تازہ ترین

غزلیات

4 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سلگ رہا تھا جو برگِ چنار،ہےاب بھی
فضا میںگو نجتی میری پکارہےاب بھی
مرا ضمیر ستانے لگا مجھے، شاید
شفق کی سرخیوں پہ اشک بار ہے اب بھی
عجیب شخص ہے، دھوکہ بھی کھا گیا جس سے
اسی کی بات پہ با اعتبار ہے اب بھی
یہ کشمکش جو ہے باطن کی میرے ظاہر سے
طفیل اس کے یہ دل بے قرار ہے اب بھی
محبتوں کے سمندر میں پیارکی کشتی
صدا تھی بے کنار، بے کنار ہے اب بھی
گزرتے وقت نے ہتھیار کندکر ڈالے
مگر یہ نوکِ قلم تیزدھارہے اب بھی
میں کھردرا ہی سہی ہوں تو قیمتی پتھر
کہ جس کو جوہری کا انتظار ہےاب بھی
اگر چہ اشکِ ندامت سے دھو دیا عارضِؔ
تو پھر یہ کیا ہے کہ دل داغدار ہے اب بھی 
 
عارضؔ ارشاد 
نوہٹہ، سرینگر
موبائل نمبر؛700603386
 
 
 
تری شکست کا حربہ  تلاش کرتے ہیں
تجھے نہیں ترے جیسا تلا ش کر تے ہیں
چراغ ، پھول ، شگوفہ، دھنک ، ستارہ ،چاند
ہم اہلِ ذوق بھی کیا کیا تلاش کرتے ہیں
سنا ہے جب  سے کہ خوشیوں کا اعتبار نہیں
غموں کو لمحہ بہ لمحہ تلاش کر تے  ہیں
ہیں رمزِ عظمتِ  تشنہ لبی سے ہم واقف
ہو پہرہ جس پہ وہ دریا تلاش کرتےہیں
وہ جس کو دیکھ کےحسِّ لطیف جا گ اٹھّے
و ہی بدن وہی چہرہ تلاش کرتے ہیں
سکوتِ ذات کاسناٹا اب شبا ب پہ ہے
ہم ایک چاہنے والاتلاش کرتے ہیں
وہی کہ سایہ تھا جس کا نہ کوئی ثانی تھا
وہ نور نور سراپا تلاش کرتے ہیں
انھیں ملی ہے وراثت میں صبر کی تہذ یب
جو درد میں ہی مداواتلاش کرتےہیں
 
ذکی طارق 
سعادت گنج۔بارہ بنکی اترپردیش
موبائل نمبر؛7007368108
 
 
 
کوشش میں اپنی کوئی کسر کیسے چھوڑ دوں 
منزل قریب ہے تو سفر کیسے چھوڑ دوں
 
ناپی ہے جس کے واسطے گہرائی بحر کی 
تم ہی بتاؤ میں وہ گہر کیسے چھوڑ دوں
 
رسوائیؤں کے ڈر سے ترا ہاتھ ہمسفر 
میں چاہتا ہوں چھوڑ دوں،پر کیسے چھوڑ دوں
 
خیرات مل رہی ہے اک عرصے سے دید کی 
میں ہوں فقیرِ عشق یہ در کیسے چھوڑ دوں
 
انجمؔ تمام رات مرے ساتھ جو رہا 
میں اس دئے کو وقت سحر کیسے چھوڑ دوں
 
شاداب انجم
کامٹی ۔ضلع ناگپور
موبائل نمبر؛9657878904
 
 
تشہ بھٹک رہے ہو کیوں صحرائے زیست میں
خود میں اُتر کے دیکھ سمندر تلاش کر
کہتے ہو کہ ممکن نہیں دیدارِ یار بھی
باہر نہ دیکھ پائے تو اندر تلاش کر
خواہش تری، مل جائے تمہیں یہ سبھی جہاں
بوسیدہ ہڈیوں میں سکندر تلاش کر
ماں باپ کی خدمت تو عبادت ہے اولین 
مسجد تلاش کرلے یا منَدر تلاش کر
اسلام یہ کہتا ہے کہ انساں ہے آدمی
اے سائنس تو ابد تلک بندر تلاش کر
دفنا برائیوں کو جگا نیکیاں سبھی
اپنے وجود میں ہی قلندر تلاش کر
راتوں کو بِلکتے ہیں سنو بھوک سے یتیم
دنیا میں فلکؔ جی کوئی حیدؓر تلاش کر
 
فلک ریاض
حسینی کالونی،چھتر گام۔کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109
 
 
کون گیا تھا جنگل میں 
شور مچا تھا جنگل میں 
رات نجانے کس کس سے 
چاند مِلا تھا جنگل میں 
میں اُٹھا کےگھر لے آیا 
چاند پڑا تھا جنگل میں 
آنکھ ملی تھی چھت پہ اور 
وصل ہوا تھا جنگل میں 
ایک پری سے چاند کو رات 
عشق ہوا تھا جنگل میں 
ایک درخت کے پتّے پر 
موت لِکھاتھا جنگل میں 
آنکھیں نم تھیں پیڑوں کی 
چاند لُٹا تھا جنگل میں 
رات پرند اور پیڑوں میں 
ذکرِ وفا تھا جنگل میں 
سارے منظر بے کل تھے 
پیڑ کٹا تھا جنگل میں 
ایک بلبل کے کہنے پر 
پھول کھِلا تھا جنگل میں 
اِندرؔ تیرے عشق کا راز
رات کُھلا تھا جنگل میں
 
اِندرؔ سرازی
پریم نگر، ضلع ڈوڈہ، جموں 
موبائل نمبر؛ 7006658731
 
کون کرتا ہے وفا اس شہر میں 
ہر قدم پر ہے دغا اس شہر میں 
اشک سے آنکھیں مری ہوتی ہیں نم 
دیکھتا ہوں جب جفا اس شہر میں 
تم نہ ہونا یوں کسی پر بھی فدا
کون کس پر ہے فدا اس شہر میں
کاٹتا ہے بھائی بھائی کا گلا
یاد اب کس کو خدا اس شہر میں 
جان لو تم کھا گئی اس کو زمیں
جو بھی ہے حق آشنا اس شہر میں 
رہزنوں کا راج ہے ہر اک جگہ
میں بھی یارو! لُٹ گیا اس شہر میں
چھوڑ دو شادابؔ اب یہ شاعری
کچھ تو سوچو کیا ملا اس شہر میں 
 
محمد شفیع شادابؔ
پازلپورہ شالیمار،سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛ 9797103435
 
 
ساقی نگاہ مجھ سے کب تک چُرائو گے
بیٹھا ہوں آس لے کر شاید پلائو گے
یاروں نے روپ دھارا ہے زاہد کا ساقیا
تم رندِ سادہ مجھ سا کوئی نہ پائو گے
ہر دن نیا ستم ہے ہر رات بے بسی کی
دو دن کی زندگی ہے کیوں کر ستائو گے
اِک بار آکے دنیا میری سنوار جاوئو
موسم بدل گیا تو کچھ بھی نہ پائو گے
تانے ہیں سینہ تیرے ہر تیر کے مقابل
دیوانہ ہم سا کوئی تم پھر نہ پائو گے
ہرگز نہ رونے والوں پہ تُو مسکرا سعیدؔ
ہنسنے کے بعد تم کبھی آنسوںبہائو گے
 
سعید احمد سعیدؔ
احمد نگر، سرینگر،
موبائل نمبر؛8082405102