تازہ ترین

منشیات کا سیلاب!

دو اکیجئے کچھ زہر بے اَثرہو

3 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بشارت بشیر
ہمارے   مسلم معاشرے کے اخلاقی اوصاف اور رُوحانی اقدار کو بیک وقت کئی ایک جان لیوا روگ اندر ہی اندر کھوکھلا کر تے جارہے ہیں ۔ ان میں جو سب سے بڑی موذی بیماری فی الوقت اپنا پھن پھیلا ئے ہماری غفلتوں پر تازیانے برسار ہی ہے ،وہ ہے منشیات اور نشہ آور ادویات کی وبا ۔ یہ وباہر گذرتے دن کے ساتھ تندوتیز سیلاب کی شکل میں ہماری اخلاقی اساس اور روحانی بنیادوں کی نہ صرف چولیں ہلا رہی ہے بلکہ حُسنِ معاشرت کے دیوار ودر کوبھی لرزہ براندام کررہی ہے ۔ اور حال یہ ہے    ع 
 ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام ِ گلستاں کیا ہوگا
  اس لئے اگر فوری طور انجام ِگلستان کی فکر نہ کی گئی تو پھر اس کے خزاں رسیدہ ہونے بنجر بن جانے میںکوئی شک وشبہ نہیں ۔ یہ تو طے ہے کہ منشیات کی لت ہماری آبادی کے ایک قابل ذکر حصہ کو لگ چکی ہے۔ اس ضمن میں کچھ چونکا دینے والے انکشافات نے تو حساس وسنجیدہ لوگوں کے پاؤں تلے زمین سرکا رہی ہے۔ تاسف انگیزاخباری اطلاعات یہ ہیں کہ افیون اور براؤن شوگر کے مہلک دھندے میں شامل موت کے سوداگروں کے خلاف کوئی موثر تادیبی کاروائی بھی نہیں کی جارہی ہے۔ اس وجہ سے منشیات فروش بدقماش لوگوں کے حوصلوں کو مہمیز ملنا قدرتی امر ہے اور وہ بے دھڑک اس ہلاکت آفرین کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں کئی علاقوں میں از خود کئی باضمیر وہوشیار لوگوں نے ایسے بدطینت افراد کو دھر بھی لیا اور ان کی بال کٹائی کی ہے۔ تعجب یہ کہ کچھ پولیس اہل کاروں کو بھی اس کام میں ملوث ہونے کی پاداش میں دھر لئے جانے کی خبریں اخبارات میں آئی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جنوبی کشمیر کے کئی علاقے خطر ناک حد تک اس وبائی مرض کی زد میں آچکے ہیں جب کہ سرینگر کے اطراف واکناف اور ڈاؤن ٹاون میں بھی یہ جرثومے نہ صرف نئی نسل میںسرایت کرچکے ہیں بلکہ ان کے اخلاقی و روحانی وجود کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھا رہے ہیں۔ 
حیران کن امر یہ بھی ہے کہ 1980 ء کے آٹھ برس بعد تک منشیات زدہ نشہ بازوںکی تعداد ہسپتالوں میں 9726 دکھائی گئی جب کہ 2011 کے بعد اس میں تشویش ناک حد تک ہر سال 6000 افراد کا اضافہ مسلسل ہورہاہے۔ میڈیکل انسٹی چیوٹ دہلی کے مطابق منشیات کی قہر مانی کے شکار نو جوانوں کی عمر وادی میں 18 سال سے 30 سال کے درمیان ہے اور ہر روز اس میں معتدبہ اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 2017 کے بعد 5265 کیس سامنے آئے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چرس، روزفلی اور بھنگ کے کاروبار میں ملوث لوگوں کی گرفتاریاں اگر عمل میں آتی ہے تو فوری اس کی تشہیر ہوتی ہے لیکن ہیروئن اور براؤن شوگر کے علاوہ نشیلی ادویات کے ہلاکت خیز دھندے میں ملوث لوگوں کو پکڑنا دشوار لگ رہا ہے۔ اطلاعات یہ ہے کہ موت کے ان سوداگروں کا ایک باقاعدہ مافیا کام کررہا ہے۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر ان میں سے صرف چند ایک مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے تو اس سارے نیٹ ورک کو چٹکیوں میں طشت ازبام کیا جاسکتا ہے، جب کہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس قبیل کے سماج دشمن عناصر کے خلاف سرگرم عمل ہے اور نہ صرف نشیلی اشیاء ضبط کر رہی ہے بلکہ 2018 میں اس نے 600 سے زائد ملزموں کو حراست میں بھی لیا ہواہے۔ ضرورت پولیس کی منشیات مخالف مہم کو وسیع سے وسیع تر کیا جائے تاکہ سماج کی اخلاقی موت واقع ہونے سے پہلے اس وبا کا خاتمہ ممکن ہو مگر قانون کا ڈنڈا ہی کافی نہیں بلکہ اس زندگی کے تمام طبقوں کو  اپنی اپنی سطح پر اس مہم میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ نشہ بازی کی ر وک تھام کے لئے ضروری ہے کہ قانون کے تحت متعلقہ سرکاری ادارے ملوثین کو عبرت ناک سزا دیں تاکہ اس غلیظ کاروبار میں شامل لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو ۔ واقف کار حلقے یہاں تک کہتے ہیں کہ ایک منظم منصوبے کے تحت کشمیر کومنشیات کے عالمی مارکیٹ کی راہ داری بنانے کی مذموم کاوشیں بوجوہ زوروں پرہیں۔ ان باتوں سے حساس والدین کی دل شکنی ہونااور پریشانی کے عالم میں بے خوابی کا مریض بننا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ 
  مقام شکر ہے کہ ماہرین ِنفسیات ، دانشور اور علمائے کرام اس سلگتے مسئلہ کی جانب متوجہ ہوچکے ہیں اور نشہ بازی پھیلنے کی اصل وجوہ جاننے اور منشیات کی بڑھتی وبا کو روکنے پر غور وفکر کر ر ہے ہیں ۔ بہر کیف اس مسئلے کا تدارک کر نے کے لئے ضروری ہے کہ ان عوامل کو جاننے کی تفصیلی کوشش کی جائے کہ ہماری نئی نسل یعنی ہمارامستقبل کا ایک حصہ کیونکر اس خودکشی کی راہ پر گامزن ہورہا ہے اور وہ اپنے وجود کے درپے  ٔآزار کیوں ہے؟ حق یہ ہے کہ ہم میں سے آج ہر شخص حصول ِسیم وزر کی دوڑ میں اس قدر منہمک ومشغول ہے کہ اُسے اپنے گردوپیش کی کوئی خبر نہیں۔ ہمارا خاندانی نظام بھی اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ ایک ہی کنبے میں رہنے بسنے والے افراد ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی باہم دگر اتنے دور ہوچکے ہیںکہ وہ ایک دوسرے پر کیا گذررہی ہے ٗ حالات وکوائف کیا ہیں،اس سے قطعی طور نابلد نظر آتے ہیں یا ایسی فکروں سے بے نیار ہیں۔ رشتوں کی ڈورمیں یہ لوگ ضرور بند ھے ہوتے ہیںلیکن مادی دوڑ دھوپ میں ہمہ وقت انہماک کے سبب یہ ایک دوسرے کے مسائل و مشکلات یا دُکھ درد سے آگاہ ہی نہیں رہتے ۔ وقت کا تیز رفتار مادہ پرست پہیہ ہے کہ چلتاہی جاتا ہے اور ہماری انفردی واجتماعی زندگی میںپل بڑھ رہی بے چینیاں ہیں کہ ان میں اضافہ در اضافہ ہی ہوتا رہتاہے۔ نتیجہ یہ کہ ہماری نئی نسل جو لمحہ بہ لمحہ ہماری توجہ کی طالب ہے ، ہمارے ذہن ودل سے اوجھل ہوکرہ جاتی ہے۔ یہ نو خیز کلیاں یا تومسائل کے انبار تلے دَب جاتے ہیں مگر انہیں گھر کی چھت کے نیچے کوئی حل بتانے والا نہیں ملتا، بلکہ انہیں کوئی ہمدردر ،دوست اورخیرخواہ بھی کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ ایسے میں فرسٹیشن کے عالم میں اگر وہ اللہ کے ذکر سے دور ہوکر منشیات کی ہلاکت خیز وادی میں قدم رنجہ ہوں تو کوئی حیرت کی بات نہیں، باوجودیکہ ان لاڈلوں کی زندگیوں کے انکچر پنکچر ڈھیلے پڑجائیں۔ ا س عاجز نے قبل ا زیں بھی اسی موضوع پر اپنی گفتگو میں کئی ایک وجوہات کی نشاندہی کر تے ہوئے لکھا تھا کہ ہمارے کچھ ایسے صاحبزادے بھی ہیں جو والدین کے لاڈ پیار اور دھن دولت کی ریل پیل اور اخلاقی تربیت کے فقدان سے نشہ آور ادویات اور خواب آور گولیوں میں تلاش سکون کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے بے فکرے والدین کی جب نیند ٹوٹتی ہے لیکن تب تک ان کی اولادوں کی نہ صرف یہ کہ اخلاقی نیا ڈھوب چکی ہوتی ہے بلکہ ان کی توانائیاں بھی ضائع ہو چکی ہوتی ہیں کہ پھر ہائے وائے کرنا بے سود ولاحاصل ثابت ہوتا ہے۔ حق یہ ہے کہ بعض لا اُبالی طبیعت والے والدین اولاد کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے پوری طور عہدہ برآ نہیں ہوتے۔اپنی اولاد کو صحت مند بنانے اور مادی لحاظ سے اسے ’’سب سے اونچا‘‘دیکھنے کیلئے ہم کس حد تک نیچے جاتے ہیں، چشم فلک بھی ہمارے اُس پر اشک بار اور دل فگار ہوتی ہے، اُسے دنیا جہاں کے علوم سکھانے اور ہر میدان میں منفرد و یکتا دیکھنے کیلئے ہم میں سے اکثر حلال وحرام میں تمیز کئے بغیر ان کی ہر فرمائش پورا کرنے پر فرحت وسکون محسوس کرتے ہیں لیکن صبح گھر سے روانگی کے وقت سے شام اس کی واپسی تک اس کی کارگذاریاں کیا ر ہیں ٗ کس قسم کے لوگ اس کے حلقہ احباب میں شامل ہیں ٗ مدرسہ وکالج میں تعلیم وتعلم کے تعلق سے اس کی ترقی کی رفتار کیا ہے؟ اس کے لباس کا اسٹائل اور روز روزاس کی بدلتی وضع قطع کیا پیغام دیتی ہے؟ گھر کے معاملات ومسائل سے اس کی لاتعلقی کا راز کیا ہے؟ بھائی بہن اور خود والدین سے عدم التفات اور بات بات پر چڑنا روٹھنا کس قسم کا خطرناک الارم ہے؟ اس کے کمرے میں نصابی کتابوں کے علاوہ کون سامواد ہے؟ اس کی الماریوں میں پڑی سی ڈیز میں کیا پیغام چھپاہے ؟ یہ وہ  اہم ترین سوالات اور توجہ طلب امور ہیں جن کی طرف ہماری کبھی توجہ جاتی ہی نہیں۔ جب کہ یہ بات الم نشرح ہے کہ اولاد کی تربیت شیشہ گری کا فن ہے اور اس کے لئے والدین کا بہت ہی حساس ٗ ذہین ٗ بالغ نظر ہونااور بچے کی نفسیات سے واقف ہونا از حد ضروری ہے۔ دنیا کا ہر مہذب معاشرہ بچے اور بچی کی تعمیر میںاس کے والدین کے رول کو اہم بلکہ خشت ِاول قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم نے تو صریح الفاظ میں خود اپنے اور اپنے عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی ذمہ داری گھر کے سربراہوں پرہی ڈال دی ہے۔ امام کائناتﷺ کا یہ فرمان ِذی شان بھی اس باب میں چراغ ِراہ ہے : ’’تم چرواہے ہو اور ہر چروا ہے کو اپنے ریوڑ سے متعلق پوچھا جائے گا‘‘۔
الغرض منشیات کی مہلک بیماری ہو ، بے راہ روی کا روگ ہو ، بے حیائی کا ناسور ہو ، بچوںکی ناہنجاریاں ہوں،اس کا حل یہی ہے کہ سب سے پہلے والدین اپنی ذ مہ داریاں سنجیدگی کے ساتھ نبھائیں ٗ اساتذہ کا کردار بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے ، خطباء ٗ علماء ٗ دانش ور اور صحافی حضرات ان روگوں کے خاتمے  کے لئے دوائے اکسیر ہیں۔ اور ہاں منشیات کا انسان دشمن کاروبار اگر شیطان کی آنت کی طرف بڑھتا ہی جارہا ہے، آئے روز ایسے مجرموں کی گرفتار یوں کی خبریں اخباری سرخیاں بھی بنتی ہیںلیکن پھر انہیں کیا سزا دی گئی کہ دوسروں کے لئے یہ مجرم نشان ِعبرت بن جائیں ،اس بارے میں خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے ؟ اس ضمن میں یہ پہلو بھی زیر نظر رہیں کہ ہمارے یہاں زندگی کی دوڑ میں بعض نوجوان کچھ پیچھے رہنے ٗ حسب ِتوقع روز گار نہ ملنے ٗ دفاتر میں صحیح کام نہ ملنے ٗ یا کچھ دیگر گھریلو مسائل کے شکار ہونے سے بھی ڈپرشن اور افسردگی کی زد میں آتے ہیں۔راقم السطور نے دین فطرت کی روشنی میں ایسے جوانوں کو عزم وارادے کے دھنی اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل رکھنے والے لوگوں کی کشمکشِ حیات سے معمور داستانیںرقم کرتے ہوئے کئی بار عرض کیا کہ ہمت نہ ہاریں ، حوصلے کا دامن نہ چھوڑیں ، عزم راسخ اور شوق ِکامل منزل مراد تک پہنچا سکتی ہے۔ ایک انادزے کے مطابق دنیا بھر میں 200ملین لوگ افسردگی کے شکار بتائے جاتے ہیں، اکثر الاوقات یہی افسردگی ان کی خودکشی پر منتج ہوجاتی ہے۔ دستیاب اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ہر دس افراد میں سے کم از کم ایک فرد ضرور اس  مرض کا شکار ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ علت امریکہ کے سابق صدر مسٹر ریگن کو بھی لاحق تھا اور باور کیا جاتا ہے کہ نیپولین بوناپارٹ بھی جلاوطنی کے دوران اسی مرض کا شکار ہوا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ انسان قطعی طور نااُمید نہ ہو۔ ایک حکیم نے کہا ہے کہ لیموں سے میٹھی شربت بنائیے ٗ ایک اور دانا نے کہا ہے ذکی اور عقل مند وہ نہیں جو اپنے فوائد میں اضافہ کرتا ہے بلکہ وہ ہے جو اپنے نقصان کو بھی فائدے میں بدل دے۔ایسے شخص سے تصادم مت مول لیجئے جس کی دشمنی سے آپ کو کوئی فائدہ نہ ہو، جس چیز کو آپ نہ کرسکیں اُسے چھوڑ دیجئے ، جسے کر سکیں وہی کریں۔ایک صاحب ِفکر نے کہا ہے کہ تم فوت شدہ پر اُداس نہ ہو اور جو تکلیف تمہیں پہنچی ہے ،اُس پر افسردہ نہ ہو۔ کوئی کسی دنیوی نقصان یا فوت شدہ عزیز کے غم میں گم صم بیٹھا رہے ، کوئی اپنے ساتھ ہوئی حق تلفی کا رونا روروکر نفسیاتی علالت کا قیدی بن جائے، ان لوگوں کیلئے تاریخ کا درس ہے کہ جو معاملات پیش آچکے ہیں، اُنہیں مت دہرائو ،اس سے رنج واضطراب بڑھنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ’’حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میںصبح اس حال میںکرتا ہوں کہ تقدیر کے فیصلوں سے تمتع کے سوا کوئی اور چاہت نہیں ہوتی ہے۔‘‘ حضرت ابن عباس ؓ کی بینائی چلی گئی تو فرمایا: ’’ اگر اللہ نے میری آنکھوں کی روشنی لے لی ہے تو میرے دل وروح میں تو نور ہے ۔ میرا دل ذکاوت سے مالا مال ہے ۔ میری عقل میںکجی نہیں ۔ میرے منہ میں تلوار کی طرح زبان چلتی ہے‘‘۔ امام شافعی ؒ نے مصائب کے ماروں اور افسردہ لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ’’ گردش زمانہ کو اپنے کام کرنے دو جو تقدیر ہو اُس پر راضی رہو ۔ جب کسی قوم کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوجاتا ہے۔ تو نہ زمین اُسے پناہ دے سکتی ہے نہ آسمان ۔ 
ابو ذہیب ہذلی مسلسل اپنے کئی بیٹوں کی اموات کے بعد اپنے ردعمل میںکہتے ہیں :’’ حاسدوں کے سامنے میں استقامت کا مظاہرہ کرتا ہوں تاکہ اُنہیں پتہ چلے کہ گردشِ زمانہ سے میں اُکھڑ نہیں گیا‘‘۔ بہر صورت یاس وقنوط اور افسردگی کو گھر کی دہلیز پر ڈیرہ مت ڈالنے دیجئے کیونکہ   ع
افسردہ دل افسردہ کنند انجمنے را
یقین جانئے ’’ اللہ ہی ہے جو تم کو کرب وبلا سے نجات دیتا ہے‘‘ (القرآن :۶۴:۶) یہ قرآنی فرمان بھی زیر نظر رہے:’’ اور اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچاتا ہے ،  تو اُس کے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا ‘‘۔ خلاصہ  ٔ کلام یہ کہ بس اللہ کی چوکھٹ پکڑئیے ۔جو ملا ہے اُس پر راضی رہیے ، جو کھو گیا ہے اُسے بھول جایئے ۔ اللہ کے ہاں کیا ہے جو نہیں ملتا ۔ امام ابن کثیرؒ نے ایک حدیث قدسی نقل کی ہے کہ ارشاد رُبانی ہے:’’ میرے عزت جلال کی قسم مجھ سے کسی بندے نے پناہ لی اور آسمان وزمین اُس کے خلاف ہوگئے تو بھی میںاُس کیلئے خلاصی وکشادگی پیدا کروں گا۔میرے جلال وعزت کی قسم کسی بندے نے بھی میرے غیر کی پناہ لی تو میں اس کے پائوں کے نیچے سے زمین سرکا دوں گا‘‘۔ امام ابن تیمیہ ؒ نے فرمایا : لاحول ولا قوۃ الاباللہ کے ذریعے بوجھ اُٹھائے جاتے ہیں ۔خطرناک معاملات برداشت ہوتے ہیں اور اچھے حالات پیدا کردئے جاتے ہیں۔مختصراً ذکر رُبانی اور عزم واستقامت اور صبرورضا کا پیکر بن کر ہی انسان بے چینی اور عدم اطمینان کے جھنجٹ سے نجات پا سکتا ہے۔
رابطہ:9419080306
�����