ۔ایک ہوٹل مالک نے بتایاکہ پچھلے چند روز سے بڑی تعداد میں عقیدتمندوں نے اپنی ٹکٹیں منسوخ کروادی ہیں جس سے ان کے روزگار پر اثرپڑے گا۔
 
 
 

گنڈ چبو ترہ لنگیٹ کامحاصرہ ،گھر گھر تلاشی کارروائی شروع 

کپوارہ//اشرف چراغ //فوج اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے گنڈ چبوترہ لنگیٹ کا محاصرہ کرکے گھرگھر تلاشی کارروائی شروع کی ۔تفصیلات کے مطابق فوج کی30راشٹریہ رائفلز،سی آر پی ایف اور پولیس نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد گائوں کو محاصرے میں لے کر جنگجوئوں کی تلاش کاآغازکیا۔فوج کو خدشہ ہے کہ اس گائوں میں جنگجو چھپے بیٹھے ہیں ۔گائوں کی سڑکوں پر فوج نے اہم مقامات پر ناکہ لگایا ہے جبکہ کھیت اور میوہ باغات کی بھی بڑے پیمانے پر تلاشی لی جارہی ہے ۔ 
 
 

گورنرانتظامیہ نے حالات کوخود ہی بگاڑ دیا:سوز

سرینگر// وادی میں اس وقت جو صورتحال ہے وہ گورنرانتظامیہ نے خود ہی پیدا کی ہے ۔جن لوگوں نے بھی گورنر انتظامیہ کو حفاظتی صورتحال پر مشورے دیئے ہیں ،انہوں نے غلطی کاارتکاب کیا ہے۔ان باتوں کااظہار پردیش کانگریس رہنمااور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ کشمیر کی اندرونی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ جس کو نارمل قرار دیا جائے ،مگر اب جو صورتحال ہے وہ گورنرانتظامیہ نے خود ہی پیدا کی ہے ۔سوزنے کہاکہ عام لوگوں میں تاثر ہے کہ گورنر انتظامیہ نے کشمیر کے اندر اور زیادہ فورسز کو لاکر تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے جس کا کوئی جوازدکھائی نہیں دے رہا ہے۔ گورنر انتظامیہ نے امرناتھ جی یاترا پر آئے ہوئے عقیدت مندوں کو بڑی گھبراہٹ میں واپس بھیج دیا ہے کہ حالات وادی میں ابتر ہونے والے ہیں اور یہی مشورہ اُن سیاحوں کو بھی دیا جو یہاں مختلف مقانات میں آرام سے سیاحت کر رہے تھے۔یہ بہت ہی افسوس ناک صورت حال ہے ۔ عوام کی نظر میں یاترا ٹھیک طرح سے ہو رہی تھی اور اس میں کوئی رخنہ نہیں پڑ اتھا۔ مگر اس کے باوجود بھی اس کو معطل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کے بارے میں مجھے خود معلوم ہے کہ واپس لوٹتے ہوئے یاتری کشمیر کے لوگوں کے بارے میں جو کچھ بھی بتاتے رہے ہیں، وہ کشمیریوں کے متعلق ایک اچھا پیغام تھا ۔ یاتریوں نے اپنی جگہوں پر کہا تھا کہ کس طرح کشمیریوں نے یاتریوں کو ہر طرح کی مدد دی تھی اور سہولیات بہم پہنچائی تھیں۔ اب حکومت نے خود ہی اُس صورت حال کو بگاڈ دیا ہے جو نہایت ہی بدقسمتی کی بات ہے۔ 
 
 
 

وادی کی غیریقینی صورتحال | کانگریس پیر کو پارلیمنٹ میں سوال اُٹھائے گی

سرینگر//بلال فرقانی//ریاستی کانگریس کے صدر غلام احمد میرنے کہا کہ وادی میں موجودہ غیر یقینی ماحول سے متعلق پیر کو پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا جائے گا،جبکہ انہوں نے حکومت کو وادی سے متعلق اپنے عزائم پارلیمنٹ میں واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی ہیڈ کواٹر پر کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے سابق صدر پیرزادہ محمد سعید اور سینئر لیڈر تاج محی الدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ ریاستی و مرکزی حکومت ریاست کی موجودہ غیر یقینی صورتحال پر اپنی خاموشی توڑ کر وضاحت کریںتاکہ یہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو۔‘‘انہوں نے وادی کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا’’ جمعہ کو کانگریس کی میٹنگ میں قرار داد منظور کی گئی،جس میں آئین ہند کی شق35A اور دفعہ370کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے پہلے ہی 35A اور370 پر اپنے موقف کو واضح کیا ہے کہ یہ حکومت ہند اور جموں کشمیر کے درمیان واحد مضبوط پل ہے۔میر نے کہا’’ کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ پیر کو پارلیمنٹ میں حکومت سے یہ پوچھیں گے کہ وہ جموں کشمیر میں اپنے عزائم اور موجودہ صورتحال کی وضاحت کریں۔‘‘
 
 
 

وادی کی صورتحال پر پارلیمنٹ میں بیان دیاجائے

پی ڈی ایف کا مرکزی حکومت سے مطالبہ 

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وادی میں پائے جارہے خوف ودہشت کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیان دیکر ریاست کے لوگوں کواپنے اعتماد میں لیں تاکہ یہاں کی صورتحال میں بہتری لائی جاسکے ۔ایک بیان کے مطابق پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمدیاسین نے کہا کہ وادی میں 83ہزاراضافی فورسزدستوں کی تعیناتی کے بعدامرناتھ یاتریوں ،سیاحوں اور بیرونی ریاستوں کے طلباء کو کشمیر سے فوری طور چلے جانے کے سرکاری احکامات نے یہاں لوگوں میں زبردست خوف پیدا کیاہے۔ بیان میں حکیم یاسین نے کہا کہ یہ بات بہت ہی قابل تشویش ہے کہ ریاست میں پائی جانے والی صورتحال پر مقامی لیڈروں کے اسرار کے باوجود بھی مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آ رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف گورنر بار بار یقین دہانی کرتے ہیں کہ کشمیر میں حالات ٹھیک ٹھاک ہیں مگر دوسری طرف گورنر انتظامیہ کی طرف سے ایسے حکم اجراء کیے جارہے ہیں جن سے لوگوں کے خوف و بے اطمینانی میں اور زیادہ اضافہ ہو رہاہے۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ وادی میں حالات نمایاں طور بہتر ہیں مگر اس کے باوجود سیاحوں، یاتریوں اور باہری طلباء کو فوری طور وادی چھوڑنے کے احکامات سے یہاں کے عام لوگوں میں کافی تشویش پائی  جاتی ہے۔ حکیم یاسین نے کہا ریاست کی موجودہ صورتحال کی اصل ذمہ دار وہ سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے اپنے دور حکومت میں ریاست کی خصوصی حیثیت کو اپنے حقیر مفادات کے لئے آہستہ آہستہ کھوکھلا کر کے رکھ دیا۔حکیم یاسین نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت وادی میں پائے جا رہے خوف و دہشت کے ماحول کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیان دیکر ریاست کے لوگوں کو اپنے اعتماد میں لیں تاکہ صورتحال میں بہتری لائی جاسکے۔
 
 
 

مرکزی حکومت آئین شکنی پراُتر آئی ہے:مظفر شاہ

سرینگر//بلال فرقانی//سیاحوں اور یاتریوں کو سرکاری سطح پر’’کشمیر چھوڑ دو‘‘ کی ہدایت کو کشمیریوں کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے عوامی نیشنل کانفرنس  کے سینئر نائب صدر مظفر احمد شاہ نے کہا کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جب سرکاری سطح پر یاترا کو روک دیا گیا،جس کے نتیجے میں اہل کشمیر کی شبیہ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔سرینگر کی پریس کالونی میں قائم عوامی نیشنل کانفرنس کے دفتر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مظفر احمد شاہ نے سکھ لیڈر اور کل جماعتی سکھ کارڈیشن کمیٹی کے سربراہ جگموہن سنگھ رینہ کے ہمراہ کہا کہ ریاست میں نت نئے حکم نامے اجرا کرکے بحرانی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا ’’ پرنسپل سیکریٹری داخلہ کی طرف سے جو حکم نامہ یاتریوں اور سیاحوں کیلئے جاری کیا گیا،اس سے وادی میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر امرناتھ یاترا کے راستے میں ہتھیار برآمد ہوئے تو یہ بی جے پی کی کشمیر میں سیکورٹی پالیسی کی ناکامی ہے۔ عوامی نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے کہا’’ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے کشمیر چھوڑ دو کی تحریک ایک مقصد کیلئے شروع کی تھی اور اب8 دہائیوں کے بعد کشمیریوں کو بدنام کرنے کیلئے سرکاری سطح پر سیاحوں اور یاتریوں کو کشمیر چھوڑ نے کا حکم دیا گیا۔‘‘مظفر احمد شاہ نے کہا کہ یاترا کو بند کرنے سے اہل کشمیر کے دل مجروع ہوئے ہیں،جبکہ کشمیریوں کی شبیہ کو بھی داغ دار بنانے کی کوشش کی گئی۔ مظفر احمد شاہ نے کہا’’ کشمیری یاتریوں کو اپنی حفاظت میں یاترا کرانے کیلئے تیار ہے،جبکہ کشمیریوں کے دل اور گھر یاتریوں کیلئے کھلے ہیں،انہیں کوئی بھی گزند نہیں پہنچی گی۔‘‘۔شاہ کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اور جو اقد امات اٹھائے جا رہے ہیں ان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ مرکز آئین شکنی پر اْتر آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35-A  کے تحت خصوصی پوزیشن ریاست کو ہندوستانی آئین نے دی ہے اس کی برقراری کے لئے کسی کو گورنر سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ ریاست کی خصوصی حیثیت سے متعلق سکھ برداری نے پہلے ہی اپنے موقف  کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے تاہم اکثریتی طبقے پر زور دیا کہ اس نازک مرحلے پر وہ اقلیتوں کو تحفظ فرہم کریں۔ رینہ نے کہا کہ1990میں پنڈتوں کو ایک منصوبے کے تحت وادی سے باہر نکالا گیا تھا،اور اب اس مرحلے پر ایک بار پھر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
 
 
 

چوکی بل میں بارودی دھماکہ |  40سالہ شہری ہلاک

کپوارہ//اشرف چراغ// چوکی بل کپوارہ کے مضافات میں حد متارکہ کے نستہ ژھن گلی ( سادھنا )علاقہ میں بارودی  دھماکہ میں کرناہ کا ایک شہری جا ں بحق ہو گیا  ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کرناہ کے کوہنہ گبرا علاقہ سے تعلق رکھنے والے40سالہ شبیر احمد پٹھان ولد عبد القیوم پٹھان نے ایک مہینہ قبل اپنے  مال مویشیو ں کو نستہ ژھن گلی (سادھنا )کے قریب کھپی بہک لیا تھا جہاں علاقے کے مال مویشیوں کو گرمیوں کے ایام میں چرانے کیلئے لیجایا جاتا ہے۔کھپی بہک حد متارکہ کے نزدیک چوکی بل کے مضافات میں واقع ہے ۔سنیچر کو شبیر احمد پٹھان اپنے مویشیو ں کو دیکھنے گیا تو ا س دوران اسکا پیر ایک بارودی شل سے ٹکرا یاجس کے دوران زور دار دھماکہ ہوا اور شبیر احمد اس کی زد میں آکر شدید زخمی ہوااورزخمو ں کی تاب نالاکر موقع پر ہی دم تو ڑ بیٹھا ۔واقعہ کے بعد پولیس تھانہ کرالہ پورہ کی ایک ٹیم جائے واردات پر پہنچ گئی اور شبیر کی لاش اپنی تحویل میں لیکرکرناہ پولیس کے حوالے کی ۔شبیر کی لاش جب ان کے آ بائی گائو ں کوہنہ گبرا پہنچ گئی تو وہا ں کہرام مچ گیا ۔ذرائع  کا کہنا ہے کہ 4روز قبل جب ہند و پاک افواج نے ایک دوسری کی چوکیوں پر گولہ باری کی تو کئی مارٹر شل کھپی بہک میں گر ے، جس میں سے ایک میں دھماکہ ہوا اور شہری کی موت واقع ہوئی۔شبیر  5 بچیوں کا باپ ہے اور گھر کا واحد کمانے والے تھا ۔
 
 
 

لدرون ترہگام میں کرنٹ لگنے سے شہری لقمۂ اجل

کپوارہ //اشرف چراغ // لدرون ترہگام میں ایک شہری کرنٹ لگنے سے لقمہ اجل بن گیا۔ علی محمد ملک ولد خضر محمد بجلی کی ترسیلی لائین کی مرمت کررہا تھا کہ  اس دوران کرنٹ لگ گئی۔ مذکورہ شہری بری طرح جھلس گیا اور لقمہ اجل بن گیا۔ مذکورہ شہری کے لقمہ اجل بن جانے سے علاقہ میں کہرام مچ گیا۔ 
 
 
 

یاسین ملک کی بگڑتی صحت پرحریت(ع) کوتشویش

سرینگر//حریت (ع) نے لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک کی تہارجیل میں بگڑتی صحت صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے فوری علاج کیلئے اُنہیں بغیر کسی شرط کے رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک بیان میں حریت نے کہا کہ علیل رہنما کے اہل خانہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کے دوران اُن کی صحت کے متعلق جوانکشافات کئے ،وہ تشویشناک ہیں ۔حریت نے کہا کہ جیل حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ وہ محبوس رہنما کومناسب طبی سہولیات بہم رکھیں اوراُن کے علاج پرخصوصی توجہ دیں ،کیونکہ وہ پہلے ہی کئی شدیدعارضوں میں مبتلاء ہیں اور جیل میں مناسب طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ان کی صحت ہر گزرتے دن بگڑ تی جارہی ہے ۔ بیان میں تہار جیل میں گزشتہ کئی برس سے بند سرکردہ رہنمائوں کی مسلسل حراست پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف آج تک کوئی بھی جرم ثابت نہیںکیاجاسکاہے۔بیان میں حقوق بشر کے عالمی اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ بذات خود ان جیلوں کا دورہ کرکے ان قیدیوں کی ناگفتہ بہہ حالت کا جائزہ لیں اور ان کی غیر مشروط رہائی کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں ۔